| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 511
|
||||
| 23 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | microu (08-02-12), sahj (30-11-09), فرحان دانش (08-02-12), گوندل (26-11-09), نورالدین (08-02-12), نبیل خان (08-02-12), منتظمین (26-11-09), مرزا عامر (08-02-12), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), ابونعیم (12-02-12), ابن آدم (12-02-12), احقر (08-02-12), حیدر Rehan (08-02-12), سیلانی (26-11-09), سام (08-02-12), سحر (25-11-09), شکاری (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شمشاد احمد (11-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عامرشہزاد (26-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
|
طاہر صاحب مولوی یا ملا کی تحقیر کا تمام کام باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت کیا جاتا ہے اسی مولوی اور ملا میں اب ایک نئے نام "طالب" کا اضافہ بھی ہوگیا ہے
اس تحقیر سے لطف اندوز ہونے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ درپردہ مسلمانوں کی تحقیر ہے |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا | sahj (30-11-09), فیصل ناصر (09-02-12), نبیل خان (08-02-12), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), ابن آدم (12-02-12), سام (08-02-12), سحر (25-11-09), شکاری (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شمشاد احمد (11-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), طاھر (26-11-09), عامرشہزاد (26-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09) |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 90
کمائي: 1,841
شکریہ: 336
55 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی یہ قابل ِغوربات ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیلانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم، یقینا ایسا ہی ہے کہ لوگ اسی شخص کی تضحیک کرتے ہیں جو انہیں بنیادی اسلامی ارکان کی تعلیم دیتا ہے، ان کے فرائضکااحساس دلاتا ہے اور فرض کی ادائیگی میں ساتھ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو اب یہ عالم ہے کہ کسی بیٹے کو جنازے کے غسل اور نماز جنازہ کا طریقہ ہی نہیں معلوم اور اس کے لیئے بھی وہ اسی مولوی کا مقروض ہے، اگر وہی مولوی نہ ہو تو شاید جنازے دفن کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے۔ والسلام طاہر Last edited by طاھر; 27-11-09 at 01:19 AM. |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), گوندل (26-11-09), آبی ٹوکول (08-02-12), ابو عمار (26-11-09), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عامرشہزاد (26-11-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ویسے یہ سب محسوس کرنے پر بھی ہے کہ اسے آپ اپنے لیے تحقیر سمجھتے ہیں یا توقیر۔
میرا ایک دوست ہے 'سیمی'، اس نے ماشاءاللہ باشرع داڑھی رکھی ہوئی ہے مگر ہے پورا دنیاوی بندہ۔ میرے خیال سے دین کی صرف ایک ہی چیز پر وہ سختی سے عمل کرتا ہے اور وہ ہے داڑھی۔ لوگ اسے بھی دیکھ کر ملا صاحب اور مولوی کہتے ہیں تو وہ باقاعدہ ان سے جا کر ہاتھ ملاتا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ مجھ ناچیز کو آپ نے اتنا بڑا رتبہ مفت میں دے دیا اور لوگوں کے ایسے کہنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا | sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), منتظمین (26-11-09), مرزا عامر (08-02-12), احمد نذیر (08-02-12), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,113
شکریہ: 285
376 مراسلہ میں 1,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ صاحب سے مکمل اتفاق کےساتھ تھوڑاسااضافہ کہ جولوگ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں وہی ملا کوحقیر بناکرپیش کرتے ہیں۔قیام پاکستان کےبعدملانےتواپنی ذمہ داری کوپوراکیاہے،ہمیں ہرکوچے میں مسجداورمدرسے نظرآتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کے سپردسیاسی معاشی اوردفاعی ذمہ داریاں تھیں،انھوں نے غیرذمہ داری سے کام لیااور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے الزامات کاہدف ملاّ کوبنالیا۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم، جناب بات ملا یا مولوی کے سمجھنے کی نہیں بلکہ ان کے سمجھنے کی ہے جو انہیں تحقیر سے پکارتے ہیں۔ اگر مولوی یا ملا اس بات کو برا سمجھتے تو شاید علاقے محلے کی مساجد میں بنج وقتہ نماز نہ ہوتی۔ والسلام طاہر |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | sahj (30-11-09), فاروق سرورخان (30-11-09), ابو عمار (30-11-09), شھزادباجوہ (08-02-12), شاہ جی 90 (30-11-09), عبداللہ حیدر (27-11-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے شک مولوی یا مولانا کہلانا ایک زمانے میں باعث عزت و اعزاز سمجھا جاتا تھا
طاہر بھائی شہاب صاحب کی تحریر شئیر کرنے کے لیئے بہت بہت شکریہ بات دراصل یہ ہے کہ جب تک مولوی یا ملا یا مولانا ، مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور اپنے راستے پر چلتا رہا اس وقت تک اس پر اعتراضات صرف اور صرف انگریز تحزیب سے متاثر افراد ہی کرتے تھے اور انہیں سند عام و عوام حاصل نہیں تھی لیکن جب ملا نے سیدھے راستے کو چھوڑ دیا اور خود فرقہ پرستی کو ہوا دینے لگا تو عوام الناس میں بھی ان کی پھبتیاں اڑنے لگیں ، افسوس صد افسوس کہ ایک انہائی محترم ہستی ایک انتہائی قابل احترام کام طعن و ملامت کا عنوان بن جائے ۔ اللہ ہمارے علما اور عوام دونوں کو سمجھ دے آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم مسلمانو
دین دار طبقہ پر بھبتی اس لئے کسی جاتی ہے کہ علماء کی بڑی تعداد مصلحت پسندی کا شکار ھوچکی ھے ، مصلحت کے تحت حق بات کہنے کی بجائے اس پر پردے ڈال دیتے ہیں ، حالانکہ سچ تو سچ ھے اور حق ، حق ہی رہتا ھے چاھے اسکو چھپا ہی لیا جائے، میرا خیال ھے کہ علماء کی مصلحت پسندی نے بے دین لوگوں کو موقع دیا ھے کہ وہ دین دار مومنوں کو تنز کا نشانہ بنائیں، اگر علماء کرام حق بات کہنے اور اس پر ڈٹ جانے والے اور حق پر سب کچھ قربان کردینے والے ھو جائیں تو کسی مسخرے کی مجال نہیں کہ وہ اکیلے میں بھی کسی پر بھبتی کس سکے، شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم مسلمانو
دین دار طبقہ پر بھبتی اس لئے کسی جاتی ہے کہ علماء کی بڑی تعداد مصلحت پسندی کا شکار ھوچکی ھے ، مصلحت کے تحت حق بات کہنے کی بجائے اس پر پردے ڈال دیتے ہیں ، حالانکہ سچ تو سچ ھے اور حق ، حق ہی رہتا ھے چاھے اسکو چھپا ہی لیا جائے، میرا خیال ھے کہ علماء کی مصلحت پسندی نے بے دین لوگوں کو موقع دیا ھے کہ وہ دین دار مومنوں کو تنز کا نشانہ بنائیں، اگر علماء کرام حق بات کہنے اور اس پر ڈٹ جانے والے اور حق پر سب کچھ قربان کردینے والے ھو جائیں تو کسی مسخرے کی مجال نہیں کہ وہ اکیلے میں بھی کسی پر بھبتی کس سکے، شکریہ |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (30-11-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
سب سے پہلے تو نوٹ کیجئے کہ ملا اور مولوی میں فرق ہے۔ ان میں مولوی قابل عزت ہے جبکہ ملا کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ایک مولوی شرعی اصولوں اور شرعی تعلیم سے بہرہ ور شخص ہے جس کی عزت کی جانی چاہئیے جبکہ ملا ایسے سیاسی کردار کا نام ہے جو ایک خاصقسم کا نظام چاہتا ہے۔ جس کو یہ اسلامی نظام کہتا ہے۔ اس کی پرانی تاریخ کچھ اس طرح ہے۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے دو اہم ادارے تھے۔ ایک ادارہ کو آپ ٹیکس جمع کرنے کا ادارہ تور کرلیجئے جو کہ گورنر قسم کا آدمی اور اس کے ماتحت لوگ چلاتے تھے۔ جبکہ ایک دوسرا ادارہ تھا عدل و انصاف کا۔ جس کو عام طور پر مولوی قسم کے لوگ چلاتے تھے۔ یہ مولوی آہستہ آہستہ ایک انسٹی تیوشن بن گئے اور ان چھوٹے چھوٹے گروہوں کا گو کہ کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں تھا لیکن شریعت کی بنیادی کتب ان کا اثاثہ اور ایک بے قاعدہ مواصلاتی کتب کا کام دیتی تھیں۔ ان چھوٹے چھوٹے اداروں کے فار غ التحصیل حضرات مولوی عالم ، مولوی فاضل اور مفتی وغیرہ کی اسناد یا سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے تھے۔ ان اسناد کو حاصل کرنے کے لئے ایک مخصوص دینی نصاب۔ جس میں قرآن کی کچھ چھوٹی سورتیں ، نماز پڑھانے کا طریقہ، اذان دینے اور وعظ کرنا سکھایا جاتا تھا۔ مزید اعلی تعلیم جس میںشریعت، منطق ، احدیث اور قانونی و عدلیہ نظام کی تفاصیل پڑھائی جاتی تھیں ، ایک شخص کو مفتی قرار دیتی تھیں۔ یہ طریقہ آج بھی ہندو پاکستان کے بہت سے مذہبی تعلیمی اداروں میں رائج ہے۔ ان ڈگریوں یعنی اسناد کے نام بھی نہیںبدلے ہیں۔ ان مدارس سے فارغ التحصیل لوگ حکومت میں عدلیہ کا شعبہ سنبھالتے تھے اور ایک ایسا کردار ادا کرتے تھے جو کچھ مذہبی اور کچھ سیاسی تھا۔ عموماً یہی مولوی، مولوی عالم، مولوی فاضل ، مفتی ، مفتی عالم ، مفتی فاضل قسم کی اسناد کے مطابق ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں عدالتیں پھیلتی اورسمٹتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ --- مولوی -- قاضی کے عہدے پر تعینات ہوتے رہے۔ انگریزوں کے آنے کے بعد بھی یہ قاضی عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ان عدالتوں کی عدالتی زبان فارسی ہوتی تھی ۔ اس زبان کی جھلک آج بھی ہمارے تھانوں کے رجسٹر میں ملتی ہے۔ ملزم، مجرم، تفتیش کنندہ، مدعی، مدعیہ اور وقعہ ان الفاظ کی مثالیں ہیں۔ مقصد اس نظام کا عمومی انصاف پہنچانا تھا لیکن تشدد، انتہا پسندی کی وجہ سے اور کسی وفاقی آئین یا تعزیراتی قوانیں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اور اس پر سونے پر سہاگہ فرد واحد کی حکومت کی وجہ سے ، یہ مولوی ، خود ہی قانون ساز ہوتے تھے۔ آج بھی ان کی قانون سازی کی مثال دیکھی جاسکتی ہے کہ لوگ ان اسناد یافتہ مولویوں سے فتوی لینے جاتے ہیں۔ یہ مولوی خود ہی منصف ہوتے تھے۔ یعنی جرم کا احساس ہوجانے پر حد لگادیتے تھے۔ جو عموماً بڑے جرائم پر ہوتی تھی۔ اور ان کے ماتحت ایک چھوٹا سا دستہ سزائیں دینے پر معمور تھا۔ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ عموماً یہ قانون واقعہ ہونے کے بعد بناتا تھا۔ یہ مولوی ملا کب بنا؟ انگریزوں کے برصغیر کے حملے کے بعد سارا عتاب بادشاہوں پر ٹوٹا۔ قاضی عدالتیں سمیٹ دی گئیں اور انگریزی تعزیر قوانیں بنائے گئے۔ انگریز یہاں ہمیشہ کے لئے رکنا چاہتا تھا۔ بادشاہت کے خاتمہ کے بعد ، نہ صرف کلرک چاہئیے تھے ، بلکہ قاضی اور گورنر بھی چاہئیے تھے۔ اس مقصدکے لئے ایک طرف انگریزی طرز کی تعلیم کی انگریزوں کو ضرورت تھی ، تو دوسری طرف مسلمان اس میں اپنے سابقہ طریقہ تعلیم کی وجہ سے فٹ نہیں آتے تھے۔ اس وقت سرسید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی، جناب سرسید احمد خان خود ایک مولوی تھے ، باقی مولویوں نے اور انے بڑے لیڈروں نے سرسید احمد خان کی مخالفت کی۔ ان پر 500 دستخطوں سے کفر کا فتوی لگایا گیا۔ سرسید کا قصور صرف یہ تھا کہ جدید تعلیم سے مسلمانوں ک روشناس کرایا۔ یہاں پر مخالفت کی وجہ سے بابو اور ملا کی اصطلح جاری ہوئی۔ علی گڑھ کی دیکھا دیکھی دو اور مدرسے قائم ہوئے ایک حیدرآباد میں اور دوسرا مجھے یاد نہیں۔ ساتھ ساتھ نئی انگریزی یونیورسٹیاں بھی بننے لگیں۔ علی گڑھ کے نصاب میں دینی اور جدید دونوں قسم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ لیکن روایتی مدرسے اپنی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنے نصاب پر قائم رہے۔ ان کے سیاسی اکابرین کا خیال تھا کہ پھر سے بادشاہت آجائے گی اور مولوی کی نشاۃ ثانیہ پھر سے آجائے گی۔ اس طرح مولوی پھر ایک خوشحال زندگی گذار سکے گا۔ یہی ٍ فلسفہ آج بھی ان مدارس میں پڑھایا جاتا ہے ۔ مخالفین نے یعنی بابو لوگوں نے اس ملا فلسفہ کی خوب مخالفت کی ۔ یہ وجہ ہے ملا کی تضحیک کی۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان مولوی مدرسوں میں موجودہ مولوی نصاب کو جدید نصاب سے ہم آہنگ کیا جائے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حساب، تاریخ، جغرافیہ، فزکس اور کیمسٹری بھی پڑھائے جائیں۔ اس طرح اسکولوں کا نصاب ایک کرکے مدرسوں اور اسکولوں کا فرق ختم کردیا جائے۔ یہاں میں یہ نہیںکہنا چاہتا کہ مولوی نصاب کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ مولوی نصاب کو ام اسکولوںمٰں ضم کرنے کی تجویز دے رہا ہوں۔ تاکہ ہر مسلمان دینی اور سائینسی علوم سے یکساں واقفیت رکھے۔ آج کا مولوی، ہر طور قابل عزت ہے، کہ وہ دینی علوم کے بارے میں جانتا ہے ۔ لیکن وہ ملا جو آج بھی سیاست بگھارتے ہیں اور ایک ڈبہ بند قسم کی تعلیم کے حامی ہیں ، ان کو اس روائیتی خول سے باہر آکر جدید تعلیم کو مدرسے میں ضم کروانے کی ضرورت ہے۔ ملا کی یہ ہٹ دھرمی کہ جدید تعلیم ، انگریزی تعلیم ہے ، اس کا حاصل کرنا کفر ہے۔ صرف قرآ ناور حدیث کی تعلیم حاصل کرنی چاہئیے ، اس کی بے عزتی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تعلیم کی اس کمی کی وجہ سے ہی مسلماںاتنے کمزور ہوتے چلے گئے کہ انگریز ان کو روندتا ہوا دہلی جا پہنچا۔ جن لوگوں نے لا متناہی تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کی تشہیر کی ملاؤں نے ان لوگوں کی مخالفت کی اور اس طرح بے عزتی کمائی۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 1
کمائي: 226
شکریہ: 3
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزک اللہ ۔ اللہ آپکو آسانیاں عطا کرے
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
قدرت اللہ شہاب میرے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں ۔
مگر اس اقتباس میں انہوں نے تحریر میں جذباتیت لانے کے لیے مولوں کا مثبت پہلو دکھایا ہے اور اسے ہم بھی مانتے ہیں ۔ مگر انہوں نے یہ نہيں بتایا کہ مسلمانوں کو نئے زمانے میں انگریزوں سے جب سخت مقابلے کی ضرورت پڑی تب ملا کس حد تک کام آئے ۔ دوسرا سوال یہ کہ ملا کو تضحیک کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے ۔ تو بات یہ ہے کہ ملا حضرات کو بھی جب موقع ملتا ہے عام افراد کو اسی طرح تضحیک کا نشانہ بنا کر مایوسی پھیلاتے ہیں ۔ جیسے کہ اکثر بڑی عمر کے لوگ کم عمر یا نوجوانوں کو جو مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں ان کو کہتے ہیں کہ کیا کروگے اتنی تعلیم حاصل کر کے ۔ قبر میں یہ ڈگریاں کام نہيں آئیں گی ۔ بلکہ صرف نماز کام آئے گی ۔ اب وہ نوجوان جس کی عمر اپنے مسقتبل بنانے کی ہوتی ہے ۔ وہ مذہب کے ان ہیر پھیر کو نہیں جانتا ۔ اور بحث نہيں کر پاتا۔ بعض اوقات بچے اس جذباتی بلیک میلنگ میں آجاتے ہيں اور دل میں دنیاوی تعلیم کے لیے ہلکی سے نفرت پیدا کر لیتے ہیں ۔ اور جو نوجوان دین اور دنیا میں اعتدال کی حد کو سمجھتے ہیں وہ ان مایوسی پھیلانے والوں کو لفٹ نہيں کراتے اور اپنے زندگی کے مقصد پر نظر رکھتے ہوئے اپنی حالت بہتر بنا لیتے ہیں تب وہی ملا حضرات ان کے پیسوں سے اپنا دین چلاتے ہیں ۔ کہ چلو اتنا پڑھ لکھ لیا ہے تو اتنا پیسہ کیا قبر میں لے کر جاؤ گے ۔ اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرو ۔ لاؤ مجھے کچھ دو ۔ اب بتائیے کیا یہ کھلا تضاد نہيں ۔ ۔ ۔ ۔ یہی سب تو وہ باتیں ہیں جو ملا کی عزت اور اہمیت کم کر دیتی ہیں ۔ ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور ۔۔۔۔ کے مترادف، ایک مذہبی سیاسی بازیگر کو عرف عام میں ملاء قرآر دیا جاتا ہے۔
دیکھئے The News Tribe | Breaking News, Latest Pakistan News, Fashion, Business, Sports, Technology کہ کس طرح مذہب کو سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ یہاں بریلوی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا نماز جنازہ ایک دیوبندی ملاء نے پڑھا دیا ۔ جس پر بریلوی ملاء نے سارے گاؤں کا نکاح فسخ قرار دے دیا اور دوبارہ نکاح کرنے کا فتوی جاری کیا۔ مزا یہ ہے کہ وہاں سینکڑوں افراد اپنا نکاح دوبارہ پڑھوا چکے ہیں ۔۔۔ یعنی ایک بار پھر فیس ادا کرو۔ جگا ٹیکس ، کبھی زکواۃ ، کبھی خیرات ، کبھی کسی اور نام سے وصولنے کا نام ہی بھگوان گیری ہے ۔۔۔ ملاءسے بس یہ درخواست ہے کہ "پیسے کو اپنے کوہ و دمن نکال دو " پھر جتنی چاہے بھگوان گیری کرو
Last edited by فاروق سرورخان; 08-02-12 at 03:13 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, کڑکڑاتے, پاکستان, قدرت اللہ شہاب, لوگ, نماز, موقع, مولوی، ملا، شہاب، طاہر, معلوم, آبادی, اللہ, اسلامی, تعلیم, داڑھی, رفتار, شہر, شخص, علم, علامت, عالم, غسل, صفحات, صبح, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نیند سے محرومی کیوں؟ | سیپ | شعبہ طب | 1 | 08-02-11 11:34 PM |
| قانون سے بالا تر ! آخر کیوں؟ | Zullu230 | سیاست | 1 | 15-10-10 12:02 AM |
| نظام عدل کے نفاذ کی مخالفت کیوں؟ | راجہ اکرام | اپکے کالم | 10 | 13-05-09 11:27 PM |
| شادی دیر سے کیوں؟ | بھائی | عمومی بحث | 15 | 07-01-09 09:36 AM |
| امت مسلمہ مدد الہیٰ سے محروم کیوں؟ | چیتا چالباز | اسلامی عقیدہ | 7 | 18-12-08 08:16 AM |