| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 772
کمائي: 13,733
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,351
450 مراسلہ میں 963 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بیٹا میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں نہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس لیے میرا بڑا بیٹا مجھے یہاں چوڑ گیا ہے۔پاگل خانے کا visit کے دوران ایک بزرگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیں بتایا ان کہ ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں سب بچوں کی شادی ہو چکی ہے ۔وہ کسی فیکٹری میں کام کرتے تھے پھر بڑھاپے کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے اور کام چھوڑ دیا ۔کمزوری کی وجہ سے بہت بیمار رہنے لگے ان کا کہنا ہے کہ بیٹوں کی شادی کے بعد بیٹے انہیں بوجھ سمجھنا شروع ہو گئے ۔اور ایک دن ان کا بڑا بیٹا ڈاکٹر سے ددائی دلوانے کہ بہانے یہاں لے آیا ۔یہ کہ کر کہ آپ ڈاکٹر صاحب کہ پاس کچھ دیر بیٹھیں میں ابھی آتا ہوں ۔سات ماہ ہو گئے ابھی تک واپس نہیں آیا۔
اس طرح کہ بیشمار مظلوم افراد آپ کو ان پاگل خانوں میں ملیں گے جو شائد پاگل نہیں ہیں لیکن انہیں اس بے رحم معاشرے نے پاگل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ’’والدین کو اف تک مت کہو ‘‘ ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے بیش آئو ‘‘ ایک اور جگہ فرمایا ’’ اور آپ کے رب نیں فیصلہ کر دیا کہ تم خدا کے سوا کسی کی عبادت مت کرواور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘ والدین کا اتنا درجہ ہے کہ ان کے دوستوں تک سے حسنِ سلوک اور احترام کا حکم دیا گیا ہے۔نبی ö نیں فرمایا کی’’ سب سے زیادہ نیک سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرے۔ کسی عاقل ،بالغ اور باشعور آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے والدین کہ ساتھ اس قسم کا نازیبہ سلوک کرے۔ان والدین کے ساتھ جنہوں نیں ہمیں جنم دیا ہماری پرورش کی ہمارے لیے زندگی کی سہولیات فراہم کیں خود تکالیف برداشت کر کہ ہمارے لیے آسائیشیں پیدا کیں ۔ ہمیں پہچان دی ۔ذرا سوچئے جس بندے کی کوئی پہچان نہ ہو جسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس کا والد کون ہے کیا بیتتی ہے اس بندے پار یہ تو خدا بتا سکتا ہے یا وہ بندہ جس پر گزرتی ہے والدین کے نہ ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے یہ اس سے پوچھئے جس کے والدین بچپن میں ہی اسے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔اور ہم انسانیت کے ٹھیکے دار جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں جب انھیں ہمارے سہارے کی سخت ضرورت ہوتی ہے تو ان کے ساتھ یہ بدسلوکی کہ انہیں پاگل قرار دے کر پاگل خانوں میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔حرص ،لا لچ او ر طمع کی کالی پٹی آنکھوں پر باندھے یہ ظلم ڈھاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن وہ بھی بوڑھے ہونے والے ہیں ۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ ان محسنوں کو ہم پاگل قرار دیتے ہیں۔ لیکن کوئی بات نہیںوہ دوبارہ بولے میری زندگی ہی کتنی رہ گئی ہے ۔اور بھر ٹھیک ہی تو ہے وہ اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں میری دیکھ بھال کہاں کرتے میں بوجھ ہی تو تھا ان پر۔ بیٹا ملکی حالات ٹھیک نہیں اس منہگائی کہ دور میں ایک بیکار آدمی کا بوجھ کس کے پاس اتنا وقت ہے اور اتنا پیسہ جو برداشت کر سکے۔ وہ کہتے جا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں ایک پاگل سے بات کر رہا ہوں ۔ ؟ اتنے میں کسی دوسرے شخص نے ان سے میرے بارے پوچھا کہ بابا کون ہے کس سے باتیں کرر ہے ہو ۔ بابا بولے ’’ ہمارے ہمسائے ہیں وہ جو سامنے لال دیوارہے نا اس کے پار والے پاگل خانے سے آئے ہیں‘‘ بابا کی وہ بات آج تک سوچ رہا ہوں’’ کیا واقعی ہم دیوار کہ اس پار والے پاگل ہیں ؟ ‘‘ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 7 صارفین نے چیتا چالباز کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | arshad khan (11-01-09), وسیم (11-01-09), Zullu230 (13-01-09), ابو عمار (10-01-09), راجہ اکرام (13-01-09), زین خان (11-01-09), عبدالقدوس (13-01-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 226
کمائي: 3,668
شکریہ: 601
119 مراسلہ میں 176 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زندگی کی گاڑی بہت رفتار سے چلتی ہے جو آج انھوں نے اپنے باپ
سے کیا کل ان کی اولادیں بھی ایسا ہی بلکہ اس سے بدتر سلوک کریں گی |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,558
کمائي: 57,439
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,126
991 مراسلہ میں 2,041 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
والدین کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے والے اتنا ضرور سوچ لیں کہ اُن کی اولاد بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی۔ وہ دنیا میں ہی اس کا بدلہ پائیں گے۔
__________________
1۔ دوسروں کی بات کو پہلے غور سے سُنو۔ اُس کے بعد اپنی رائے دو۔ 2۔ اگر کسی مسلے پر بحث کرنا مقصود ہو تو اُس سے متعلق تمام معلومات اور مواد اکٹھا کر کے بحث میں پڑو تاکہ بحث کرنے والے کے ساتھ مقابلہ کر سکو۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
مراسلات: 14,176
کمائي: 2,206,359
ميرا موڈ:
شکریہ: 3,103
3,493 مراسلہ میں 6,174 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ
کل جُک نہیں کرجُک ہے یہ یہاں دن کو دے اور رات لے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 7,179
کمائي: 117,002
شکریہ: 14,060
5,186 مراسلہ میں 11,547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قانون فطرت ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کی سزا دنیا میں بھی پاتا ہے اور آخرت تو ہے ہی یوم الجزا
دنیا میں سزا کی بہترن مثال حال ہی میں صدر ذی وقار جناب بش صاحب کی جوتوں سے آءو بھگت زیادہ دور کی بات نہیں ہمیں ہر حال میں خوف خدا کرنا چاہیئے بطور خاص والدین کے معاملے میں تو ذرا سی اف بھی تباہی کے دھانے پر لےجا سکتی ہے |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | چیتا چالباز (14-01-09) |
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| پہچان, پاگل, آج, آدمی, بچپن, بچوں, حکم, حال, خدا, رفتار, رات, زندگی, شخص, عبادت, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاگل خانہ | زین خان | گپ شپ | 74 | 21-10-08 04:56 AM |
| پاگل | عدنان | قہقہے ہی قہقے | 1 | 05-02-08 07:07 AM |
| پاگل | ابن ضیاء | قہقہے ہی قہقے | 0 | 02-01-08 12:52 PM |
| پاگل | چاچا کمال | قہقہے ہی قہقے | 0 | 21-12-07 02:02 PM |
| پاگل | چاچا کمال | قہقہے ہی قہقے | 0 | 21-12-07 01:54 PM |