پنچوں کی رائے سر آنکھوں پر مگر پر نالہ وہیں گرے گا
آپ نے یہ مقولہ ضرور سنا ہو گا۔ اگر نہیں سنا ہے تو ہم سنا ئے دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ دو پڑو سیوں میں تنا زع اس بات پر شروع ہو ا کہ ایک نے اپنے پرنالے کا رخ دوسرے کی چھت پر کر دیا۔ جبکہ اس کا محل تھا اور اس کی جھونپڑی ۔جب بارش ہوتی ،تواس کی چھت جو کہ مٹی اور گھاس پھوس کی بنی ہوئی تھی اس میں سرراخ ہو جاتے اور پانی اس کے گھر میں اندر باہر ایک سا برستا۔ چونکہ پڑو سی ان میں سے تھاکہ زبر مارے اور رونے نہ دے ۔ یہ اس کے بس میں نہ تھا کہ اس سے لڑتاِ لہذا وہ پنچو ں کے پاس چلا گیا ۔
ان میں کو ئی پنچ اپنے چو دھری صاحب جیسابھی تھا ۔ اس نےفیصلہ مظلوم کے حق میں دیدیا ۔جس کو اس نے ماننے سے عوام کے سامنے تو انکار نہیں کیا۔ بلکہ اعلان کر دیا کہ پنچوں کافیصلہ سر آنکھوں پراسے ہم اور ہماری پوری منڈلی بخوشی تسلیم کر تی ہے،اس پربڑی تا لیاں بجیں جیسے کہ چندہ اگا ؤ مہم میں ان اعلانات پربجتی ہیں جن میں سے اکثر پورے نہیں ہوتے۔ اور اعلان کر نے والا یہ سوچ کر اعلان کر تا ہے کہ جتنی چاہو رقم کا اعلان کر دو دینا کس کو ہے؟۔ لہذا کچھ ایسا ہی یہاں بھی تھااس نے بھی کچھ زیر لب کہااورجس کو کہ صرف اس کےحواریوں نے سنا؟
کہ دیکھتا ہو ں اس فیصلہ پر عملدر آمد کو ن کرا تا ہے؟ دوسرے دن لوگوں نے سنا کہ اس نے پننچوں کو ہی اندر رکھدیا۔ اور نئے پنچ مقرر کر دیئے ۔جب سے یہ محا ورہ ہر ایک کی زبان پر ہے کہ پنچوں کی را ئے سر آنکھوں پر، مگر پر نالہ وہیں گرے گا