کلیانہ اسٹیٹ کی ڈائری
میاں محمد ارشد ساقی (بیوروچیف،اوکاڑہ) کی قلم سے۔
کلیانہ اسٹیٹ صوبائی حکومت کی ملکیت سات دیہات پر مشتمل علاقہ ہے۔ جو پنجاب حکومت نے وزارت دفاع کو دے دی ہے۔ وزارت دفاع فوج میں خدمات انجام دینے والوں اور دوران فرائض منصبی شہید ہونے والے افراد کے ورثاءکو فوج کے استعمال ہونے والے خچروں اور گھوڑوں کی افزائش نسل کے لےے بذریعہ جی ایچ کیو لیز پر دیتی ہے۔ پنجاب حکومت وزارت دفاع کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتی۔
دو سال قبل مقامی کاشت کاروں نے کاشت کاروں کی استحصالی اورآلاٹی کے مظالم کی روک تھام کے لےے ’انجمن مزارعین کلیانہ اسٹیٹ‘ کے نام سے تنظیم بنا لی۔ جو سات دیہات میں رہائش پذیر کاشتکاروں کے لےے ہر گاؤں میں بنیادی سہولتوں جس میں سولنگ، نالیاں،مساجد، سکول اور ڈسپنسریوں کے قیام کے لےے آلاٹیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کےلئے بنی تھی۔ بنیادی سہولتوں کی دستیابی کے لےے کاشتکاروں کے نمائندوں اور آلاٹیوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔
انجمن مزارعین کلیانہ اسٹیٹ نے سات دیہات میں اپنا نیٹ ورک شروع کیا۔ اور مزارعین کے نام پر بھتہ وصول کرنا شروع کردیا۔ لوگوں کی زمینوں پر قبضہ جات شروع کردیا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔ اس طرح اس تنظیم نے سات دیہات کے لوگو ں کا جینا دوبھر کردیا۔ جبکہ سادہ لوح مزارعین پُرامن ماحول چاہتے تھے۔
انجمن مزارعین کلیانہ اسٹیٹ کے نام پر چند افراد فنڈ کے نام پر بھتہ وصول کرتے اور جو کاشتکار یا آلاٹی بھتہ دینے سے انکار کرتے یہ شر پسند عناصر انکی زرعی فصلیں تباہ کرکے ناجائز قبضہ کرلیتے ہیں ۔ اس انتقامی کاروائیوں کو روکنے کے لےے حکومت نے 18 متعدد32/34 کی کاروائیاں کی۔ اور درجنوں افراد پر دہشت گردی، اغواءبرائے تاوان،قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہوئے۔ سات دیہات میں اس نام نہاد تنظیم کا مظبوط نیٹ ورک ،سیاسی پشت پناہی اور آپس کی ریشہ دوانیوں کی بنا پر خاص طور پر آلاٹیوں کی کمزوری سے حکومت کاروائی کرنے میں ہر بار ناکام رہی۔ کئی بار فوج، تنظیم اور آلاٹیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں سول حکومت کا کردار خاطر خواہ نہ رہا۔
کلیانہ اسٹیٹ کے دیہات کی آبادی زیادہ تر غریب محنت کش مزارعوں پر مشتمل ہے۔ جو علاقے میں امن چاہتے تھے اور نام نہاد تنظیم کی انقامی کاروائیوں سے خوف زدہ تھے۔کلیانہ اسٹیٹ پر مشتمل دیہات کے پُر امن لوگوں نے سابقہ تنظیم کی انتقامی کاروائیوں سے بچنے کے لےے کلیانہ اسٹیٹ میں ’مزدور کسان یونین‘ کے نام پر انجمن بنا لی۔ جس کا منشور علاقہ میں امن قائم کرنے کےلئےے قبضہ گروپ کے مظالم کی روک تھام کےلئےے جدوجہد شروع کردی۔ مزدورکسان گروپ کی قیادت لیبر کونسلر پیر غلام محی الدین ، ملک محمد یسین اور سجاد حیدر وغیرہ کررہے ہیں۔
مزدور کسان گروپ کی سماجی خدمات پرامن پالیسیوں اور چھوٹے طبقہ کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بناپر سابق نام نہاد یونین نے ان امن کے داعی اور مبلغوں پر قتل،دہشت گردی اور ڈکیتی کے جھوٹے مقدمات درج کروانے شروع کردےے تاکہ علاقہ میں چھوٹے کاشتکار غریب کے غریب ہی رہیں۔انکی آواز حکومتی ایوانوں تک نا پہنچ سکے۔ کلیانہ اسٹیٹ میں بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لےے اور قیام امن کے لےے کاشتکاروں کے حقوق کی جدوجہد میں مقامی ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری ندیم عباس ربیرہ، ڈی آر او میجر نعمت اللہ، ڈی پی اواوکاڑہ میاں بلال صدیق کمیانہ، مقامی ناظم سید حسنین رضا گیلانی اور مزدور کسان یونین کے رہنماءپیر غلام محی الدین، ملک محمد یسین نے اہم کردار ادا کیا اور حکومتی رٹ قائم ہوئی۔ جس کی بنا پر چودہ نومبر 2008 ءکو 30 ٹو آر اے میں مزارعین کلیانہ اسٹیٹ کے رہنماءرائے لیاقت کسمانہ اور رائے عبدالغفار کھرل نے ’امن کانفرنس‘ کا انعقاد کیا۔ امن کانفرنس کی صدارت ندیم عباس ربیرہ کھرل، ڈی پی او کاڑہ میاں بلال صدیق کمیانہ اور ریمائنٹ آفیسر ساہیوال میجر نعمت اللہ نے کی۔
امن کانفرنس میں مزارعین رہنماو¿ں سے گفت و شنید اور باہمی رضا مندی اور علاقے میں پُر امن ماحول سازگار کرنے کے لئےے میجر نعمت اللہ نے ’امن معاہدہ‘ میں کاشتکاروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرلیا۔ آئندہ پُر امن ماحول سازگار کرنے کےلئے رائے لیاقت کسمانہ اور عبد الغفار کھرل نے تنظیم کی کاروائیاں بند کرکے امن گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا۔
کلیانہ اسٹیٹ میں امن پسندوں ، انتظامیہ کی رٹ کی بنا پر امن قائم ہوگیا ہے۔ اگر اس ماحول کو کوئی شرپسند خراب کرنا چاہتا ہے تو انتظامیہ کو اس کے خلاف سخت کاروائی کرنا ہوگی۔