واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ٹی وی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-07-10, 12:05 AM   #1
ٹی وی
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 09-07-10, 12:05 AM

بچپن کے دن، جب گھر میں کسی بڑے بزرگ سے رات کے وقت کہانیاں سنتے تھے، ایک عجب دور تھا۔ بڑی شدت کے ساتھ اس وقت کا انتظار رہتا تھا کہ کب رات کا کھانا کھائیں اور کہانی سنیں۔ اکثر اوقات کہانی لمبی ہوجاتی تھی، اور باقی آئندہ کا کہہ کر زبردستی سونے کے لئے بھیج دیا جاتا۔ اس صورت میں اکثر نیند آنکھوں سے غائب ہوجاتی تھی۔ بہت برا لگتا تھا، کہ یونہی کہانی ختم کرنے سے پہلے سونے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔

پھر ٹی وی آیا۔ وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب محلے میں‌ واقع اپنے رشتہ داروں کے گھر سب لوگ ٹی وی دیکھنے جمع ہوتے تھے۔ یادیں کچھ دھندلی سی ہیں، ایک بڑا سا ٹی وی میز پر رکھا ہوتا تھا، جس کی بلیک اینڈ وائٹ ڈسپلے اکثر انٹینا کی خرابی کی وجہ سے تصاویر کو غیرواضح کردیتی تھی۔ زمین پر چٹائی بچھادی جاتی تھی، جس پر بچوں کو بٹھادیا جاتا تھا، جبکہ نوجوان اور بزرگ چارپائیوں‌ پر بیٹھ جاتے تھے۔ بہت شدت سے اس لمحے کا انتظار رہتا تھا کہ کب ڈرامہ شروع ہو، جس کے لئے ایک ہفتہ انتظار کیا جاتا تھا۔ ڈرامہ دیکھتے وقت باقی سرگرمیاں موقوف ہوتی تھیں۔ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد ٹی وی بند کردیا جاتا تھا، اور ٹی وی کو کسی کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جاتا تھا، تاکہ گردوغبار سے محفوظ رہے۔ عموماً ٹی وی اگلے ہفتے ہی دوبارہ آن کیا جاتا۔

اس دور سے آگے بڑھیں تو رنگین ٹی وی کا زمانہ آیا۔ اگر چہ شہروں میں‌ بہت پہلے ہی کلر ٹی وی آچکا تھا، لیکن دیہات کے لوگوں کے لئے یہ ایک عجوبے سے کم نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے پہلی مرتبہ جب کلر ٹی وی ہمارے گاؤں میں آیا تھا، تو میں اکثر لوگوں سے سنتا تھا، کہ آج فلاں ڈرامہ دیکھنے جانا ہے، پتا ہے فلاں کے ہاں ایسا ٹی وی ہے جس میں ہر رنگ اصل دکھائی دیتا ہے۔ ڈرامے بھی اب ہفتے میں ایک کی جگہ تقریباً روزانہ کے حساب سے نشر ہونے لگے۔ اس وقت اکثر گھر سے چھپ کر یا کوئی بہانہ بنا کر اپنے دوست کے ہاں‌ بچوں کے ڈرامے دیکھنے جاتا۔

ڈرامہ دیکھنے کی خاطر کیا کیا جتن کرنے پڑتے تھے۔ اکثر ٹی وی کا انٹینا خراب ہوجاتا تھا۔ اب اس کو صحیح رخ پر کرنے کے لئے چھت پر جانا پڑتا۔ انٹینا گھمانے کے ساتھ ساتھ زور زور سے آواز لگا کر پوچھنا بھی پڑتا، کہ ٹھیک ہوگیا کہ نہیں؟ اکثر چھت سے اترنے تک کوئی کوا انٹینا پر بیٹھ جاتا اور ٹی وی پھر خراب ہوجاتا۔ نتیجتاً پھر چھت کا دورہ کرنا پڑتا۔

تھوڑا اور آگے چلتے ہیں۔ ہائی اسکول اور اس کے بعد کالج کا زمانہ ہے۔ پہلے ڈش ٹی وی آیا۔ اس کے بعد کیبل نیٹ ورک آیا۔ ابتداء میں کچھ مزاحمت ہوئی۔ لیکن اس کو یہ کہہ کر ٹالا گیا کہ کیبل پر صرف پاکستانی چینل دکھائے جائیں‌ گے۔ خیر، پاکستانی چینل تو آٹے میں نمک کے برابر ہی رہے۔

کیبل کے آنے کے بعد حالت یہ ہوگئی کہ سینکڑوں چینل ہوگئے، جن پر ہر وقت ڈرامے اور فلم چلتے رہتے ہیں۔ کوئی وقت مخصوص نہیں رہا، ہر وقت فلم اور ڈرامے آپ کی پہنچ میں ہیں۔ ان فلموں اور ڈراموں کے گڑ میں پرائی تہذیبوں کا زہر ڈال کر ہمارے ذہنوں میں ڈالا جارہا ہے۔ ایسی کہانیاں فلمائی جاتی ہیں جن کا ہماری تہذیب سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ اور تو اور، آج کل کے پاکستانی ڈرامے چند فیصد امراء کے طبقے کی ہی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں بڑی بڑی گاڑیاں، کوٹھیاں دکھا کر نوجوانوں کو غیر شعوری طور پر اسی طرز زندگی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

شریف گھرانے بھی کیبل کے جال میں آہستہ آہستہ پھنستے ہیں۔ پہلے پہل جب ٹی وی لگاتے ہیں، تو بزرگوں کی طرف سے سخت آرڈرز ہوتے ہیں، کوئی غیر اخلاقی پروگرام یا سین بچے نہ دیکھ پائیں۔ اس لئے ریموٹ بڑوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی ایسا ویسا سین آیا، جلدی سے چینل تبدیل کرکے جیو ٹی وی لگالیا۔ دھیرے دھیرے یہ اہتمام کم ہوتا جاتا ہے۔ پھر ریموٹ بچوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ غیر مناسب سین آتےہیں تو ماں باپ چلاتے ہیں، ارے بیٹا بری بات ہے، چینل تبدیل کرلو۔ پھر یہ بات بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ ابتداء میں جو چیز بری لگتی ہے، بعد میں‌ نارمل ہوجاتی ہے۔

گزرے ہوئے دور پر نظر دوڑاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے، ہم نے واقعی بہت ترقی کرلی ہے۔ انفارمیشن اور انٹرٹینمنٹ کا ایک سیلاب ہے، جو نئی نسل کو بہا کر لے جارہا ہے۔ ہر طرح کی معلومات آپ سے چند کلک کے فاصلے پر ہیں۔ لیکن وہ سکون جو امی کی سنائی ہوئی کہانیوں میں ملتا تھا، وہ کہیں اور نہیں ملا۔ جو سکون رات کو کھلے آسمان کے نیچے سونے سے پہلے ستاروں کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا تھا، وہ ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں سونے سے نہیں ملا۔ ہم جس راستے پر جارہے ہیں، کیا وہ ہمیں ہمارا وہ سکون اور ذہنی اطمینان واپس لوٹاسکے گا؟
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 332
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-07-10), پاکستانی (09-07-10), نورالدین (09-07-10), ابن آدم (10-07-10), بلال اویسی (09-07-10), حیدر (09-07-10), راجہ اکرام (09-07-10), سیلانی (10-07-10), سحر (09-07-10), شہزاد وحید (09-07-10), عبدالقدوس (09-07-10), عبداللہ آدم (09-07-10)
پرانا 09-07-10, 01:49 AM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,827
شکریہ: 13,535
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھی طرح آپ نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کی ھیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (09-07-10), ھارون اعظم (09-07-10), حیدر (09-07-10), راجہ اکرام (09-07-10), عبداللہ آدم (09-07-10)
پرانا 09-07-10, 12:29 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ابن آدم (10-07-10), حیدر (09-07-10), راجہ اکرام (09-07-10), عبداللہ آدم (09-07-10)
پرانا 09-07-10, 03:12 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,101
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,719 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہمارے بدن آگے کو بھاگ رہے ہیں اور روح کہیں پیچھے رہتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (09-07-10), ابن آدم (10-07-10), حیدر (09-07-10)
پرانا 09-07-10, 06:06 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,285
شکریہ: 52,572
11,198 مراسلہ میں 35,312 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوبصورت حقیقت کی طرف اشارہ کیا آپ نے ہارون بھائی۔ واقعی برائی اسی طرح دھیرے دھیرے ہمارے دماگ میں سرایت کرتی رہتی ہے اور پھر ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کب ہم تبدیل ہو گئے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (09-07-10), کنعان (09-07-10), ھارون اعظم (09-07-10), ابن آدم (10-07-10), عبداللہ آدم (10-07-10)
پرانا 09-07-10, 11:01 PM   #6
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
بہت خوبصورت حقیقت کی طرف اشارہ کیا آپ نے ہارون بھائی۔ واقعی برائی اسی طرح دھیرے دھیرے ہمارے دماگ میں سرایت کرتی رہتی ہے اور پھر ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کب ہم تبدیل ہو گئے
جی بدر بھائی، یہی مشاہدہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دینی رجحان رکھنے والے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں میڈیا کی یلغار سے بچ نہ پائے۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ نے ان کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم صرف فتوؤں پر گزارہ کرتے ہیں، یا اسلامی حدود کے اندر کچھ متبادل پیش کرکے نئی نسل کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-07-10), ابن آدم (10-07-10), احمد بلال (11-09-10), حیدر (10-07-10), عبداللہ آدم (10-07-10)
پرانا 09-07-10, 11:43 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
شہزاد وحید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Pakistan
عمر: 23
مراسلات: 195
کمائي: 2,969
شکریہ: 60
87 مراسلہ میں 210 بارشکریہ ادا کیا گیا
شہزاد وحید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں شہزاد وحید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں شہزاد وحید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جی ہاں میں کبھی کبھی سوچتا ہوں‌ کہ پچپن کا زمانہ کس قدر پر سکون تھا۔ حالانکہ میرے بجپن اور لڑکپن کا زمانہ 1991 سے 2000 تک کا ہے لیکن 1991 سے 2000 تک دور 2001 سے 2010 تک دور سے بہت بہت مختلف، سہانا، مزیدار اور پر سکون تھا۔
شہزاد وحید آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شہزاد وحید کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (09-07-10), احمد بلال (11-09-10), حیدر (10-07-10), سیلانی (10-07-10), عبداللہ آدم (10-07-10)
پرانا 10-07-10, 12:00 AM   #8
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بیٹھائے کیوں یاد آگئے
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (10-07-10), احمد بلال (11-09-10), حیدر (10-07-10), عبداللہ آدم (10-07-10)
جواب

Tags
فلم, کلک, کالج, گھر, پاکستانی, وقت, لوگ, چینل, نیند, نظر, ماں, آج, انٹینا, بچپن, بچوں, تصاویر, جیو ٹی وی, دوست, رات, زندگی, زمانہ, عجب, غائب, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پیپلزپارٹی کے موجودہ جمہوری دور کے سب سے خطرناک کھیل کا آغاز ہوگیا، بھارتی ٹی وی گلاب خان خبریں 0 16-12-10 04:14 AM
ٹی وی ڈرامہ کی حیاتِ نو گلاب خان ڈرامہ 2 15-10-10 02:33 PM
ٹی وی پر علماء کرام کا آنا مثبت ومنفی پہلو sahj عمومی بحث 4 29-05-10 02:03 AM
ٹی وی چینلز کی بندش کو 100 گھنٹے سے زائد ہو گئے عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 04:19 PM
تمام نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بحال کی جائیں، اے ٹی جے عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 04:18 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger