واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


طلسم ہوش رُبا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-09-10, 10:49 AM   #1
طلسم ہوش رُبا
حیدر حیدر آن لائن ہے 23-09-10, 10:49 AM



ویسے تو ہم آج جس دور میں رہتے ہیں وہ بھی کسی طلسم ہوش رُبا کا منظر نامہ پیش کرتا ہے کہ جہاں جادُوئی طاقتیں ہم پر حکمرانی کر رہی ہیں ، ہم انکے سامنے یوں بے بس ہیں گویا ہم کو سحر کی بیڑیاں لگی ہوئی ہوں، سرحدوں پر آگ کی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہوں اور ہم حزن و یاس کی تصویر بنے کسی امیر حمزہ کا انتظار کر رہے ہوں کہ کب اسکی طاقتور افواج آ کر اس طلسم کا خاتمہ کرتی ہیں ۔

لیکن ابھی میں جس طلسم کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں اُس طلسم کا نام "طلسم ہوش رُبا" ہے جس کا کُچھ نا کُچھ حصہ ہم میں سے اکثر نے اپنے بزرگوں سے ضرور سُنا ہو گا۔ پنجاب کی ایک اچھی رِیت جو جدیدیت کی نظر چڑھ گئی وہ چوپالوں کا ختم ہو جانا ہے ۔کسی زمانے میں ان چوپالوں پر گلی محلے کے لوگ شام کے بعد اکھٹے ہوتے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ دُکھ سُکھ بانٹتے تھے اور "ماہیے""ہیر"، داستانیں سُنایا کرتے تھے۔ ان داستانوں میں سب سے مشہور داستان "داستان امیر حمزہ" یا "طلسم ہوش ربا" تھی۔ لیکن اب جدید ابلاغ نے harry potter,Benten,spiderman, batman, hulkجیسی عارضی داستانوں کا عادی کر کے ہم سے ملنے ملانے کا وہ بہانہ چھین لیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ داستان امیر حمزہ ساتویں صدی کے عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا امیر حمزہ کی شجاعت اور کارناموں کو داد دینے اور یاد رکھنے کے لیے سُنائی جاتی تھی۔۔ جیسے جیسے مسلمانوں کی حکومت کرہ عرض پر پھیلتی چلی گئی ویسے ویسے یہ داستان بھی نئے مسلمانوں تک پہنچی۔ہر نیا سُنانے والا جوش عقیدت میں چند نئے کارناموں کا اضافہ کر دیتا۔اس طرح یہ داستان آہستہ آہستہ طوالت اختیار کرنا شروع ہو گئی۔ پھر مسلمانوں کی حکومت فارسیوں کے ہاتھ آ گئی۔ فارسی تمدن اور ادب میں عربوں سے بہت آگے تھے۔ جب یہ داستان فارس پہنچی تو اس داستان میں مقامی رنگ شامل ہو گیا۔ اور آہستہ آہستہ اس مقامی رنگ نے اس داستان کو محض ایک داستان یعنی تخیلاتی روپ دے دیا۔ امیر حمزہ اب ایک تخیلاتی ہیرو بن گئے۔

گیارہویں اور چودھویں صدی کے درمیان میں "داستان امیر حمزہ" نے ہندوستان کا رُخ اختیار کیا ۔ بادشاہ اکبر نے جب یہ داستان سُنے تو وہ اسکا دیوانہ ہو گیا اور اُس نے 1562 میں "عظیم مغل سٹوڈیو" میں اس داستان کی منظر کشی کا حکم دیا۔ 1400 سے زائد جہازی سائز کی تصاویر میں اسکے ہر باب کی منظر کشی کی گئی۔ بدقسمتی سے مغل دور کے خاتمہ کی وجہ سے اسکی محض 10 فیصد تصاویر بچ پائی ہیں۔ مغل اعظم کی سرپرستی کی وجہ سے یہ داستان عوام میں بھی پسندیدگی کا درجہ اختیار کر گئی اور عوام میں یہ داستان سنائی جانے لگی۔ داستان سنانے والے داستان گوئی میں مناظر کشی کرنے کی پوری کوشش کرتے ۔

انیسویں صدی میں اس داستان نے فارسی سے اردو کا رنگ اختیار کرنا شروع کیا اور یہ داستان دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ ایک حصہ وہ جس میں امیر حمزہ کی پیدائش ، جوانی سے لے کر انکے کوہ قاف میں جا کر " جھوٹے خُدا لقا جِن" کے ساتھ جنگ اور چند دیگر ایڈونچر شامل ہیں۔ اور آخر میں امیر حمزہ شہید ہو جاتے ہیں۔

دوسری داستان کسی خآص ترتیب میں نہ تھی اور اپنی نوعیت میں ایک پیچیدہ داستان تھی۔اس میں نہ صرف امیر حمزہ کے کارنامے بیان کیے گئے بلکہ اس میں امیر حمزہ کی اولاد اور اولاد کی اولاد بھی دکھائی گئی۔اور اس میں امیر حمزہ کی شہادت کا واقعہ موخر کر دیا گیا۔داستان گوئیوں نے ہر داستان میں اس میں کوئی نا کوئی نیا واقعہ کا اضافہ کیا جس کی وجہ سے یہ داستان انتہائی طوالت اختیار کرتی گئی۔

اسی اثنا میں لکھنو کے داستان نویسوں کا ایک گروہ امیر حمزہ کے بار بار دوہرائے جانے والے کارناموں سے بیزار ہو گیا کہ جن میں بار بار کسی نہ کسی دیو جن پری وغیرہ کا تذکرہ ہی ہوتا تھا۔ یہ تمام عناصر عرب اور فارسی تمدن سے مستعار لیے گئے تھے۔ چناچہ انہوں نے اس میں مقامی رنگ شامل کرنے کا فیصلہ کیا یعنی "طلسم"۔ یہاں سے یہ داستان ایک نیا موڑ لینے لگتی ہے۔یہاں سے "داستان امیر حمزہ" ۔ ۔ ۔ "طلسم ہوش رُبا" میں تبدیل ہوتی ہے۔

لیکن تبدیل کرنے والے جانتے تھے کہ یہ تبدیلی "اصل کشتی" کو تباہ کیے بغیر لانی ہے ورنہ "طلسم ہوش رُبا" امیر حمزہ کے بغیر مقبولیت حاصل نہ کر پائے گی۔کیونکہ مقامی مسلمان اپنے روحانی کرداروں سے دلی عقیدت رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اصل میں وہی ہیرو ہیں باقی کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

تبدیلی کی خواہش رکھنے والے اس گروہ کا سربراہ "میر احمد علی" کو کہا جاتا ہے۔"میر احمد علی" عوام کی نفسیات اور داستان نویسی کے فن سے بخوبی آشنا تھا ۔اُس نے عوام کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے پرانی "داستان امیر حمزہ" کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا "طلسم" ایجاد کیا جو دو صدیوں تک لوگوں کے دماغ پر چھایا رہا۔ وہ امیر حمزہ کے کردار سے بور ہو چُکا تھا۔ اب وہ کُچھ نیا چاہتا تھا۔ چناچہ اُس نے پرانی داستان "کہ جس میں طلسم کا ایک معمولی عنصر ہوتا تھا" کو استعمال کرتے ہوئے اس معمولی عنصر کو بہت بڑے عنصر میں تبدیل کر دیا۔ اُس نے ایک طلسمی سلطنت قائم کر دی۔ ایک ایسی سلطنت جس کا سربراہ افراسیاب ایک بہت بڑا جادو گر تھا ۔ ایک ایسی سلطنت جس کی سرحدوں کی حفاظت جادوگر کرتے تھے۔ ایک سلطنت جس کی سرحدوں پر آسمان کو چُھوتی آگ کی ایک دیوار تھی۔ ایک ایسی سلطنت جو امیر حمزہ اور مسلمانوں کے دشمنوں سے بھری پڑی تھی۔ اس سلطنت کے دوسری پار "جھوٹے خدا لقا جن" کی سلطنت کوہ قاف کے پہاڑوں میں قائم تھی۔ امیر حمزہ لقا جن سے جنگ کرنے کے لیے آتے ہیں تو انکو مجبوراً افراسیاب کی سلطنت کی سرحدوں پر موجود آگ کی دیوار کے پار پڑاؤ ڈالنا پڑا۔

اس سیچویشن کو استعمال کرتے ہوئے میر احمد علی نے امیر حمزہ کو "طلسم ہوش رُبا کی داستان" سے باہر کر دیا۔ امیر حمزہ اپنے قیافہ شناسوں کو بُلاتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ یہ طلسمی سلطنت امیر حمزہ فتح نہیں کر سکتے بلکہ اس طلسمی سلطنت کی فتح انکے پوتے "شہزادہ اسد" کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے جو اپنے چند عیاروں کی مدد سے اس سلطنت کو فتح کرے گا۔
چناچہ امیر حمزہ اپنے پوتے شہزادہ اسد کو ایک فوج عظیم دے کر بھیجتے ہیں جس میں چند عیار بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان عیاروں میں ایک عیار "عمرو عیار" بھی ہوتا ہے۔ یہ عیار دُبلا پتلا، مدقوق شخصیت کا مالک ہوتا ہے لیکن ذہن کا رسا۔ جادوئی سلطنت میں داخل ہوتے ہی مسلمانوں کی فوج کو جادو کی وجہ سے شکست ہو جاتی ہے اور محض عمرو ، اسکے چند عیار جن میں اسکا ایک جادوگر دوست "ماررُخ یک چشم" بھی شامل ہوتا ہے وہ افراسیاب کی جادوئی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے دھوکہ، عیاری، ذہانت، اور دیگر صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے طلسمی سلطنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔

چونکہ سلطنت جادوگروں کی ہوتی ہے اس لیے اس داستان میں فواحش کی بھی جگہ نکل آتی ہے۔ ہر طرف رقص و سرود اور جنسی مناظر نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ افراسیاب شادی شُدہ ہونے کے باوجود حسین لونڈیوں اور خوبصورت لڑکوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چناچہ اس داستان میں دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح عیار جادوگروں کی نفسیات استعمال کرتے ہوئے فتوحات پر فتوحات اختیار کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ داستان طلسم ہوش رُبا شاید آج سے کوئی ڈیڑھ دو سو سال قبل لکھی گئی ہو گی لیکن اس کے باوجود یہ فحاشی کا نادر مرقع ہے۔

چناچہ یہ کتاب ہر لحاظ سے ایک طلسم ہوش رُبا ہے ۔ یعنی ہوش اُڑا دینے والی۔ یہ کتاب آٹھ جلدوں میں لکھی گئی اور ہر کتاب میں ایک نیا طلسم پار کرنا ہوتا ہے۔ میں نے کافی عرصہ قبل ایک ناکام کوشش کی تھی یہ کتاب پڑھنے کی لیکن نامانوس اردو ہونے کی وجہ سے زیادہ نہیں پڑھ پایا۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,410
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 374
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), گوندل (23-09-10), پاکستانی (25-09-10), ھارون اعظم (26-09-10), مرزا عامر (23-09-10), مزمل فاروق (23-09-10), wajee (23-09-10), سحر (23-09-10), طارق راحیل (24-09-10)
پرانا 23-09-10, 10:01 PM   #2
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,103
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی واقعی یہ ہوش اڑا دینے والی ہے۔ میں نے گھر والوں سے چوری چھپے کالج کی لائبریری سے لا کر دو دن میں اس کو مکمل پڑھ لیا تھا۔ بہت سے الفاظ کی سمجھ تو نہیں آئی تھی مگر مجموعی مفہوم اور تاثر کا غلبہ اتنا تھا کہ خود کو اس داستان کا ایک حصہ محسوس کرتا تھا۔ اس وقت جو مزہ اس داستان کو پڑھ کر آیا تھا پھر کبھی اس سے بہتر چیزوں نے بھی اتنا محظوظ نہیں کیا۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 23-09-10, 10:13 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,096
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا گورکھ دھندا سا ہے !!!!!!!
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 23-09-10, 11:45 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 08:29 AM   #5
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,794
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بدر جانی ناجانے کیوں مجھے یہ تحریر مکمل طور پر تمھاری لکھی ہوئی محسوس نہیں ہورہی!!!!!!!!
(مجھے میری بدگمانی پر معاف کرنا)
دراصل تمھاری تحریر کا یہ رنگ تو میں‌اب تک دیکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔۔۔
اس قسم کے تحریر اُسی وقت لکھی جاسکتی ہے جب آپ نے تحریر/ کتاب کو آنکھوں سے نہیں‌بلکے دل سے پڑھا ہو!!!!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:44 AM   #6
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یار کیا کرتے ہو
داستان امیر حمزہ کیوں یاد دلا دیتے ہو
مجھے تو بس پہلا باب ہی اتنا پسند آیا کہ 20 سے زائد بار پڑھ ڈالا
عمرو عیار کی پیدائش امیر حمزہ اور بزرج مہر کی تعلیم دوستی اور پھر بزرج مہر کو بزرگ کا تحفہ نہ دینے پر ناراض ہونا

یار کہانیاں تو وہ تھیں ایک بار پڑھو اور ساری عمر اس کو یاد داشت میں بٹھالو
کیا ترتیب کیا تسلسل کیا الفاظ کا اتار چڑھاؤ

کوئی اس کو پی ڈی ایف میں یہاں رکھ سکتا ہے؟
یا لنک دے سکتا ہے

اپنی بیٹی کو بھی پڑھانا چاہتا ہوں

یہ وہ نصاب ہے جو آج دستیاب نہیں
لائبیری میں بھی نہیں ملی مجھے تو
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:52 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,410
کمائي: 96,213
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
یار کیا کرتے ہو
داستان امیر حمزہ کیوں یاد دلا دیتے ہو
مجھے تو بس پہلا باب ہی اتنا پسند آیا کہ 20 سے زائد بار پڑھ ڈالا
عمرو عیار کی پیدائش امیر حمزہ اور بزرج مہر کی تعلیم دوستی اور پھر بزرج مہر کو بزرگ کا تحفہ نہ دینے پر ناراض ہونا

یار کہانیاں تو وہ تھیں ایک بار پڑھو اور ساری عمر اس کو یاد داشت میں بٹھالو
کیا ترتیب کیا تسلسل کیا الفاظ کا اتار چڑھاؤ

کوئی اس کو پی ڈی ایف میں یہاں رکھ سکتا ہے؟
یا لنک دے سکتا ہے

اپنی بیٹی کو بھی پڑھانا چاہتا ہوں

یہ وہ نصاب ہے جو آج دستیاب نہیں
لائبیری میں بھی نہیں ملی مجھے تو
طلسم ہوش رُبا تو نہیں البتہ "داستان امیر حمزہ" میرے پاس موجود ہے۔ میں انشا اللہ ادھر شئیر کر دوں گا۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), طارق راحیل (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:55 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,410
کمائي: 96,213
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بدر جانی ناجانے کیوں مجھے یہ تحریر مکمل طور پر تمھاری لکھی ہوئی محسوس نہیں ہورہی!!!!!!!!
(مجھے میری بدگمانی پر معاف کرنا)
دراصل تمھاری تحریر کا یہ رنگ تو میں‌اب تک دیکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔۔۔
اس قسم کے تحریر اُسی وقت لکھی جاسکتی ہے جب آپ نے تحریر/ کتاب کو آنکھوں سے نہیں‌بلکے دل سے پڑھا ہو!!!!!!
پتا نہیں آپ تعریف کر رہے ہیں یا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بہر حال یہ تحریر خالصتاً میری اپنی ہے۔
البتہ اسکا مواد "تحقیق" پر مبنی ہے۔مثلاً اکبر بادشاہ کی طرف سے اس کے ابواب پر مناظر کشی کروانا ۔ ۔ ۔ قطعا بھی کتاب پڑھنے والے کو معلوم نہیں ہو سکتا۔
چونکہ "غزالی" بھائی نے اس بارے میں تبصرہ مانگا تھا تو کُچھ جانے بغیر لکھنا زیادتی ہوتا ۔ اس لیے پہلے اسکے بارے میں کُچھ جاننے کی کوشش کی۔اور تحقیقی رنگ میرا خیال ہے جذبات کے رنگ سے مختلف ہی ہوتا ہے

آپ ادب سے شغف رکھتے ہیں آپ ہی اندازہ لگائیں
(ذاتی طور پر مجھے داستان امیر حمزہ میں الفاظ میں جو منظر کشی کرتے ہیں وہ بہت پسند ہے۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ میں بھی الفاظ کا ایسا جادو چلا سکوں۔ مگر افسوس چولیاں مارنے کے علاوہ آج تک کُچھ نہ ایا)

Last edited by حیدر; 24-09-10 at 12:20 PM.
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:55 AM   #9
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جرور بھائی
طلسم ہوشربا میں وہ بات نہیں کہ جو داستان امیر حمزہ میں تھی
پر اگر دونوں ہو سکیں تو ضرور شیئر کیجئے
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 11:58 AM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,410
کمائي: 96,213
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
کیا گورکھ دھندا سا ہے !!!!!!!
عبداللہ بھائی گورکھ دھندا نہیں بلکہ اسکو "اوپن سورس سٹوری" سمجھیں ۔ ہر عاقل و بالغ شخص اس میں اضافہ کر سکتا تھا ۔ جسٹ لائک ویکی پیڈیا۔ جسٹ لائک لائنکس۔
یہ لوگ اب اوپن سورس پر کام کر کے دھمالیں ڈال رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔جبکہ ہمارے اسلاف نے سیکڑوں سال قبل اس کی ریت ڈال دی تھی۔
واللہ عالم
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-09-10), منتظمین (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 12:39 PM   #11
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,794
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بدر بھائی یہ تعریف ہی ہے یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (24-09-10)
پرانا 26-09-10, 12:18 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 241
کمائي: 4,549
شکریہ: 97
163 مراسلہ میں 441 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی شکریہ

مزہ آگیا کیا تحقیقی مضمون ہے۔اللھم زدفزد
gazali آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے gazali کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-09-10), حیدر (29-09-10)
جواب

Tags
com, images, فن, کوشش, کارنامے, لوگ, مقابلہ, آج, اکبر, اللہ, امیر, اردو, تصویر, تصاویر, خدا, سال, شام, طاقتور, عرب, عرض, عظیم, صلاحیتوں, صدی, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger