واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > گپ شپ



گپ شپ کسی بھی مو ضوع پر گفتگو کرئے


1993 میں لکھا گیا ایک خط

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-04-10, 05:32 PM   #1
1993 میں لکھا گیا ایک خط
شاہ جی 90 شاہ جی 90 آف لائن ہے 22-04-10, 05:32 PM

بھائیو اور بہنو
اسلام و علیکم
یہ خط ہمیں 12 ستمبر 1993 کو ہمارے چچا نے سبی سے لکھا تھا
سید محمود الحسن جو کہ ہمارے چھوٹے چچا ہیں ہسٹری میں ایم اے کرنے کے بعد آرکیالوجی میں سروس حاصل کی اس وقت اسٹنٹ ڈائریکٹر آرکیالوجی ہیں ۔
آج پرانے کاغذات دیکھتے ہوے اس خط پر نظر پڑی اس میں مسلم امہ کا المیہ بیان کیا گیا ہے ، سوچا کہ آپ سے شئیر کیا جائے ،

ہم نے اپنے خط میں کچھ سوالات اٹھائے تھے جن کا جواب اس خط میں دیا گیا تھا ۔
پیارے معظم
اسلام و علیکم
آج ہی تمہارا خط ملا اور چونکہ میں نے آج کل آج کا کام کل پر نہ چھوڑنے کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے اس لیئے آج ہی تم کو خط لکھ رہا ہوں ۔ صورت احوال ایں است کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور خیریت شما نیک می خواہم ۔
تاریخ کا ایک پکا اصول ہے کہ جو قومیں اپنی تاریخ کو بھلا دیتی ہیں تو تاریخ ان کو بھلا دیتی ہے ، یعنی جو اقوام اپنے اسلاف اور ان کے کارناموں کو فراموش کر دیتی ہیں تو وہ اپنی الگ شناخت اور اپنا تشخص کھو بیٹھتی ہیں ، ہر چمکتی ہوئی چیز ان کو سونا نظر آتی ہے اور وہ غیر اقوام کی اندھی تقلید کرنے لگ جاتے ہیں ۔
ان کی الگ حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور پھر ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ اور اس وقت امت مسلمہ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس نے اپنی تاریخ کو فراموش کر دیا ہے ۔ آج کے مسلمان نوجوان کو اس کے عظیم اسلاف کے عظیم کارنامے سنا کر اس میں جذبہ جہاد پیدا کرنے کی ضرورت تھی ، لیکن افسوس کہ اس کے ہاتھ میں گٹار دے دی گئی اور وہ پاپ میوزک پر تھرکتا ہوا نظر آتا ہے ۔
آج جب ایف اے کا نوجوان مسلمان طالب علم یہ سوال پوچھتا ہے کہ بدر بن مغیرہ کون تھا طلیطلہ اور اشبیلیہ کہاں واقع ہیں ۔ تو یقین کرو اس وقت میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ لیکن اس میں قصور تمہارا نہیں قصور ہم لوگوں کا ہے ، اس معاشرے کا ہے اور اس نظام کا ہے ۔ جس نے نئی نسل کو اپنی تاریخ سے بے خبر رکھ کر ان سے ان کی شناخت بھی چھین لی ہے ۔
بہر حال مختصر سی معلومات ارسال کر رہا ہوں باقی آپ کتابوں سے پڑھ لیں ،موجودہ دور کا سپین Spain کا ملک جو کہ یورپ میں واقع ہے ایک طرف اس کی سرحدیں فرانس کے ساتھ لگتی ہیں تو دوسری طرف اٹلی کے ساتھ ، اس کے ایک طرف شمالی افریقہ ہے اور ساتھ ہے بحر اوقیانوس ہے ، اس ملک کے قدیم عربی نام اندلس اور ہسپانیہ ہیں ، طلیطلہ ، قرطبہ اور اشبیلیہ کے شہر اسی ملک میں واقع ہیں موجودہ دور میں طلیطلہ کوToledo اور قرطبہ کو Cardova کہا جاتا ہے ۔ اشبیلیہ کا موجودہ نام میرے ذہن میں اس وقت نہیں
آٹھویں صدی عیسوی کے شروع کی بات ہے ۔ اس وقت بنو امیہ کا زمانہ تھا اور خلیفہ عبدالملک بن مروان مسلم دنیا پر حکومت کر رہا تھا ۔ اس وقت تک مراکش اور شمالی افریقہ کا تمام علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ چکا تھا اسی دوران سپین کے عوام نے بادشاہ ، امرا اور پادریوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مسلمانوں کو Spain پر حملے کی دعوت دی چنانچہ مسلمانوں کا ایک نامور جرنیل طارق بن زیاد اپنی مختصر فوج کے ساتھ سپین کے ساحل پر جا اترا اور تھوڑے ہی عرصہ میں زبردست کامیابیاں حاصل کیں ، اس کے بعد ایک اور جرنیل موسی بن نصیر بھی اس کی مدد کو پہنچ گیا ان دونوں نے مل کر بہت قلیل وقت میں پورے سپین پر قبضہ کر لیا اور وہ فرانس کے خلاف کاروائی کرنے ہی والے تھے کہ اس دوران خلیفہ عبدالملک وفات پا گیا اور نیا خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بنا ، جس کی ان جرنیلوں کے ساتھ مخالفت تھی لہذا اس نے طارق اور موسی کو واپس بلا لیا ، اسی طرح سندھ سے محمد بن قاسم کو بھی واپس بلا لیا طارق اور محمد بن قاسم کو قتل کر دیا اور موسی بن نصیر پر اتنا جرمانہ کیا کہ وہ گلیوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہوا بہر حال سپین کی فتح کے بعد وہاں کا انتظام چلانے کے لیئے ایک گورنر مقرر کیا جاتا تھا جس کو والی کہا جاتا تھا ،اس کا تقرر کبھی شمالی افریقہ کا گورنر اور کبھی خلیفہ خود کرتا تھا ۔
جب بنو امیہ کا زوال آیا اور عباسیوں نے بنو امیہ کے افراد کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا تو ایک نوجوان اموی شہزادہ عبدالرحمان جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور چھپتا چھپاتا سپین جا پہنچا ، وہاں پر بربر قبیلے کے لوگ آباد تھے جو اس کے ننہیال بھی تھے انہوں نے اس کی مدد کی اور اس باہمت شہزادے نے آہستہ آہستہ پورے سپین پر قبضہ کر لیا اور ایک آزاد اموی حکومت کی داغ بیل ڈالی ۔ اس خاندان نے 700 سال تک سپین پر حکومت کی ۔ اس خاندان کے تمام حکمران علم و ادب کے دلدادہ تھے ۔ اور ان کی ذاتی توجہ کی بنیاد پر عہد وسطی کے سپین نے اتنی ترقی کی کہ آج کا کوئی ترقی یافتہ ملک بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ آج کے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہروں یعنی لندن اور پیرس کی اس وقت حالت یہ تھی کہ وہاں کی گلیاں کیچڑ سے بھری ہوتی تھیں‌اور تاریکی میں‌ڈوبی ہوتی تھیں اور وہاں کے لوگ نیم وحشی تھے جبکہ اس دور کے سپین کی ہر گلی اور ہر سڑک پختہ تھی جگہ جگہ خوبصورت پارک اور باغات لگے ہوے تھے جن میں‌فوارے چلتے تھے ، سڑکوں میں‌روشنی کا انتظام تھا ، تمام گھروں میں بڑے بڑے کتب خانے موجود ہوتے تھے ۔ اس خاندان کے ایک حکمران حکم ثانی کے ذاتی کتب خانے میں تین لاکھ سے اوپر کتابیں موجود تھیں ۔ اور ہر کتاب کو اس نے پڑھ کر حاشئیے تحریر کیئے تھے ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس وقت سپین میں شرح‌ خواندگی 100 فی صد تھی یعنی ہر شخص لکھنا پڑھنا جانتا تھا ۔ اور یہ مثال آج کا کوئی ترقی یافتہ ملک پیش نہیں کر سکتا قرطبہ کی جامع مسجد اور قصر الحمرا آج بھی مسلمانوں کی عظمت کی نشانی کے طور پر موجود ہیں ، بہر حال جب تمدن نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا اور یہ اموی حکمران شمشیر و سناں کو چھوڑ کر طائوس و رباب کے رسیا ہو گئے اور عیاشیوں میں پڑ گئے تو درباری سازشوں نے جنم لیا ۔ ملک کر سرحدی علاقوں میں ان کا کنٹرول کمزور پڑ گیا ۔ اور سب سے پہلے باشلونا ، موجودہ بارسلونہ جو کہ فرانس کی سرحد کے قریب سپین کا ایک شہر ہے وہاں کے عیسائیوں نے فرانس سے امداد حاصل کر کے مسلمانوں کے خلاف بغاوت کر دی اور ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ان کی دیکھا دیکھی باقی علاقوں میں بھی مغوات پھوٹ پڑی اور بعض علاقوں کے مسلمان حاکموں‌نے بھی مرکزی حکومت سے ناطہ توڑ کر اپنی خود مختار چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا لیں ۔ ان چھوٹے چھوٹے مسلمان حاکموں کا آپس میں بھی اتفاق نہ تھا اور وہ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے ۔ عیسائیوں کے لیئے یہ ایک سنہری موقع تھا اور انہوں نےاس سے خوب فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کر کے ان ریاستوں کو ہڑپ کرنا شروع کر دیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں کے مرکز قرطبہ پر بھی قبضہ کر لیا ۔ مسلمانوں کے اس دور انحطاط میں کچھ باہمت لوگوں نے ڈوبتے ہوے سپین کو بچانے کی کوشش کی بدر بن مغیرہ اور یوسف بن تاشفین انہی لوگوں میں شامل تھے ۔ لیکن یہ بھی بجھتے ہوے چراغ کی آخری لو ثابت ہوے اور ان کی تمام تر کوششیں ابو دائود جیسے سازشیوں اور غداروں کی سازشوں اور باہمی نفاق کی بھینٹ چڑھ گئیں ، اور آخر کار 1492 عیسوی میں سپین پر مکمل طور پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا ۔ قبضے کے بعد عیسائیوں نے وہاں پر مسلمانوں کا نسلی صفایا شروع کر دیا تھوڑے سے مسلمان بچ کر شمالی افریقہ پہنچے ، باقی یا تو عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے یا ڈر کی وجہ سے عیسائی مذہب قبول کر لیا ۔ اور آج سپین میں‌ایک بھی مسلمان باقی نہیں لیکن اہل سپین کے سیاہ بال اور کالی آنکھیں اب بھی ان کے مسلمان عرب آبا و اجداد کی یادگار کے طور پر موجود ہیں ۔
اگر ہم اس تاریخی پس منظر میں اپنے موجودہ دور کے حالات کا جائزہ لیں تو یوں لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ۔ اس وقت مسلمان فتنہ و نفاق کا شکار ہیں ، بالکل سپین کی طرح بوسنیا میں مسلمانوں کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے اور ان کو وہاں پر عددی اعتبار سے ختم کیا جا رہا ہے ۔ ہنود ، یہود و نصاری کی ملی بھگت سے پوری دنیا میں مسلمانوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے ، اور مسلمان عقل کے اندھے اور حوس کے بندے اس حد تک ذلیل و خوار ہو چکے ہیں کہ خود قاتل ”امریکہ“ ہی سے انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں ۔ مسلمان اسلام کے نظریہ قومیت کہ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے مسلمان ملت واحدہ ہیں کے تصور کو فراموش کر چکے ہیں ۔ اور وہ اپنی پہچان جغرافیائی خطوں کے حوالے سے کروانے لگے ہیں ۔ کوئی پاکستانی ہے کوئی ترکی کوئی ویرانی تو کوئی سعودی لیکن مسلمان کوئی بھی نہیں ۔ اور یہ نام نہاد ملسمان اپنے اپنے جغرافیائی خولوں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیئے بیٹھے ہیں اور اس خوشفہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ یہاں پر محفوظ ہیں ۔
لیکن ان کو جان لینا چاہئیے کہ اگر آج کشمیر بوسنیا ، فلسطین ، انڈیا اور برما کے مسلمان جل رہے ہیں تو کل ان کی باری ہے ۔ لیکن یہ بدبخت وقت کی چال کو سمجھنے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی بجائے تاریخ کا تماشہ بننے کے لیئے تیار بیٹھے ہیں ۔ کاش کہ مسلمانوں میں ایک بار پھر کوئی محمد بن قاسم پیدا ہو جائے جو کشمیر اور بوسنیا میں لٹنے والی مسلمان بچیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کر سکے ۔ کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا ہو جائے جو صلیبیوں کے مکروہ عزائم کو ایک بار پھر خاک میں ملا دے ۔ کوئی محمود پیدا ہو جائے جو سفید سامراج کے اس سومنات ”امریکہ“ کو پاش پاش کر دے ”آمین“
بودم بھائی آپ کا خط جمعرات کو موصول ہوا اور جمعہ ، ہفتہ دو چھٹیاں تھیں‌اس لیئے آج اتوار کو آپ کو خط پوسٹ کروں گا ۔ آپ نے جو سوال پوچھے تھے ان کے بارے میں میرے ذہن میں جو کھچڑی بنی ہوئی تھی وہ میں نے حوالہ قلم کر دی ، بہت سی باتیں‌بھول گئی ہیں کیوں کہ میں نے بھی یہ کوئی سات سال پہلے پڑھا تھا ۔ جو کچھ میں نے لکھا اس میں بہت ساری جذباتی باتیں بھی شامل ہیں لیکن ان پر میرا اختیار نہیں تھا ۔ کیوں کہ روزانہ کشمیر اور بوسنیا کے بارے میں خبریں سن سن کر میرا دماغ ابلنے لگا ہے ۔
اس کے بعد سبی کے موسم کا حال احوال اور کچھ گھریلو باتیں ہیں ۔
اس خط میں ہمارے خاندان کےبہت سے ایسے بزرگوں اور ایک بچے کا نام ایسا بھی ہے جو کہ اب ہم میں نہیں ۔ اس خط کو پڑھ کر ان سب کی بھی بہت یاد آئی۔ لیکن ایک سوچ ان سب سوچوں پر حاوی تھی ۔
خدایا یہ خط 17 سال پہلے لکھا گیا تھا ، یہ وہ مدت ہے جس میں ایک مچہ پیدا ہو کر جوان ہو جاتا ہے ، سملمانوں کے حالات اب بھی وہی ہیں اور 17 سال پہلے مسلمانوں کے بارے میں جو پیشن گوئی کی گئی تھی ویسا ہی پیش ہوا نظر آتا ہے ۔ آخر ہم اپنی تاریخ‌ سے سبق کب سیکھیں گے ؟

Last edited by شاہ جی 90; 24-04-10 at 12:08 AM..

 
شاہ جی 90's Avatar
شاہ جی 90
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 415
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (23-04-10), فیصل ناصر (25-04-10), ھارون اعظم (25-04-10), وقاص احمد ضیاء (22-04-10), نورالدین (23-04-10), محمدخلیل (22-04-10), اویسی (23-04-10), حیدر (22-04-10), حیدر Rehan (23-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), سحر (22-04-10), عبداللہ آدم (24-04-10), عبداللہ حیدر (23-04-10)
پرانا 22-04-10, 10:12 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سبحان اللہ۔ کیا بات ہے ۔ ایک ہی آواز پر دوڑے چلے گئے۔ چلیں جی انتظار کیے لیتے ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (23-04-10), نورالدین (23-04-10), اویسی (23-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10), عبداللہ حیدر (23-04-10)
پرانا 23-04-10, 10:24 AM   #3
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
Question

شاہ جی 15 گھنٹے گزر گئے اب تو واپس آجاؤ۔ آپ نے دو تین گھنٹے کا کہا تھا؟
اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا
حیدر (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10)
پرانا 23-04-10, 12:06 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,344
شکریہ: 7,999
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لو جی۔۔۔۔
شاہ جی آپ کو چاند کی طرف اشارہ کرکے چاند دکھا رہے ہیں اور آپ ان کی انگلی پر غور فرمارہے ہیں ۔
اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ""آپ کے ناخن صاف اور کٹے ہوئے نہی ہیں""
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), حیدر (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10)
پرانا 23-04-10, 05:42 PM   #5
Senior Member
 
fazain's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 544
کمائي: 6,664
شکریہ: 602
343 مراسلہ میں 782 بارشکریہ ادا کیا گیا
fazain کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں fazain کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب تو ہم بھی آگئے ہے
fazain آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے fazain کا شکریہ ادا کیا
rabab (23-04-10), حیدر (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10)
پرانا 23-04-10, 10:33 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 844
کمائي: 16,155
شکریہ: 4,383
785 مراسلہ میں 2,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
شاہ جی 15 گھنٹے گزر گئے اب تو واپس آجاؤ۔ آپ نے دو تین گھنٹے کا کہا تھا؟
مجھئے لگتا ہے کہ بڑے بھائی سبی چلے گئے
rabab آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rabab کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-04-10), حیدر (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:13 AM   #7
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
سبحان اللہ۔ کیا بات ہے ۔ ایک ہی آواز پر دوڑے چلے گئے۔ چلیں جی انتظار کیے لیتے ہیں۔
بدر بھائی
ایک ہی آواز پر نہ صرف دوڑ کر جانا بلکہ آواز سنتے ہی ”آیا جی “ کا نعرہ لگانا بھی عین سعادت مندی کی نشانی ہے جو اگر شوہر حضرات کی جانب سے دکھائی جائے تو گھر کا ماحول کافی خوشگوار رہتا ہے ، آپ سے زیادہ بھلا کون اس حقیقت سے واقف ہو گا ؟
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:13 AM   #8
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
شاہ جی 15 گھنٹے گزر گئے اب تو واپس آجاؤ۔ آپ نے دو تین گھنٹے کا کہا تھا؟
اویسی صاحب ۔
ہماری حاظری زرا لمبی ہو گئی تھی
لیں جناب آ گئے اور خط مکمل بھی کر دیا
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), اویسی (24-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:15 AM   #9
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
لو جی۔۔۔۔
شاہ جی آپ کو چاند کی طرف اشارہ کرکے چاند دکھا رہے ہیں اور آپ ان کی انگلی پر غور فرمارہے ہیں ۔
اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ""آپ کے ناخن صاف اور کٹے ہوئے نہی ہیں""
حیدر بھائی
ہمارے ناخن کہاں سے دیکھ لیئے
آپ کو چشمہ بدلے کتنا عرصہ ہوا ؟
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), اویسی (24-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:15 AM   #10
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : fazain مراسلہ دیکھیں
اب تو ہم بھی آگئے ہے
خوش آمدید
جم جم آئو سجنو
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:16 AM   #11
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rahat afza مراسلہ دیکھیں
مجھئے لگتا ہے کہ بڑے بھائی سبی چلے گئے
ہا ہا ہا
سبی تو نہیں
راولپنڈی گئے تھے
شام کو واپس آ گئے
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10)
پرانا 24-04-10, 12:24 AM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,101
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,719 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقبال فرماتے ہیں::::::::::

شاعر بھی پیدا علماء بھی حکما بھی
خالی نہیں قومقں کی غلامی کا زمانہ
مقصد ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک
ہر اہک ہے گو شرع معانی میں یگانہ
بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ


آج جہاد کرنے والوں کو بھی دہشت گرد،انتہا پسند یا کم از کم جذباتی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذاکرات سے ان 60 سالوں میں کیا حل ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی طریقہ اور ہے تو کوئی بتائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ فرماتے ہیں کہ:قتال تم پر فرض کر دیا گیا ہے اور تمہیں ناگوارہے،اور کتنی ہی تمہیں ناگوار چیزیں تمہارے لیے بہتر ہوتی ہیںالبقرہ۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rabab (24-04-10), فیصل ناصر (25-04-10), حیدر (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (24-04-10), عارف اقبال (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 07:32 AM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,356
شکریہ: 25,212
16,401 مراسلہ میں 41,655 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام شاہ جی
بہت ہی خوب
ایک دل دردمند رکھنے والے انسان کے جذبات ہیں اور مبنی بر حقیقت ہیں۔
آج صبح صبح اٹھ کر سب سے پہلے اسی کو پڑھا ہے،، ہمیں جھنجھوڑنے کے لئے یہ ایک خط بھی کافی ہے اگر ہم کچھ بھی احساس زیاں باقی ہو تو۔لیکن وائے ناکامی ۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں‌کہ جب خلافت راشدہ کے بعد بادشاہت کا آغاز ہوا تو بے شمار برائیاں مسلمانوں میں آ چکی تھیں، اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم، سنت خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے چھوڑا جا چکا تھا لیکن اس کے باوجود جہاد کسی نہ کسی طور پر جاری رہا، اور جب تک جاری رہا مسلمان حکمرانی کرتے رہے ۔ اگرچہ وہ حکمرانی ہر جگہ ایک سی نہیں تھی۔
آپس کی چپقلش اور منافقت کے علی الرغم بھی غیروں پر کسی نہ کسی حد تک فوقیت ہی رہا کرتی تھی۔

لیکن پھر جب شمشیر و سناں کی جگہ طاؤس و رباب نے لے لی، قائم اللیل اور صائم النہار قوم کی راتیں شباب و کباب کی نظر ہو گئیں تو حالات نے بھی مکمل پلٹا کھایا اور صدیوں سے حکمرانی کرنے والے بد ترین غلامی کا شکار ہو گئے۔
طاؤس و رباب اور شراب و کباب رسیا قوم میں بہادری اور غیرت عنقا ہو جاتی ہے، اور تاریخ نے بارہا اس حقیت کو ثابت کیا ہے۔
تھرکتے شانوں میں وہ دم نہیں کہ استقامت اور جوانمردی کا نمونہ پیش کر سکیں۔۔
17 سال پہلے لکھا گیا یہ خط اور آج کے حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ اس وقت کے مقابلے میں اب بد ترین حالات کا شکار ہیں۔
اس وقت کسی نہ کسی طور پر جہاد کا نام لیا جاتا تھا، سارے مسلمانوں اگرچہ خود شریک جہاد نہ بھی ہوں کم از کم فلسطین ، کشمیر، بوسنیا، برما اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف ان کے دل دھڑکتے تھے بلکہ ہر طرح کی امداد کی جاتی تھی۔۔۔
اور اب کے حالات سے کون ناواقف ہے، جہاد کو دہشت گردی کی مذموم اصطلاح کے ساتھ جوڑ کر مسلمانوں کے دلوں سے اس جذبے کو ناپید کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور ہم ان کی کوششوں کو کامیاب بنانے میں ان سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔۔

تعلیمی اداروں سے جہاد و شہادت کی بحث اور نصاب سے وہ آیات و واقعات مکمل طور پر ختم کر دیئے گئے ہیں جو کسی محمد بن قاسم یا طارق بن زیاد کو جنم دے سکیں۔
اور اس کی جگہ میوزک کی کلاسیں، پرفارمننگ آرٹس اور دیگر خرافات نے لے لی ہے، اور ہم روشن خیالی کے خوبصورت نعرے میں اس سیلاب میں بہے چلے جا رہے ہیں اور عواقب پر نگاہ ڈالنے کی کبھی زحمت نہیں کی۔۔۔
یا تو نوجوان کے ہاتھ میں گیند اور بلا ہوگا یا پھر گیٹار، شمشیر و سناں تو درکنار کتابیں تک چھین لی گئی ہیں۔۔

اب بھی اگر ہم اس دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے رہے، پوری دنیا کے مسلمان امریکہ کے اسی طرح اتحادی بنے رہے تو یقین کریں آئندہ 17 سال بعد لوگ جہاد کے تصور تک سے نابلد ہوں گے۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو جہاد کا درس دے سکتے ہیں۔
اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں، اپنے ماضی سے رشتہ استوار کریں اوراسلاف کو مشعل راہ بنائیں تا کہ ایک بار پھر عظمت رفتہ کے حصول کی جانب گامزن ہو جائیں
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rabab (25-04-10), حیدر (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10), عبداللہ آدم (25-04-10)
پرانا 25-04-10, 12:30 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,411
کمائي: 96,260
شکریہ: 52,572
11,197 مراسلہ میں 35,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
سلام شاہ جی


اب بھی اگر ہم اس دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے رہے، پوری دنیا کے مسلمان امریکہ کے اسی طرح اتحادی بنے رہے تو یقین کریں آئندہ 17 سال بعد لوگ جہاد کے تصور تک سے نابلد ہوں گے۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو جہاد کا درس دے سکتے ہیں۔
اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں، اپنے ماضی سے رشتہ استوار کریں اوراسلاف کو مشعل راہ بنائیں تا کہ ایک بار پھر عظمت رفتہ کے حصول کی جانب گامزن ہو جائیں
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا ہونے والا ۔ ۔ ۔ نہیں۔ مجھے یقین ہے انشا اللہ۔ انہی مغربی درس گاہوں سے جہاد کی صدائیں بلند ہونگی انشا اللہ۔ آثار تو کچھ ایسے ہی ہیں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (25-04-10), راجہ اکرام (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10)
پرانا 25-04-10, 01:25 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,356
شکریہ: 25,212
16,401 مراسلہ میں 41,655 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی
اللہ آپ کو خوشیاں دے اور آپ کے کہے کو سچ کرے ۔۔ آمین
انشاء اللہ
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے۔

لیکن آج جو کوششیں ہو رہی ہیں اور مسلمان دانستہ یا نادانستہ جن کا حصہ بنے ہوئے ہیں وہ یقینا پریشان کن ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rabab (25-04-10), شاہ جی 90 (26-04-10)
جواب

Tags
color, ہسٹری, کھو, کارنامے, گے, گئی, پیدا, پڑی, وقت, وجہ, لیئے, نظر, مسلم, مسلمان, آتی, آتا, اپنے, اصول, جواب, جائے, دے, سنا, شناخت, ضرورت, عظیم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger