| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 767
|
||||
| 22 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (31-03-10), saraah (28-03-11), فیصل ناصر (29-03-10), پاکستانی (26-03-11), ھارون اعظم (29-03-10), یاسر عمران مرزا (24-11-10), نورالدین (30-03-10), موجو (10-12-11), محمدخلیل (10-08-10), مرزا عامر (10-08-10), ابو عمار (30-03-10), احمدنواز (10-08-10), بزم خیال (27-03-11), رضی (14-12-10), سحر (29-03-10), شاہ جی 90 (29-03-10), عارف اقبال (31-03-10), عبدالقدوس (12-08-10), عبداللہ آدم (29-03-10), عبداللہ حیدر (29-03-10), غلام مجتبی جان (29-03-10), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تکمیل کا انتظار ہے ،
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھائی اتنا انتظار نا کرایا کریں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پنجتن کا ٹولہ! دوسری قسط! چلیئے میں پہلے ان حضرات کے حلیئے اور شخصیتوں سے آپ کو آگاہ کردوں۔ منصور بھائی چھوٹے قد کے منحنی سے جسم کے مالک ہیں۔ رنگ سانولی سی اور پیشانی چوڑی ہے جو ان کے ذہین ہونے کی نشانی ہے۔ منصور بھائی کو وراثت میں کئی ہنر ملے ہیں اس لیئے ان کی ذات میں بیک وقت ایک اچھے گوئیے، کارپینٹڑ، اُستاداور قاری کی صلاحیتیں پائی جاتیں ہیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ منصور بھائی لڑکپن میں "ٹی بی" کا شکار ہوگئے تھے۔ اُن کی والدہ نے اُنہیں شہر سے دور واقع "ٹی بی سینیٹوریم" میں داخل کروادیا تھا۔ ٹی بی کو لاعلاج اور مہلک مرض تصور کرنے والوں کو بیچارے منصور کی ذندگی کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی تھی۔ وہاں رات کو تیز ہوائیں چلتی تھی اور جنگلی کُتے اکثر اسپتال کے احاطے میں گھس آتے تھے، منصور بھائی نے مجھے ایک دن بتایا تھا۔ سینیٹوریم کے عملے کی محنت اور منصور بھائی کی والدہ کی دُعاؤں سے منصور بھائی کونئی زندگی مل گئی اور وہ کچھ سالوں میں صحت یاب ہوکر گھر واپس آگئے۔ سینیٹوریم میں گذارے سال اُن کی زندگی کے پُر آشوب سال تھے۔ اُن دنوں کی یادوں نے منصور بھائی کو یکسر تبدیل کرڈالا۔ اُن کا رجحان مذہب کی جانب ہوگیا تھا۔ اُنہوں نے خالق کائنات کے حضور حمد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت شروع کردی۔ سینیٹوریم سے گھر واپسی پر وہ مسجد کی طرف گئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ منصور بھائی اس ٹولے میں تصوف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سیدنا الشیخ عبدالقادر سے لے کر لعل شہباز قلندر اور موجودہ دور کے کئی بزرگوں سے عقیدت رکھتے ہیں۔ اسلام کے کے مشہور اصفیاءاور علما کی لکھی ہوئی کتابوں اور حوالوں کو رٹا ہوا ہے۔ امام غزالی ، مولانا رومی، خواجہ فرید الدین عطار، حضرت شمش تبریزی، حضرت داتا گنج بخش سمیت کئی جلیل القدر اصفیاو اولیا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ منصور بھائی کے بارے میں ایک روایات اور بھی پائی جاتی ہے (اس روایت کا راوی شعیب ہے) ۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ منصور بھائی کی شادی سے پہلے جب تک اُن کا کمرہ نہیں بنا تھا، اُنہوں نے گھر کے پچھواڑے میں ایک قبر کھودی ہوئی تھی اور جب نفس اس فانی دُنیا کی رغبت کی جانب مائل ہوتا تو وہ اس قبر میں لیٹ کر اپنے نفس کو قبر کی ہولناکیوں سے ڈراتے اور مراقبہ کرتے۔ دروغ بہ گردن راوی۔ ۔ ۔ ۔۔ منصور بھائی نے ایک مشہور مذہبی تنظیم (جس کا ذکر آگے آئے گا) کے زیر اہتمام قراءت کا کورس کیا اور بطور قاری کئی سال کی طلبا ءکی تربیت کی۔ PACC سے انگلش لینگوئج کا کورس کرنے کے بعد علاقے میں خواتین کو انگلش کی تعلیمات سے روشناس کرنے کا سہرہ بھی منصور بھائی کے سر جاتا ہے۔ PACC ہی سے ایک علت یعنی "بانسری" بھی لاحق ہوئی لہذا اکثر اُسے بجاتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اشفاق کے خیال میںیہ " نیرو" کی بانسری ہے! منصور بھائی نے ایک سچے مُرشد کی تلاش میں کئی جگہوں کا سفر اور کئی شخصیات سے بھی مُلاقات کی۔ اس سفرتلاش حق کے دوران ہم بدبخت "گوہر شاہی" سے بھی ملے تھے۔ تم نے دیکھا اُس خبیث نے ہاتھوں میںانگوٹھیاں اور دھاتی گھڑی پہنے ہوئی تھی! گوہر شاہی سے مُلاقات کے بعد منصور بھائی نے میرے کان میں شرگوشی کی تھی! اب تک اُنہیں اُن کا گوہر مطلوب نہیں مل سکا ہے! آج کل شاعری سے شغف فرمارہے ہیں ۔ تصوف اور فلسفے سے عقیدت اُن کے اشعار سے عیاں ہے۔ اگر موقعہ ملا تو اُن کے اشعار آپ سے شئیر کروں گا۔ نوٹ: میرے نہایت قریبی دوستوں کا یہ تذکرہ ابھی ادھورا ہے! Last edited by shafresha; 30-03-10 at 08:16 PM. وجہ: چند حروف کی تصیح |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | saraah (28-03-11), فیصل ناصر (30-03-10), پاکستانی (26-03-11), ھارون اعظم (30-03-10), نورالدین (30-03-10), موجو (10-12-11), مرزا عامر (11-08-10), احمدنواز (10-08-10), بزم خیال (27-03-11), رضی (27-03-11), شاہ جی 90 (31-03-10), عارف اقبال (31-03-10), عبدالقدوس (20-08-10), عبداللہ آدم (30-03-10) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
شاہد بھائی کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شخصیت نگاری خوب ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
کب ریلیز ہو گی؟))))))))))))
انیمیشن جاری ہے شاید اس لیے تاخیر ہو رہی ہےےےےےےےےےےے
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پنجتن کا ٹولہ! مذکورہ ٹولے کا دوسرا رکن شعیب ہے۔تیسری قسط! شعیب شعیب میری دانست میں بیک وقت خوش قسمت بھی ہے اور بدقسمت بھی۔ خوش قسمت اس لیئے کہ قدرت کی طرف سے اُسے بہترین حافظہ، آواز، اور حاضر دماغی عطا ہوئی ہے ۔ بد قسمت اس لیئے کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو کما حقہ استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے شعیب کو سب ڈھیر سارا پیار ملا۔ ناصرف گھر والے بلکے خاندان اور آس پاس کے لوگ بھی اس بچے کی ذہانت و فطانت کے معترف تھے۔ مسجد تاج المساجد میں ایک صوفی صاحب ہوا کرتے تھے۔ صوفی صاحب کی خصوصیت اُن کا لہک لہک کر انتہائی خو ش الہانی سے نعت و حمد پڑھنا تھا۔ (افسوس کے بعد میں صوفی صاحب کو انتہائی رکیک اور گھناﺅنے الزام کے بعد مسجد کی ذمہ داریوں سے برخاست کردیا گیا تھا)۔ تو مسجد کے تمام بچے صوفی صاحب کی صحبت میں نعت خونی کیا کرتے تھے۔ صوفی صاحب کا یہ معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد لاؤڈ اسپیکر کھول کے نعتیں اور حمد پڑھا کرتے تھے۔مدرسے کے بچے بھی اُن کی معیت میں اپنے اپنے جوہر دیکھایا کرتے تھے۔اُنہی بچوں میں سب سے منفرد آواز شیعب کی بھی ہوتی تھی۔ جب وہ نعت پڑھتا تو چلنے والے مسجد کے اندر جھانک جھانک کر نعت پڑھنے والے کو دیکھتے، بعض خوش ہوکر انعام وغیرہ بھی دیا کرتے تھے۔ گھر کا لاڈلہ اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ملنے والے پیار کے باوجود شعیب شرمیلا واقع ہوا تھا۔ ناجانے کیوں وہ دیگر بچوں کی بہ نسبت منصور کے قریب آگیا اور بچن کی یہ دوستی اب تک برقرار ہے۔ تو بات ہوئی تھی شعیب کی نقل اُتارنے کی! میں نے شیعب کو علامہ شاہ احمد نورانی، مولانا شاہ تراب الحق قادری، انڈیا کے مدنی میاں، سمیت درجنوں علماءاور حفاظ کی ہو بہو نقل اُترتے ہوئے دیکھا ہے،خصوصا علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم کے مشہور تراویح کے انداز پر تو حقیقت کا گماں ہوتا تھا۔ شعیب نے ایک مشہور دینی ادارے سے حافظ کی سند ایک مشہور و معروف ہستی کے ہاتھوں سے حاصل کی تھی۔ کافی عرصے تک وہ تراویح بھی پڑھاتا رہا ہے ۔ اپنے والد کے انتقال پر بھی اُس کی شوخ طبیعت باز نہیں آئی۔ تیجے والے دن اُس نے ہمیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اندر کمرے میں لے گیا۔ اندر گرم گرم بریانی کی دیگیں رکھی ہوئی تھیں۔ اُس نے جلدی جلدی چند پلیٹوں میں مرغی کی رانیں اور چاول بھرنے شروع کردئیے اور بولا "چلو سالوں شروع ہوجاؤ" اور خود دروازے پر کھڑا پہرا دینے لگا۔ اُس کے بھائیوں نے والد کے انتقال کے بعد اُسے نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ اکثر ملتا اور شکایت کرتا، لیکن کمال کی بات ہے کہ اُس نے کبھی اُن سے مدد طلب نہیں کی۔ وہ ہمیشہ ایک نئے منصونے کے ساتھ حاضر ہوتا اور ہمیں ملنے والی کامیابیوں کی نوید سُناتا۔ کچھ عرصے بعد اپنے نئے کاروبار کے ختم ہوجانے یا تباہ ہوجانے کے بعد وہ پھر ذاکر کی دُکان پرہمارے ساتھ موجودہوتا اور اُن واقعات اور لوگوں کو "سلواتیں" سُناتا جن کی وجہ سے اُسے نقصان ہوا ہوتا۔ پولٹری فارم، فش فارم، کباڑی، موٹر سائیکل کی بروکری، ٹھیکیداری، سمیت ناجانے کون کون سے کاروبار شروع ہوئے اور اپنی موت آپ مرگئے۔ شعیب کی ایک عادت (شاید بُری عادت) یہ بھی تھی وہ لوگوں کے نام رکھ دیا کرتا تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ بعد میں صرف ہم ہی نہیں بالکل دیگر ساتھی بھی اُن لوگوں کے اصل کے بجائے شعیب کے دیئے ہوئے نام سے پُکارتے تھے۔ یوں میں بہاری، منصور بھائی چھوٹے، اشفاق مُربہ اور ذاکر قصائی قرار پائے تھے، ہم اُسے حافظ جی کہہ کر پکارتے تھے۔ اُس کی تلوار محض ہم ہی پر نہیں بلکے مشہور شخصیات پر بھی چلتی تھی، جناچہ شاہ تراب الحق قاری "ننگا چھُرا" کہلائے۔ باقیوں کودیئے گئے القابات ناقابل اشاعت ہیں۔ اُس کی طبیعت میں لاُبالی پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کھانے پینے کا یہ عالم تھا کہ بریانی کھانے کے لیئے وہ دوستوں سے اُدھار لینے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ اُس کا اسٹائل تھا کہ وہ ذاکر کی دُکان کے قریب بنے تھڑے پر کچھ دیر باتیں کرتا اور پھر کہا "چلو یار بڑی بھوک لگی ہے"۔ ہم نے رات کے تین بجے چائے پراٹھے، بریانی، انڈے چھولے بھی کھائے ہیں اور صبح پانچ بجے دال چاول بھی ہضم کیئے ہیں اور انتہائی نہار منہ ذاہد کی نہاری تو جمعے کے لوازمات میںشامل تھی۔ محض چائے پینے کے لیئے دور واقع ایک مذہبی اجتماع میں شرکت ہر جمعے کا معمول تھا۔ وہ اکثر کئی کئی دنوں بلکے ہفتوں کے لیئے غائب ہوجاتا اور پھر اس دوران ہونے والے واقعات مزے لے لے کر سُناتا۔ اُس کی باتیں سُن کر ہم ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ پھر وہ ایسا غائب ہوا کہ کوئی خبر ہی نا ملی۔ ایک دن مجھے ملا تو خبر دی کے شادی کررہا ہوں، "کتنے دن کے لیئے" میں نے ہنسے ہوئے کہا! ابے سالے سچ بول رہا ہوں، وہ سنجیدگی سے بولا، یہ لے اپنا کارڈ۔۔۔۔ القصہ مختصر اب اُس کی شادی ہوگئی ہے، شادی کے دن کے بعد سے اب تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی سُنا ہے کہ وہ باپ بن گیا ہے لیکن پتہ نہیں بچے کی پیدائش ہوئی ہے یا بیٹی کی خوشخبری ملی ہے! نوٹ: میرے نہایت قریبی دوستوں کا یہ تذکرہ ابھی ادھورا ہے! Last edited by shafresha; 10-08-10 at 10:45 PM. وجہ: چند الفاظکی تصیح! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شافریشہ بھائی
اللہ آپ کو خوش رکھے ہم اپنے آپ کو اسی ماحول میں محسوس کرنے لگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پسندیدگی کا شکریہ شاہ صاحب!!!!!
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
نئے دوستوں کی خدمت میں پیش ہے!!!
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
پنجتن کا ٹولہ!
چوتھی قسط! ذاکر اس ٹولے کے سب سے قدآور اور طاقتور ساتھی کا نام ذاکر ہے۔ قد کوئی ساڑھے چھ فٹ سے نکلتا ہوا، بھاری بھرکم جسم رنگ کسی زمانے میں یقینا گورا رہا ہوگا اور عجیب بے ڈھنگی سے چال۔ ذاکر بھی شعیب سے القابات پانے والوں کی فہرست میں شامل ہے تو جناب اُس کا نام رکھا گیا "قصائی"۔ شعیب کے خیال میں ذاکر میں قصائیوں والی ساری خصوصیات کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں اور اگر وہ مار کھاتا بھی ہے تو صرف اپنے لہجے سے۔ ہم ذاکر کے تن و توش کا استعمال اکثر موقعوں پر کرتے تھے مثلا ؛ کسی ٹریفک پولیس والے سے مڈبھیڑ ہوجائے تو اُس پر رُعب ڈالنے کے لیے ہوٹل پر بیرے کو جلد بُلانے یا گیریبی حاصل کرنے کے لیئے بس میں ڈرائیور سے گاڑی تیز چلوانے کے لیئے مُحرم یا دیگر موقعوں پر لنگر لوٹنے کے لیئے شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں دیگیں اُٹھوانے یا کھانا نکلوانے کے لیئے ذاکر پیشے کی لحاظ سے درزی ہے۔ لہذا اپنی ذاتی ایک دُکان کا مالک تھا (یہ دُکان اب نہیں رہی) اُسی دُکان کے سامنے ریوڑی والے کے ٹھیئے پر شام کو محفل جمتی تھی۔ اُس ٹھیئے پر ناجانے دُنیا جہاں کے کن کن موضوعات پر کفتگو ہوتی تھی۔ شعیب دیگر لوگوں کی مختلف دلچسپ عادات کی نقل اُتارتا تھا، اشفاق اور میں دقیق علمی مسائل پر مغز ماری کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جناب منصور صاحب اصفیاء کی کرامات سُنایا کرتے تھے۔ (آہ کیا دن تھے!) قریبی ہوٹل کے چند سنجیدہ بوڑھے بھی سیاسی گفتگو کرنے کے لیئے اسی ٹھیئے/تھڑے پر آتے تھے۔ اُنہی میں سے ایک اُستاد بھی تھے۔ اُستاد کا اصل نام تو یاد نہیں البتہ ذاکر کے اُنہیں اُستاد کہہ کر پکارنے کی وجہ سے وہ جگ اُستاد کہلاتے تھے۔ اُستاد انتہائی جہاندیدہ شخص تھے۔ انتہائی ٹہر ٹہر کر ذو معنی مگر علمی گفتگو کیا کرتے تھے (یہ الگ بات ہے کہ اُن کی یہ علمی گفتگو بعض اوقات خطرناک حد تک بور کردیتی تھی) ۔ اُستاد میں جہاں کئی خوبیاں مثلا قناعت پسندی، خودداری، وضعداری وغیرہ تھیں وہی اُن میں ایک خامی بھی تھی وہ یہ کہ وہ کسی کی بھی بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے وہ وہی درست بات کررہے ہیں۔ اشفاق کی علمیت کے قائل ہونے کہ باوجود وہ اکثر کہا کرتے تھے "دیکھ بات تو تو ٹھیک کررہا ہے لیکن میں یہ کہہ رہا تھا کہ۔۔۔۔" اُن کی اس عادت سے بیزاری سبھی کو تھی لہذا ہم اکثر اوقات یہ دیکھ کر کہ اُستاد دُکان پر بیٹھے ہیں دور ہی سے چلے جاتے تھے۔ ذاکر کی چوں کے مجبوری تھی لہذا وہ وہیں دُکان پر بیٹھا رہتا، چناچہ اُسے بلوانے کے لیئے کسی بچے کے کہلوایا جاتا کہ "ذاکر بھائی امی بُلوا رہی ہیں" یا چائے والے کی مدد لی جاتی۔ کبھی کبھی جھگڑا ہوجانے کی صورت میں اُس کے جسم کو دیکھا کر فائدہ اُٹھایا جاتا تھا، البتہ اُس پر یہ پابندی ضرور تھی کہ "منہ مت کھولنا"۔ بقول منصور ذاکر کو بولنے کی تمیز نہیں ہے!!! (میں ، منصور اور اشفاق اس خیال سے متفق نہیں) شعیب کہتا ہے کہ وہ غلط موقعے پر درست بات اور درست موقعے پر غلط بات کرنے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ بچپن ہی سے کمانے کی وجہ سے روپیہ پیسہ اُس کے ایک عام سے بات تھی۔ ذاکر کو ہمارے حلقے میں "بینک" کہا جاتا تھا کیوں کہ سارے دوستوں میں وہی مالی طور پر مستحکم تھا۔ اس "بینک" سے کبھی بھی "لون" لیا جاسکتا تھا، چناچہ اشفاق کو نئی کتابیں خریدنی ہوں یا منصور بھائی کو امی کی دوائی لینی ہو، شعیب کو بریانی والے کا اُدھار دینا ہو یا مجھے کمپیوٹر کا کوئی پُرزہ لینا ہو چھوٹی موٹی تمام ضرورتوں میں اسی بینک سے رجوع کیا جاتا تھا۔ البتہ دلچسپ صورتحال اُس وقت بنتی جب شعیب کو اُدھار لینا ہو۔ ذاکر کا کہنا یہ تھا کہ وہ اُدھار لے کر واپس نہیں کرتا یا پھر رقم توڑ توڑ کر دیتا ہے۔ چناچہ ایک مرتبہ ذاکر اور شعیب کی خوب لڑائی ہوئی، واقعہ یہ تھا کہ شعیب نے ذاکر سے کہا کہ "چل یار بریانی کھا کہ آٓتے ہیں" بریانی کھانے کے بعد شعیب نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ خالی تھی، حسب معمول "بینک" سے مدد لی گئی اور جلد واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ رقم نا دی گئی تو جھگڑا ہوگیا۔ اب شعیب کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنی پلیٹ کے پیسے دیگا جبکے ذاکر کا کہنا تھا کہ دعوت تو شیعب کی طرف سے تھی لیذا وہ ہی دونوں پلیٹوں کے پیسے دیگا۔ ایسا نہیں کہ وہ ہمیشہ ہی غیر متعلقہ بات کرتا تھا، اکثر اُس کے منہ سے عقل و دانش کے پھول بھی کھلتے ہوئے دیکھے گئے ہیں (ایسا اکثر برموقعہ کہاوتیں سُنانے کے موقعے پر ہوتا تھا)۔ شعیب اکثر کہتا "ابے قصوڑے یہ تو پنی اماں کی کہاوتیں ہمیں کیوں سُناتا ہے؟"۔ ذاکر کی دُکان چوں کی گھر کے باہر تھی لہذا ایک دروازہ اندر گھر میں بھی کھلتا تھا۔ وہ اکثر کام ذیادہ ہونے کا بہانہ بناتا اور ہم پانچوں رات ہوجانے پر اُس کی دُکان میں فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ وی سی آر میرا ٹی وی ذاکر کا اور کیسٹوں کا کرایہ اشفاق، شعیب اور منصور کی ذمہ داری تھی۔ شعیب اور ذاکر میں ایک ہی مماثلت تھی اور وہ تھی "کھانا"اور خوب کھانا۔ اکثر اُس کی دُکان پر بیٹھے بیٹھے کھانے پینے کا پروگرام بن جاتا۔ ذاکر اکثر کہتا تھا "یار وہ ذاہد بھائی کا فون آیا تھا" (ذاہد بھائی سے مُراد "ذاہد نہاری والے" تھی)، اس بات کا مطلب ہوتا تھا کہ آج نہاری کھانے کا پروگرام ہے۔ پھر اُس کی شادی ہوگئی۔ اللہ نے ایک خوبصورت بیٹی سے نوازہ لیکن ناجانے اُس کی آزمائش مقصود ہے یا کیا کہ بچی ذہنی طور پر تندرست نہیں۔ پچھلے دنوں مُلاقات ہوئی تو اُسے بجھا ہوا پایا، کیا ہوا؟ میں نے پوچھا تو بولا "بیٹی کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا تھا ، وہ کہتا ہے کہ کچھ سال لگیں گے" ۔ میری اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ عزوجل اُس پر اور اُس کی بیٹی پر رحم فرمائے اور میرے دوست کی مشکلات کو جلد از جلد حل فرمائے آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ نوٹ: میرے نہایت قریبی دوستوں کا یہ تذکرہ ابھی ادھورا ہے! Last edited by shafresha; 24-11-10 at 11:52 PM. وجہ: ایک سطر کا اضافہ! |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
میری اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ عزوجل اُس پر اور اُس کی بیٹی پر رحم فرمائے اور میرے دوست کی مشکلات کو جلد از جلد حل فرمائے آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
شکریہ بھائی !!!!!
اللہ تعالیٰ آپ کی دُعا کو قبول فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہوتے, ہوتا, فن, کرتے, گھر, یوں, ڈیزائن, والی, قدم, نام, نبوی, نعت, مسجد, مسجد نبوی, آج, بھائی, بے, بچپن, بچوں, تاج, حصہ, خوش, رنگ, صحن |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کارٹون | رانا امر | دلچسپ اور عجیب | 14 | 18-06-10 10:15 AM |
| حکمران ٹولے کا موجودہ امریکی دورہ | محمد الیاس | خبریں | 0 | 26-03-10 10:56 AM |
| آج کا کارٹون | فیصل ناصر | خبریں | 35 | 04-02-10 12:01 AM |
| کارٹون گارڈن | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 2 | 28-01-09 12:28 PM |
| ایشیا کپ کرکٹ ٹون۔۔۔۔ | champion_pakistani | موبائل ہی موبائل | 0 | 30-06-08 02:29 PM |