رحمان ملک اور ھماری بیگم کی باتوں میں ابہت زیادہ اشتراک پایا جاتا ہے انھیں جب القاعدہ کے شدید دورے پڑتے تھے انکا ہر بیان عالی شان القاعدہ کے بارے میں ھوتا
لاہور میں ایک مرغی ٹرک تھلے آکر مرگی ڈریئور القاعدہ کا سینئر ممبرفرار ہونے میں کامیاب ،۔، رحمان ملک
پشاور میں ایک دوکان سے تین نسوار کی بوریاں چوری ہو گیں ھیں
القاعدہ پر شبہ ہے،۔، رحمان ملک
ملتان میں ایک مسجد سے لوٹا اور امام صاحب کی جوتی چوری ہوگی ھے
شاید القاعدہ ممبرز کو انکی ضرورت ہو مجھے تو وہی چور لگتے ھیں ،۔،
رحمان ملک
انکی تسیح کی ہر ضرب القاعدہ ،۔،القاعدہ،۔، القاعدہ،۔، صبح وشام القاعدہ،۔،
بس پٹھان کی طرح ایک ہی زبان ہے کسی نے پوچھا خان آپکی عمر کیتنی ھے
پٹھان۔۔، او بر خوردار ھمارے بھائی ھم سے دو سال چھوٹی ھے اور ھم ان سے دوسال بڑا ہے خان صاحب۔، اب مجھے کیسے پتہ چلے آپکے بھائی کی عمر کتنی ھے خان انگلیوں پر حساب کرکے،۔،یہ کو نسا مہینہ ھے،۔، جناب ستمبر کا اچھا اس حساب سے ھمارا عمر 20 سال بنا۔، اسی دوست نے دوسال بعد عمر پوچھی تو خان انگلیوں پر حساب کر کے ،۔،وہ یارا میرے حساب میں 20سال ھے
خان جی آپنے آج سے دوسال پہلے بھی 20 بتلائی اور آج دوسال بعد بھی 20 سال
خان یارا مرد کا زبان ایک ہونا چاھے،۔، بس ھم اب بھی 20 سال کا ھے
ھمارے ملک صاھب کا زبان بھی ایک ھے،۔،القاعدہ۔، ادھر بیگم صاحبہ کی حالت بھی کچھ ایسی ھے ایکدن ایک پلیٹ ھمارے ہاتھ سے گری اور کھڑاک کی آواز سے کیا ٹوٹی ایوان وزارت کی کھڑکیاں ہل گیں میں ابھی انکو سمیٹنے کے تیاری ھی کر رہا تھا وزیر خانہ زوجہ محترمہ بمع بیلنے کے کیونکہ روٹیاں پکا رہی تھیں
حاضر ھوئیں آنکھوں کی سر خی الانتقام الانتقام کی صدا بلند کر رھی تھی بیلنا،۔ مجھے اسوقت سلطان راھی کے گنڈاسے سے کم محسوس نھیں ہورہا تھا
محترمہ نے اپنی قوت کو جمع کیا اور زور سے بولیں ،۔، تسیں اینج ای کردے او
آپ ایسا ہی کرتے ھیں حالانکہ میں کونسا ھلاکوں خان کے خاندان کا فرد تھا کہ برتنوں پر ظلم برپا کرتا،۔ مگر جناب بیگم تو ،۔بیغم ،۔،۔،ھی ھوتی ھے اس آندھی طوفان سے کون لڑ سکتا ھے جرم ایک بار اور الزام سدا کا جیسے میں ھمیشہ ہی برتن توڑتا ھوں۔،، ایک دوست کے ہاں جانا تھا شکر گڑھ میں گلی بھول گیا اور ایک طو یل گلی میں داخل ھوگے گلی کیا تھی ختم ھونے کا نام نہ لیتی ایک صاحب سے پتہ پوچھا ان نے کہا دو گلیاں چھوڑ کر انکا گھر آئے گا واپس مڑے ھی تھے کہ بیگم کی صدا کانوں سے ٹکرای اوجی تسیں تےاینج ای کردے او۔،۔، حالانکہ یہ بھی پہلا ھہی اتفاق تھا بھولنے کا مگر جرم سدا کا ھمارے ذمہ لگادیا گیا۔، ایک مرتبہ ایک
ٹوکری بازار سے لائی گی اور لانے والی بیگم ھی تھی مگر آپ بھول گئیں کون لایا ،۔، کچھ دنوں بعد اسکی ضروت پڑٰی وہ ٹوکری ایک دو جگہ سے خراب تھی مجھے دیکھکر کھنے لگیں دیکھا جی ،۔، تسیں اینج ای کردے او ،۔ بندہ ویکھ کے چیز لیندا اے۔،، بندے کو خریدتے وقت خوب جانچ کرکے خریدنی چاھے ،۔، اب مجھے یاد نہ تھا اسے خرید کے کون لایا مگر بیٹے کو یاد تھا کہنےلگا ماما یہ تو آپلائی تھیں
او اچھا بھول گی ،۔،اوجی سستی دیکھکر لی آی ہوںسامان ھی رکھنا ھے
میں نے کہا شکر ھے اپنی غلطی کاا حساس ہوا وگرنہ فرد جرم تو ھم پر عائد ھوچکی تھی ویسے ایک ھی چیز کو بار بار کھنے سے سننے والے اسے ذھنی مریض سمھجنے لگتے ھیں ایک لڑکے کو یہ کہنے کی عادت تھی غلیل بنا کے چڑیاں ماراں گا ڈاکڑ کے پاس لے گے مگر غلیل چڑیاں ھی بولتا رھا ھسپتال میں داخل کردیا گیا علاج سے افاقہ ھو گیا ڈاکڑ نے رخصت کرنے سے پہلے پوچھا گھر جاکر کیا کروگے کھنے لگا میں امریکہ جاوں گا اور ڈالر کماکر پاکسان میں کاروبار شروع کروں گا جب وسیع کاروبا ہو جاے گا میری منگنی طے پاے گی میں لڑکی والوں سے ایک چیز جھیز میں مانگوں گا ڈاکڑ ،۔،کیا ،۔، مانگوں گے کہنےلگا میں ان سے ایک سائیکل مانگوں گا،۔، ڈاکڑ حیران ہوکر سائیکل کیا کرنی ھے تونے ،۔۔
لڑکا،۔، جناب ،۔، سائیکل کا ٹائیر اتارکے اسکی ٹیوب کی غلیل بنا کر چڑیاں ماراں گا
اور یہ ھی بات رحمان ملک ،۔بیگم،۔، اور لڑکے میں مشترک ھے
اللہ ھمیں بچاے،۔،،۔ کس۔،،سے۔،، ،، ر۔،،۔، ب۔،،۔ غ۔،،۔،، جس سے آپ بچنا چاھتے ھیں
