واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


پاکستان میں ہجڑوں کی قانونی جیت اور نعرہ "وصولی تک ڈیرے ڈال رکھیں گے"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-12-09, 06:48 PM   #1
پاکستان میں ہجڑوں کی قانونی جیت اور نعرہ "وصولی تک ڈیرے ڈال رکھیں گے"
گوہر گوہر آف لائن ہے 24-12-09, 06:48 PM

تحریر: محمد الطاف گوہر
بنی نوع انسان دو واضع اصناف میں منقسم ہے مگر ایک اور بھی صنف ہے جو کہ بظاہر تو مکمل انسان ہے مگر نہ تو مکمل مرد ہے نہ ہی عورت ، اسے ہیجڑا ، کھسرا ، اور خواجہ سرا اور مغربی زبان میں لیڈی بوائے سے پکارا جاتا ہے۔اس صنف کا مزاجی رجحان صنف نازک یعنی عورت کیطرف واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ خواجہ سرا عموماً معصوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے کچھ خواجہ سرا تشدد پسند بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ ہندوستان میں ان کی تعداد دس سے پندرہ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
دس پندرہ سال پہلے تک پاکستان میں شہروں میں بھی خواجہ سرا کسی بچے کی پیدائش یا شادی بیاہ کے موقع پر اپنا ناچ گانا دکھانے چلے آتے تھے مگر اب تو گاؤں دیہات میں بھی خالی ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ البتہ سرکس میں "موت کا کنواں"ایک ایسی جگہ ہے جو خواجہ سراؤں کیلئے مخصوص کی گئی ہے جبکہ اس کنوے سے انکا سفر " موت " تک کی عمر سے بندھا ہوا ہوتا ہے کہ ناچتے ناچتے عمر تمام ہو جاتی ہے مگر اس کنوے سے "تیل" نہیں نکلتا بلکہ امیدوں کا "پسینہ" ضرور نکل جاتا ہے۔
کچھ عرصہ سے اس صنف کو پاکستان میں خصوصی اہمیت دی جارہی ہے ، جسکے باعث انہیں میڈیا میں موضوع بحث بھی بنایا جارہا ہے۔ کبھی تو تین میں نہ تیرہ میں، والی گوں مگوں کیفیت سے دوچار خواجہ سرا اپنی مطلق شناخت قائم نہ کر سکے اور کبھی "گے" جیسے القابات سے نوازا گیا حتکہ انہیں اپنے ہی گھر سے وراثت سے محروم رکھا گیا ، اور کبھی مردم شماری کے خانے شامل نہ کیا گیا ۔ اس معاشرے نے کبھی بھی عزت کا مقام دینا درکنار ہنسی مذاق اور تفریح کا باعث سمجھا۔ جسکے باعث یہ صنف ایک انفرادی شناخت رکھنے کے باوجود کمر پسی کا شکار رہی ۔ حالانکہ وہ افراد جو کہ میڈیکل "نامرد" ہیں انکو کبھی بھی کسی ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پٹرا۔
حال ہی میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سراؤں کے طرف سے دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امتیازی سلوک کا شکار معاشرے کے اس طبقے کو باعزت ملازمتیں دینے کے لیے حکمت عملی وضع کرے۔ انھوں نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ قرض نا دہندگان سے وصولی کے لیے حکومت پاکستان خصوصاً انکم ٹیکس کا محکمہ ء خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کرنے پر غور کرے جیسا کے ہمسایہ ملک بھارت کی بعض ریاستوں میں کیا گیا ہے ۔
ملک بھر میں خواجہ سراوٴں کی تنظیموں نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف ان کی برادری کے لیے روز گار کا مسئلہ حل ہو گا بلکہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی میں بھی آسانی ہوگی۔
بندیا رعنا کراچی میں خواجہ سراوٴں کی تنظیم” جیا“ کی سربراہ ہیں، انہوں نے اس فیصلے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھاری قرضے لے کر خاموش بیٹھے ہیں ہم جب ان کے دروازوں پر جا کر بیٹھیں گے تو شاید وہ یہ نوبت ہی نہ آنے دیں اور خود ہی قرضہ واپس اور اپنے واجبات ادا کر دیں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ خواجہ سراوٴں کو معاشرے کا متحرک رکن بنانے کے لیے یہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اچھا قدم ہے جو قرض نا دہندگان کے لیے یقیناً برا ثابت ہو گا کیونکہ وہ اس وقت تک ڈیرا ڈالے رکھیں گے جب تک رقم واپس نہیں مل جاتی ۔ کیوں کہ نہ تو ہمارے کوئی بچے ہیں اور نہ ہمیں گھر واپس جانے کی جلدی ہوگی۔بندیا رعنا کا کہنا ہے کہ دوسرے شعبوں میں بھی خواجہ سراؤں کو اگر روزگار کے مواقع دیے جائیں تو حکومت کو اس کا فائدہ ہوگا۔
بندیا رعنا کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم اس فیصلے کی منتظر تھی کیوں کہ پاکستان میں چھوٹا قرضہ لینے والے افراد کو تو خود کشی کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے لیکن بڑا قرضہ لینے والوں کے لیے کھلے عام معافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی گھروں میں موجودگی کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو عموماً گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن وہ خواجہ سرا ہیں اور انہیں ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا ۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ ہیجڑوں کو قرضوں یا ٹیکس کی وصولی کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز پاکستان کے ثقافتی نظام سے میل نہیں کھاتی لہذا اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت میں اگرچہ 20سال پہلے اس قسم کا اقدام اٹھایا گیا تھا لیکن وہاں بھی عوام کی اکثریت نے اس پر ناخوش کا ہی اظہار کیا تھا۔
ضروری یہ ہے کہ ہیجڑوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قوانین کا مئوثر نفاذ ہو اور انھیں دیگر تہذیب یافتہ معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی ایک باعزت مقام اور وراثت میں حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں ان معاشرتی رویوں میں تبدیلی درکار ہے جو ان کی تضحیک کا سبب ہیں اور ان کی رائے میں اس کے بعد ہی ہیجڑوں کو معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں ہیجڑوں کو علیٰحدہ جنس کے طور پر شناخت اختیار کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ ماہرین قانون نے اس فیصلے کو ہیجڑوں کے حقوق کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بدھ کو ایک فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی کہ ہیجڑوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کئے جائیں، جن پر ان کی جنسی شناخت تحریر ہو۔ ساتھ ہی ہیجڑوں کو ہراساں نہ کئے جانے کی یقین دہانی کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
عدالت میں ہیجڑوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل محمد اسلم خاکی کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کو قومی شناختی کارڈ میں خواجہ سراؤں کی جنس ظاہر کرنے کے لئے ایک علیٰحدہ خانہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے ہیجڑوں کے حوالے سے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر عمل سے انہیں اُن کے حقوق حاصل ہوں گے۔ خاکی نے بتایا کہ عدالت نے ہیجڑوں کی میراث کے حقوق کے تحفظ کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
دوسری جانب ہیجڑوں کی ایک ایسوسی ایشن نے بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر الماس بوبی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی باسٹھ سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، جب ہیجڑوں کی فلاح کے لئے کوئی قدم اٹھایا گیا ہے۔الماس بوبی کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹی کو شناخت اور احترام دینے کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ان کی شناخت انسان کے طور پر ہو سکے گی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی بیشتر تعداد پسماندہ علاقوں میں آباد ہے جبکہ انہیں گزر بسر کے لئے شادیوں اور میلوں میں رقص اور بھیک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعض کو تو جسم فروشی میں ملوث بھی پایا گیا ہے۔
ان پر تعلیم و صحت کی سہولتوں کے دروازے اکثر بند کر دئے جاتے ہیں۔ جائیداد خریدنے یا مکان کرایے پر حاصل کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کے اپنے خاندان بھی انہیں میراث کے حقدار نہیں سمجھتے۔معاشرہ انہیں خدا کی ٹھکرائی ہوئی مخلوق گردانتا ہے۔ یہ بھی سجھا جاتا ہے کہ ان کی بددعا اثر رکھتی ہے، اس لئے لوگ ان سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔ پاکستان میں ہیجڑوں کی آبادی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم ان کی کمیونٹی کے ذرائع کے مطابق ان کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے۔ البتہ سپریم کورٹ رواں برس میں حکومت کو ہیجڑوں کی مردم شماری کا حکم جاری کر چکی ہے۔
امید ہے کہ اس سب کے بعد خواجہ سرا پاکستان میں اپنی انفردی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے ایک با عزت مقام پا لیں گے۔

Last edited by گوہر; 24-12-09 at 07:33 PM..

 
گوہر's Avatar
گوہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 429
Reply With Quote
پرانا 24-12-09, 07:13 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
گوہر (24-12-09)
پرانا 24-12-09, 07:21 PM   #3
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
کمائي: 14,486
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مگر آج لگائیں گے تو اس موضوع کا مزا دوبالا ہو جائے گا
گوہر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-12-09, 08:15 PM   #4
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,227
شکریہ: 2,665
1,641 مراسلہ میں 3,771 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھا آئیٍڈیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-12-09, 10:12 PM   #5
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,227
شکریہ: 2,665
1,641 مراسلہ میں 3,771 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال میں تو یہ بہت اچھا فیصلہ ھے۔ جب خواجہ سرا قرضہ وصول کرنے جائیں گے تو بہت مزے دار اور دیکھنے والا سین ہو گا۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-12-09, 11:04 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پوسٹنگ کا کام سحر اور ابن شبیر کرتے ہیں۔ میں‌تو صرف رائے ہی دے سکتا ہوں۔ اپ ان میں سے کسی کو پکڑ لیں۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-12-09, 11:18 PM   #7
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,196
شکریہ: 25,590
10,454 مراسلہ میں 38,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تجویز ہے ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (25-12-09)
پرانا 25-12-09, 02:13 AM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,635
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع سے قطع نظر کہ چیف جسٹس نے کیا فیصلہ دیا ۔
میں یہاں چند باتیں واضع کرنا چاہوں گی ۔ میں اس ٹوپک پر لکھنا نہیں چاہتی تھی لیکن اس موضوع کو سرورق پر شائع کرنے کی سفارش اور ان باتوں کی سب کی طرف سے حوصلہ افزائی کی وجہ سے اس پر لکھ رہی ہوں ۔
اس قسم کے لوگ 99 فیصد غیر حقیقی یا آرٹیفیشل ہوتے ہیں ۔
قدرتی طور پر صرف 1 فیصد ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں ، جن کا علاج بچپن میں ہی ممکن ہے ۔ اس کو ایک بیماری سمجھنا چاہیے نہ کہ ایک صنف ۔
ہم کو چاہیے کہ والدین میں یہ شعور بیدار کریں کہ اگر خدانہ خواستہ کسی کے گھر میں ایسے بچے کی پیدائش ہو تو اس کا علاج کرائیں نا کہ اس بچے کو اپنے سے دور کرکے اس کی زندگی برباد کردیں ۔
اور آرٹیفیشل لوگوں کے بارے میں تو صرف اتنا کہوں گی کہ وہ ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
اور جب معاشرے میں گناہوں کو قانونی حیثیت حاصل ہونے لگے تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (25-12-09)
پرانا 25-12-09, 02:13 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,635
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع سے قطع نظر کہ چیف جسٹس نے کیا فیصلہ دیا ۔
میں یہاں چند باتیں واضع کرنا چاہوں گی ۔ میں اس ٹوپک پر لکھنا نہیں چاہتی تھی لیکن اس موضوع کو سرورق پر شائع کرنے کی سفارش اور ان باتوں کی سب کی طرف سے حوصلہ افزائی کی وجہ سے اس پر لکھ رہی ہوں ۔
اس قسم کے لوگ 99 فیصد غیر حقیقی یا آرٹیفیشل ہوتے ہیں ۔
قدرتی طور پر صرف 1 فیصد ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں ، جن کا علاج بچپن میں ہی ممکن ہے ۔ اس کو ایک بیماری سمجھنا چاہیے نہ کہ ایک صنف ۔
ہم کو چاہیے کہ والدین میں یہ شعور بیدار کریں کہ اگر خدانہ خواستہ کسی کے گھر میں ایسے بچے کی پیدائش ہو تو اس کا علاج کرائیں نا کہ اس بچے کو اپنے سے دور کرکے اس کی زندگی برباد کردیں ۔
اور آرٹیفیشل لوگوں کے بارے میں تو صرف اتنا کہوں گی کہ وہ ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
اور جب معاشرے میں گناہوں کو قانونی حیثیت حاصل ہونے لگے تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (25-12-09)
پرانا 25-12-09, 03:20 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
دوسری طرف سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ ہیجڑوں کو قرضوں یا ٹیکس کی وصولی کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز پاکستان کے ثقافتی نظام سے میل نہیں کھاتی لہذا اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت میں اگرچہ 20سال پہلے اس قسم کا اقدام اٹھایا گیا تھا لیکن وہاں بھی عوام کی اکثریت نے اس پر ناخوش کا ہی اظہار کیا تھا۔
اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت معاشرے میں جو ان صنف کا سٹیٹس ہے اس میں کسی کے دروازے پر ان کا جانا، ذرا سوچیں کیسا جگ ہنسائی کا سبب بنے گا۔

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے، بلکہ اسلامی شریعت میں تو ان کی میراث کا حق پہلے سے تسلیم شدہ ہے۔
البتہ ان کا اس طرح علیحدہ سے کمیونٹی بنا کر رہنا ہماری روایات میں مجھے اس کا کہیں کوئی حوالہ نہیں ملا۔ اور اسی معاشرتی علیحدگی نے ان کے درمیان اور دیگر افراد کے درمیان ایسی دوری پیدا کر دی گئی ہے کہ انہیں اس معاشرے کا حصہ ہی تصور نہیں کیا جاتا، اور جو سلوک روا رکھا جاتا ہے اس سے سب واقف ہیں۔

چیف جسٹس نے جو فیصلہ دیا اللہ اس کے اچھے نتائج برامد کرے ۔۔۔ لیکن ہم نے عام رویے کی طرح یہاں بھی اس موضوع کو باعث تفریح بنا لیا ہے۔ میرے خیال میں اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
البتہ قرضے وصول کرنے کے لئے ان کا استعمال کسی طور مناسب نہیں
ذرا تصور کیجئے۔۔۔۔آخر کیا فلسفہ ہے اس کے پیچھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہی کہ جب یہ لوگ کسی کے دروازے پر جائیں گے تو وہ اپنی توہین محسوس کرے گا۔۔۔ یا کوئی اور وجہ ہے؟؟
کیا اس طرح ہم اس صنف کے حقوق کی بحالی کا کام کر رہے ہیں یا مزید ان کی تحقیر کر رہے ہیں؟؟؟ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے والا ہر قسم کی ذلت اور توہین برداشت کر سکتا ہے لیکن یہ بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اس کے دروازے پر آئیں۔
ہمارے لئے اگرچہ تفریح ہے لیکن ان کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ بعض اوقات اپنی طرف سے اچھا کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقتا اس کے نتائج برعکس ہوتے ہیں

اس لئے اس حوالے سے مزید سوچئے اور پھر فیصلہ کیجئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-12-09)
پرانا 25-12-09, 10:29 AM   #11
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
کمائي: 14,486
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب shafresha صاحب! مزاج بخیر
آپکی دو مختلف آرا میرے لکھے جانے والے تھریڈ میں جو چسپاں ہیں انکا عکس حاضر ہے۔۔۔۔
"السلام علیکم،
شاید میرا یہ تھریڈ کسی کی دل چسپی کا باعث بنے!
http://pak.net/%DA%AF%D9%BE-%D8%B4%D...5%DB%81-28361/

"السلام علیکم،
گوہر بھائی آپ کے منفرد طرز تحریر کا میں‌دل سے معترف ہوں!
اگرچہ اب جمیل الدین عالیٰ‌جی جیسی تحاریر کے پڑھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔
اگر میں‌غلط نہیں‌ہوں‌تو یہ تھریڈ غالبا میرے ایک تھریڈ؛
اکیس دسمبر 2012، کیا ہم ایک عذاب کے قریب ہیں؟
کے جواب میں‌لکھا گیا ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو آپ سے گذارش ہے کے میرے مذکورہ بالا تھریڈ پر اپنے خیالات سے آگاہ کیجیئے۔
آپ کے اس تھریڈ کی اکثر باتوں سے قطعی طور پر متفق نہ ہونے کے باوجود میں‌آپ کے نظریات و خیالات کو اِتنا ہی محترم جانتا ہوں جتنا میرے اپنے خیالات۔
جواب کا منتظر!"

آپکے گذشتہ الفاظ کا مجھے قطعی طور اندازہ نہیں تھا کہ ایک موضوع پر "ناظم اعلیٰ " کے شروع کئے ہوئے موضوع کے علاوہ بھی کوئی نیا تھریڈ شروع کر سکتا ہے ، لہذا آپکی قدر دانی کی وجہ سے میں نے جو جسارت کی تھی اسکے باعث یہ فورم چھوڑ دیا تھا اور صرف اپنے بلاگ محدود ہو گیا حالانکہ میرے اسی موضوع پر لکھے گئے "اردو پوائنٹ" ہر آرٹیکل کے جواب میں موصول ہونے والے ای میل کئی سو سے زیادہ تھے اور پسنددیدگی علیحدہ ،
اب اس نئے تھریڈ پر بھی جناب اپنا نقطہ نطر پیش کرنے کی بجائے "اپنا لنک" پیش کر رہے ہیں اور بحث کا خاتمہ اور نیا رخ سے رہے ہیں، میرے پاس گستاخی کیلئے الفاظ نہیں ، صرف اتنا کیجئے گا کہ میرا اکوئنٹ کلوز کردین،آئندہ کسی اور کے ساتھ دو رخی نہ کیجئے گا ، سب لوگ الطا ف گوہر نہیں ہوتے، گلہ شکوہ معاف ۔۔۔اللہ حافظ
؃ دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہونگے تو ہم سا کوئی اور سہی
گوہر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-12-09, 02:08 PM   #12
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوہر مراسلہ دیکھیں
جناب shafresha صاحب! مزاج بخیر
آپکی دو مختلف آرا میرے لکھے جانے والے تھریڈ میں جو چسپاں ہیں انکا عکس حاضر ہے۔۔۔۔
"السلام علیکم،
شاید میرا یہ تھریڈ کسی کی دل چسپی کا باعث بنے!
http://pak.net/%DA%AF%D9%BE-%D8%B4%D...5%DB%81-28361/

"السلام علیکم،
گوہر بھائی آپ کے منفرد طرز تحریر کا میں‌دل سے معترف ہوں!
اگرچہ اب جمیل الدین عالیٰ‌جی جیسی تحاریر کے پڑھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔
اگر میں‌غلط نہیں‌ہوں‌تو یہ تھریڈ غالبا میرے ایک تھریڈ؛
اکیس دسمبر 2012، کیا ہم ایک عذاب کے قریب ہیں؟
کے جواب میں‌لکھا گیا ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو آپ سے گذارش ہے کے میرے مذکورہ بالا تھریڈ پر اپنے خیالات سے آگاہ کیجیئے۔
آپ کے اس تھریڈ کی اکثر باتوں سے قطعی طور پر متفق نہ ہونے کے باوجود میں‌آپ کے نظریات و خیالات کو اِتنا ہی محترم جانتا ہوں جتنا میرے اپنے خیالات۔
جواب کا منتظر!"

آپکے گذشتہ الفاظ کا مجھے قطعی طور اندازہ نہیں تھا کہ ایک موضوع پر "ناظم اعلیٰ " کے شروع کئے ہوئے موضوع کے علاوہ بھی کوئی نیا تھریڈ شروع کر سکتا ہے ، لہذا آپکی قدر دانی کی وجہ سے میں نے جو جسارت کی تھی اسکے باعث یہ فورم چھوڑ دیا تھا اور صرف اپنے بلاگ محدود ہو گیا حالانکہ میرے اسی موضوع پر لکھے گئے "اردو پوائنٹ" ہر آرٹیکل کے جواب میں موصول ہونے والے ای میل کئی سو سے زیادہ تھے اور پسنددیدگی علیحدہ ،
اب اس نئے تھریڈ پر بھی جناب اپنا نقطہ نطر پیش کرنے کی بجائے "اپنا لنک" پیش کر رہے ہیں اور بحث کا خاتمہ اور نیا رخ سے رہے ہیں، میرے پاس گستاخی کیلئے الفاظ نہیں ، صرف اتنا کیجئے گا کہ میرا اکوئنٹ کلوز کردین،آئندہ کسی اور کے ساتھ دو رخی نہ کیجئے گا ، سب لوگ الطا ف گوہر نہیں ہوتے، گلہ شکوہ معاف ۔۔۔اللہ حافظ
؃ دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہونگے تو ہم سا کوئی اور سہی
گوہر بھائی السلام علیکم،
میرے عزیز یقیناً آپ میری جانب سے کسی غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں۔ چلیئے میں‌آپ کو پرسنل میسج کرکے "تمام تر" تفصیلات اور اپنے موقف سے آگاہ کرتاہوں۔

آپ سے درخواست ہے کہ میرے میسج کو پڑھنے سے پہلے کوئی فیصلہ مت کیجیئے گا!
پاک ڈاٹ نیٹ آپ سے صاحبان علم ممبران کی جُدائی برداشت نہیں کرسکتا!

اُمید ہے کہ آپ میری مودبانہ درخواست پر غور فرمائیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

Last edited by shafresha; 25-12-09 at 06:04 PM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (25-12-09), سحر (25-12-09)
جواب

Tags
کورٹ, کمر, کارڈ, کراچی, پاکستان, پسند, لوگ, مکمل, میراث, موت, آبادی, انسان, امریکہ, تعلیم, جیت, حل, خواتین, خبر, خدا, درخواست, سفر, سپریم, عورت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
"ساری رات کی جاگی آنکھیں کالج میں کیا پڑھتی ہونگی" غیاث وصی شاہ 6 30-09-11 01:24 PM
اپنے باپ کے قاتلوں کیلیےشہریار تاثیر کا پیغام "یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے" ناصحی خبریں 10 12-01-11 06:13 PM
پاکستا ن میں براہ راست حملوں کی تیاری ،آج "فائنل "ہونے کا امکان ہے :مبصرین جاویداسد خبریں 46 09-10-10 09:06 PM
قبائلی رہنماؤں کا اجلاس ،"تحر یک طالبان پاکستان" کے قیام کا اعلان ،بیت اللہ محسود امیر ہو نگے ،40 رکنی شوریٰ کی تشکیل عبدالقدوس خبریں 0 15-12-07 07:52 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger