واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ملا اور مولوی کی تضحیک و تحقیر، آخر کیوں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-11-09, 11:07 PM   #1
ملا اور مولوی کی تضحیک و تحقیر، آخر کیوں؟
طاھر طاھر آف لائن ہے 25-11-09, 11:07 PM

السلام علیکم

آج پھر ایک دفعہ قدرت اللہ شہاب کے شاہکار "شہاب نامہ" کے کچھ صفحات پڑھنے کا موقع ملا۔

ایک اقتباس آپ سب کی خدمت میں !

ایک زمانے میں ملا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے۔ لیکن سرکار انگلشیہ کی علمداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔رفتہ رفتہ نوبت بایں جا رسید کی یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک وتحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والوں کو ٹوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنزوتشیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔مسجد کے پیش اماموں پر جمعراتی، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لو سے جھلسی ہویہ گرم دوپہروں میں خس کی ٹٹیاں لگا کر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم وگرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہرزمانے میں شہر شہر، گلی گلی، قریہ قریہ ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا، اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سر چھپا کر بیٹھا رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ تو اپنی وضع قطع کو بدلا نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں سین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر باد مخالف کے جھونکوں میں اڑجانے سے محفوظ رکھا۔ یہ ملا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم برقرار رہے۔ اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمان کی درمیان آبادی کے اعدادوشمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندراج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمان عموما اور پاکستان کی مسلمان خصوصا ملا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہرزمانے میں قائم رکھا۔
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

Last edited by طاھر; 26-11-09 at 12:45 AM..

 
طاھر's Avatar
طاھر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 511
Reply With Quote
23 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
microu (08-02-12), sahj (30-11-09), فرحان دانش (08-02-12), گوندل (26-11-09), نورالدین (08-02-12), نبیل خان (08-02-12), منتظمین (26-11-09), مرزا عامر (08-02-12), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), ابونعیم (12-02-12), ابن آدم (12-02-12), احقر (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12), سیلانی (26-11-09), سام (08-02-12), سحر (25-11-09), شکاری (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شمشاد احمد (11-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عامرشہزاد (26-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09)
پرانا 25-11-09, 11:17 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

طاہر صاحب مولوی یا ملا کی تحقیر کا تمام کام باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اسی مولوی اور ملا میں اب ایک نئے نام "طالب" کا اضافہ بھی ہوگیا ہے
اس تحقیر سے لطف اندوز ہونے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ درپردہ مسلمانوں کی تحقیر ہے
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فیصل ناصر (09-02-12), نبیل خان (08-02-12), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), ابن آدم (12-02-12), سام (08-02-12), سحر (25-11-09), شکاری (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شمشاد احمد (11-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), طاھر (26-11-09), عامرشہزاد (26-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09)
پرانا 26-11-09, 12:42 AM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 90
کمائي: 1,841
شکریہ: 336
55 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی یہ قابل ِغوربات ہے
سیلانی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیلانی کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 26-11-09, 12:48 AM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ مراسلہ دیکھیں
طاہر صاحب مولوی یا ملا کی تحقیر کا تمام کام باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اسی مولوی اور ملا میں اب ایک نئے نام "طالب" کا اضافہ بھی ہوگیا ہے
اس تحقیر سے لطف اندوز ہونے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ درپردہ مسلمانوں کی تحقیر ہے

السلام علیکم،

یقینا ایسا ہی ہے کہ لوگ اسی شخص کی تضحیک کرتے ہیں جو انہیں بنیادی اسلامی ارکان کی تعلیم دیتا ہے، ان کے فرائض‌کااحساس دلاتا ہے اور فرض کی ادائیگی میں ساتھ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو اب یہ عالم ہے کہ کسی بیٹے کو جنازے کے غسل اور نماز جنازہ کا طریقہ ہی نہیں معلوم اور اس کے لیئے بھی وہ اسی مولوی کا مقروض ہے، اگر وہی مولوی نہ ہو تو شاید جنازے دفن کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے۔

والسلام

طاہر

Last edited by طاھر; 27-11-09 at 01:19 AM.
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), گوندل (26-11-09), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عامرشہزاد (26-11-09)
پرانا 26-11-09, 06:32 AM   #5
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,087
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے یہ سب محسوس کرنے پر بھی ہے کہ اسے آپ اپنے لیے تحقیر سمجھتے ہیں یا توقیر۔

میرا ایک دوست ہے 'سیمی'، اس نے ماشاءاللہ باشرع داڑھی رکھی ہوئی ہے مگر ہے پورا دنیاوی بندہ۔ میرے خیال سے دین کی صرف ایک ہی چیز پر وہ سختی سے عمل کرتا ہے اور وہ ہے داڑھی۔ لوگ اسے بھی دیکھ کر ملا صاحب اور مولوی کہتے ہیں تو وہ باقاعدہ ان سے جا کر ہاتھ ملاتا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ مجھ ناچیز کو آپ نے اتنا بڑا رتبہ مفت میں دے دیا اور لوگوں کے ایسے کہنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), منتظمین (26-11-09), مرزا عامر (08-02-12), احمد نذیر (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 26-11-09, 09:10 PM   #6
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,113
شکریہ: 285
376 مراسلہ میں 1,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ مراسلہ دیکھیں
طاہر صاحب مولوی یا ملاّ کی تحقیر کا تمام کام باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اسی مولوی اور ملا میں اب ایک نئے نام "طالب" کا اضافہ بھی ہوگیا ہے
اس تحقیر سے لطف اندوز ہونے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ درپردہ مسلمانوں کی تحقیر ہے
شاہ صاحب سے مکمل اتفاق کےساتھ تھوڑاسااضافہ کہ جولوگ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں وہی ملا کوحقیر بناکرپیش کرتے ہیں۔قیام پاکستان کےبعدملانےتواپنی ذمہ داری کوپوراکیاہے،ہمیں ہرکوچے میں مسجداورمدرسے نظرآتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کے سپردسیاسی معاشی اوردفاعی ذمہ داریاں تھیں،انھوں نے غیرذمہ داری سے کام لیااور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے الزامات کاہدف ملاّ کوبنالیا۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فیصل ناصر (09-02-12), فاروق سرورخان (30-11-09), شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 27-11-09, 01:21 AM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابو عمار مراسلہ دیکھیں
ویسے یہ سب محسوس کرنے پر بھی ہے کہ اسے آپ اپنے لیے تحقیر سمجھتے ہیں یا توقیر۔

میرا ایک دوست ہے 'سیمی'، اس نے ماشاءاللہ باشرع داڑھی رکھی ہوئی ہے مگر ہے پورا دنیاوی بندہ۔ میرے خیال سے دین کی صرف ایک ہی چیز پر وہ سختی سے عمل کرتا ہے اور وہ ہے داڑھی۔ لوگ اسے بھی دیکھ کر ملا صاحب اور مولوی کہتے ہیں تو وہ باقاعدہ ان سے جا کر ہاتھ ملاتا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ مجھ ناچیز کو آپ نے اتنا بڑا رتبہ مفت میں دے دیا اور لوگوں کے ایسے کہنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔

السلام علیکم،

جناب بات ملا یا مولوی کے سمجھنے کی نہیں بلکہ ان کے سمجھنے کی ہے جو انہیں تحقیر سے پکارتے ہیں۔ اگر مولوی یا ملا اس بات کو برا سمجھتے تو شاید علاقے محلے کی مساجد میں بنج وقتہ نماز نہ ہوتی۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), ابو عمار (30-11-09), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09)
پرانا 30-11-09, 01:17 AM   #8
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک مولوی یا مولانا کہلانا ایک زمانے میں باعث عزت و اعزاز سمجھا جاتا تھا
طاہر بھائی شہاب صاحب کی تحریر شئیر کرنے کے لیئے بہت بہت شکریہ
بات دراصل یہ ہے کہ جب تک مولوی یا ملا یا مولانا ، مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور اپنے راستے پر چلتا رہا اس وقت تک اس پر اعتراضات صرف اور صرف انگریز تحزیب سے متاثر افراد ہی کرتے تھے اور انہیں سند عام و عوام حاصل نہیں تھی لیکن جب ملا نے سیدھے راستے کو چھوڑ دیا اور خود فرقہ پرستی کو ہوا دینے لگا تو عوام الناس میں بھی ان کی پھبتیاں اڑنے لگیں ، افسوس صد افسوس کہ ایک انہائی محترم ہستی ایک انتہائی قابل احترام کام طعن و ملامت کا عنوان بن جائے ۔ اللہ ہمارے علما اور عوام دونوں کو سمجھ دے آمین
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), نورالدین (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12)
پرانا 30-11-09, 09:24 AM   #9
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,996
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم مسلمانو

دین دار طبقہ پر بھبتی اس لئے کسی جاتی ہے کہ علماء کی بڑی تعداد مصلحت پسندی کا شکار ھوچکی ھے ، مصلحت کے تحت حق بات کہنے کی بجائے اس پر پردے ڈال دیتے ہیں ، حالانکہ سچ تو سچ ھے اور حق ، حق ہی رہتا ھے چاھے اسکو چھپا ہی لیا جائے، میرا خیال ھے کہ علماء کی مصلحت پسندی نے بے دین لوگوں کو موقع دیا ھے کہ وہ دین دار مومنوں کو تنز کا نشانہ بنائیں، اگر علماء کرام حق بات کہنے اور اس پر ڈٹ جانے والے اور حق پر سب کچھ قربان کردینے والے ھو جائیں تو کسی مسخرے کی مجال نہیں کہ وہ اکیلے میں بھی کسی پر بھبتی کس سکے،

شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (09-02-12), نبیل خان (08-02-12), سحر (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 30-11-09, 09:31 AM   #10
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,996
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم مسلمانو

دین دار طبقہ پر بھبتی اس لئے کسی جاتی ہے کہ علماء کی بڑی تعداد مصلحت پسندی کا شکار ھوچکی ھے ، مصلحت کے تحت حق بات کہنے کی بجائے اس پر پردے ڈال دیتے ہیں ، حالانکہ سچ تو سچ ھے اور حق ، حق ہی رہتا ھے چاھے اسکو چھپا ہی لیا جائے، میرا خیال ھے کہ علماء کی مصلحت پسندی نے بے دین لوگوں کو موقع دیا ھے کہ وہ دین دار مومنوں کو تنز کا نشانہ بنائیں، اگر علماء کرام حق بات کہنے اور اس پر ڈٹ جانے والے اور حق پر سب کچھ قربان کردینے والے ھو جائیں تو کسی مسخرے کی مجال نہیں کہ وہ اکیلے میں بھی کسی پر بھبتی کس سکے،

شکریہ
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 30-11-09, 10:05 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,647
کمائي: 28,618
شکریہ: 7,152
2,977 مراسلہ میں 8,787 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔

سب سے پہلے تو نوٹ کیجئے کہ ملا اور مولوی میں فرق ہے۔ ان میں‌ مولوی قابل عزت ہے جبکہ ملا کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ایک مولوی شرعی اصولوں اور شرعی تعلیم سے بہرہ ور شخص ہے جس کی عزت کی جانی چاہئیے جبکہ ملا ایسے سیاسی کردار کا نام ہے جو ایک خاص‌قسم کا نظام چاہتا ہے۔ جس کو یہ اسلامی نظام کہتا ہے۔

اس کی پرانی تاریخ کچھ اس طرح ہے۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے دو اہم ادارے تھے۔ ایک ادارہ کو آپ ٹیکس جمع کرنے کا ادارہ تور کرلیجئے جو کہ گورنر قسم کا آدمی اور اس کے ماتحت لوگ چلاتے تھے۔ جبکہ ایک دوسرا ادارہ تھا عدل و انصاف کا۔ جس کو عام طور پر مولوی قسم کے لوگ چلاتے تھے۔ یہ مولوی آہستہ آہستہ ایک انسٹی تیوشن بن گئے اور ان چھوٹے چھوٹے گروہوں کا گو کہ کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں تھا لیکن شریعت کی بنیادی کتب ان کا اثاثہ اور ایک بے قاعدہ مواصلاتی کتب کا کام دیتی تھیں۔ ان چھوٹے چھوٹے اداروں کے فار غ التحصیل حضرات مولوی عالم ، مولوی فاضل اور مفتی وغیرہ کی اسناد یا سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے تھے۔ ان اسناد کو حاصل کرنے کے لئے ایک مخصوص دینی نصاب۔ جس میں‌ قرآن کی کچھ چھوٹی سورتیں ، نماز پڑھانے کا طریقہ، اذان دینے اور وعظ کرنا سکھایا جاتا تھا۔ مزید اعلی تعلیم جس میں‌شریعت، منطق ، احدیث اور قانونی و عدلیہ نظام کی تفاصیل پڑھائی جاتی تھیں ، ایک شخص کو مفتی قرار دیتی تھیں۔ یہ طریقہ آج بھی ہندو پاکستان کے بہت سے مذہبی تعلیمی اداروں میں رائج ہے۔ ان ڈگریوں یعنی اسناد کے نام بھی نہیں‌بدلے ہیں۔

ان مدارس سے فارغ التحصیل لوگ حکومت میں‌ عدلیہ کا شعبہ سنبھالتے تھے اور ایک ایسا کردار ادا کرتے تھے جو کچھ مذہبی اور کچھ سیاسی تھا۔ عموماً یہی مولوی، مولوی عالم، مولوی فاضل ، مفتی ، مفتی عالم ، مفتی فاضل قسم کی اسناد کے مطابق ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں‌ عدالتیں پھیلتی اورسمٹتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ --- مولوی -- قاضی کے عہدے پر تعینات ہوتے رہے۔ انگریزوں کے آنے کے بعد بھی یہ قاضی عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ان عدالتوں کی عدالتی زبان فارسی ہوتی تھی ۔ اس زبان کی جھلک آج بھی ہمارے تھانوں کے رجسٹر میں ملتی ہے۔ ملزم، مجرم، تفتیش کنندہ، مدعی، مدعیہ اور وقعہ ان الفاظ کی مثالیں ہیں۔

مقصد اس نظام کا عمومی انصاف پہنچانا تھا لیکن تشدد، انتہا پسندی کی وجہ سے اور کسی وفاقی آئین یا تعزیراتی قوانیں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اور اس پر سونے پر سہاگہ فرد واحد کی حکومت کی وجہ سے ، یہ مولوی ، خود ہی قانون ساز ہوتے تھے۔ آج بھی ان کی قانون سازی کی مثال دیکھی جاسکتی ہے کہ لوگ ان اسناد یافتہ مولویوں سے فتوی لینے جاتے ہیں۔ یہ مولوی خود ہی منصف ہوتے تھے۔ یعنی جرم کا احساس ہوجانے پر حد لگادیتے تھے۔ جو عموماً بڑے جرائم پر ہوتی تھی۔ اور ان کے ماتحت ایک چھوٹا سا دستہ سزائیں دینے پر معمور تھا۔ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ عموماً یہ قانون واقعہ ہونے کے بعد بناتا تھا۔

یہ مولوی ملا کب بنا؟
انگریزوں کے برصغیر کے حملے کے بعد سارا عتاب بادشاہوں پر ٹوٹا۔ قاضی عدالتیں سمیٹ دی گئیں اور انگریزی تعزیر قوانیں بنائے گئے۔ انگریز یہاں ہمیشہ کے لئے رکنا چاہتا تھا۔ بادشاہت کے خاتمہ کے بعد ، نہ صرف کلرک چاہئیے تھے ، بلکہ قاضی اور گورنر بھی چاہئیے تھے۔ اس مقصدکے لئے ایک طرف انگریزی طرز کی تعلیم کی انگریزوں کو ضرورت تھی ، تو دوسری طرف مسلمان اس میں اپنے سابقہ طریقہ تعلیم کی وجہ سے فٹ نہیں آتے تھے۔ اس وقت سرسید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی، جناب سرسید احمد خان خود ایک مولوی تھے ، باقی مولویوں نے اور انے بڑے لیڈروں نے سرسید احمد خان کی مخالفت کی۔ ان پر 500 دستخطوں سے کفر کا فتوی لگایا گیا۔ سرسید کا قصور صرف یہ تھا کہ جدید تعلیم سے مسلمانوں ک روشناس کرایا۔ یہاں پر مخالفت کی وجہ سے بابو اور ملا کی اصطلح جاری ہوئی۔ علی گڑھ کی دیکھا دیکھی دو اور مدرسے قائم ہوئے ایک حیدرآباد میں اور دوسرا مجھے یاد نہیں۔ ساتھ ساتھ نئی انگریزی یونیورسٹیاں بھی بننے لگیں۔

علی گڑھ کے نصاب میں دینی اور جدید دونوں قسم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ لیکن روایتی مدرسے اپنی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنے نصاب پر قائم رہے۔ ان کے سیاسی اکابرین کا خیال تھا کہ پھر سے بادشاہت آجائے گی اور مولوی کی نشاۃ ثانیہ پھر سے آجائے گی۔ اس طرح مولوی پھر ایک خوشحال زندگی گذار سکے گا۔ یہی ٍ فلسفہ آج بھی ان مدارس میں پڑھایا جاتا ہے ۔ مخالفین نے یعنی بابو لوگوں نے اس ملا فلسفہ کی خوب مخالفت کی ۔ یہ وجہ ہے ملا کی تضحیک کی۔

وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان مولوی مدرسوں میں موجودہ مولوی نصاب کو جدید نصاب سے ہم آہنگ کیا جائے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حساب، تاریخ، جغرافیہ، فزکس اور کیمسٹری بھی پڑھائے جائیں۔ اس طرح اسکولوں کا نصاب ایک کرکے مدرسوں‌ اور اسکولوں کا فرق ختم کردیا جائے۔ یہاں میں یہ نہیں‌کہنا چاہتا کہ مولوی نصاب کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ مولوی نصاب کو ام اسکولوں‌مٰں ضم کرنے کی تجویز دے رہا ہوں۔ تاکہ ہر مسلمان دینی اور سائینسی علوم سے یکساں واقفیت رکھے۔

آج کا مولوی، ہر طور قابل عزت ہے، کہ وہ دینی علوم کے بارے میں جانتا ہے ۔ لیکن وہ ملا جو آج بھی سیاست بگھارتے ہیں اور ایک ڈبہ بند قسم کی تعلیم کے حامی ہیں ، ان کو اس روائیتی خول سے باہر آکر جدید تعلیم کو مدرسے میں ضم کروانے کی ضرورت ہے۔

ملا کی یہ ہٹ دھرمی کہ جدید تعلیم ، انگریزی تعلیم ہے ، اس کا حاصل کرنا کفر ہے۔ صرف قرآ ناور حدیث کی تعلیم حاصل کرنی چاہئیے ، اس کی بے عزتی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

تعلیم کی اس کمی کی وجہ سے ہی مسلماں‌اتنے کمزور ہوتے چلے گئے کہ انگریز ان کو روندتا ہوا دہلی جا پہنچا۔ جن لوگوں نے لا متناہی تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کی تشہیر کی ملاؤں نے ان لوگوں کی مخالفت کی اور اس طرح بے عزتی کمائی۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
microu (08-02-12), نورالدین (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 12:11 PM   #12
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 1
کمائي: 226
شکریہ: 3
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزک اللہ ۔ اللہ آپکو آسانیاں عطا کرے
microu آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-02-12, 02:07 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,051
کمائي: 55,320
شکریہ: 11,816
1,570 مراسلہ میں 4,870 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قدرت اللہ شہاب میرے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں ۔
مگر اس اقتباس میں انہوں نے تحریر میں جذباتیت لانے کے لیے مولوں کا مثبت پہلو دکھایا ہے اور اسے ہم بھی مانتے ہیں ۔
مگر انہوں نے یہ نہيں بتایا کہ مسلمانوں کو نئے زمانے میں انگریزوں سے جب سخت مقابلے کی ضرورت پڑی تب ملا کس حد تک کام آئے ۔

دوسرا سوال یہ کہ ملا کو تضحیک کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے ۔ تو بات یہ ہے کہ
ملا حضرات کو بھی جب موقع ملتا ہے عام افراد کو اسی طرح تضحیک کا نشانہ بنا کر مایوسی پھیلاتے ہیں ۔
جیسے کہ اکثر بڑی عمر کے لوگ کم عمر یا نوجوانوں کو جو مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں ان کو کہتے ہیں کہ
کیا کروگے اتنی تعلیم حاصل کر کے ۔ قبر میں یہ ڈگریاں کام نہيں آئیں گی ۔ بلکہ صرف نماز کام آئے گی ۔
اب وہ نوجوان جس کی عمر اپنے مسقتبل بنانے کی ہوتی ہے ۔ وہ مذہب کے ان ہیر پھیر کو نہیں جانتا ۔ اور بحث نہيں کر پاتا۔
بعض اوقات بچے اس جذباتی بلیک میلنگ میں آجاتے ہيں اور دل میں دنیاوی تعلیم کے لیے ہلکی سے نفرت پیدا کر لیتے ہیں ۔

اور جو نوجوان دین اور دنیا میں اعتدال کی حد کو سمجھتے ہیں وہ ان مایوسی پھیلانے والوں کو لفٹ نہيں کراتے اور اپنے زندگی کے مقصد پر نظر رکھتے ہوئے
اپنی حالت بہتر بنا لیتے ہیں تب وہی ملا حضرات ان کے پیسوں سے اپنا دین چلاتے ہیں ۔ کہ چلو اتنا پڑھ لکھ لیا ہے تو
اتنا پیسہ کیا قبر میں لے کر جاؤ گے ۔ اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرو ۔ لاؤ مجھے کچھ دو ۔

اب بتائیے کیا یہ کھلا تضاد نہيں ۔ ۔ ۔ ۔
یہی سب تو وہ باتیں ہیں جو ملا کی عزت اور اہمیت کم کر دیتی ہیں ۔ ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
microu (08-02-12), فاروق سرورخان (08-02-12), مرزا عامر (08-02-12), حیدر (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 02:50 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,285
شکریہ: 52,572
11,198 مراسلہ میں 35,312 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو مسائل ماضی کے اُساتذہ کرام یعنی مُلاؤں میں ہیں بعینہ وہی مسائل آج کے اساتذہ کرام میں بھی ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (08-02-12)
پرانا 08-02-12, 03:10 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,647
کمائي: 28,618
شکریہ: 7,152
2,977 مراسلہ میں 8,787 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور ۔۔۔۔ کے مترادف، ایک مذہبی سیاسی بازیگر کو عرف عام میں ملاء قرآر دیا جاتا ہے۔

دیکھئے

The News Tribe | Breaking News, Latest Pakistan News, Fashion, Business, Sports, Technology

کہ کس طرح‌ مذہب کو سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا گیا۔

یہاں‌ بریلوی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا نماز جنازہ ایک دیوبندی ملاء نے پڑھا دیا ۔ جس پر بریلوی ملاء نے سارے گاؤں‌ کا نکاح فسخ‌ قرار دے دیا اور دوبارہ نکاح کرنے کا فتوی جاری کیا۔

مزا یہ ہے کہ وہاں سینکڑوں‌ افراد اپنا نکاح‌ دوبارہ پڑھوا چکے ہیں ۔۔۔ یعنی ایک بار پھر فیس ادا کرو۔

جگا ٹیکس ، کبھی زکواۃ ، کبھی خیرات ، کبھی کسی اور نام سے وصولنے کا نام ہی بھگوان گیری ہے ۔۔۔

ملاء‌سے بس یہ درخواست ہے کہ "پیسے کو اپنے کوہ و دمن نکال دو " پھر جتنی چاہے بھگوان گیری کرو

Last edited by فاروق سرورخان; 08-02-12 at 03:13 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (08-02-12), مرزا عامر (08-02-12)
جواب

Tags
color, فرض, کڑکڑاتے, پاکستان, قدرت اللہ شہاب, لوگ, نماز, موقع, مولوی، ملا، شہاب، طاہر, معلوم, آبادی, اللہ, اسلامی, تعلیم, داڑھی, رفتار, شہر, شخص, علم, علامت, عالم, غسل, صفحات, صبح, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نیند سے محرومی کیوں؟ سیپ شعبہ طب 1 08-02-11 11:34 PM
قانون سے بالا تر ! آخر کیوں؟ Zullu230 سیاست 1 15-10-10 12:02 AM
نظام عدل کے نفاذ کی مخالفت کیوں؟ راجہ اکرام اپکے کالم 10 13-05-09 11:27 PM
شادی دیر سے کیوں؟ بھائی عمومی بحث 15 07-01-09 09:36 AM
امت مسلمہ مدد الہیٰ سے محروم کیوں؟ چیتا چالباز اسلامی عقیدہ 7 18-12-08 08:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger