واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


کند سے کندن pakiez.com پر ایک کالم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-04-09, 05:22 AM   #1
کند سے کندن pakiez.com پر ایک کالم
shafresha shafresha آف لائن ہے 05-04-09, 05:22 AM

تعلیم، ماں اور ریاست کے بعد جب میں نے اسی موضوع پر شیروں کو گدھا نہ بنائیے لکھا تو بہت سے دوستوں نے اس میں سے نکتے نکالے، مگر میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ غیر ضروری مضامین کی جگہ ہم ایڈوانس کورسز کرا سکتے ہیں یہ ایڈوانس کورسز کرا کے یقینا ہم سات سو سالوں کی ترقی صرف سات سال میں طے کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے کھوئے ہوئے قافلے کو صرف چند سالوں میں پکڑ سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی آخری کڑی ‘ کند سے کندن‘ حاضر ہے غور سے پڑھیئے اور پھر اپنی رائے سے آگاہ کیجیئے۔
ساری دنیاکی طرح پاکستان میں بھی جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دو کان، دو آنکھیں، دو ہاتھ، دو پاؤں اور دنیا کے ہر بچے جتنا ہی اس کا دماغ ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ الفاظ کو معنی پہنانے اور اشاروں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو اسے دنیا کے مشکل ترین امتحان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ ابھی ایک زبان پر ایک فیصد عبور بھی حاصل نہیں کر پایا ہوتا کہ اس پر چار زبانیں حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ کتاب سے آشنا ہوتے ہی چار زبانیں اس کی نصف سے زیادہ صلاحیتوں کو خاموش کر دیتی ہیں۔ سب سے پہلے اسے مادری زبان سمجھنا پڑتی ہے کہ ساری عمر اس کا اسی فیصد ابلاغ اسی زبان میں ہوتا ہے۔ اسی زبان میں اس ستر فیصد دوست احباب اور رشتےدار اسے ملتے ہیں، وہ اسی زبان میں سوچتا اور پروگرام بناتا ہے، وہ دنیا میں کہیں چلا جائے مادری زبان اور لہجہ اس کے خون میں سرایت کر چکے ہوتے ہیں، اس کے ڈی این اے کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ مادری زبان سکھانے کے باوجود والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے قومی زبان سکھائی جائے۔ ماں بولی کے ہر لفظ اور جملے کا اسے اردو میں ترجمہ یاد رکھنا پڑتا ہے۔ مادری زبان میں وہ گالیاں نکالنا سکھتا ہے تو اردو میں وہ دوسرے کو ‘تو‘ کی جگہ ‘آپ‘ جیسے محترم الفاظ بولنا سکھتا ہے۔والدین مذہبی تعلیم کے لئے اسے کسی مولوی صاحب کے حوالے یا کسی مدرسے میں ڈالتے تو اسے تیسری زبان عربی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد سکول بھیجنے سے پہلے والدین اسے چوتھی زبان انگلش سے آشنا کرا چکے ہوتے ہیں۔ وہ اسے بڑے پیار سے بتاتے ہیں کہ ناک کو نوز، آنکھوں کو آئیز، پیشانی کو فورہیڈ، ہاتھوں کو ہینڈز، ٹانگوں کو فینگرز، منہ کو ماؤتھ، انگلیوں کو فنگرز، ہونٹوں کو لپس اور انگوٹھے کو تھمب کہتے ہیں۔ اگرچہ چھوٹی عمر کے بچے میں سکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بچے کی خداداد صلاحیتوں کو زبان کے ساتھ اس چومکھی لڑائی میں ضائع کیا جائے؟ جو زبان جتنا کم فائدہ دیتی ہے بچے کو اسے سیکھنے کے لئے اس پر اتنی زیادہ محنت کرنے پڑتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں مادری یا قومی زبان کے علاوہ اسے اور کوئی زبان نہیں سکھنا پڑتی۔ اس کا سارا ابلاغ اور تعلیم ایک ہی زبان میں ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی پچھتر فیصد دماغی قوت اور صلاحیت دیگر تعمیری اور پیداواری علوم سکھنے میں استعمال کرتا ہے۔ وہ بارہ سال کی عمر سے ہی دریافتوں، تحقیقاتوں، تجربوں اور ایجادوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، ہالینڈ، آسٹریلیا، امریکہ، کوریا، جاپان، چین، ملائشیا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، روس اور دیگر ترقی شناس ممالک میں بچوں کو ایک سے زائد زبانوں کی بھٹی سے نہیں گزارا جاتا۔ ہمارے ہاں سارے یورپ کے باشندوں کو ہی انگریز سمجھا جاتا ہے، انگلش بلا شبہ بین الاقوامی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے لیکن چند ملکوں کے سوا دنیا بھر میں کہیں انگلش نہیں بولی جاتی، وہ لوگ اپنی زبانوں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ابھی چند دن پہلے آپ نے یہ خبر پڑی یا سنی ہو گی کہ برسلز میں یورپی یونین کے ایک اجلاس میں فرانس کے صدر شیراک، وزیر خارجہ اور وزیرخزانہ اس وقت اجلاس سے واک آؤٹ کے گئے جب ان کے ایک ہم وطن نے انگریزی زبان میں تقریر شروع کر دی۔ یہ تھی ایک چھوٹی سی جھلک اپنی زبان محبت کی، ان ملکوں مقامی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو اہمیت نہیں دی جاتی، ان کے صدور اگر کسی تقریب میں بھولے سے انگلش کے چند الفاظ بول دیں تو اگلے دن ان کے خلاف ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں، اخبارات میں مستعفی ہونے کی شہ سرخیاں لگتی ہیں، بھوک ہڑتالیں کی جاتی ہیں، اداریے لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ یا اسے استعفٰی دینا پڑتا ہے یا آئندہ انگلش بولنے سے توبہ کر کے قوم سے معافی مانگنی پڑتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ فرانسیسی صدر کی ملاقات ہو، کوئی عالمی سیمینار ہو یا اقوام متحدہ کا اجلاس ہو فرانسیسی صدر‘مائی ڈیئر‘ کے بجائے ‘موسیو‘ سے اپنی تقریر شروع کرے گا اور دوسری زبان کا ایک لفظ بولے بغیر اپنا خطاب مکمل کرے گا۔ البتہ سامعین کو مترجم کی سہولت فراہم کر دی جاتی ہے۔
آپ ہالینڈ، اٹلی، کوریا، جاپان، چین، ملائشیا، سوئٹزرلینڈ اور روس کو لے لیں، کیا ادھر کے حکمرانوں نے کبھی کسی تعلیمی ادارے کا منہ نہیں دیکھا؟ کیا وہ ان پڑھ ہیں؟ کہ دنیا کے ہر فورم پر اپنی بات اپنی زبان میں ہی کرتے ہیں اور اپنی زبان کے سوا دنیا کی کسی دوسری کو درخور اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ ان ممالک کا کوئی سربراہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے تو کوئی فلسفے میں ایم فل کئے ہوئے ہے، کسی نے بزنس کی ایڈمنسٹریشن میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے تو کسی نے معاشیات میں آنرز کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے، حد تو یہ کہ لینگویج میں ماسٹر کئے ہونے کے باوجود وہ صرف اپنی زبان بول سکتے ہیں۔ دفتروں میں مقامی زبان استعمال ہوتی ہے، تمام سرکاری کاغذات مقامی زبان میں تیار کئے جاتے ہیں۔ آپ میڈیا کو ہی لے لیں ان ممالک کا ننانوے فیصد میڈیا مقامی زبان میں اپنے اخبارات، رسالے، مجلے، میگزین، اور بلیٹن جاری کرتا ہے۔ تشہیری فلمیں مقامی زبانوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ ملکی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں اشہتاری بورڈ تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہالی وڈ کو اپنی فلمیں مقامی زبانوں میں ڈبنگ کے ساتھ پیش کرنا پڑتی ہیں۔ یہ ممالک انگلش کو رابطے کی زبان کے طور پر ضرور استعمال کرتے ہیں لیکن وہ بھی صرف مترجم کے ذریعے۔ ان ممالک نے اپنے بچوں کو زبانوں کے جنجال سے بچا کر ان کی صلاحیتوں، دماغی استعداد اور ذہنی توانائیوں کو مثبت، تعمیری اور ایجادی سرگرمیوں کی بھٹی میں ڈال دیا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا بچہ کندن بن کر نکلا۔ ان پر ڈی این اے نے اپنے اسرار عیاں کر دئیے۔ ان پر کلوننگ کے بھید ظاہر ہو گئے۔ لوہا ان کے ہاتھ میں موم ہو کر رہ گیا۔ گیسوں کے آوارہ مالیکیولز اپنی مرضی سے حرکت کرنے پر قادر نہ رہے۔سمندر ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ چاند نے ان کے قدموں کو بوسے لئے۔ اب مریخ ان کے پاؤں چومنے کے لئے بےقرار ہے۔ زمین اپنے خزانے اور فضاء اپنے راز ان پر مسلسل کھول رہی ہے۔ مگر ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ ہم نے بچوں کو چار چار زبانیں تو پڑھا دیں لیکن ان کے دماغ خاموش کرا دئیے۔ ہم نے ان کے ہاتھوں میں کند تلواریں تھما کر بی ففٹی ٹو کے مقابلے میں اتار دیا۔ جہاں تک ٹیلنٹ کی بات ہے تو پاکستانی بچے دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں لیکن اس کے باوجود اے لیول میں نوایز حاصل کر کے دنیا بھر میں ریکارڈ قائم کرنے والے بچے کے بارے میں پورے وثوق سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ کل وہ کچھ ایجاد بھی کرے گا۔ وہ سینہ قدرت سے کوئی راز نکائے لائے گا۔ مہینے بھر کا راشن ایک دن میں ہڑپ کرنے والوں کو باقی کے انتیس دن بھوکا ہی رہنا پڑتا ہے۔ وہ گاڑیاں جو گول چکروں کے گرد گھوم کر ہی اپنا ایندھن جلا ڈالیں کبھی منزلوں پر نہیں پہنچا کرتی، بچوں کو کند سے کندن بنانے کے لئے صرف ‘ن‘ کا اضافہ ہی کافی نہیں اس کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو زبانوں کے ہاتھوں ذبح ہونے سے بچانا ہو گا۔ایک خبر ۔ جاپان کی اوساکا یونیورسٹی آف فارن سٹیڈیز کے شعبہ جنوبی ایشیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سویما نے کہا ہے کہ اردو تاریخی اور ثقافتی زبان ہے اسے انگریزی زبان کی دستبرد سے بچانا جائے، اس کے لئے شعوری کوشش ہونا چاہیے۔ جاپان میں حکومت نے اپنی زبان کو انگریزی اور دوسری بڑی ثقافتوں کی یلغار سے بچانے کے لئے یہ ہدایت کی ہے کہ دفاتر میں جتنے انگریزی کے الفاظ استعمال ہو رہے ہیں ان کا جاپانی ترجمہ کیا جائے اور آئندہ ان ترجمہ شدہ الفاظ کا استعمال کیا جائے۔ یوینسف کی رپورٹ میں اردو کو دنیا کی تیسری بڑی زبان قرار دیا گیا اگر اتنی بڑی زبان کو بچانے کی شعوری کوشش نہ کی گئی تو یہ بدقسمتی ہو گی۔

مندجہ بالا مضمون اچھا لگا تو سوچا آپ سے شئیر کروں، اگرچہ میں اس کے مندجات سے کُلی طور پر متفق نہیں‌ہوں۔

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 594
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-04-09), ایس اے نقوی (07-05-09), ام غزل (05-04-09), ابرارحسین (05-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 05-04-09, 09:14 AM   #2
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی عمدہ اور بہترین پوسٹ ! اور ہم لوگ اپنے بچوں کو 3 سال کی عمر سے ہی انگلش رٹانا شروع کردیتے ہیں کہ کمپیٹشن ہبت زیادہ ہے ہمارا بچہ کہیں پیچھے نہ رہ جائے ،پھر چاہے وہ زندگی کی دوڑ میں ہی ‌پیچھے کیوں نہ رہ جائے ، جب تک ہمارے بچے ابُو کو ڈیڈ اور امی کو مام نہیں کہتے ہمیں لگتا ہی نہیں‌کہ وہ بھی دنیا کی دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں۔
ہم اور ہماری سوچ ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 05-04-09, 10:12 AM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ہے بہت ہی اچھی
تبصرہ کرنے کےلئے الفاظ‌کی کمی ہے جس کےلئے معزرت خواہ ہوں کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تعریف کی جاسکتی ہے مگر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا آپ کی تحریر پر میں تعریف کر سکتا ہوں مگر تبصرہ نہیں کیونکہ تبصرہ کرنے کےلئے الفاظ کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور وہ الفاظ میرے پاس نہیں ہیں
بہت ہی اچھی تحریر ہے اور غور طلب ہے علاوہ ازیں سمجھنے والی تحریر ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-04-09), ام غزل (05-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 05-04-09, 08:06 PM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی تحریر ہے بہت ہی اچھی
تبصرہ کرنے کےلئے الفاظ‌کی کمی ہے جس کےلئے معزرت خواہ ہوں کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تعریف کی جاسکتی ہے مگر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا آپ کی تحریر پر میں تعریف کر سکتا ہوں مگر تبصرہ نہیں کیونکہ تبصرہ کرنے کےلئے الفاظ کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور وہ الفاظ میرے پاس نہیں ہیں
بہت ہی اچھی تحریر ہے اور غور طلب ہے علاوہ ازیں سمجھنے والی تحریر ہے
شاہ صاحب یہ میری تحریر نہیں ہے۔
آپ نے بھی میری طرح اس تحریر کو پسند کیا اس بات کا شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (07-05-09), ام غزل (06-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 05-04-09, 10:33 PM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
شاہ صاحب یہ میری تحریر نہیں ہے۔
آپ نے بھی میری طرح اس تحریر کو پسند کیا اس بات کا شکریہ!
معافی چاہتا ہوں جناب غلطی ہو گی پر جس کی بھی تحریر ہے کمال کی ہے بہت ہی اچھی
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-04-09, 10:52 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے جتنا بوجھ ہم اپنے بچوں پر تعلیم کے نام پر لاد دیتے ہیں
اس کے بعد ان میں بوجھ اٹھانے کی صلاحیت " لفظ گدھا استعمال کرنے میں کچھ لوگوں کی ڈانٹ کھانے کا ڈر تھا " خوب پروان چڑھتی ہے




ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (06-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 06-04-09, 12:09 AM   #7
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ویسے جتنا بوجھ ہم اپنے بچوں پر تعلیم کے نام پر لاد دیتے ہیں
اس کے بعد ان میں بوجھ اٹھانے کی صلاحیت " لفظ گدھا استعمال کرنے میں کچھ لوگوں کی ڈانٹ کھانے کا ڈر تھا " خوب پروان چڑھتی ہے

ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

مجھے 17 سال ہوگئے ہیں اس نظام تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ میرے خیال میں‌آنے والے 20 سالوں میں بھی اس میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکے جو لوگ اس سلسلے میں کچھ کرسکتے ہیں‌ وہ صاحب اختیار نہیں‌اور جو صاحب اختیار ہیں اُنہیں اس چیز کا سینس نہیں۔

دفتری ماحول میں‌جب "بڑے صاحب" فائل کو پڑھ لیتے ہیں تو اُس پر "Seen" لکھ دیا جاتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے ایک نئے وزیر کو جب اُس کے اسسٹنٹ نے ایک فائل دی تو اُس نے پوچھا کے مجھے کیا کرنا ہے؟ اسسٹنٹ نے کہا "سر میں نے فائل پڑھ لی ہے بس آپ Seen لکھ کر سائن کردیں۔"
درسرے دن صبح جب اسسٹنٹ صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کے فائل صاحب کی میز پر پڑی ہے اور اُس پر بڑے بڑے حروف سے اُردو میں "سین" لکھا ہوا تھا۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-04-09), منتظمین (06-04-09), ایس اے نقوی (07-05-09), ام غزل (06-04-09)
پرانا 06-04-09, 12:19 AM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بڑے بڑے حروف سے اُردو میں "سین" لکھا ہوا تھا۔


کبھی کبھی تمھاری پوسٹس پڑھ کے میرے ذہن میں monster.com کا وہ ایڈ گھومنے لگتا ہے جس میں کرکٹ کا بیٹ پکڑے ایک شخص کپڑے دھو رہا ہوتا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (06-04-09), ایس اے نقوی (07-05-09), ام غزل (06-04-09)
پرانا 06-04-09, 01:29 AM   #9
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارے تو وزیرٍ تعلیم نے بھی میٹرک سے پہلے بی اے کیا ہوتا ہے ،
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (06-04-09), ایس اے نقوی (07-05-09)
پرانا 06-04-09, 07:51 AM   #10
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں


کبھی کبھی تمھاری پوسٹس پڑھ کے میرے ذہن میں monster.com کا وہ ایڈ گھومنے لگتا ہے جس میں کرکٹ کا بیٹ پکڑے ایک شخص کپڑے دھو رہا ہوتا ہے
تمھارے منہ میں گھی شکر میرے بھائی،
مجھے بھی یہ خوش فہمی ہے کے میں بھی اپنے روحانی اُستاد "قبلہ جون ایلیاء" کی طرح اس معاشرے میں‌"اَن فِٹ" ہوں
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-04-09, 08:07 AM   #11
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قبلہ قدرت اللہ شہاب نے غالباً "شہاب نامے" میں‌کہیں‌لکھا ہے کے" ایک دور ایسا بھی اس ملک میں آیا کے ایک مرتبہ ایوان صدر میں ‌"وزارتوں" کی بندربانٹ ہورہی تھی اور وزارا اپنے اپنے عہدرے/وزارتیں لئیے خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے، آخر میں‌جب سب جا چکے تو اچانک یہ انکشاف ہوا کے "وزارتِ تعلیم" کا قلمدان تو کسی نے لیا ہی نہیں (یہ اُس وقت کی بات ہے جب یہ وزارت منافع بخش نہیں‌سمجھی جاتی تھی) فورا یہ کسی ہرکارے کو دوڑایا گیا کے دیکھو کوئی صاحب موجود ہیں‌کے نہیں؟ معلوم ہوا کے ایک وزیر صاحب کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا اس لیئے وہ نیچے موجود ہیں اور ابھی گاڑی ہی میں‌تشریف رکھتے ہیں۔ حکم ہوا کے اُنھیں‌فوراً بُلایا جائے، چناچہ اُنھیں بلوا کر اُن سے درخواست کی گئی کے وہ "وزارتِ تعلیم" کا اضافی چارج بھی سنبھال لیں۔ کافی تگ و دو کے بعد وہ صاحب راضی ہوئے تو ارباب اختیار نے سکون کا سانس لیا کے اب مملکت کا کاروبار ٹھیک چلے گا۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-04-09), ام غزل (06-04-09), راجہ اکرام (07-04-09)
پرانا 06-04-09, 02:28 PM   #12
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غالبا نہیں یقینا شہاب نامے میں لکھا ہے

اقتباس:
اپنے روحانی اُستاد "قبلہ جون ایلیاء"
شکر کرو یہ جملہ کسی کی نظر سے نہیں گذرا ابھی تک
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (06-04-09)
پرانا 06-04-09, 03:40 PM   #13
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
غالبا نہیں یقینا شہاب نامے میں لکھا ہے
نشاندھی کا شکریہ!
میں اکثر باتیں اپنے حافظے کی بنیاد پر کہتا/لکھتا ہوں۔ میرے اللہ کے رحمت سے میرا ذھن ہی میرا سرمایہ ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
شکر کرو یہ جملہ کسی کی نظر سے نہیں گذرا ابھی تک
نہیں یار "تاڑنے والے" قیامت کی نطر رکھتے ہیں۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-04-09), ام غزل (06-04-09)
پرانا 06-04-09, 04:03 PM   #14
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,501
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نظر تو قیامت کی رکھتے ہیں مگر آپ کی کڑی نظروں سے بھی ڈرتے ہیں
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-04-09), فیصل ناصر (06-04-09)
پرانا 06-04-09, 06:41 PM   #15
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا بات ہے ہمارا ٹرائیکا ٹھیک ٹھاک جا رہا ہے؟
نا کوئی جھگڑا نا فساد، اللہ حاسدوں کی نظر سے بچائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (06-04-09)
جواب

Tags
color, com, فورم, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, نظر, مکمل, موم, ماں, محبت, اقوام متحدہ, انگلش, انگریزی زبان, امتحان, اردو, بچوں, تعلیم, جون ایلیاء, خون, شخص, صلاحیت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger