واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-11-08, 11:13 PM   #1
ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں
شکیل احمد شکیل احمد آف لائن ہے 12-11-08, 11:13 PM

وہ ایک سفید ریش بزرگ آدمی تھے جن کا مثل اس کے بعد میں نے نہیں دیکھا۔ انتہاء درجے کے سچے اور انتہاء درجے کے دیانتدار۔ دو دہائیاں قبل سیمنٹ کی قلت انتہاء کو پہنچ گئی تھی۔ کسی حکومتی ادارے نے نہ جانے کیسے سیمنٹ کی تقسیم کی ذمے داری ان کے حوالے کر دی۔ انہی دنوں ان کی بیٹی کا مکان بن رہا تھا۔ داماد اور بیٹی کے بھرپور اصرار کے باوجود وہ انہیں دو بوری سے زیادہ سیمنٹ دینے پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ ان کا حصہ اتنا ہی بنتا تھا۔ ان کے بدترین مخالفین کو بھی کبھی یہ جرات نہ ہوئی تھی کہ ان کی کسی بات کو جھوٹا کہیں۔
اللہ کی طرف سے آزمائش ہوئی۔ حاسدین نے سرکار کے کچھ کارندوں کے ساتھ ساز باز کر کے ان کے مکان کا ایک حصہ یہ کہہ کر گرا دیا کہ انہوں نے وہ سرکاری زمین پر تعمیر کر رکھا تھا اور یہ کہ اپنے گھر کے ساتھ گزرنے والی گلی کا اچھا خاصا رقبہ انہوں نے اپنے مکان میں شامل کر لیا تھا۔ اللہ کے اس بندے نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ساٹھ کی دہائی تھی۔ دس ہزار روپے ہرجانے کا دعوٰی کیا۔ ایک سال گزرا، دو سال گزرے، پانچ، دس،پندرہ، بیس سال بیت گئے۔ کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ پنجاب کا صوبائی چیف جسٹس ان کا شاگرد تھا، ایک دفعہ اپنے استاد محترم سے ملا تو ان کی عزت افزائی کے لیے کرسی چھوڑ کر برابر میں آ کر بیٹھ گیا لیکن اس مردِ درویش نے رشتے داروں کے اصرار کے باوجود اپنے مقدمے کی سفارش کے لیے ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ پچیس سال گزرے پھر تیس سال گزر گئے۔
دنیا کی عدالت نے کوئی فیصلہ نہ دیا لیکن اللہ کی عدالت کام کرتی رہی۔ مکان گرانے والوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ آج اس علاقے میں کوئی انہیں جانتا بھی نہیں۔ تیس سال بعد مقدمے کی پیروی کرنے والا حکومتی وکیل فوت ہو گیا۔ اس کے جانشین بیٹے نے جب اس مقدمے کی فائل کا اپنے طور پر مطالعہ کیا تو دوڑا دوڑا اس مردِ آہن کے گھر چلا گیا اور پکار اٹھا کہ "آپ پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، میں اس کی پیروی ہرگز نہیں کروں گا"۔ اگلی پیشی پر اس نے جج کو بتایا کہ "جج صاحب یہ مقدمہ آپ کی عدالت اور آپ کی سرکاری رہائش سے محض آدھ کلو میٹر فاصلہ کی زمین کا ہے۔ آپ وہاں چل کر دیکھ لیجیے کہ سب مکان ایک سیدھ میں بنے ہیں اور کسی نے سرکاری زمین یا گلی پر قبضہ نہیں کیا"۔ چند دن بعد جج صاحب آئے۔ ایک دو آدمیوں نے فیتے سے پیمائشیں لیں۔ آس پاس کے گھروں سے زمین کے کاغذات کی کاپیاں حاصل کیں اور تیس منٹ میں وہ مقدمہ ختم ہو گیا جس کے فیصلے کا انتظار تیس سال سے کیا جا رہا تھا۔
لوگ اس مردِ درویش کے پاس آئے اور بولے "آپ رشوت دے دیتے یا سفارش کرا لیتے تو یہ معاملہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا اور آپ اپنی بوڑھی ہڈیوں کے ساتھ عدالتوں کی پیشیاں بھگتنے سے بچ جاتے"۔ ان کے چہرے پر معصوم سی مسکراہٹ آئی اور گویا ہوئے "تو پھر ان میں اور مجھ میں کیا فرق باقی رہ جاتا"؟
آخری پیشی میں عدالت نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے ریمارکس لکھے کہ اگر مدعی دس ہزار روپیہ ہرجانہ لینا چاہتا ہے تو اسے ہدایت کی جاتی ہے کہ اس کے لیے ہماری عدالت میں‌ ایک دوسری درخواست داخل کرے۔پہاڑوں جیسا حوصلہ رکھنے والا اسی سالہ بزرگ تڑپ اٹھا اور بولا "نہیں، نہیں، میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میرے ضمیر پر کوئی بوچھ نہیں رہا اور دنیا کو بھی پتہ چل گیا کہ مجھ پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ رہ گیا ہرجانے کا معاملہ تو میں آپ کے دوسرے فیصلے کا انتظار کرنے کے لیے شاید مزید تیس سال زندہ نہ رہ سکوں"۔
یہ ہمارے محلے کا واقعہ ہے اور ہمارے عدالتی نظام کی ایک جھلک ہے۔

شکیل احمد
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
شکریہ: 18
21 مراسلہ میں 46 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 297
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شکیل احمد کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (13-11-08), Atia jamali (12-11-08), ابو عمار (13-11-08), ابن جلال (13-11-08)
پرانا 13-11-08, 12:00 AM   #2
Senior Member
 
Atia jamali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,776
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 772 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں

اس شخص كى استقامت رشك آتا ہے
Atia jamali آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Atia jamali کا شکریہ ادا کیا
ابن جلال (13-11-08), شکیل احمد (13-11-08)
پرانا 13-11-08, 12:09 AM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
کمائي: 568
شکریہ: 18
21 مراسلہ میں 46 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں

عطیہ صاحبہ۔ واقعی آپ نے ٹھیک کہا۔ ان کا مثیل میں نے پھر نہیں دیکھا۔ اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ‌ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ اپنے بندوں کے احوال سے اصل میں تو وہی واقف ہے ہم تو اسی کی گواہی دیتے ہیں جو ہم نے دیکھا۔
شکیل احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-11-08, 12:45 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 37,989
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,134 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں

ایسے لوگ اب ناپید ھو گئے اب ایک آدمی سے لے کر اعلیٰ عہدے والوں کو دیکھ لیں جس کا داؤ چلتا ھے وہ چلاتا ھے ۔ ایک بار میں نے اپنے ابو سے پوچھا تھا رشوت کیا ھوتی ھے تو انھوں نے کہا کوئ بھی ناجائز کام پیسے دے کر کروانا اب رشوت لے کر لوگ ناجائز کام ھی نہیں کرواتے بلکہ جائز کام بھی بنا رشوت کے نہیں ھوتے
Haya 786 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-11-08, 02:40 AM   #5
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ہماری عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں

ہمارے ملک میں‌تمام مسائل کا جڑ انصاف کا نہ ہونا ہے ۔ موجودہ عدالتی نظام بہت ہی بے کار ہے
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
لوگ, موجودہ, مسائل, آج, آدمی, اللہ, الزام, استاد, اعلیٰ, درخواست, رشتے, سال, شاگرد, شخص, عدالت, عزت, صوبائی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوامی مسائل حل کرنے والی حکومتیں ہی مدت پوری کرسکتی ہیں جاویداسد خبریں 0 25-10-10 10:28 PM
مغرب کی عورتیں اسلام کیوں قبول کرتی ہیں ؟ ام غزل عورت کہانی 5 22-03-09 02:25 PM
جادو اور نجومیوں کاہنوں کی علامتیں اور ہم ان میں کیسے تمیز کرسکتے ہیں۔ چیتا چالباز جادو کا اسلامی علاج 0 05-01-09 06:38 PM
اگر تیل کی قیمتیں ایسے ہی بڑھتی رہیں تو !!! قیصرجی قہقہے ہی قہقے 3 03-06-08 05:14 PM
تہمتیں تو لگتی ہیں کشورناہید شاعری اور مصوری 3 25-09-07 04:08 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger