| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 717
|
||||
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
ہممم بھائی جی آپ نے تو سوالات کی بوچھاڑ کردی ہے خیر میںاپنے تئیں کچھ سوالات کا جواب دینا چاہوں گا اور میں سوالات کی ترتیب بھی تبدیل کروں گا 1۔محبت کیا ہوتی ہے؟ محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ محبت کئی قسموں کی ہو سکتی ہے۔ یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہے اور کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی ہو سکتی ہے اور شدید بھی۔ شدید حالت جان دے دینے اور لے لینے کی حد تک ہو سکتی ہے۔ اسے پیار یا عشق بھی کہتے ہیں۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہبی پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی لمحے کسی بھی انسان خواہ وہ بوڑھا ہو، جوان ہو یا کہ بچہ ہو اس کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے ۔ محبت اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت ہے اور یہ ہرکسی کو میسر نہیںہوتی ۔ اور یہ کسی کو کسی سے بھی ہوسکتی ہے کسی کو اپنے والدین سے ، کسی کو اپنے بہن بھائیوں سے کسی کو دوستوں سے تو کسی کو اپنے بیوی بچوں سے محبت ہوتی ہے۔ 3۔عقیدت کیا ہوتی ہے؟ عقیدت محبت کی وہ منزل ہے جہاں انسان کا من کرتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کو ہر وقت دیکھتا رہے اس کی باتیں سنتا رہے ۔ 2۔اطاعت کیا ہوتی ہےِ؟ اطاعت سے مراد اپنے آپ کو کسی کو سونپ دینا اور جیسے وہ کہے ویسے ہی کرنا اور اس کی ہربات پہ فوری عمل کرنا اطاعت کہلاتا ہے ۔ کیا محبت اور اطاعت اور عقیدت ایک ہی چیز کے نام ہیں یا ان کا لازم و ملزوم ہونا ضروری نہیں؟ میرے خیال سے تو یہ تینوں ایک ہیں اور ان کا لازم و ملزوم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں خود بخود اطاعت اور عقیدت آجاتی ہے ۔ کیا ہم کسی کی محبت میں کسی دوسرے کو قتل کر سکتے ہیں جبکہ اطاعت نہ ہو؟ بھائی میرے کسی کو ناحق قتل کرنا ویسے ہی گناہ اور جرم ہے ۔ کیا ہم عقیدت رکھتے ہوئے محبت نہیں بھی رکھ سکتے؟ یا عقیدت کرتے ہوئے اطاعت نہ کریں؟ جہاں محبت ہوگی وہاں عقیدت ہوگی اور جہاں عقیدت ہوگی وہاں محبت ہوگی۔ اور جہاں عقیدت ہوگی وہاں ہم خودبخود اطاعت بھی کریں گے۔ ا ہم اطاعت کیے بغیر بھی محبت کر سکتے ہیں؟ میرے خیال سے نہیں عشق اور محبت میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب بعد میں محبت کیسے کریں؟ محبت کرنے کا کوئی خاص طریقہ یا گُر نہیں ہوتا یہ کسی سے بھی کسی بھی وقت خودبخود ہوجاتی ہے۔ کسی کے عظیم احسانات اور بڑائیوں کے باوجود اس سے محبت نہ محسوس ہو تو کیسے اس سے محبت کی جائےِ؟ یہ لازمی بات نہیں ہے کہ کسی کے احسانات اور بڑائیوں کی وجہ سے اس سے محبت کی جائے محبت ہوتی کیوں نہیںِ؟ اس کا جواب آپ کو خود معلوم ہونا چاہئیے کہ آپ کو محبت کیوں نہیںہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی کمی بیشی ہوگئی ہوتو مجھ کم علم کو معاف کیجئے گا شکریہ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 2
کمائي: 203
شکریہ: 3
ایک مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اف اتنے سارے سوالات
وہ بھی ایک ساتھ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
یہ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس بندے کو بھوک لگی ہو وہ ہی اس کا ٹھیک جواب دے سکتاہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان تمام الفاظ کا منبع اللہ کی ذات ہے۔
محبت بھی اسی سے اطاعت بھی اسی کی اور عقیدت بھی اسی سے۔اگر یہ خیال پختہ ہو تو باقی ہر بات بے معنی ہے۔نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے محبت عقیدت اور اطاعت اسلئے کہ اللہ کا حکم ہے اور اس کے بغیر ایمان ہی نامکمل ہے۔بندوں سے محبت اسلئے کہ حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم ہے۔ عقیدت کی بنیاد اللہ کی ذات ہو تو بہتر لیکن اگر کسی سے اسکی دینی علم اور دینداری کی بنیاد پر عقیدت ہو تو ٹھیک۔عشق کا محور تو صرف اللہ کی ذات ہی ہو سکتی ہے مگر محبت تو انسانوں سے بھی اجازت ہے اگر جائز ہو تو۔اب سوال یہ کہ محبت کیسے کریں؟یامحبت ہوتی کیوں نہیںِ؟تو یہ کرنے کی چیز نہیں۔یہ تو جذبہ ہے۔اگر اللہ سے محبت ہو تو اسکے بندوں سے خود بخود ہی ہو جاتی ہے۔ اور یہ بات کہ کسی کے عظیم احسانات اور بڑائیوں کے باوجود اس سے محبت نہ محسوس ہو تو کیسے اس سے محبت کی جائےِ؟تو منحصر ہے کہ اس احسان اور بڑائی کس نوعیت کی ہے۔اگر یہ دنیاوی فائدہ کا احسان اور کرسی یا حیثیت کی بڑائی ہے تو اس سے محبت کیا ضروری ہے۔ لیکن یہ احسان لینے والے کی سوچ پر ہے کہ یہ احسان اسکیلئے کتنا اہم تھا۔البتہ مذہبی نقطہءنظر سے"اللہ کے نزدیک برتری کی بنیاد صرف تقویٰ ہے" اب آپکی یہ بات کہ کسی کے احسان کو کیسے مانا جائے؟ اسکے احسان کو تسلیم بجا لانے کے لیے کیسے عمل کیا جائے کہ اسکو معلوم ہو جائے کہ ہم اس کا احسان تسلیم کرتے ہیں؟ تو آپ کا رویہ اسکا گواہ ہوتا ہے۔اللہ کا حکم ہے کہ احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے لیکن بات پھر وہی ہے کہ احسان کی نوعیت کیا ہے۔اگر یہ اللہ کی پکڑ میں آنے والا احسان ہے تو آپ اس سے بری ہیں۔ آپ جو کہتے ہیں کہ: مجھے محبت نہیں ہوتی۔ مجھے عقیدت نہیں ہوتی۔ مجھ سے اطاعت نہیں ہوتی۔ تو ان سب کا منبع اللہ کی ذات کو بنائیےپھر دیکھیں کیسے سب کچھ ہوتا ہے۔ محبت بھی ہوگی اللہ اور اسکے بندوں سے، عقیدت بھی ہو گیاللہ اور اسکے نیک لوگوں سے اور اللہ کی اطاعت بھی ہوگی اور بندوں کی اطاعت صرف اللہ کی بنائی گئی حدود میں رہنے کیلئے ۔ پھر آپ سمجھ سکیں گے کہ کسی انسان کی جان اللہ کے حکم کے برخلاف لے لینے کی کتنی سخت پکڑ ہے۔ جسے اللہ نے زندگی عطا کی اگر کوئی انسان کسی انسان کی محبت و اطاعت کو بنیاد بنا کر اس سے اسکی جان چھینتا ہے تو یہ قابل توبہ جرم نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کسی انسان کی محبت عقیدت و اطاعت کسی غیر شرعی کام پر مجبور کرتی ہے تو یہ محبت و اطاعت حرام ہے جو اللہ کی محبت و اطاعت کے برعکس لے جائے۔ آپ بہت محبت سے ایک پودا لگائیں اسکی آبیاری کریں اسے پالیں اور جب پھول نکلیں تو کوئی آکر اسے نوچ ڈالے تو آپکا ردعمل کیا ہوگا۔ اپنی بنائی گئی مخلوق کی روح نوچ کر پھینک دینے پر اللہ کا عتاب ہمارے رد عمل سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔ اللہ سے محبت کیجئے،اسکے بندوں سے محبت ہو جائے گی۔پھر آپکو اپنے سب سوالوں کا جواب مل جائے گا بھائی!
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ بھائیو مدد کرنے کا۔ لیکن میری تشنگی ختم نہی ہوتی۔
جب کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے تو وہ دن رات اس کے خیالوں میں گم رہتا ہے۔ محبت کرنے والے کوشش کرتے ہیں کہ ایسی کوئی بات،ایسا کوئی کام نہ کریں جو اس کے محبت کرنے والے کو نا پسند ہو۔چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھا جاتا ہے۔جدائی کا خیال دل کو لرزا دیتا ہے۔ ایسی محبت کی وجہ سے ایک نئی امنگ،نئی ترنگ، جینے کا نیا حوصلہ ملتا ہے۔مستقبل کو حاصل کرنے کی جدو جہد،اپنے محبوب کی نظروں میں اچھا بننے کی جستجو، اپنے محبوب کے آرام و سکون کا خیال اور اسکو تکلیف نہ پہنچنے دینے کا عہد،زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ ایک دن میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ شخصیت جس کیوجہ سے مجھے وہ چانس ملا کہ شاید میں اللہ کی رحمت کا مستحق ہو جاوں،جنت کا طلبگار ہو جاوں،جہنم سے نجات پا جاوں۔ وہ شخصیت کہ جس نے مجھ کو حقیقی زندگی کے رخ سے آشنا کیا۔ میں اس کے بارے میں دن میں تو کیا کئی کئی دن تک نہیں سوچتا۔ کبھی بھولے سے ذہن میں نام آ بھی گیا تو فوراََ کسی اور سوچ میں مگن ہو گئے کیا وجہ ہے کہ ان سے مجھے محبت نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ان سے عقیدت رکھنے کے باوجود میں ان سے محبت کے وہ جزبات محسوس نہیں کرتا کہ جس کی وجہ سے اویس قرنی نے اپنے دانت توڑ لیے تھے؟ کیا وجہ ہے کہ میں ان کے لیے اپنے دل میں اتنی سی بھی جگہ نہیں پاتا کہ جتنی ان صحابی کے دل میں تھی کہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے چکر میں اپنے دانت تڑوا لیے تھے؟ کیا وجہ ہے کہ میں انے احسانات کا بدلہ ۔۔۔برائی کی صورت میں دیتا ہوں؟ کیا محض انکے کہنے پر نماز روزہ کر لینا ان سے محبت کا کافی ثبوت ہے؟ میں ان ژخصیت کے لیے آخر وہ جذبات محسوس کیوں نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ جو میرے دل میں ہونے چاہیں؟ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے نبئی پاک سے محبت کیوں محسوس نہیں ہوتی؟ اللہ سے محبیت کیوں محسوس نہیں ہوتی؟ جبکہ ہر غرض اسی سے مانگتا ہوں؟
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ام طلحہ (06-07-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,270
شکریہ: 5,214
5,044 مراسلہ میں 11,477 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک محبت ہوتی ہے جسمانی اور ایک محبت ہوتی ہے روحانی
جسمانی جو ہوتی ہے وہ شیطان کی اور روحانی اسکے تو کیا کہنے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدعدنان (04-07-09) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان صاحب
آپ نے اپنا دل کھو ل کے رکھ دیا ہے۔ ہر ممبر اپنے اپنے علم کے مطا بق آپ کو مطمئن کر نے کی کو شش کی ہے۔ جزاک اللہ میں ایک کم علم شخص ہوں۔ اپنی سمجھ کے مطا بق چند الفا ظ لکھوں ۔ میر ے ایک لفظ سے بھی کسی کا بھلا ہو گیا تو میرے لئے کا فی ہو گا۔ محبت انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ انسان گوشت پوست کے جسم کو نہیں کہتے۔ یہ روح ہے ۔ جو جسم کے ذریعے اظہا ر کرتی ہے۔ جب روح بیما ر ہوتی ہے ۔ بے سکون ہوتی ہے تو جسم کے ذریعے اسکا اظہار کرتی ہے۔ روح ایک پا کیزہ چیز ہے۔ لہذا پا کیزہ جسم میں خوش رہتی ہے۔ جسم تب پا کیزہ ہو تا جب سو چ پا کیزہ ہو۔ ہم اپنے دنیا وی کا موں جھوٹ، دھوکہ کر تے ہیں تو اسکے پیچھے ہما ری نا پا ک سو چ ہوتی ہے۔ جب ہم غلط کا م کر تے ہیں تو ہما را ذہن غلیظ ہو جا تا ہے۔ اور جب ذہن غلیظ ہو جا ئے تو روح آلودہ ہو جا تی ہے۔ ایک پاکیزہ اور صاف ستھری زندگی گذارنے والے شخص کی روح پا کیزہ رہتی ہے۔ ایک پا کیزہ روح محبت کر نے والی ہو تی ہے۔ اپنے خالق سے ۔ اپنے خا لق کی ہر تخلیق سے۔ محببت بلا تفریق مذہب ، جنس اور رنگ و نسل کے۔ محبت خدا کے رنگو ں میں سے ایک رنگ ہے۔ اور بلا شبہ اللہ کا رنگ ہی سب سے بڑہ کر ہے۔ عقیدت اور عشق محبت سے آگے کے جذبے ہیں ۔ جہا ں صر ف محبوب کا جلوۃ ہر شے میں نظر آتا ہے۔ مگر جو محبت کسی فرد واحد تک محدود ہو جا ئے وہ محبت نہیں ہوس ہے۔ جو محببت کسی دوسرے کو قتل پر آما دہ کردے۔ وہ محبت نہیں ہوس ہے۔ محبت اللہ کا رنگ ہے۔ ہوس شیطان کا رنگ ہے۔ محبت تو بے لوث ہوتی ہے۔ کسی صلے کی خا طر نہیں۔ جو محبت آپ کو کسی لڑکی سے ہوتی ہے اور دوسروں سے نفرت سکھا تی ہے۔ والدین کی نا فرما نی کیطرف لیجا تی ہے۔ وہ مصنوعی جژبہ ہے اور ہوس کے قریب ہے۔ عشق درحقیقت محبت کی اگلی سٹیج ہے۔ جہاں محب اپنی ذات کی نفی کر کے محبوب میں گم ہو جا تا ہے۔ عشق یا تو اللہ سے کیا جا تا ہے یا اسکے رسول سے۔ با قی فلمی عشق ہوس کی ہی شکل ہیں۔ اور شیطا نی رنگ ہیں۔ تا ہم دیکھا گیا ہے۔ کہ کچھ لوگ جب اس رنگ کو اختیا ر کرتے ہیں تو اللہ کی عنا ئت سے ، انکی ہوس محبت میں بدل جا تی ہے۔ لیکن ایسی مثا لیں کم ہی ہیں۔ کبھی کبھی |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کی روح بے چین ہے۔
آپ اپنی تنہا ئی میں اللہ کو یا د کریں ۔ با وضو ہو کے۔ رات کی تنیا ئی ہو تو اور بہتر ہے۔ مجھے یقین آپ بد ل جا ئیں گے۔ |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ام طلحہ (06-07-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ چا ہیں تو مجھ سے بذریعہ ای میل راطہ کریں۔
میں اس سلسلے آپ کو مزید مطمئن کر نے کی کو شش کر وں۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پھول, پاک, قدم, قرآن, لڑکی, نفرت, نماز, نظر, ماں, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اردو, بھائی, بچوں, جواب, جرم, حکم, دل, رشتے, سیر, شخص, عبادت, عدنان, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|