| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 282
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,136
کمائي: 193,133
شکریہ: 9,966
7,889 مراسلہ میں 16,033 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی شریف دہشت گرد ہو گا جو اپنا پاسپورٹ اور NIC جیب میں رکھ کر دہشت مچارہا ہو گا
|
|
|
|
| J.S کا شکریہ ادا کیا گیا | بھائی (02-12-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا دہشت گرد اپنا اسلحہ اور گولہ بارود ساتھ لے کر آئے تھے یا انہیں مقامی طور پر یہ سامان فراہم کیا گیا۔اگر تمام دہشت گرد اجنبی تھے تو انہیں شہری اہداف تک کس نے پہنچایا۔ کیا یہ واردات سے کچھ دن پہلے ممبئی میں داخل ہوچکے تھے تا کہ آپریشن کے مقامات سے اچھی طرح واقف ہوسکیں یا مقامی اداروں، گروہوں یا اہداف کے اندر کام کرنے والے کچھ لوگ انہیں ہر پیش رفت سے مطلع کرتے رہے۔ بالخصوص جن فائیو سٹار ہوٹلوں میں وہ اسلحے سمیت گھسنے میں کامیاب ہوئے، کیا وہاں سیکورٹی کے انتظامات کی کمزوریوں سے وہ واقف تھے یا کسی واقفِ حال نے ان کی مدد و رہنمائی کی۔
آپریشن کے پہلے ہی مرحلے میں جن تین اعلی پولیس افسروں کو مارا گیا کیا یہ اتفاقاً مارے گئے یا اجنبی دہشت گرد انکی شکلوں اور نقل و حرکت سے بخوبی واقف تھے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ان مارے جانے والے افسروں میں ریاست مہاراشٹر کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے بھی شامل تھے جو مالیگاؤں بم دھماکوں کی تحقیقات کر رہے تھے اور جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (02-12-08), Haya 786 (04-12-08), J.S (02-12-08), چیتا چالباز (02-12-08), ابو عمار (04-12-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
کمائي: 15,662
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں میرے صحن سے رستہ بنا لیا بھولے بادشاہ یہ سب پلانگ ہے کیونکہ ہم تو قرضوں کے حصول اور اپنے آقائوں کے احسانات تلے دبے ہیں اس لیے نہ بول سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کتنے سال ھو گئے روتے ھوئے اب لوگوں کے آنسو بھی خشک ھوگئے کاش حکمران بھوکے رہ سکتے یوں خوداری نا بیچتے ۔ پاکستان کے ایک ھاتھ میں ایٹم بم ھے ایک ھاتھ میں کشکول ۔ ایک ایٹمی طاقت ھوتے ھوئے بھی کٹ پتلی بنایا ھوا ھے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, لوگ, ممکن, آپریشن, ایٹم بم, اجنبی, جواب, حال, خلاف, سال, شور, صحن |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|