واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


یہ گدھے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-09, 04:17 PM   #1
یہ گدھے
شہباز نزیر شہباز نزیر آف لائن ہے 11-02-09, 04:17 PM

مار کھانا اور آگے بڑھنا اس کا کام ہے۔ گدھا اگر ترقی پسند ہوتا تو علم بغاوت کرتا اور اس کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی انسان کے کندھوں پر پڑتا اور انسان چپکے سے یہ بوجھ سائنس کے کاندھوں پر ڈال دیتالیکن "سائنس "۔ ۔ ۔ ترقی پسند ہے۔ یہ ٹرک منوں بوجھ اٹھاتے ہیں مگر پٹرول نہ ہو تو ایک قدم آگے نہیں بڑھتے ۔ گدھا بھوکا پیاسا رہتا ہے اس کے باوجود چلتا جاتا ہے۔
کبھی یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میری گھاس میں اضافہ کرو۔ اگر کسی وقت وہ کسی کے بہکانے سے صدائے احتجاج بلند کرے ۔ ۔ ۔ یعنی ڈھینچوں ڈھینچوں کے قومی ترانے سے سٹرایئک کا آغاز کرے تو چند لاٹھیاں اسے کام پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یہ مار کھاتا اورکام کرتاہے
کس قدر وفادار ہے۔



باقی آیندہ

 
شہباز نزیر's Avatar
شہباز نزیر
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: bahawalpur
مراسلات: 73
شکریہ: 4
25 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 188
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا
چیتا چالباز (12-02-09), محمد کاشف حبیب (12-02-09), عروج (14-01-11)
پرانا 11-02-09, 09:20 PM   #2
Member
اجنبی
 
شہباز نزیر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: bahawalpur
مراسلات: 73
کمائي: 832
شکریہ: 4
25 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
شہباز نزیر کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں شہباز نزیر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: یہ گدھے

اگلا شمارہ
گدھا بیمار ہو یا زخمی تھکا ہارا ہو یا بوجھ تلے دباہوا۔ جب تک اس میں اپنے پاؤں پر کھڑا رہنےکی سکت اور آپ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے، آپ اسے ہنکائے لیے چلے جائیں۔ وہ آپ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے گا بڑھتا چلا جائے گا اور مزے میں آئے گا تو گائے گا۔
رکنا میرا کام نہیں بڑھنا میری شان
امریکہ کا گدھا ہو یا روس کا ، انگلستان کا گدھا ہو یا ہندوستان کا، افریقہ ہو یا ایران کا، خراسان کا ہو یا پاکستان کاوہ کہیں کا ہو ۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گدھا آخر گدھا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے انقلاب آئے مگر گدھے کی فطرت میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔ وہ کل بھی گدھا تھا آج بھی گدھا ہے۔
یوں تو ہر جگہ گدھوں نے بڑے بڑے کام کیے لیکن کراچی کی تعمیر ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ یہ بڑی بڑی عمارتیں، یہ لمبی لمبی عمارتیں پہلے کہاں تھیں؟ ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی پھیلتے پھیلتے بہت بڑا شہر بن گئی۔ گدھے باہر سے ریت لاتے رہے،سیمنٹ، بجری، ریت، چونا اور اینٹ گارا لاتے رہے اور دیکھتے دیکھتے یہ شہر دنیا کا بڑا شہر بن گیا۔ پہاڑوں کے تنگ اور پر پیچ راستے جہاں کوئی ٹرک نہیں جاسکتا، وہاں گدھا ہی پہنچ سکتا ہے۔ گدھے کے ساتھ گاڑی کے اضافے نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا۔ اس طرح ایک گدھا کئی گدھوں کا بوجھ اٹھانے لگا، اور وہ کام جو گاڑی کے بغیر پورے ڈیڑھ سو برس میں ختم ہوتا پچاس برس میں ختم ہوگیا۔
قوموں کی زندگی میں پچاس برس ایک لمحہ کے برابر ہیں، یوں سمجھئے کہ پلک جھپکتے میں یہ سب کچھ ہوگیا، جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ سائنس بھی اتنا بڑا کمال نہیں کر سکتی جو اس "گدھا گاڑی" نے کیا۔ جسے آپ کراچی کے ہر موڑ پر دیکھ سکتے ہیں
شہباز نزیر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا
چیتا چالباز (12-02-09), محمد کاشف حبیب (12-02-09), رانا امر (12-02-09), عروج (14-01-11)
پرانا 12-02-09, 03:10 PM   #3
Member
اجنبی
 
شہباز نزیر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: bahawalpur
مراسلات: 73
کمائي: 832
شکریہ: 4
25 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
شہباز نزیر کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں شہباز نزیر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: یہ گدھے

اگلا شمارہ
دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں آپ کو گدھا گاڑیاں نظر نہیں آئیں گی۔ گدھے نے اگر تاریخ میں کوئی ترقی کی ہے تو وہ یہی ہے کہ کراچی والوں نے ان کو گاڑیوں میں استعمال کیا، اور ایک گدھے نے گدھوں کا بوجھ اٹھایا۔ ایک آدمی جس کام کو پچاس دنوں میں کرتاہے، چار آدمی ظاہر کم دنوں میں کریں گے۔ یہ چوتھی جماعت کے حساب کا ایک سادہ سا سوال ہے۔ لیکن ایک گدھے نے گاڑی کی مدد سے وہ کام کیا شاید چار گدھے مل کر بھی نہ کرسکتے!
گھوڑے اس سے پہلے بہت مغرور تھے۔ انہیں گھمنڈ تھا کہ وہ بلا شرکت گاڑی کے مالک ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ سڑکوں پر بڑی بے راہ روی سے چلتے تھے اور گدھے کو دیکھ کر سر اونچا کر لیتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی "راہ گیر"( آج کی ماڈرن اطلاع میں پناہ گیر) گاڑی کے نیچے آجاتا تھا۔
لیکن گدھے میں نام کا غرور بھی نہں ہے۔ وہ اس وقت بھی گدھا تھا جب گاڑی کا "دم چھلا" اس کے ساتھ نہں لگا تھا، اور وہ آج بھی ویسا گدھا ہے پس۔ ۔۔ ۔ ثابت ہوا کہ وہ بڑا آدمی ہو کر "بد دماغ" نہں ہوا۔ ورنہ وہ بھی کسی گھوڑے کی طرح گمراہ ہوجاتا، اور آئے دن تصادم ہوتے رہتے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آج تک کوئی شخص گدھا گاڑی کے نیچے آکر نہیں مرا، اسکی وجہ گدھے کی "سلامت روی" ہے۔
کار جب سڑک پر سے گزرتی ہے تو پیدل چلنے والوں پر بڑی بدتمیزی سے خاک دھول اڑاتی ہے۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی اور سمجھتی ہے کہ یہ سب میرے سامنے گرد ہیں۔ لیکن گدھا گاڑی نے کبھی ایسی بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا، وہ انسان کو انسان سمجھتی ہے۔ آپ ایک مثال پیش نہیں کرسکتے جب گدھا گاڑی نے سڑک پر خاک اڑائی ہو۔ ٹرام کا انجن فیل ہو جائے تو کراچی والوں کی زبان میں کھٹارا ہے۔ کار کا پٹرول ختم ہو جائے تو وہ "بے کار" ہے۔ ریلوے کے انجن کا کوئلہ ختم ہو جائے تو وہ گدھا گاڑی سے بھی زیادہ ذیادہ ذلیل سواری ہے۔ یہ گدھا گاڑی ہے جو ہر حالت میں‌چلتی ہے، سچ کہتے ہیں کہ " چلتی کا نام ہے گاڑی۔ ۔ ۔ ۔ "
شہباز نزیر آف لائن ہے   Reply With Quote
شہباز نزیر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-01-11, 08:02 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ جی ۔ کیا گدھا نوازی کی آپ نے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کمال, کراچی, گمان, گدھا, پیاسا, پاکستان, پسند, واہ, قدم, نوازی, نظر, آج, آدمی, ایران, انسان, احتجاج, خلاف, زندگی, سائنس, شہر, شخص, صدائے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger