| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 188
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
|
اگلا شمارہ
گدھا بیمار ہو یا زخمی تھکا ہارا ہو یا بوجھ تلے دباہوا۔ جب تک اس میں اپنے پاؤں پر کھڑا رہنےکی سکت اور آپ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے، آپ اسے ہنکائے لیے چلے جائیں۔ وہ آپ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے گا بڑھتا چلا جائے گا اور مزے میں آئے گا تو گائے گا۔ رکنا میرا کام نہیں بڑھنا میری شان امریکہ کا گدھا ہو یا روس کا ، انگلستان کا گدھا ہو یا ہندوستان کا، افریقہ ہو یا ایران کا، خراسان کا ہو یا پاکستان کاوہ کہیں کا ہو ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گدھا آخر گدھا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے انقلاب آئے مگر گدھے کی فطرت میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔ وہ کل بھی گدھا تھا آج بھی گدھا ہے۔ یوں تو ہر جگہ گدھوں نے بڑے بڑے کام کیے لیکن کراچی کی تعمیر ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ یہ بڑی بڑی عمارتیں، یہ لمبی لمبی عمارتیں پہلے کہاں تھیں؟ ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی پھیلتے پھیلتے بہت بڑا شہر بن گئی۔ گدھے باہر سے ریت لاتے رہے،سیمنٹ، بجری، ریت، چونا اور اینٹ گارا لاتے رہے اور دیکھتے دیکھتے یہ شہر دنیا کا بڑا شہر بن گیا۔ پہاڑوں کے تنگ اور پر پیچ راستے جہاں کوئی ٹرک نہیں جاسکتا، وہاں گدھا ہی پہنچ سکتا ہے۔ گدھے کے ساتھ گاڑی کے اضافے نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا۔ اس طرح ایک گدھا کئی گدھوں کا بوجھ اٹھانے لگا، اور وہ کام جو گاڑی کے بغیر پورے ڈیڑھ سو برس میں ختم ہوتا پچاس برس میں ختم ہوگیا۔ قوموں کی زندگی میں پچاس برس ایک لمحہ کے برابر ہیں، یوں سمجھئے کہ پلک جھپکتے میں یہ سب کچھ ہوگیا، جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ سائنس بھی اتنا بڑا کمال نہیں کر سکتی جو اس "گدھا گاڑی" نے کیا۔ جسے آپ کراچی کے ہر موڑ پر دیکھ سکتے ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
|
اگلا شمارہ
دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں آپ کو گدھا گاڑیاں نظر نہیں آئیں گی۔ گدھے نے اگر تاریخ میں کوئی ترقی کی ہے تو وہ یہی ہے کہ کراچی والوں نے ان کو گاڑیوں میں استعمال کیا، اور ایک گدھے نے گدھوں کا بوجھ اٹھایا۔ ایک آدمی جس کام کو پچاس دنوں میں کرتاہے، چار آدمی ظاہر کم دنوں میں کریں گے۔ یہ چوتھی جماعت کے حساب کا ایک سادہ سا سوال ہے۔ لیکن ایک گدھے نے گاڑی کی مدد سے وہ کام کیا شاید چار گدھے مل کر بھی نہ کرسکتے! گھوڑے اس سے پہلے بہت مغرور تھے۔ انہیں گھمنڈ تھا کہ وہ بلا شرکت گاڑی کے مالک ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ سڑکوں پر بڑی بے راہ روی سے چلتے تھے اور گدھے کو دیکھ کر سر اونچا کر لیتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی "راہ گیر"( آج کی ماڈرن اطلاع میں پناہ گیر) گاڑی کے نیچے آجاتا تھا۔ لیکن گدھے میں نام کا غرور بھی نہں ہے۔ وہ اس وقت بھی گدھا تھا جب گاڑی کا "دم چھلا" اس کے ساتھ نہں لگا تھا، اور وہ آج بھی ویسا گدھا ہے پس۔ ۔۔ ۔ ثابت ہوا کہ وہ بڑا آدمی ہو کر "بد دماغ" نہں ہوا۔ ورنہ وہ بھی کسی گھوڑے کی طرح گمراہ ہوجاتا، اور آئے دن تصادم ہوتے رہتے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آج تک کوئی شخص گدھا گاڑی کے نیچے آکر نہیں مرا، اسکی وجہ گدھے کی "سلامت روی" ہے۔ کار جب سڑک پر سے گزرتی ہے تو پیدل چلنے والوں پر بڑی بدتمیزی سے خاک دھول اڑاتی ہے۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی اور سمجھتی ہے کہ یہ سب میرے سامنے گرد ہیں۔ لیکن گدھا گاڑی نے کبھی ایسی بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا، وہ انسان کو انسان سمجھتی ہے۔ آپ ایک مثال پیش نہیں کرسکتے جب گدھا گاڑی نے سڑک پر خاک اڑائی ہو۔ ٹرام کا انجن فیل ہو جائے تو کراچی والوں کی زبان میں کھٹارا ہے۔ کار کا پٹرول ختم ہو جائے تو وہ "بے کار" ہے۔ ریلوے کے انجن کا کوئلہ ختم ہو جائے تو وہ گدھا گاڑی سے بھی زیادہ ذیادہ ذلیل سواری ہے۔ یہ گدھا گاڑی ہے جو ہر حالت میںچلتی ہے، سچ کہتے ہیں کہ " چلتی کا نام ہے گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ " |
|
|
|
| شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد کاشف حبیب (12-02-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ جی ۔ کیا گدھا نوازی کی آپ نے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کمال, کراچی, گمان, گدھا, پیاسا, پاکستان, پسند, واہ, قدم, نوازی, نظر, آج, آدمی, ایران, انسان, احتجاج, خلاف, زندگی, سائنس, شہر, شخص, صدائے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|