
پچھلے ہفتے کا واقعہ ہے کہ میرے قدم دل و دماغ سے پہل کرتے ہوئے بلاآخر کئی ماہ کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے "بوسینی" کی جانب چل پڑے۔
بوسینی بچے سے بوڑھے تک لباس فروخت کرنے والا برانڈ ہے جس کی ریٹائل لوکیشن کم و بیش 33 ممالک میں ہیں (ان کی ویب سائٹ کے مطابق)۔
یہ ٹوپک پڑھنے والے سوچ رہےہوں گے کہ گپ شپ سیکشن میں کیا بے تکی بک بک لے کر آگیاہوں اور آپس کی بات ہے کہ اس سوچ کو گزشتہ پوسٹ ہونے والے دو ٹوپک تقویت دینے میںاہم کرداراداکرسکتے ہیں
میرے جسم پر کئی ماہ سے ایک پتلون تھی جس سے بہت حد تک بیزارہوگیاتھا اس کی بڑی وجہ کپڑے کی اصل چمک دمک ختم ہوگئی تھی مگر پھر بھی ہوا ایسے کہ عین اس وقت جب پینٹ سے اس کی قیمت وصول کرچکا اور اب اس کے پھینکنے کے دن آچکے تھے کہ چند داغ بھی لگ گئے
۔۔۔۔۔ میںبوسینی شاپ میں داخل ہواتو وہاںپر ایسی پینٹس تھیںجو مجھے بہت پسند ہیں ۔
کھلے پائنچوں والی دائیں بائیں جیبیں اور ان پر زپ لگیںہوئیں اک عرصہ میری پسند رہی ہے لیکن اس شام وہ پینٹ دیکھ کر خوشی کا اظہار دل ہی میں کیاہوگا کہ اگلے لمحے زہن میںعجیب سی سوچ بیدارہوئی اور پہلی باران ڈیزائنز سے دل اچاٹ ہوا۔
سب سے پہلے جو خیال اترا وہ یہ تھا کہ اب تھوڑا سنجیدہ سی عمر میں آگیاہوںاسطرح کی پینٹ چند سال پیشتر (میری سوچ کے مطابق) زیب کرتی ہوگی۔
یہاں یہ نقطہء واضح ہوا کہ شوخی اور سادگی خالص اپنی سوچ کے تحت ہے ورنہ جبری طورپر کوئی مسلمان لڑکی بھی ایسا لباس زیب تن کرکے باہر نہیںجاسکتی جو یورپ و مغربی ثقافت کے عین مطابق ہوتاہے ، جو نوجوان سنت کے مطابق لباس پہنتے اور لڑکیاںحجاب لیتے ہوئے ضروت کے مطابق گھروںسے باہر جاتی ہیں ان کی سلیم فطرت اور فطرتی حیاء ہے۔
انسان کو اپنی عمر مذہب اور ثقافت کے مطابق ہی لباس اور رنگوں کا تعینن کرکے پہننا چائیے ،انسان کی شخصیت اور اس کا لباس دوسروں کے ابہام پر گہرا اثر چھوڑتاہے ،لباس سے مراد قیمتی لباس ہرگز بھی نہیں ہوتا،تاہم میںپورے یقین سے کہتاہوںکہ 90 فیصد ایسے لوگ جن کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوںسے ہوتاہے ان کی پسند کا لباس محض دوسرے کو دیکھانے کے لیے ہوتا ہےتاکہ وہ ان کی سوسائٹی میں نمایاںنظرآئیں۔
یہ میری سوچ ہے جو کہ غلط بھی ہوسکتی ہے
