|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,317
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,260 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
شوہروں کے کیا کیا حقوق ہیں؟؟ اور ہمارا ان کے ساتھ کیا سلوک ہے؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کا کیا درجہ مقرر فرمایا اور ہمارا طرز عمل کیا ہے! فرمایا: ”اگر میرے لیے کسی کو یہ حکم دینا جائز ہو تا کہ ایک شخص دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“ لیکن عورتوں نے اس بات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کہ اپنے شوہروں کو اپنے آگے سجدہ کروانا چاہتی ہیں کہ شوہر ان کا مکمل تابع ہو کر رہے۔ بعض تو اس میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں اور جو نہیں ہوتیں تو آئے دن ان کے گھر میں فسادات اور لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ میری بہنو! جنتی عورتوں کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ جو ہمارے آقا دونوں جہانوں کے سردار نے فرمائی۔ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے اچھی عورت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا میاں اس کی طرف دیکھے تو وہ خاوند کو خوش کر دے اور جب کچھ کہے تو اس کی بات مانے اور جان و مال میں کچھ اس کے خلاف نہ کرے جو اس کو ناگوار ہو۔ (ماخوذ از بہشتی زیور) بعض ہماری بہنوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ کیا کریں شوہر ایسے غصہ والے اور بدمزاج ہیں کہ راضی ہی نہیں ہوتے ہم کوشش کرکے اور برداشت کرکے تھک گئے ہیں بس اب ہم سے گزاراہ نہیں ہوتا ان بہنوں کیلئے واقع پیش خدمت ہی اللہ تعالیٰ ان واقعات کو ہمارے دلوں میں اتار دے اور ہمیں اس سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک عورت تھی، جو اپنے شوہر سے بہت پریشان تھی وہ کسی بزرگ کے پاس آئی کہ شوہر بہت بدمزاج ہے کوئی وظیفہ بتا دیں تاکہ وہ نرم پڑ جائے وہ بزرگ اللہ والے اور سمجھدار تھے، ایسے ویسے دنیا کمانے والے عاملوں کی طرح نہیں تھے، سمجھ گئے کہ اصل بیماری تو عورت کے اندر ہے، اس کا علاج کرنا چاہیے۔ اس عورت سے کہا کہ ایک شرط پر تمہیں وظیفہ بتاﺅں گا، پہلے یہ کام کرو کہ شیر کے تین بال لے آﺅ۔ آج کا مسلمان وظیفوں کے حصول کیلئے تو دن رات ایک کردے گا، کاش! اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مسلمان کا یہ حال ہو جائے تو اس کی ساری پریشانی زائل ہو جائے کہ جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اس کو راضی کیے بغیر ہم اس کے خزانے سے کیسے کوئی چیز حاصل کر سکتے ہیں۔ خیر وہ عورت روزانہ شیر کے پنجرے میں جاتی، اس کو مانوس کرنے کیلئے گوشت وغیرہ کھلاتی، خوب بہلاتی، جب ظن غالب ہو گیا کہ کچھ مانوس ہو گیا ہے تو آہستہ آہستہ اس پر ہاتھ پھیرنے لگی اور تین بال توڑ لیے اور خوشی خوشی بزرگ کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ دیکھیں میں یہ بال لے کر آئی ہوں اب وظیفہ بتائیں بزرگ صاحب بڑے دکھ سے کہنے لگے کہ تم پر افسوس ہے ایک شیر جیسے خونخوار جانور کو تم نے مانوس کر لیا تو کیا تیرا شوہر شیر سے بھی زیادہ خونخوار ہے، کیا تو اس کو اپنے حُسن اخلاق اور محبت و رواداری والے رویے سے مائل نہیں کرسکتی، جا تیرا یہی وظیفہ ہے۔ واقعتاً اگر عورت اپنے شوہر کو خوش کرنا چاہتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی صفات رکھی ہیں کہ اپنے شوہر کے دل کو جیت لے۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | J.S (30-10-11), Miss Khan (30-10-11), فیاض انصاری (19-12-11), گلاب خان (23-12-11), یاسر عمران مرزا (31-10-11), مہتاب (30-11-11), مرزا عامر (30-11-11), آصف رضا (30-11-11), ابو اسد (19-12-11), احمد نذیر (30-10-11), بنت حوا (30-10-11), راجہ اکرام (31-10-11), رضی (30-10-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,207
کمائي: 23,682
شکریہ: 3,780
1,321 مراسلہ میں 3,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا مضمون ہے عزیزم ، جزاک اللہ ، اور جو مثال دی ہے وہ تو واقعی بہترین ہے ،
|
|
|
|
|
|
#4 | ||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
جو عورت اپنے گھر میں سکون چاہتی ہے اور اس سکون کے لیے وہ بڑے سے بڑے خطرے میں جاسکتی ہے اس کے گھر کے فساد میں عورت کا ذمہ دار ہونا میری سمجھ میں نہیں ایا کیا گھروں میں فساد شوہروں کی وجہ سے نہیں ہوسکتا جو ہر بات کا ذمہ دار عورت کو ہی ٹہرایا جاتا ہے گھروں میں امن و سکون بیوی اور شوہر دونوں کی ذمہ داری ہے ۔ صرف ایک کے صبر و برداشت کرنے سے گھروں میں سکون نہیں اتا ہے ۔ بد مزاج عورت کے شوہر کو بھی صبر کا مشورہ دے دینا چاہیے کبھی ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 30-10-11 at 06:45 PM. |
||
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
تو يہاں مرد كى قواميت اپنا كردار ادا كرنے سے قاصر كيوں؟
جب مرد عورت كو ناقصات عقل اور ناقصات دين سمجهتا ہے تو خود كامل عقل كے بل بوتے پہ كونسى حكمت كا استعمال كرتا ہے ؟ اور سيدهى سى بات ہے كہ صرف اس بات كا موازنه كرليا جائے كه مرد اور عورت ميں سے كون دوسرے كے حقوق ميں كمى كرتا ہے تو اس بات كا فيصله ہوجائے گا كه أوسطا كون حقوق كى ادائيگى ميں متساہل ہے؟ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر عورت ناقص العقل ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عورت پر بے جا ذمہ داری نا ڈالی جائے ۔
نا کہ تمام حکمت اور ذہانت اور ازدواجی زندگی کو ہینڈل کرنے کی ذمہ داری تو عورت پر ڈال دی جائے حالانکہ قوامیت اور اختیارات مرد کے پاس ذیادہ ہوں لیکن حکمت کے استعمال کا مشورہ کبھی مردوں کو دیتے نہیں دیکھا گیا ناصح کو ہمیشہ غیر جانبدار ہونا چاہیے ۔ مجھے ایسا واقعہ کسی کتاب میں نہیں ملا جس سے شوہروں کو حکمت کے ساتھ ازدواجی زندگی کو ہینڈل کرنے کا طریقہ سمجھایا گیا ہو ۔اگر کسی کے علم میں ہو تو یہاں شئیر کریں ۔ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہیں دیکھ لیں کہ عورت معاملات کو سلجھانے میں اور سمجھداری میں کس قسم کا مظاہرہ کرتی ہے۔
جب موضوع شوہر کے حقوق کے حوالے سے ہے تو اس میں بات عورتوں کے حقوق کی کیسے ہو گی؟؟؟ یا تو عنوان ہوتا بہترین ازدواجی زندگی کے رہنما اصول اور صرف خواتین کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہوتی پھر تو ٹھیک تھا۔ لیکن یہاں موضوع دیکھیں اور پھر بات کو آگے بڑھائیں۔ یہی وہ جلد بازی، جوشیلا پن اور دیگر خصوصیات ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا مضمون میں اشارہ کیا گیا ہے۔۔ امید ہے غصہ سے پرہیز کیا جائے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن میں نے اپنے آخری مراسلے میں عمومی رویہ کی بات کی ہے ۔ کہ عام کتب میں ایسا واقعہ مردوں کے لیے کیوں نہیں ملتا ہے ۔ اگر آپ محض ہاں میں ہاں ملانے کو سمجھداری سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ ہے ۔ اس واقعے کو غور سے پڑھیں پہر میرا پہلا مراسلہ پڑھیں کہ اس واقعہ پر اعتراض کس بات پر کیا گیا ہے ۔ یہ مت کہیئے گا کہ ان بزرگ کے پاس عورت آئی تھی تو نصیحت بھی عورت کو ہی کی جائے گی ۔ یہاں بات عمومی رویے پر کی جائے گی کہ ہر حال میں گھروں میں فساد کی ذمہ دار عورت کو ہی کیوں ٹہرایا جاتا ہے ۔ وہ عورت آئی اپنے شوہر کی بد مزاجی کی شکایت لیے کر اور ان بزرگ نے کہا کہ اصل بیماری اسی عورت میں ہے ۔ مجھے اس رویہ پر اعتراض ہے براہ مہربانی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ذاتیات سے پرہیز کریں ۔ |
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | آصف رضا (30-11-11) |
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جہاں تک بات اس قصے کی ہے اسے شاید آپ اس عمومے رویے پر منحصر کر کے دیکھ رہی ہیں جس کی جانب آپ نے اوپر اشارہ کیا ۔۔۔ لیکن میرے خیال سے یہ درست نہیں ہے۔ اس کو اگر آپ اس زاویے سے دیکھیں گی تو مجھے امید ہے ان شاء اللہ آپ کی رائے میں کچھ تبدیلی آنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ دیکھیں! !! بزرگ کے پاس عورت گئی اور شوہر کے رویے کی شکایت کی۔ بزرگ کے پاس دو صورتیں تھیں۔ ایک صورت یہ تھی کہ وہ بھی عورت کے ساتھ ہمدردی کرتے اور اسے کوئی علاج، کوئی وظیفہ اور کوئی حل بتاتے ۔ اس طرح عورت کی ساری توجہ صرف شوہر کو درست کرنے پر لگ جاتی اور اس کشمکش میں شاید معاملہ پہلے سے زیادہ خراب ہو جاتا۔ مرد کا رویہ پہلے سے خراب تھا، اور زیادہ ہو جاتا۔ دوسری صورت یہ کہ وہ عورت کو سمجھاتے کہ معاملہ ادھر نہیں ہے بلکہ آپ کی جانب سے عورت کے ساتھ معاملے میں وہ حسن ابھی نہیں ایا جس سے آپ ان کو درست کر سکیں۔ جس طرح شیر کو رام کرنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلے، یہی محنت اگر شوہر پر کی جائے تو حالات بدلنے کا امکان قوی ہے۔ آپ کے خیال میں درست اور مؤثر طریقہ کون سا ہو سکتا ہے جس میں اصلاح کا امکان زیادہ اور بگاڑ کا امکان کم سے کم بلکہ ناپید ہو؟؟ یہ ایک طریقہ ہوتا ہے مصلحین کا جو بہت کارگر ہوتا ہے تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اور میری بہت پختہ رائے ہے کہ اگر ان بزرگ کے پاس کوئی مرد جا کر اپنی بیوی کی شکایت کرے گا تو وہ اسے بھی یہی کہیں گے کہ مسئلہ آپ میں ہے، آپ بھی شیرنی کے بال لائیں ، اور پھر اسے وہی کہے گا جو عورت کو کہا ہے۔ اس طرح کے واقعات کا لفظی معنی مراد لیا جائے تو یقینا یہ لگتا ہے کہ عورت کے خلاف عمومی رویوں کی ترجمانی ہو رہی ہے۔ لیکن اصل چیز بین السطور میں چھپی حکمت کو سمجھنا ہوتا ہے۔ |
|
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایسی عورت میں کونسی بیماری ہوگی یا یہ بات بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شوہر کے بد مزاج ہونے کی ذمہ دار عورت ہی ہوتی ہے ۔ اور جہاں تک مردوں کو مشورہ دینے کی بات ہے یا ایسی حکمت سکھانے کی بات ہے تو آپ مجھے انہی کتب میں سے ایسا کوئی واقعہ بیان کردیں ۔ کیونکہ مجھے ایسے واقعات مردوں کے لیے نہیں ملتے ہیں ۔ ناصح کی غیر جانبداری کی بات میں نے پرٹیکیولر اس واقعہ پر نہیں کی تھی بلکہ عمومی طور پر معاشرے کے لوگوں کو نصیحت کرنے کے سینیریو میں کی تھی ۔ اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بیویوں پر بہت ظلم ہوتا ہے جو شوہروں کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے ناصح شوہروں کو حسن سلوک کی نصیحت پر اتنا ذور نہیں دیتے ہیں جتنا عورتوں کو صبر کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ۔ ایک واقعہ یہاں بیان کرتی چلوں جو اسی مزاج کو ظاہر کرتا ہے جو ہمارے معاشرے میں پیدا کیا گیا ہے ایک عورت کو اس کے شوہر نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا ۔ اس عورت کے پڑوسیوں نے اس سے کہا کہ تم تھانے میں شوہر کے خلاف رپورٹ درج کرادو تو اس عورت نے جواب دیا کہ اگر میں اپنے شوہر کے خلاف تھانے میں شکایت کروں گی تو قیامت کے دن میری بخشش نہیں ہوگی ۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دونوں طرف سے اس طرح کے واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔
آپ نے خاتون کا واقعہ پیش کیا کہ وہ تھانے نہیں گئی ۔۔ اور میں ایسی خواتین کو جانتا ہوں ذاتی طور پر جن کے شوہر نے ان کی ہزار خامیوں کے باوجود کبھی اف تک نہ کہا، اور خامیاں بھی ایسی کہ کم از کم میرے جیسا تو برداشت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پھر بھی شوہر دن رات فیکٹریوں میں کام کرتا، ہر فرمائش پوری کرتا، ہر سہولت دیتا رہا ۔۔ لیکن وہی عورت اپنے شوہر کے خلاف نہ صرف تھانے بلکہ کورٹ کچہری تک بھی گئی ۔ اس لیے اس طرح کے واقعات پر ایک دوسرے کے عمومی رویوں کا اندازہ لگانے بیٹھ جائیں تو پھر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف ایک واقعہ ذکر کیا ہے۔ صرف اپنے آس پاس کا اگر میں جائزہ لوں تو ایسے ایسے واقعات ہیں کہ خدا کی پناہ ۔۔ اقتباس:
عورت پر یقینا ظلم ہوتا ہے اور میں اس سے قطعا انکار نہیں کر رہا۔ لیکن جو کچھ شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے اس کا بھی آنکھوں دیکھا حال بہت درد ناک ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,397
شکریہ: 4,409
1,843 مراسلہ میں 6,863 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا Last edited by آبی ٹوکول; 31-10-11 at 02:45 PM. |
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا آئندہ ہم بھی یہ کہہ کر کہ مرد مرد ہی ہوتا ہے اس سے بات کرنا ہی فضول ہے کہ وہ کسی خاتون کے آرگیومنٹ کو سیریس نہیں لے گا تو اپ کیا سمجھیں گے ۔ اس لیے فیصل بھائی پلیز عورت وغیرہ جیسے کمنٹس کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔ ۔ اور جہاں سیریس بات ہورہی ہو وہاں اس قسم کے کمنٹس کے کیا معنی ہیں ۔ |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہن جی بات یہ ہے کے عورت اور مرد کی فطرت و عادات اللہ نے الگ الگ رکھی ہے
اسلئے جب بھی عورت اور مرد کا تقابلہ کیا جائے گا تو کسی مشترک نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے رہ گیاسوال کے گھریلو حالات کا ذمہ دار کون ؟ تو اس میں شوہر اور بیوی دونوں کا ہی کچھ نا کچھ کردار ہوتا ہے کبھی شوہر اسکا ذمہ دار تو کبھی بیوی اس کی وجہ بنتی ہے اور کبھی دونوں ویسے میرے نزدیک تو اس کی زیادہ وجہ شوہر و بیوی کے درمیان کمیونیکشن گیپ ہوتا ہے اب اگر ہم یہ بحث کریں کے کون ذمہ دار تو ؟؟ تو اس کا کوئی عالمی کلیہ نکل ہی نہیں سکتا پھر کیا یہ فضول بحث نہیں کہلائے گی ؟ موجودہ تھریڈ کی کہانی کا ایک جملہ آپ نے نظر انداز کردیا اقتباس:
یہ نہیں کہا گیا کے ہر صورت میں بیوی ذمہ دار ہوتی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, گھر, واقعات, مکمل, محبت, مسلمان, آج, اللہ, جیت, حکم, حال, خوش, خلاف, دنیا, رات, سردار, شوہر, شخص, عورت, عورتوں, علامت, علاج, غالب, غصہ, صفات |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|