واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


پرانے زمانے کے ادب اداب اور سلیقہ حسن،!!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-05-08, 05:31 PM   #1
پرانے زمانے کے ادب اداب اور سلیقہ حسن،!!!!
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید آف لائن ہے 01-05-08, 05:31 PM

ان پرانے سادہ اور سہل طور طریقوں میں اپنا ایک سلیقہ حسن، خوشنمائی اور زندگی کا ایک صحیح لطف تھا جو کہ بہت سستا اور دیرپا قائم رھنے کا حامل بھی تھا، ھم بھی زمانے کے دور کےساتھ اتنی تیری سے بھاگنے لگے کہ اپنی صحیح قدروں، اصولوں اور اپنی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل پہچان کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ھیں -

صرف ایک پانی کی ھی مثال لے لیں کہ پہلے ھم جو پانی دور دور سے اپنے کندھوں پر اور سر پر رکھ کرلاتے تھے تو ھمیں اسکی قدروقیمت کا اندازہ ھوتا تھا، اسی وجہ سے پانی کو ھم اس وقت بہت سنبھال کر اور بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے، آج ھمارے گھروں میں باتھ رومز میں واش بیسن کے ساتھ نہانے کےلئے شاور، فلش کےساتھ دھوتے کے لئے الگ سےشاور، آٹو واشنگ مشینوں اور کچن میں بھی میں سنک کےساتھ دو دو نلکے اور ھر ایک میں ٹھنڈے اور گرم پانی کی دو دو لائنیں، جتنی زیادہ سہولتیں ھیں، اس سے زیادہ اس کا بےقدری اور فضول طریقے سے استعمال کی وجہ سے اس کا بالکل ضیاع ھورھا ھے ،

آج میرے گھر میں بھی اسی طرح پانی کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کا بھی بےجا استعمال ھے بار بار اسی وجہ سے اکثر میرا اسی بات پر جھگڑا بھی ھوتا رھتا ھے، لیکں نئی نسل ھمیں پرانےخیالات کے لوگ اور بےوقوف سمجھتی ھے وہ کہتے ھیں کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاھئے آپ لوگ نہ جانے کس دنیا میں رھتے ھیں، مگر میرا جواب یہی ھوتا ھے کہ ھمیں نئی سہولتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاھئے لیکن اس میں بھی اگر ھم احتیاط کریں تو فضول خرچ سے بچا جاسکتا ھے،

مثلاً پہلے فرد واحد ایک بالٹی پانی سے آرام سے مکمل طور پر آسانی سے غسل کرلیتا تھا لیکن آج ھم شاور ( چھنٌا) کے نیچے خوب مزے سے گنگناتے ھوئے آرام سے دس گنا پانی غسل کرتے ھوئے ضائع کردیتے ھیں، اسکے علاوہ واش بیسن میں تو ھم منہ ھاتھ اس طرح دھوتے ھیں جیسے اباجی نے گھر میں کسی دریا سے مفت کا کنکشن لیا ھوا ھو، اسکے علاوہ برتن اور کپڑے دھوتے وقت تو خواتین بالکل خیال نہیں رکھتیں، نلکوں کو بغیر کسی بریک کے فل کھولے رکھتی ھیں، تاکہ انھیں بار بار نلکوں کو کھولنا اور بند نہ کرنا پڑے، جبکہ ھم خود جانتے ھیں کہ اگر ھم چاھیں تو ایک تھوڑی سی احتیاط کرکے بھی کافی ھر چیز میں بچت کرسکتے ھیں
جس کے ھم سب بھی خود ذمہ دار ھیں، اور ھر ایک چیز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کیلئے بھی ھم اوپر جاکر اس کی سزا بھگتیں گے، جسکا کہ ھم سب کو پتہ ھے، لیکن ھم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ھیں جیسے کبوتر اپنی آنکھیں‌ بند کرلیتا ھے جب اس پر کسی کے حملے کا خطرہ ھو، کبوتر یہ سمجھتا ھے کہ جیسے اسے آنکھیں بند کرکے کچھ نظر نہیں آرھا تو شاید حملہ کرنے والے کو بھی یہی محسوس ھورھا ھو،

اس وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اس وقت ھماری یا کسی کی بھی والدہ جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ آج کل کی پڑھی لکھی خواتیں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ جو بھی محدود آمدنی ھے اس کو کس سلیقے سے خرچ کیا جائے کہ اس میں سے کچھ آئندہ کیلئے کچھ بچت بھی ھوجائے، ایک چھوٹی سی مثال صرف کھانے پینے کے حوالے سے، وہ والد کے مشورے سے صرف خشک چیزیں مصالے،چاول، دالیں، آٹا، وغیرہ ضرورت کے مطابق ایک مہینے کیلئے پہلے ھی ایڈوانس میں منگا کر رکھتی تھیں جو تھوک کے بھاؤ والد صاحب لاتے تھے اور بہت ھی سستا پڑتا تھا، باقی روزانہ صرف اس دن کے پکانے کیلئے تازہ چیزیں اتنا ھی منگاتیں، جتنا کہ ضرورت ھوتی تھی -

اب تو روز کے مختلف گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی میرے ھی اُوپر تھی، کیونکہ میرے اسکول کا وقت اب دوپہر کا تھا، روزانہ پہلے پانی بھرنا، پھر گھر کا سودا لانا پھر اسکول وقت قریب ھوجاتا تھا، اور میں اسکول کی تیاری میں لگ جاتا-

گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ھرا دھنیا، پودینا، دو ھری مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ھو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

ایک پاؤ گوشت یا قیمہ کے ساتھ سبزی یا دال کے ھم سب کیلئے دو وقت کیلئے کافی ھوتا تھا بلکہ اکثر مہمان بھی ھمارے ساتھ شریک ھوتے تھے اور اس میں بھی کافی برکت ھوتی تھی، ایک فایدہ یہ ھوتا تھا کہ تازی چیزیں ھم کھاتے تھے اور ھمیں والدہ ھر ایک کو ضرورت کے مطابق اپنے ھاتھ سے اندازہ کرکے ھر ایک کے پلیٹ میں ڈالتی تھیں،

اگر آج ھم دیکھیں تو ھم خود اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کتنا کھانا روز پکتا ھے اور ضائع ھوتا ھے اسکے علاؤہ ڈیپ فریز کیا ھوا ھم کھاتے ھیں، ھمارے اس وقت بھی پیٹ کی گنجائش وھی تھی اور آج بھی وھی ھے بلکہ لوگوں کی پہلے کے وقت میں کچھ زیادہ ھی خوراک ھوا کرتی تھی اور سب خون سیر ھوکر کھاتے تھے-

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ھی لے لیں، کیا ھم سوچ سکتے ھیں کہ آج ھم ھر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ھم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
__________________
اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے سے دیکھیں کتنا سکون ملتا ہے،!!!!

 
عبدالرحمن سید's Avatar
عبدالرحمن سید
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 281
Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان (01-05-08)
پرانا 01-05-08, 07:02 PM   #2
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: پرانے زمانے کے ادب اداب اور سلیقہ حسن،!!!!

بہت اچھے۔ بہت خوب
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-05-08, 07:40 AM   #3
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: پرانے زمانے کے ادب اداب اور سلیقہ حسن،!!!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زین الدین زیڈ ایف مراسلہ دیکھیں
بہت اچھے۔ بہت خوب
زین الدین بھائی،!!!!!

بہت بہت شکریہ،!!!!!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پہچان, لوگ, نظر, مفت, مکمل, آج, جواب, خون, خواتین, زندگی, سہل, سیر, سودا, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger