واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


نٹ کھٹ روزہ دار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-02-11, 10:50 AM   #1
نٹ کھٹ روزہ دار
زارا زارا آف لائن ہے 10-02-11, 10:50 AM

روزے رکھنا ہم نے اُسی وقت سے ہی شروع کر دیا تھا جب ہمیں یہ علم ہوا کہ کھاناپینا ہمارے لئے کتنا ضروری ہے۔بچپن میں ایک رمضان کی تپتی ہوئی دھوپ کا ذکر ہے کہ ہم روزے سے تھے اور اِفطار کی منزل ابھی دُور تھی۔ ہماری والدہ پاس بیٹھی چاول چُن رہی تھیں کہ بے خیالی میں ہم نے چاول کی ایک چُٹکی اُٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ والدہ نے چیخ کر ہمیں یاد دلا یا کہ ہمارا روزہ ہے۔ ہمیں بڑا افسوس ہُوا کہ کہیں ہمارا روزہ تو نہیں ٹوٹ گیا۔ پھِر اُنھوں نے اطمینان دِلایا کہ۔۔۔ "نہیں ! اگر بھُول سے کچھ کھا لِیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا"۔ یہ جان کر ہمیں پہلے سے بھی زیادہ افسوس ہُوا کہ کاش ہم بھُول سے پانی کا ایک بڑا سا گلاس پی گئے ہوتے۔ کوئی فرحت بخش شربت ہی منہ میں اُنڈیل گئے ہوتے۔ اُ س کے بعد ہم نے کئی روزے رکھے اور بہت کوشش کی کہ بھول جائیں۔ ایک لمحہ کے لئے ہی سہی مگربھول جائیںکہ ہمارا روزہ ہے۔ لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔

اُن ہی دِنوں کی بات ہے جب ہمیں لوگ چاند کہتے تھے۔تب ہم یہ سمجھتے تھے کہ چاند صرف سال میں دو مرتبہ ہی نظر آتا ہے۔وہ بھی اِتنا سا۔ ۔۔ ) ۔۔۔ اور ذرا تِرچھا۔اِس کے علاوہ بھی ہم نے کئی بارپُورا پُورا چاند بھی دیکھا لیکن کسی کو اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتے ہُوے نہیں دیکھا۔ جبکہ رمضان و عید کا چاند نظر نہ بھی آئے تو ہم نے بہت سوں کو بڑے اہتمام کے ساتھ دیکھتے ہوئے دیکھا ہے۔بلکہ شہادت دیتے ہُوئے بھی دیکھا ہے۔ ہم بھی یہ دونوں چاند بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے دو ۔۔دو سیڑھیاں پھلانگتے ہُوئے مسجد کی چھت پر چڑھ جاتے اور جہاں سَر اُٹھایا وہیں چاند تلاش کر نے لگتے۔وہاں۔۔۔ شام کے دھُندلکے میں ہر بچہ الگ الگ سمت میں چاند ڈھونڈتا نظر آتا۔ گویا ہر بچے کہ لئے الگ الگ چاند نکلنے والا ہو۔ ہماری کیفیت دیکھ کر کوئی بڑا ہمیں اپنی گود میں اُٹھا کر اُنگلی کے اِشارے سے چند درختوں کے پیچھے آپس میں گُتھم گُتھا بجلی اور ٹیلفون کے تار دِکھاتا ۔ پھِرآسمان سے باتیں کرتیں اُونچی اُونچی عمارتیں ۔اور اُن کے بیچ میں سے خالی جگہ تلاش کر کے گھوڑوں ، پہاڑوں اور غباروں کی شکل کے بادل دِکھاتا۔

ہم اِس تمھید پر بے چین ہو جاتے۔وہ اِتنا سب کچھ دِکھانے کے بعد ہمارے ناخن کے برابر کوئی چیز دکھا کر کہتا کہ "دیکھو بیٹا !یہ وہی چاند ہے جس کا تمھیں سال بھر سے انتظار تھا۔ہم سر اُوپر اُٹھائے ایک ہاتھ سے اپنی ٹوپی سنبھالے اوردوسرے ہاتھ میں چپل تھامے وہ نازک سا ، تِرچھا چاند دیکھتے ۔جِسے دیکھ کر ایسا لگتا کہ اب گِرا ۔۔۔اب گِرا۔لیکن چاندسے زیادہ ہمیں اپنی ٹوپی کے گرجانے کا ڈر رہتا۔کیو ں کہ گھر لوٹنے پر ہم سے کوئی یہ نہیں پوچھتا تھاکہ کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ امتحانوں میں کامیابی کے لئے دُعا مانگی یا نہیںِ ؟۔وہاں تو سب سے پہلا سوال ٹوپی اور چپل کی سلامتی کے متعلق ہوتا تھا۔ !ہاں تو۔۔۔ بڑوں کے ساتھ جب بھی ہم چاند دیکھتے تو اُن ہی کے طریقے سے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں سُکیڑ کر چاند کی طرف دیکھتے ، پھِر اُن کی طرف دیکھتے۔ وہ اگر آنکھوں کے آگے اپنے ہاتھ سے سائبان بناتے تو ہم بھی تھوڑی دیر کو اپنی ٹوپی چھوڑ کر ا پنا ہاتھ اپنی آنکھوں کے اوپر رکھ کر چھوٹا سا سائبان بناتے۔ لیکن جب ہم بڑے ہوئے تو یہ کھُلا کہ یہ سب دور کی چیزوں کو قریب دیکھنے کا کوئی جدید فارمولا نہیں ہے۔ بلکہ بڑے بوڑھے ؛ اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ آہ۔۔۔! ہم نے بڑوں کی بعض عادتوں کی تقلید میں اپنا بچپن بہت ضائع کیا۔

ہمارے دوست پُرجوش پُوری جو ہم سے ایک دوسال بڑے ہوںگے ، وہ بچپن میں روزے کم ہی رکھتے مگر اکثر روزہ داروں جیسی شکل بنائے پھِرتے۔ اور روزہ دار کو جو مراعات حاصل ہوتیں وہ پوری پوری استعمال میں لاتے۔ ۔۔

~ہم نے اُن کو بھی چُھپ چھُپ کے کھاتے دیکھا ہے گلیوں میں~

ہمارا ذاتی تجربہ ہے کہ اِفطار کے وقت دسترخوان پر وہی سب سے زیادہ کھاتا ہے جو روزے سے نہیں ہوتا۔

اُن دِنوں ہمیں کبھی کبھار محلے کی مسجد میں افطار کرنے کے مواقع بھی مِلتے۔ مسجد کی بالائی منزل پر چھوٹے بڑے تھالوں میں قسم قسم کے پکوان سجائے جاتے۔ افطار شروع ہوتے ہی بچے اُن پکوانوں کو تھالیوں کے باہر بھی سجا دیتے ۔ ہر بچہ پُو را پُورا۔۔۔اُن تھالیوںمیں بیٹھنے کی کوشش میں ہوتا ۔ کبھی کبھار دھکم دھکا میں کسی کی " پانچوں انگلیا ں تھالی میں ہوتیں اور سرلڑائی میں "۔ بڑے بچے جو عام طور پر اِس ہنگامی افطاری میں ماہر و مشاق ہوتے، وہ اپنے لئے جگہ ڈھیلی کرنے کی غرض سے ہمارے سرکی ٹوپی اُٹھا کر دور پھینک دیتے ۔ اور جب تک ٹوپی لے کر ہم واپس آتے تب تک "خالی "جگہ " پُر" ہوچُکی ہوتی اور تھال " پُر"سے" خالی"ہو چُکا ہوتا۔وہ تمام چیزیں ہر بچے کی دونوں مٹھیوں میں ہوتیں اور کچھ اُن کے پھُولے ہُوئے منہ میں ۔ اور ہم یہ سب چھیننے سے تو رہے!۔

بچوں کی 'نوچاکھسوٹی 'کا وہ منظر دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آج کے بعد دُنیا سے کھانا پینا اُٹھ جائے گا۔آج موقع ہے ، نیت نہیں تو کم از کم پیٹ ہی بھر لیاجائے۔اس ہنگامے میں کچھ غریب بچے ایسے بھی ہوتے تھے جوافطار کے بعد اِدھر اُدھربکھری ہوئی ، کُچلی ہُوئی اشیاء چُنتے اور اپنی میلی ٹوپیوںمیں ڈال کر گھر لے جاتے۔یہ سب دیکھ کر ہم جب پُرجوش پوری کو سمجھاتے کہ جو خوشی اپنا لقمہ دوسروںکو دے کر ملتی ہے اصل میں وہی سچی خوشی ہوتی ہے۔ وہ کہتے کہ "میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ اپنا چھوٹا لقمہ دوسروں کو دے کر خوش ہوتا ہوں۔ اور دوسروں کا بڑا لقمہ ہتھیا کر اُنھیں بھی خوش ہونے کا موقع دیتا ہوں"۔

رمضان میں ہر بچے کوگھر سے نماز اور افطاری کے لئے تھوڑی چھوٹ ملتی ، اِس خیال سے کہ بچے کا روزہ بہل جائے۔ ماں باپ یہ سوچ کر خوش ہوتے کہ ہمارا بچہ نمازی بن گیا ہے۔ اور بچے خوشی سے مسجد میں دوڑتے پھِرتے کہ اِتنی کھلی جگہ اُنھیں نہ اپنے گھر میں ملتی اور نہ پُورے محلے میں۔ مسجد میں آکر اُن کے ہاتھ پیرکھُل جاتے۔بچے اِس انتظار میں ہوتے کہ بڑے رکعت باندھ کر پابند ہو جائیں اور وہ ۔۔۔آزاد۔پھِر بڑوں کی کیا مجال کہ اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھیں۔اورجب نماز ختم ہوتی تو بڑے اُن بچوں کو ڈانٹنے سے زیادہ اُن کے والدین کو اِس ناقص تربیت پر کوستے اور اُنھیں غائبانہ مشورے بھی دیتے ۔ اُن کے وہ مشورے گھوم پھِر کر اُن تک بھی پہنچتے تھے ۔ کیوں کہ اُن کے اپنے بچے بھی اُس شرارتی ٹولے میں ہوتے جن پر اُن کی نِگاہ نہیں پڑتی تھی۔

یوں تو عام دِنوں میں مغرب کے بعد ہمارے گھر کے دروازے باہر جانے کے لئے ہم پر بند ہو جاتے۔ لیکن رمضان میں تراویح تک ہمیں 'دینی' چھوٹ مل جاتی۔تراویح میں اکثر یہ ہوتا کہ سجدے میں ہماری آنکھ لگ جاتی۔ ہم یہ سوچتے کہ کاش پوری تروایح سجدے میں ہوتیں۔تراویح میں امام صاحب تیزی سے سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد جو کچھ پڑھتے تھے اُس میں ہمیں " یعلموں " اور " تعلمون "کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے امام صاحب سے 'چھوٹی سی 'ہمت کر کے پوچھا بھی کہ وہ اتنی تیزی سے کیوں پڑھتے ہیں؟۔ تواُن کا جواب تھا کہ منتظمین نے آدھے گھنٹے میں تراویح ختم کرنے کی پابندی رکھی ہے۔ ہم نے کہا کہ " لوگوںکی سمجھ میں بھی توکچھ آنا چاہئے"۔
" آہستہ پڑھنے پر بھی لوگوں کی سمجھ میں کیا آنے والا ہے۔ایسا منتظمین کہتے ہیں ۔کاش ۔۔۔!!!منتظمین کو کوئی سمجھائے !"
اِمام صاحب ہمیشہ اِسی طرح سرد آہ بھر کر اپنی بے اِختیاری کا اظہار کرتے۔

رمضان کی اِتنی ساری خوشیوں کے بعد ہمیں عید کی دہری خوشی ملتی۔ ہماری خوشی میں مزید اضافہ اس وقت ہو جاتا جب ہم بڑوں کو یہ کہتے سُنتے کہ" یہ تو بچوں کی عید ہے"۔پھِرہم اُن سے خوب عیدی وصول کرکے اُن کے ' قول و فعل' میں تضاد پیدا ہونے نہیں دیتے۔ ایک مرتبہ پُرجوش پوری نے ہماری مٹھیوں میں ' کَسمَساتے ' نوٹ دیکھے تو اُنھیں بڑا ترس آیا( نوٹوں پر نہیں !۔۔۔ہم پر !)۔ وہ بولے ۔ "نادِر خانوُ ! تُم کب سدھروگے؟۔ تُمہارے ہاتھ میں اِتنے سارے پیسے دیکھ کر کوئی تمھیں ایک روپیہ بھی نہیں دے گا۔ اِن پیسوں کو جلدی سے کہیں ٹھُونسو!۔ اور ایسے بنو جیسے تمھیں کسی نے کچھ بھی نہیں دِیا۔ بڑوں کو بھُولنے کی بیماری ہوتی ہے۔ اِس سے فائدہ اُٹھاؤ! ۔ مجھے دیکھو ! میں نے تمہارے ابو سے دو دو بار عیدی اینٹھی ہے"۔

پُر جوش پُوری کا رمضان اور اُن کی عید اپنی جگہ۔ ہم اُن کا ہر سبق ہَوا میں اُڑا کر ، اپنی پوُری شرارتوں کے ساتھ ۔۔۔ایک نئے چاند ، ایک اور رمضان کے تصور میں گُم ہو جاتے۔

مصنف: نادر خان سَر گِروہ
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 436
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), فخر بٹ (26-05-11), محمدعدنان (10-02-11), عروج (10-02-11)
پرانا 10-02-11, 12:41 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,198
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (26-05-11), فخر بٹ (26-05-11)
پرانا 10-02-11, 01:13 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی سر گذشت۔ مزا آگیا۔ اب تو ان کا رواج ھی ختم ھؤا جارھا ھے۔نو ٹنکی کی طرح ناپید نہ ھو جائیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (26-05-11)
پرانا 24-05-11, 10:42 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ رے بچپن۔ تیری کیا شان تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (25-05-11)
پرانا 25-05-11, 01:47 AM   #5
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,670
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کاش کہ بچپن پھر لوٹ آے نہ کوئی ٹینشن نہ کوئی غم
ویسے زارا بہن یہ تحریر آپ پہلے بھی شیئر کر چکی ہیں‌
http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8...7%D8%B1-50146/
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (25-05-11)
پرانا 25-05-11, 02:04 PM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ اچھی شئیرنگ ہے ۔
نادر خان نے بچپن کے بھولپن کو بہت خوبصورتی سے سوال و جواب سے مزین کر دیا ۔ ان کی شرارتیں اور معصوم چالاکیاں کہیں بھی بری نہیں لگیں ۔ کیونکہ بچپن حالات کی دھول سے ابھی اٹا نہیں ہوتا ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 02:18 PM   #7
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,248
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
کاش کہ بچپن پھر لوٹ آے نہ کوئی ٹینشن نہ کوئی غم
ویسے زارا بہن یہ تحریر آپ پہلے بھی شیئر کر چکی ہیں‌
http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8...7%D8%B1-50146/
جی محترم بھائی۔ میں نے کل اِسکی رپورٹ کی تھی کہ اِسکو آربی کر دیں لیکن ابھی تک عمل ندارد۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 02:33 PM   #8
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,476
شکریہ: 2,638
1,002 مراسلہ میں 2,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
کاش کہ بچپن پھر لوٹ آے نہ کوئی ٹینشن نہ کوئی غم
ویسے زارا بہن یہ تحریر آپ پہلے بھی شیئر کر چکی ہیں‌
http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8...7%D8%B1-50146/
آپ نے اوپرپڑھا نہیں کہ بڑوں کوبھولنے کی عادت ہوتی ہے
محمدمبشرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 07:06 PM   #9
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدمبشرعلی مراسلہ دیکھیں
آپ نے اوپرپڑھا نہیں کہ بڑوں کوبھولنے کی عادت ہوتی ہے
آپ کی نظر میں بڑا کون ہے؟
جس کو بھولنے کی عادت ہے
آپ کے اس جملے کی سمجھ نہیں آئی واضح کر دیں ہم جیسے ناسمجھ بھی ہیں فورم پر۔
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-05-11, 08:11 PM   #10
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دونوں تھریڈ مرج کردئے گئے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 25-05-11, 10:32 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Earth
مراسلات: 1,785
کمائي: 49,896
شکریہ: 121
1,161 مراسلہ میں 2,590 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعمر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدعمر کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
یوں تو عام دِنوں میں مغرب کے بعد ہمارے گھر کے دروازے باہر جانے کے لئے ہم پر بند ہو جاتے۔ لیکن رمضان میں تراویح تک ہمیں 'دینی' چھوٹ مل جاتی۔تراویح میں اکثر یہ ہوتا کہ سجدے میں ہماری آنکھ لگ جاتی۔ ہم یہ سوچتے کہ کاش پوری تروایح سجدے میں ہوتیں۔تراویح میں امام صاحب تیزی سے سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد جو کچھ پڑھتے تھے اُس میں ہمیں " یعلموں " اور " تعلمون "کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے امام صاحب سے 'چھوٹی سی 'ہمت کر کے پوچھا بھی کہ وہ اتنی تیزی سے کیوں پڑھتے ہیں؟۔ تواُن کا جواب تھا کہ منتظمین نے آدھے گھنٹے میں تراویح ختم کرنے کی پابندی رکھی ہے۔ ہم نے کہا کہ " لوگوںکی سمجھ میں بھی توکچھ آنا چاہئے"۔
" آہستہ پڑھنے پر بھی لوگوں کی سمجھ میں کیا آنے والا ہے۔ایسا منتظمین کہتے ہیں ۔کاش ۔۔۔!!!منتظمین کو کوئی سمجھائے !"
زارا
کوئی سمجھائے سابقہ منتظمین کو ہر جگہ ٹانگ نہ اڑایا کریں

Last edited by محمدعمر; 25-05-11 at 10:36 PM.
محمدعمر آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعمر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-05-11, 04:26 PM   #12
Senior Member
 
فخر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بیت اچھی شیئرنگ کی ہے جناب نے ویسے ہم تو تقریباً ابھی اپنے بچپن میں ہی ہیں ۔
فخر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-11, 05:01 PM   #13
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,492
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
تراویح میں امام صاحب تیزی سے سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد جو کچھ پڑھتے تھے اُس میں ہمیں " یعلموں " اور " تعلمون "کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے امام صاحب سے 'چھوٹی سی 'ہمت کر کے پوچھا بھی کہ وہ اتنی تیزی سے کیوں پڑھتے ہیں؟۔ تواُن کا جواب تھا کہ منتظمین نے آدھے گھنٹے میں تراویح ختم کرنے کی پابندی رکھی ہے۔ ہم نے کہا کہ " لوگوںکی سمجھ میں بھی توکچھ آنا چاہئے"۔
" آہستہ پڑھنے پر بھی لوگوں کی سمجھ میں کیا آنے والا ہے۔ایسا منتظمین کہتے ہیں ۔کاش ۔۔۔!!!منتظمین کو کوئی سمجھائے !"
زارا
السلام علیکم، دلچسپ پیرائے میں اکثریت کی کہانی بیان کر دی ہے۔
تراویح میں اکثر قراء کی رفتار کا ساتھ دینا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے چند سال پیشتر اپنے محلے کی مسجد میں‌تراویح پڑھائی تھی۔ پہلے دن مسجد اندر باہر سے بھری ہوئی تھی لیکن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی وجہ سے چند دن گزرنے کے بعد تین چار صفیں رہ گئیں۔ اکثرنمازیوں کا مطالبہ تھا کہ چار فرض، بیس تراویح اور تین وتر انہیں ایک گھنٹے میں پڑھائی جائیں اور قراءت بھی روزانہ سوا پارے کی ہو۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کوششوں, لوگ, چین, نماز, نظر, موقع, ماں, مسجد, آج, تلاش, جواب, دُعا, دیکھو, دوست, ذرا, روزہ, رمضان, سال, شام, عید, علم, عمارتیں, غائبانہ, غریب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جھٹ پٹ انٹرویو۔۔۔ محمدخلیل گپ شپ 82 01-06-11 12:38 AM
جاوا اسکرپٹ اور اجیکس کا فرق زارا کمپیوٹر کی باتیں 2 01-11-10 05:05 PM
جھٹ پٹ انٹرویو بنت آدم گپ شپ 171 24-04-10 11:43 AM
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں wajee شعر و شاعری 3 25-09-09 02:08 PM
گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے میاں شاہد جگر 2 30-06-08 10:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger