واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


کامیابی کے سات اصول!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-02-09, 08:19 AM   #1
کامیابی کے سات اصول!!!
چیتا چالباز چیتا چالباز آف لائن ہے 07-02-09, 08:19 AM

میں جب بھی کتابوں کی کسی دوکان میں جاتا ہوں تو اس حصے پر نظر ضرور ڈالتا ہوں جہاں ”سیلف ہیلپ“ سے متعلق کتابیں رکھی ہوتی ہیں، اس کی وجہ ان کتابوں کے پر کشش نام ہیں جو آپ کو خوامخواہ اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں جیسے ”لا محدود طاقت“، ”جیسے خیالات، ویسی زندگی“، سوچئے اور امیر ہو جائیے“ یا پھر ”انتہائی با اثر لوگوں کی سات عادتیں“!!! دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کی بیشتر کتابوں پر ”بیسٹ سیلر“ لکھا ہوتا ہے جس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کیونکہ ان میں سے کوئی نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر ہوتی ہے اور کوئی واشنگٹن پوسٹ کی، کوئی امیزون کی ویب سائٹ کے مطابق سر فہرست ہے اور کسی کے سال بھر میں اتنے ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں کہ شاید اب دنیا کی پڑھی لکھی آبادی میں سے فقط آپ ہی بچے ہیں جس نے یہ کتاب نہیں خریدی۔ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے بھی ایسی چند کتابیں خرید کر پڑھ ڈالی ہیں لیکن پڑھنے کے بعد مجھ پر آشکار ہوا کہ کامیابی کے جو نسخے ان کتابوں میں درج ہیں وہ امریکہ یا یورپ وغیرہ میں تو شاید چل جاتے ہوں لیکن وطن عزیز میں کامیابی حاصل کرنے کے کچھ اور ہی طریقے ہیں جن کا ان کتابوں میں دور دور تک ذکر نہیں ہے لہذا آج میں نے ایسے چند طریقے ” نسخہ کیمیا “ کے طور پر یہاں درج کر دئیے ہیں تاکہ ہر خاص و عام اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ وعدہ کر، دریا میں ڈال: یہ ہے کامیابی کا پہلا اصول، ہر کسی سے بے فکر ہو کر بڑے سے بڑا وعدہ کیجیے لیکن جب اسے پورا کرنے کا وقت آئے تو محض دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اسے خوش اخلاقی سے ٹرخا دیجیے۔اس کے تین فائدے ہوں گے، اول ، آپ کی خوش اخلاقی کا ڈنکا چار دانگ عالم بج جائے گا، دوم، محض وعد ے کے بل بوتے پرہی آپ اپنے مخالف سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکیں گے اور سوم، آپ کو کسی بھی ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار میں بطور ماڈل کام کرنے کا موقع مل جائے گا۔رہی بات reputation یا ساکھ کی جس کے بارے میں کسی بے وقوف کا قول ہے کہ ” ساکھ ، ایک کنواری لڑکی کی عزت کی مانند ہوتی ہے جو ایک دفعہ چلی جائے تو پھر واپس نہیں آتی“ تو اس ضمن میں عرض ہے کہ ساری عمر کنوارہ رہنے کا کسی کو شوق نہیں ہوتا لہذا ایسی باتوں کی قطعا ً پرواہ نہ کریں اور سختی سے اس اصول پر کاربند رہیں ”وعدہ کر، دریا میں ڈال“!!!(مشق) روزانہ صبح اٹھ کر نہار منہ اپنے آپ سے تین جعلی قسم کے وعدے کریں اور پھر شام کو کھانے کے بعد ان وعدوں کو توڑنے کے بہانے بنائیں ، مثلاً آپ کا وعدہ تھا کہ آج آپ اپنے مال میں سے زکوٰةنکالیں گے تو شام کو آپ کا موقف یہ ہو سکتا ہے کہ جلدی کا کام شیطان کا، لہذا فوری طور پر یہ کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں یا یہ کہ آپ ”ڈیڈ لائن“ پر یقین نہیں رکھتے، اس لئے آج زکوٰة نہیں نکالیں گے یا پھر یہ کہ آپ پر سرے سے زکوٰة لاگو ہی نہیں ہوتی، اللہ اللہ خیر صلہ!!! بندر بانٹ: اکیلے کھانے کی بجائے مل بانٹ کر کھائیں، یہ ہے کامیابی کا دوسرا اصول جسے ہم نے بندر بانٹ کا نام دیا ہے۔اس اصول کو سمجھنے کے لئے اتنا سمجھنا ہی کافی ہے کہ اپنی کامیابی کے سفر کے دوران آپ جو بھی مال بنائیں اس کا کچھ حصہ ان ”مستحقین“ میں بھی بانٹ دیں جنہوں نے وہ مال بنانے میں آپ کا ساتھ دیا، اس سے آپ کے مال میں برکت پڑے گی اور اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح اگر آپ کسی با اثر مقام پر فائز ہو جاتے ہیں تو بھی اس اصول کو نہ بھولیں اور ہمیشہ بندر بانٹ سے کام لیں۔(مشق) مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے ارد گرد کے بندروں کو اکٹھا کریں اور ان میں روٹیاں بانٹیں اور پھر خدا کی قدرت دیکھیں، جو بندر ایک سے زیادہ روٹی مانگیں ، انہیں اپنی روایتی خوش اخلاقی سے ہی ٹرخائیں اور جو بندر روٹی لینے پر راضی نہ ہوں انہیں ڈرا دھمکا کر روٹی کھانے پر مجبور کریں۔اپنی پسندکا سچ بولیں: تیسرا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ سچ بولیں لیکن صرف اس وقت جب اس سچ کا فائدہ آپ کو پہنچ سکتا ہویعنی اپنی مرضی کے مطابق اور اپنی پسند کا سچ بولیں ۔دوسرے تمام موقعوں پر بے تکان جھوٹ بولیں اور اس مثل سے بالکل نہ گھبرائیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے کیونکہ آج تک کسی نے سچ کے پاؤں بھی نہیں دیکھے!!!اپنی پسند کا سچ بولنے کا سب سے بڑا فائدہ آپ کی ذات کو ہوگا اور لوگ آپ کی باتوں پر یقین کرنا شروع کر دیں گے کیونکہ جن لوگوں کو آپ نے بندر بانٹ کے ذریعے اپنے زیر اثر رکھا ہو گا وہ آپ کے جھوٹ کی گواہی بھی ایسے دیں گے جیسے سچ کی دی جاتی ہے لہذا ”ستے ای خیراں“۔تاہم بے تکان جھوٹ بولنے سے پہلے اپنے مد مقابل کا جائزہ لے لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی ان اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آپ کے بارے میں کچھ اس نوعیت کا سچ بول دے جو آپ کا پول ہی کھول دے ۔(مشق) جھوٹ بولنے کی پریکٹس سب سے پہلے اپنی ذات کے حوالے سے شرو ع کریں یعنی روز انہ اپنے بارے میں اس قسم کے فقرے بولیں کہ میں ایک بہادر آدمی ہوں، میں بے غیرت نہیں ہوں، میں کسی سے نہیں ڈرتا، میں ایک طلسماتی شخصیت کا مالک ہوں وغیرہ وغیرہ۔چند دنوں بعد آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی بے غیرتی تو کم نہیں ہوئی تاہم جھوٹ بولنے کی پریکٹس ضرور ہو گئی ہے۔ جذباتی بینک اکاؤنٹ نہیں ذاتی بینک اکاؤنٹ بھریں:کامیابی کا راز بتانے والی کتابیں لکھنے والوں کا خیال ہے کہ زندگی میں جذباتی بینک اکاؤنٹ بہت اہمیت رکھتا ہے جسے وہEBA یعنیEmotional Bank Accountبھی کہتے ہیں۔ اس قسم کی خرافات کے چکر میں بالکل نہ آئیں اور ہمیشہ اپنا ذاتی بینک اکاؤنٹ بھرنے پر توجہ دیں اوریہ کام ایک ہاتھ سے اس صفائی کے ساتھ کریں کہ دوسرے ہاتھ کو پتا نہ چل سکے۔بعض مفسدین نے ایسے کاموں کے لئے White Collar Crime کی اصطلاح ایجاد کی ہے لہذا سفید کالر کی قمیض پہننے سے اجتناب کریں!!!(مشق) غیر ممالک میں ”بے نامی “ اکاؤنٹ کھولنے کے لئے فارم بھرنے کی پریکٹس کریں!!! تمسخرانہ انداز گفتگو: اساتذہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے گفتگو کے فن میں مہارت حاصل کرنا بہت ضروری ہے تاہم جس لطیف نکتے کو اساتذہ نے نظر انداز کیا ہے وہ یہ ہے کہ موقع کی مناسبت سے انداز گفتگو تمسخرانہ ہونا چاہئیے،دوسرے الفاظ میں یہ کہ آپ کی گفتگو زچ کر دینے والی ہو جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ آپ بہت چالاک اور مد مقابل نہایت گاؤدی ہے۔تاہم یہ انداز گفتگو ہر موقع کے لئے موزوں نہیں ہے ، کچھ مقامات ایسے بھی ہوں گے جہاں الٹا آپ کو اپنے سے زیادہ با اثر شخص کی بے ہودہ گفتگو سننا پڑے گی لہذاایسے موقعوں پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا اور صرف یہ سوچنا ہے کہ آپ کی گفتگو بھی لوگ ایسے ہی صبر و تحمل سے سنتے ہوں گے۔(مشق) دن میں تین دفعہ روزانہ نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارے کریں ، اس سے گلا صاف ہوگا اور گفتگو کرنے میں آسانی ہوگی ۔ اپنے چھریاں چاقو تیز رکھیں: امریکی کتابوں میں اس اصول کو Sharpen the Saw کہا جاتا ہے لیکن یہاں اس سے مراد وہی ہے جو آپ سمجھیں ہیں یعنی ”مرغا“ پھانسیں اور پھر اسے حلال کرنے کے لئے اپنی چاقو چھریاں تیز رکھیں ۔آپ کے ارد گرد بے شمار ”مرغے“ پھر رہے ہیں جنہیں حلال کر کے آپ اصول نمبر چار کے تحت اپنا بینک اکاؤنٹ بھر سکتے ہیں لہذا ایسا کوئی بھی موقع محض اس وجہ سے ہاتھ سے نہ جانے دیں کہ آپ کی چاقو چھریاں تیز نہیں ہیں۔(مشق) مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کسی پٹھان سے اپنی تمام چاقو چھریاں ضرور تیز کروا لیں، ”مرغا“ پھانستے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وہ اذان دینے والا مرغا نہ ہو ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں!!! شادی: کامیابی کا ساتواں اور سب سے سنہری اصول ہے کسی با اثر خاندان میں شادی کرنا۔سچ بات تو یہ ہے اگر اسی ایک اصول پر ہی عمل کر لیا جائے تو باقی کے چھ اصولوں کی ضرورت نہیں رہتی تاہم یہ اتنا آسان کام نہیں لیکن فی زمانہ سب سے ”شارٹ کٹ“ اور موثرترین فارمولہ ضرور ہے۔جو لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں ان کی آخرت کا تو نہیں پتا البتہ ان کی دنیا ضرور سنور جاتی ہے۔(مشق) اونچے خاندانوں میں شادی کی درخواستیں جمع کروادیں اور اس ضمن میں چوہدری اور مراثی والے اس لطیفے کی پرواہ نہ کریں جس میں مراثی ، چوہدری کی بیٹی کا رشتہ مانگتا ہے اور پھر چوہدری کے ہاتھوں پٹنے کے بعد کہتا ہے کہ” چوہدری صاحب!پھر میں آپکی طرف سے انکار ہی سمجھوں۔“ اللہ بڑا بے نیاز ہے ، وہ کبھی کبھی مراثی کی بھی سن لیتا ہے!!

یہ مضمون روزنامہ جنگ سے لیا گیا ہےجس کے مصنف یاسر پیرزادہ ہیں

 
چیتا چالباز's Avatar
چیتا چالباز
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 155
Reply With Quote
جواب

Tags
فن, فارم, فروخت, کتابوں, پوسٹ, ویب, واشنگٹن, لڑکی, نظر, آبادی, آج, آدمی, اللہ, امیر, امریکہ, جھوٹ, خوش, خدا, زمانہ, سفر, سال, شام, عالم, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول عبداللہ حیدر ترجمہ و تفسیر 12 20-06-11 08:22 AM
چاہت کے اصول راجہ اکرام گپ شپ 28 08-10-10 12:19 AM
ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں فیصل ناصر عمومی بحث 36 08-10-09 03:03 AM
قرآن حکیم سے شفاء و برکت کے حصول کا بیان Real_Light تلاوت اور تجوید 0 05-08-08 05:52 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger