| گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 415
|
||||
| 13 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | rabab (23-04-10), فیصل ناصر (25-04-10), ھارون اعظم (25-04-10), وقاص احمد ضیاء (22-04-10), نورالدین (23-04-10), محمدخلیل (22-04-10), اویسی (23-04-10), حیدر (22-04-10), حیدر Rehan (23-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), سحر (22-04-10), عبداللہ آدم (24-04-10), عبداللہ حیدر (23-04-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سبحان اللہ۔ کیا بات ہے ۔ ایک ہی آواز پر دوڑے چلے گئے۔ چلیں جی انتظار کیے لیتے ہیں۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rabab (23-04-10), نورالدین (23-04-10), اویسی (23-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10), عبداللہ حیدر (23-04-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
لو جی۔۔۔۔
شاہ جی آپ کو چاند کی طرف اشارہ کرکے چاند دکھا رہے ہیں اور آپ ان کی انگلی پر غور فرمارہے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ""آپ کے ناخن صاف اور کٹے ہوئے نہی ہیں""
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 844
کمائي: 16,155
شکریہ: 4,383
785 مراسلہ میں 2,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک ہی آواز پر نہ صرف دوڑ کر جانا بلکہ آواز سنتے ہی ”آیا جی “ کا نعرہ لگانا بھی عین سعادت مندی کی نشانی ہے جو اگر شوہر حضرات کی جانب سے دکھائی جائے تو گھر کا ماحول کافی خوشگوار رہتا ہے ، آپ سے زیادہ بھلا کون اس حقیقت سے واقف ہو گا ؟ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقبال فرماتے ہیں::::::::::
شاعر بھی پیدا علماء بھی حکما بھی خالی نہیں قومقں کی غلامی کا زمانہ مقصد ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک ہر اہک ہے گو شرع معانی میں یگانہ بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ آج جہاد کرنے والوں کو بھی دہشت گرد،انتہا پسند یا کم از کم جذباتی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذاکرات سے ان 60 سالوں میں کیا حل ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی طریقہ اور ہے تو کوئی بتائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ فرماتے ہیں کہ:قتال تم پر فرض کر دیا گیا ہے اور تمہیں ناگوارہے،اور کتنی ہی تمہیں ناگوار چیزیں تمہارے لیے بہتر ہوتی ہیںالبقرہ۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rabab (24-04-10), فیصل ناصر (25-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10), عارف اقبال (25-04-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,356
شکریہ: 25,212
16,401 مراسلہ میں 41,655 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام شاہ جی
بہت ہی خوب ایک دل دردمند رکھنے والے انسان کے جذبات ہیں اور مبنی بر حقیقت ہیں۔ آج صبح صبح اٹھ کر سب سے پہلے اسی کو پڑھا ہے،، ہمیں جھنجھوڑنے کے لئے یہ ایک خط بھی کافی ہے اگر ہم کچھ بھی احساس زیاں باقی ہو تو۔لیکن وائے ناکامی ۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ جب خلافت راشدہ کے بعد بادشاہت کا آغاز ہوا تو بے شمار برائیاں مسلمانوں میں آ چکی تھیں، اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم، سنت خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے چھوڑا جا چکا تھا لیکن اس کے باوجود جہاد کسی نہ کسی طور پر جاری رہا، اور جب تک جاری رہا مسلمان حکمرانی کرتے رہے ۔ اگرچہ وہ حکمرانی ہر جگہ ایک سی نہیں تھی۔ آپس کی چپقلش اور منافقت کے علی الرغم بھی غیروں پر کسی نہ کسی حد تک فوقیت ہی رہا کرتی تھی۔ لیکن پھر جب شمشیر و سناں کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی، قائم اللیل اور صائم النہار قوم کی راتیں شباب و کباب کی نظر ہو گئیں تو حالات نے بھی مکمل پلٹا کھایا اور صدیوں سے حکمرانی کرنے والے بد ترین غلامی کا شکار ہو گئے۔ طاؤس و رباب اور شراب و کباب رسیا قوم میں بہادری اور غیرت عنقا ہو جاتی ہے، اور تاریخ نے بارہا اس حقیت کو ثابت کیا ہے۔ تھرکتے شانوں میں وہ دم نہیں کہ استقامت اور جوانمردی کا نمونہ پیش کر سکیں۔۔ 17 سال پہلے لکھا گیا یہ خط اور آج کے حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ اس وقت کے مقابلے میں اب بد ترین حالات کا شکار ہیں۔ اس وقت کسی نہ کسی طور پر جہاد کا نام لیا جاتا تھا، سارے مسلمانوں اگرچہ خود شریک جہاد نہ بھی ہوں کم از کم فلسطین ، کشمیر، بوسنیا، برما اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف ان کے دل دھڑکتے تھے بلکہ ہر طرح کی امداد کی جاتی تھی۔۔۔ اور اب کے حالات سے کون ناواقف ہے، جہاد کو دہشت گردی کی مذموم اصطلاح کے ساتھ جوڑ کر مسلمانوں کے دلوں سے اس جذبے کو ناپید کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور ہم ان کی کوششوں کو کامیاب بنانے میں ان سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔۔ تعلیمی اداروں سے جہاد و شہادت کی بحث اور نصاب سے وہ آیات و واقعات مکمل طور پر ختم کر دیئے گئے ہیں جو کسی محمد بن قاسم یا طارق بن زیاد کو جنم دے سکیں۔ اور اس کی جگہ میوزک کی کلاسیں، پرفارمننگ آرٹس اور دیگر خرافات نے لے لی ہے، اور ہم روشن خیالی کے خوبصورت نعرے میں اس سیلاب میں بہے چلے جا رہے ہیں اور عواقب پر نگاہ ڈالنے کی کبھی زحمت نہیں کی۔۔۔ یا تو نوجوان کے ہاتھ میں گیند اور بلا ہوگا یا پھر گیٹار، شمشیر و سناں تو درکنار کتابیں تک چھین لی گئی ہیں۔۔ اب بھی اگر ہم اس دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے رہے، پوری دنیا کے مسلمان امریکہ کے اسی طرح اتحادی بنے رہے تو یقین کریں آئندہ 17 سال بعد لوگ جہاد کے تصور تک سے نابلد ہوں گے۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو جہاد کا درس دے سکتے ہیں۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں، اپنے ماضی سے رشتہ استوار کریں اوراسلاف کو مشعل راہ بنائیں تا کہ ایک بار پھر عظمت رفتہ کے حصول کی جانب گامزن ہو جائیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,356
شکریہ: 25,212
16,401 مراسلہ میں 41,655 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی
اللہ آپ کو خوشیاں دے اور آپ کے کہے کو سچ کرے ۔۔ آمین انشاء اللہ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے۔ لیکن آج جو کوششیں ہو رہی ہیں اور مسلمان دانستہ یا نادانستہ جن کا حصہ بنے ہوئے ہیں وہ یقینا پریشان کن ہیں |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, ہسٹری, کھو, کارنامے, گے, گئی, پیدا, پڑی, وقت, وجہ, لیئے, نظر, مسلم, مسلمان, آتی, آتا, اپنے, اصول, جواب, جائے, دے, سنا, شناخت, ضرورت, عظیم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|