واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > گھر اور گھرداری



گھر اور گھرداری گھر اور گھرداری


شوہر کے حقوق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 20-02-11, 10:46 PM   #1
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,317
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,260 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شوہر کے حقوق

شوہر کے حقوق

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

شوہروں کے کیا کیا حقوق ہیں؟؟ اور ہمارا ان کے ساتھ کیا سلوک ہے؟؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کا کیا درجہ مقرر فرمایا اور ہمارا طرز عمل کیا ہے! فرمایا: ”اگر میرے لیے کسی کو یہ حکم دینا جائز ہو تا کہ ایک شخص دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“ لیکن عورتوں نے اس بات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کہ اپنے شوہروں کو اپنے آگے سجدہ کروانا چاہتی ہیں کہ شوہر ان کا مکمل تابع ہو کر رہے۔ بعض تو اس میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں اور جو نہیں ہوتیں تو آئے دن ان کے گھر میں فسادات اور لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔
میری بہنو! جنتی عورتوں کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ جو ہمارے آقا دونوں جہانوں کے سردار نے فرمائی۔
کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے اچھی عورت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا میاں اس کی طرف دیکھے تو وہ خاوند کو خوش کر دے اور جب کچھ کہے تو اس کی بات مانے اور جان و مال میں کچھ اس کے خلاف نہ کرے جو اس کو ناگوار ہو۔ (ماخوذ از بہشتی زیور)
بعض ہماری بہنوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ کیا کریں شوہر ایسے غصہ والے اور بدمزاج ہیں کہ راضی ہی نہیں ہوتے ہم کوشش کرکے اور برداشت کرکے تھک گئے ہیں بس اب ہم سے گزاراہ نہیں ہوتا ان بہنوں کیلئے واقع پیش خدمت ہی اللہ تعالیٰ ان واقعات کو ہمارے دلوں میں اتار دے اور ہمیں اس سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایک عورت تھی، جو اپنے شوہر سے بہت پریشان تھی وہ کسی بزرگ کے پاس آئی کہ شوہر بہت بدمزاج ہے کوئی وظیفہ بتا دیں تاکہ وہ نرم پڑ جائے وہ بزرگ اللہ والے اور سمجھدار تھے، ایسے ویسے دنیا کمانے والے عاملوں کی طرح نہیں تھے، سمجھ گئے کہ اصل بیماری تو عورت کے اندر ہے، اس کا علاج کرنا چاہیے۔ اس عورت سے کہا کہ ایک شرط پر تمہیں وظیفہ بتاﺅں گا، پہلے یہ کام کرو کہ شیر کے تین بال لے آﺅ۔ آج کا مسلمان وظیفوں کے حصول کیلئے تو دن رات ایک کردے گا، کاش! اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مسلمان کا یہ حال ہو جائے تو اس کی ساری پریشانی زائل ہو جائے کہ جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اس کو راضی کیے بغیر ہم اس کے خزانے سے کیسے کوئی چیز حاصل کر سکتے ہیں۔
خیر وہ عورت روزانہ شیر کے پنجرے میں جاتی، اس کو مانوس کرنے کیلئے گوشت وغیرہ کھلاتی، خوب بہلاتی، جب ظن غالب ہو گیا کہ کچھ مانوس ہو گیا ہے تو آہستہ آہستہ اس پر ہاتھ پھیرنے لگی اور تین بال توڑ لیے اور خوشی خوشی بزرگ کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ دیکھیں میں یہ بال لے کر آئی ہوں اب وظیفہ بتائیں بزرگ صاحب بڑے دکھ سے کہنے لگے کہ تم پر افسوس ہے ایک شیر جیسے خونخوار جانور کو تم نے مانوس کر لیا تو کیا تیرا شوہر شیر سے بھی زیادہ خونخوار ہے، کیا تو اس کو اپنے حُسن اخلاق اور محبت و رواداری والے رویے سے مائل نہیں کرسکتی، جا تیرا یہی وظیفہ ہے۔ واقعتاً اگر عورت اپنے شوہر کو خوش کرنا چاہتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی صفات رکھی ہیں کہ اپنے شوہر کے دل کو جیت لے۔
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
J.S (30-10-11), Miss Khan (30-10-11), فیاض انصاری (19-12-11), گلاب خان (23-12-11), یاسر عمران مرزا (31-10-11), مہتاب (30-11-11), مرزا عامر (30-11-11), آصف رضا (30-11-11), ابو اسد (19-12-11), احمد نذیر (30-10-11), بنت حوا (30-10-11), راجہ اکرام (31-10-11), رضی (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 05:52 PM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,207
کمائي: 23,682
شکریہ: 3,780
1,321 مراسلہ میں 3,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا مضمون ہے عزیزم ، جزاک اللہ ، اور جو مثال دی ہے وہ تو واقعی بہترین ہے ،
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Miss Khan کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11)
پرانا 30-10-11, 06:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ھے ۔
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بنت حوا کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11)
پرانا 30-10-11, 06:42 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن عورتوں نے اس بات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کہ اپنے شوہروں کو اپنے آگے سجدہ کروانا چاہتی ہیں کہ شوہر ان کا مکمل تابع ہو کر رہے۔ بعض تو اس میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں اور جو نہیں ہوتیں تو آئے دن ان کے گھر میں فسادات اور لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔
فسادات کی اس وجہ سے مجھے اختلاف ہے ۔ ایسی خواتین جو شوہروں کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہیں یا کرلیتی ہیں ، ہمارے معاشرے میں کتنے فیصد ہونگی ۔

اقتباس:
ایک عورت تھی، جو اپنے شوہر سے بہت پریشان تھی وہ کسی بزرگ کے پاس آئی کہ شوہر بہت بدمزاج ہے کوئی وظیفہ بتا دیں تاکہ وہ نرم پڑ جائے وہ بزرگ اللہ والے اور سمجھدار تھے، ایسے ویسے دنیا کمانے والے عاملوں کی طرح نہیں تھے، سمجھ گئے کہ
اصل بیماری تو عورت کے اندر ہے، اس کا علاج کرنا چاہیے
۔ اس عورت سے کہا کہ ایک شرط پر تمہیں وظیفہ بتاﺅں گا، پہلے یہ کام کرو کہ شیر کے تین بال لے آﺅ۔ آج کا مسلمان وظیفوں کے حصول کیلئے تو دن رات ایک کردے گا، کاش! اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مسلمان کا یہ حال ہو جائے تو اس کی ساری پریشانی زائل ہو جائے کہ جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اس کو راضی کیے بغیر ہم اس کے خزانے سے کیسے کوئی چیز حاصل کر سکتے ہیں۔
خیر وہ عورت روزانہ شیر کے پنجرے میں جاتی، اس کو مانوس کرنے کیلئے گوشت وغیرہ کھلاتی، خوب بہلاتی، جب ظن غالب ہو گیا کہ کچھ مانوس ہو گیا ہے تو آہستہ آہستہ اس پر ہاتھ پھیرنے لگی اور تین بال توڑ لیے اور خوشی خوشی بزرگ کے پاس لے کر آئی اور کہا کہ دیکھیں میں یہ بال لے کر آئی ہوں اب وظیفہ بتائیں بزرگ صاحب بڑے دکھ سے کہنے لگے کہ تم پر افسوس ہے ایک شیر جیسے خونخوار جانور کو تم نے مانوس کر لیا تو کیا تیرا شوہر شیر سے بھی زیادہ خونخوار ہے، کیا تو اس کو اپنے حُسن اخلاق اور محبت و رواداری والے رویے سے مائل نہیں کرسکتی، جا تیرا یہی وظیفہ ہے۔ واقعتاً اگر عورت اپنے شوہر کو خوش کرنا چاہتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی صفات رکھی ہیں کہ اپنے شوہر کے دل کو جیت لے
یہ واقعہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔
جو عورت اپنے گھر میں سکون چاہتی ہے اور اس سکون کے لیے وہ بڑے سے بڑے خطرے میں جاسکتی ہے اس کے گھر کے فساد میں عورت کا ذمہ دار ہونا میری سمجھ میں نہیں ایا
کیا گھروں میں فساد شوہروں کی وجہ سے نہیں ہوسکتا جو ہر بات کا ذمہ دار عورت کو ہی ٹہرایا جاتا ہے
گھروں میں امن و سکون بیوی اور شوہر دونوں کی ذمہ داری ہے ۔ صرف ایک کے صبر و برداشت کرنے سے گھروں میں سکون نہیں اتا ہے ۔
بد مزاج عورت کے شوہر کو بھی صبر کا مشورہ دے دینا چاہیے کبھی ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 30-10-11 at 06:45 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (30-10-11), فائزہ (02-11-11), گلاب خان (23-12-11), قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), ابرارحسین (30-10-11), سیپ (31-10-11), سام (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 07:27 PM   #5
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,101
شکریہ: 1,348
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو يہاں مرد كى قواميت اپنا كردار ادا كرنے سے قاصر كيوں؟
جب مرد عورت كو ناقصات عقل اور ناقصات دين سمجهتا ہے تو خود كامل عقل كے بل بوتے پہ كونسى حكمت كا استعمال كرتا ہے ؟
اور سيدهى سى بات ہے كہ صرف اس بات كا موازنه كرليا جائے كه مرد اور عورت ميں سے كون دوسرے كے حقوق ميں كمى كرتا ہے تو اس بات كا فيصله ہوجائے گا كه أوسطا كون حقوق كى ادائيگى ميں متساہل ہے؟
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-10-11), فائزہ (02-11-11), گلاب خان (23-12-11), قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سحر (30-10-11)
پرانا 31-10-11, 11:06 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر عورت ناقص العقل ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عورت پر بے جا ذمہ داری نا ڈالی جائے ۔
نا کہ تمام حکمت اور ذہانت اور ازدواجی زندگی کو ہینڈل کرنے کی ذمہ داری تو عورت پر ڈال دی جائے حالانکہ قوامیت اور اختیارات مرد کے پاس ذیادہ ہوں لیکن حکمت کے استعمال کا مشورہ کبھی مردوں کو دیتے نہیں دیکھا گیا
ناصح کو ہمیشہ غیر جانبدار ہونا چاہیے ۔
مجھے ایسا واقعہ کسی کتاب میں نہیں ملا جس سے شوہروں کو حکمت کے ساتھ ازدواجی زندگی کو ہینڈل کرنے کا طریقہ سمجھایا گیا ہو ۔اگر کسی کے علم میں ہو تو یہاں شئیر کریں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), فیصل ناصر (31-10-11), فائزہ (02-11-11), قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11)
پرانا 31-10-11, 11:52 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہیں دیکھ لیں کہ عورت معاملات کو سلجھانے میں اور سمجھداری میں کس قسم کا مظاہرہ کرتی ہے۔

جب موضوع شوہر کے حقوق کے حوالے سے ہے تو اس میں بات عورتوں کے حقوق کی کیسے ہو گی؟؟؟
یا تو عنوان ہوتا بہترین ازدواجی زندگی کے رہنما اصول اور صرف خواتین کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہوتی پھر تو ٹھیک تھا۔
لیکن یہاں موضوع دیکھیں اور پھر بات کو آگے بڑھائیں۔ یہی وہ جلد بازی، جوشیلا پن اور دیگر خصوصیات ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا مضمون میں اشارہ کیا گیا ہے۔۔
امید ہے غصہ سے پرہیز کیا جائے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-10-11), فائزہ (02-11-11), گلاب خان (23-12-11), قاسمی (31-10-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), احمد نذیر (19-12-11), سیپ (31-10-11)
پرانا 31-10-11, 12:01 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
یہیں دیکھ لیں کہ عورت معاملات کو سلجھانے میں اور سمجھداری میں کس قسم کا مظاہرہ کرتی ہے۔

جب موضوع شوہر کے حقوق کے حوالے سے ہے تو اس میں بات عورتوں کے حقوق کی کیسے ہو گی؟؟؟
یا تو عنوان ہوتا بہترین ازدواجی زندگی کے رہنما اصول اور صرف خواتین کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہوتی پھر تو ٹھیک تھا۔
لیکن یہاں موضوع دیکھیں اور پھر بات کو آگے بڑھائیں۔ یہی وہ جلد بازی، جوشیلا پن اور دیگر خصوصیات ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا مضمون میں اشارہ کیا گیا ہے۔۔
امید ہے غصہ سے پرہیز کیا جائے گا
جی ہاں میں نے شاید آپ کے حساب سے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو ،
لیکن میں نے اپنے آخری مراسلے میں عمومی رویہ کی بات کی ہے ۔ کہ عام کتب میں ایسا واقعہ مردوں کے لیے کیوں نہیں ملتا ہے ۔
اگر آپ محض ہاں میں ہاں ملانے کو سمجھداری سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ ہے ۔
اس واقعے کو غور سے پڑھیں پہر میرا پہلا مراسلہ پڑھیں کہ اس واقعہ پر اعتراض کس بات پر کیا گیا ہے ۔
یہ مت کہیئے گا کہ ان بزرگ کے پاس عورت آئی تھی تو نصیحت بھی عورت کو ہی کی جائے گی ۔ یہاں بات عمومی رویے پر کی جائے گی کہ ہر حال میں گھروں میں فساد کی ذمہ دار عورت کو ہی کیوں ٹہرایا جاتا ہے ۔
وہ عورت آئی اپنے شوہر کی بد مزاجی کی شکایت لیے کر اور ان بزرگ نے کہا کہ اصل بیماری اسی عورت میں ہے ۔
مجھے اس رویہ پر اعتراض ہے
براہ مہربانی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ذاتیات سے پرہیز کریں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فائزہ (02-11-11), گلاب خان (23-12-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11)
پرانا 31-10-11, 12:11 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
براہ مہربانی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ذاتیات سے پرہیز کریں ۔
اس جملے کی آپ وضاحت کر دیں تو مجھے سمجھنے میں آسانی ہو گی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
آصف رضا (30-11-11)
پرانا 31-10-11, 12:20 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جی ہاں میں نے شاید آپ کے حساب سے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو ،
لیکن میں نے اپنے آخری مراسلے میں عمومی رویہ کی بات کی ہے ۔ کہ عام کتب میں ایسا واقعہ مردوں کے لیے کیوں نہیں ملتا ہے ۔
اگر آپ محض ہاں میں ہاں ملانے کو سمجھداری سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ ہے ۔
اس واقعے کو غور سے پڑھیں پہر میرا پہلا مراسلہ پڑھیں کہ اس واقعہ پر اعتراض کس بات پر کیا گیا ہے ۔
یہ مت کہیئے گا کہ ان بزرگ کے پاس عورت آئی تھی تو نصیحت بھی عورت کو ہی کی جائے گی ۔ یہاں بات عمومی رویے پر کی جائے گی کہ ہر حال میں گھروں میں فساد کی ذمہ دار عورت کو ہی کیوں ٹہرایا جاتا ہے ۔
وہ عورت آئی اپنے شوہر کی بد مزاجی کی شکایت لیے کر اور ان بزرگ نے کہا کہ اصل بیماری اسی عورت میں ہے ۔
مجھے اس رویہ پر اعتراض ہے
براہ مہربانی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ذاتیات سے پرہیز کریں ۔
ہاں میں ہاں ملانا ہر گز سمجھداری نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ ہے حسن معاملہ، برداشت اور سمجھوتے کا۔ اور یہ صرف عورت نہیں بلکہ مرد کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے بلکہ مرد کے لیے عورت سے زیادہ ضروری ہے۔
جہاں تک بات اس قصے کی ہے اسے شاید آپ اس عمومے رویے پر منحصر کر کے دیکھ رہی ہیں جس کی جانب آپ نے اوپر اشارہ کیا ۔۔۔ لیکن میرے خیال سے یہ درست نہیں ہے۔

اس کو اگر آپ اس زاویے سے دیکھیں گی تو مجھے امید ہے ان شاء اللہ آپ کی رائے میں کچھ تبدیلی آنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
دیکھیں! !! بزرگ کے پاس عورت گئی اور شوہر کے رویے کی شکایت کی۔ بزرگ کے پاس دو صورتیں تھیں۔
ایک صورت یہ تھی کہ وہ بھی عورت کے ساتھ ہمدردی کرتے اور اسے کوئی علاج، کوئی وظیفہ اور کوئی حل بتاتے ۔ اس طرح عورت کی ساری توجہ صرف شوہر کو درست کرنے پر لگ جاتی اور اس کشمکش میں شاید معاملہ پہلے سے زیادہ خراب ہو جاتا۔ مرد کا رویہ پہلے سے خراب تھا، اور زیادہ ہو جاتا۔
دوسری صورت یہ کہ وہ عورت کو سمجھاتے کہ معاملہ ادھر نہیں ہے بلکہ آپ کی جانب سے عورت کے ساتھ معاملے میں وہ حسن ابھی نہیں ایا جس سے آپ ان کو درست کر سکیں۔ جس طرح شیر کو رام کرنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلے، یہی محنت اگر شوہر پر کی جائے تو حالات بدلنے کا امکان قوی ہے۔

آپ کے خیال میں درست اور مؤثر طریقہ کون سا ہو سکتا ہے جس میں اصلاح کا امکان زیادہ اور بگاڑ کا امکان کم سے کم بلکہ ناپید ہو؟؟

یہ ایک طریقہ ہوتا ہے مصلحین کا جو بہت کارگر ہوتا ہے تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے
اور میری بہت پختہ رائے ہے کہ اگر ان بزرگ کے پاس کوئی مرد جا کر اپنی بیوی کی شکایت کرے گا تو وہ اسے بھی یہی کہیں گے کہ مسئلہ آپ میں ہے، آپ بھی شیرنی کے بال لائیں ، اور پھر اسے وہی کہے گا جو عورت کو کہا ہے۔

اس طرح کے واقعات کا لفظی معنی مراد لیا جائے تو یقینا یہ لگتا ہے کہ عورت کے خلاف عمومی رویوں کی ترجمانی ہو رہی ہے۔ لیکن اصل چیز بین السطور میں چھپی حکمت کو سمجھنا ہوتا ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
compaq (23-12-11), mama_shalla (31-10-11), فیصل ناصر (31-10-11), گلاب خان (23-12-11), یاسر عمران مرزا (31-10-11), قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), احمد نذیر (31-10-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11), سحر (31-10-11)
پرانا 31-10-11, 12:41 PM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ہاں میں ہاں ملانا ہر گز سمجھداری نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ ہے حسن معاملہ، برداشت اور سمجھوتے کا۔ اور یہ صرف عورت نہیں بلکہ مرد کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے بلکہ مرد کے لیے عورت سے زیادہ ضروری ہے۔
جہاں تک بات اس قصے کی ہے اسے شاید آپ اس عمومے رویے پر منحصر کر کے دیکھ رہی ہیں جس کی جانب آپ نے اوپر اشارہ کیا ۔۔۔ لیکن میرے خیال سے یہ درست نہیں ہے۔

اس کو اگر آپ اس زاویے سے دیکھیں گی تو مجھے امید ہے ان شاء اللہ آپ کی رائے میں کچھ تبدیلی آنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
دیکھیں! !! بزرگ کے پاس عورت گئی اور شوہر کے رویے کی شکایت کی۔ بزرگ کے پاس دو صورتیں تھیں۔
ایک صورت یہ تھی کہ وہ بھی عورت کے ساتھ ہمدردی کرتے اور اسے کوئی علاج، کوئی وظیفہ اور کوئی حل بتاتے ۔ اس طرح عورت کی ساری توجہ صرف شوہر کو درست کرنے پر لگ جاتی اور اس کشمکش میں شاید معاملہ پہلے سے زیادہ خراب ہو جاتا۔ مرد کا رویہ پہلے سے خراب تھا، اور زیادہ ہو جاتا۔
دوسری صورت یہ کہ وہ عورت کو سمجھاتے کہ معاملہ ادھر نہیں ہے بلکہ آپ کی جانب سے عورت کے ساتھ معاملے میں وہ حسن ابھی نہیں ایا جس سے آپ ان کو درست کر سکیں۔ جس طرح شیر کو رام کرنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلے، یہی محنت اگر شوہر پر کی جائے تو حالات بدلنے کا امکان قوی ہے۔

آپ کے خیال میں درست اور مؤثر طریقہ کون سا ہو سکتا ہے جس میں اصلاح کا امکان زیادہ اور بگاڑ کا امکان کم سے کم بلکہ ناپید ہو؟؟

یہ ایک طریقہ ہوتا ہے مصلحین کا جو بہت کارگر ہوتا ہے تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے
اور میری بہت پختہ رائے ہے کہ اگر ان بزرگ کے پاس کوئی مرد جا کر اپنی بیوی کی شکایت کرے گا تو وہ اسے بھی یہی کہیں گے کہ مسئلہ آپ میں ہے، آپ بھی شیرنی کے بال لائیں ، اور پھر اسے وہی کہے گا جو عورت کو کہا ہے۔

اس طرح کے واقعات کا لفظی معنی مراد لیا جائے تو یقینا یہ لگتا ہے کہ عورت کے خلاف عمومی رویوں کی ترجمانی ہو رہی ہے۔ لیکن اصل چیز بین السطور میں چھپی حکمت کو سمجھنا ہوتا ہے۔
میں نے اس واقعہ کو اس صورت میں لیا ہے کہ ایک عورت کا شوہر بد مزاج ہے ۔ اور وہ عورت اپنے گھر میں سکون چاہتی ہے ۔ اس لیے وہ شوہر سے لڑنے اورفساد برپا کرنے کے بجائے یا اپنے شوہر سے علیحدگی کے بجائے ایک بزرگ کے پاس گئی ۔ تاکہ وہ اس کو مشورہ دیں یا کوئی وظیفہ بتائیں یہ اس عورت کے خلوص کی نشانی ہے کہ وہ اپنے گھر اور اپنے شوہر کے ساتھ مخلص ہے ۔
ایسی عورت میں کونسی بیماری ہوگی یا یہ بات بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شوہر کے بد مزاج ہونے کی ذمہ دار عورت ہی ہوتی ہے ۔

اور جہاں تک مردوں کو مشورہ دینے کی بات ہے یا ایسی حکمت سکھانے کی بات ہے تو آپ مجھے انہی کتب میں سے ایسا کوئی واقعہ بیان کردیں ۔
کیونکہ مجھے ایسے واقعات مردوں کے لیے نہیں ملتے ہیں ۔
ناصح کی غیر جانبداری کی بات میں نے پرٹیکیولر اس واقعہ پر نہیں کی تھی بلکہ عمومی طور پر معاشرے کے لوگوں کو نصیحت کرنے کے سینیریو میں کی تھی ۔

اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بیویوں پر بہت ظلم ہوتا ہے جو شوہروں کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے ناصح شوہروں کو حسن سلوک کی نصیحت پر اتنا ذور نہیں دیتے ہیں جتنا عورتوں کو صبر کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ۔

ایک واقعہ یہاں بیان کرتی چلوں جو اسی مزاج کو ظاہر کرتا ہے جو ہمارے معاشرے میں پیدا کیا گیا ہے
ایک عورت کو اس کے شوہر نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا ۔ اس عورت کے پڑوسیوں نے اس سے کہا کہ تم تھانے میں شوہر کے خلاف رپورٹ درج کرادو تو اس عورت نے جواب دیا کہ اگر میں اپنے شوہر کے خلاف تھانے میں شکایت کروں گی تو قیامت کے دن میری بخشش نہیں ہوگی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11)
پرانا 31-10-11, 01:08 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,586
کمائي: 315,409
شکریہ: 25,214
16,404 مراسلہ میں 41,664 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دونوں طرف سے اس طرح کے واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔
آپ نے خاتون کا واقعہ پیش کیا کہ وہ تھانے نہیں گئی ۔۔ اور میں ایسی خواتین کو جانتا ہوں ذاتی طور پر جن کے شوہر نے ان کی ہزار خامیوں کے باوجود کبھی اف تک نہ کہا، اور خامیاں بھی ایسی کہ کم از کم میرے جیسا تو برداشت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
پھر بھی شوہر دن رات فیکٹریوں میں کام کرتا، ہر فرمائش پوری کرتا، ہر سہولت دیتا رہا ۔۔ لیکن وہی عورت اپنے شوہر کے خلاف نہ صرف تھانے بلکہ کورٹ کچہری تک بھی گئی ۔

اس لیے اس طرح کے واقعات پر ایک دوسرے کے عمومی رویوں کا اندازہ لگانے بیٹھ جائیں تو پھر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
یہ تو صرف ایک واقعہ ذکر کیا ہے۔ صرف اپنے آس پاس کا اگر میں جائزہ لوں تو ایسے ایسے واقعات ہیں کہ خدا کی پناہ ۔۔

اقتباس:
اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بیویوں پر بہت ظلم ہوتا ہے جو شوہروں کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے ناصح شوہروں کو حسن سلوک کی نصیحت پر اتنا ذور نہیں دیتے ہیں جتنا عورتوں کو صبر کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ۔
اور مجھے اس کے برعکس کہنے میں کوئی عار نہیں ۔۔ بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ عورت کی سمجھداری خاندان بچاتی ہے اور عورت کا رویہ ہی ماں اور بیٹے اور پھر پورے خاندان میں فساد کا سبب بن جاتا ہے۔
عورت پر یقینا ظلم ہوتا ہے اور میں اس سے قطعا انکار نہیں کر رہا۔ لیکن جو کچھ شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے اس کا بھی آنکھوں دیکھا حال بہت درد ناک ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), skjatala (22-12-11), قاسمی (31-10-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11)
پرانا 31-10-11, 02:41 PM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,397
شکریہ: 4,409
1,843 مراسلہ میں 6,863 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
فسادات کی اس وجہ سے مجھے اختلاف ہے ۔ ایسی خواتین جو شوہروں کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہیں یا کرلیتی ہیں ، ہمارے معاشرے میں کتنے فیصد ہونگی ۔


یہ واقعہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔
جو عورت اپنے گھر میں سکون چاہتی ہے اور اس سکون کے لیے وہ بڑے سے بڑے خطرے میں جاسکتی ہے اس کے گھر کے فساد میں عورت کا ذمہ دار ہونا میری سمجھ میں نہیں ایا
کیا گھروں میں فساد شوہروں کی وجہ سے نہیں ہوسکتا جو ہر بات کا ذمہ دار عورت کو ہی ٹہرایا جاتا ہے
گھروں میں امن و سکون بیوی اور شوہر دونوں کی ذمہ داری ہے ۔ صرف ایک کے صبر و برداشت کرنے سے گھروں میں سکون نہیں اتا ہے ۔
بد مزاج عورت کے شوہر کو بھی صبر کا مشورہ دے دینا چاہیے کبھی ۔
یہاں میں سحر سسٹر سے اتفاق کروں گا کہ زوجین کی ازدواجی زندگی میں فسادات کی اصل اور بڑی وجہ خاتون کا اپنے شوہر کو اپنے تابع کرنے کی خواہش رکھنا نہیں ہوتی بلکہ اسکی دیگر وجوہات بہت زیادہ ہیں جہاں تک بات ہے بیوی کا اپنے خاوند کو تابع کرنے کی خواہش رکھنا اور اسی کا میاں بیوی کے معاملات میں وجہ فساد ہونا ، تو یہ میرے نزدیک ایک بہت نادر الوقوع صورتحال ہے اسکی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ بنیادی طور پر مرد اور عورت کی نفسیات میں فرق ہے مرد عام طور ڈومی نیٹنگ نیچر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر معاملات میں بحیثیت فاعل کار فرما ہوتا ہے جبکہ عورت مختلف انواع کے اعتبار سے مفعول ہوا کرتی ہے مرد کی نیچر اپنے اندر ڈومی نیٹنگ عنصر کے ساتھ ساتھ اثر اندازی کا لوازمہ رکھتی ہے جبکہ عورت کی نیچر میں اس کے برعکس اثر پزیری کا عنصر غالب ہوتا ہے عمومی طور پر عورتیں عام مردوں کے مقابلہ میں نسبتا بہت کم ڈومی نیٹنگ ہوا کرتی ہیں جبکہ خصوصی طور پر اپنے خاوند کے مقابلہ میں تو یہ نیچر اور بھی نادر الوقوع ہوجایا کرتی ہے ۔ اس معاملہ میں اس حد تک تو سچائی ہے کہ عورت اپنے اندر یہ خواہش تو ضرور رکھتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کو تابع کرلے اسی لیے اکثر عورتیں اپنے خاوند کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی خواہش مند ہوا کرتی ہیں مگر انکی یہ خواہش بھی درحقیقت انکے بعض خدشات اور اکثر تحفظات کا نتیجہ ہوا کرتی ہے نہ کہ اس وجہ سے کہ وہ ڈومی نیٹنگ نیچر رکھتی ہے یعنی عورت کا اپنے مرد کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی خواہش رکھنا درحقیقت عورت کا مرد پر حکم چلانے کی غرض سے نہیں ہوا کرتا بلکہ محض اپنے دفاع اور بہترین تحفظ کی غرض سے ہوا کرتا ہے ۔ جہاں تک بات ہے گھروں میں فساد کی اصل وجہ کون ہے تو اس موضوع پر ڈیبیٹ ہوسکتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں دونوں فریقین کا کردار ہوسکتا ہے جبکہ اس قسم کے معاملات کو اگر فگر آوٹ کیا جائے تو اس میں نسبت اور تناسب کے اعتبار سے عورت کا عمل دخل زیادہ ملے گا کیونکہ گراونڈ ریالٹی کو اگر دیکھا جائے تو اکثر گھروں میں فساد کی بڑی وجہ ایک عورت کا دوسری عورت کو عمومی اعتبار سے برداشت نہ کرپانا ہے چاہے وہ ساس کا بہو کی صورت میں ہو یا اس کے برعکس یا پھر بھابھی کا نند اور نند کا بھابھی کے ساتھ مس بیہو ۔ لہذا اس قسم کے معاملات میں خرابی کی اصل جڑ تو خود خاتون ہوا کرتی ہے مگر اس میں بڑی حد تک مرد کا انتظامی امور میں نااہل ہونےکے اعتبار سےبھی ہاتھ ہے ۔سو اس قسم کی صورتحال عمومی طور پر بڑی حد تک دونوں (میاں اور بیوی ) کی نان سیریس نیس اور ایک خاتون (بیوی)کی دوسری خاتون (ساس یا نند) سے کافی حد تک مس اندراسٹینڈنگ جبکہ ایک مرد (شوہر)کی کسی حد تک مس ہینڈلنگ کا نتیجہ ہوا کرتی ہے ۔ باقی واللہ اعلم والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 31-10-11 at 02:45 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آصف رضا (30-11-11), احمد نذیر (31-10-11), سیپ (31-10-11), سحر (31-10-11)
پرانا 31-10-11, 03:31 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,608
کمائي: 172,641
شکریہ: 8,813
5,789 مراسلہ میں 21,400 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
عورت عورت ہی ہوتی ہے
آپ لوگوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی
بلاوجہ اتنی بحث

آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں سحر بہن
فیصل بھائی اس بات کا کیا مطلب ہے ۔
کیا آئندہ ہم بھی یہ کہہ کر کہ مرد مرد ہی ہوتا ہے اس سے بات کرنا ہی فضول ہے کہ وہ کسی خاتون کے آرگیومنٹ کو سیریس نہیں لے گا
تو اپ کیا سمجھیں گے ۔
اس لیے فیصل بھائی پلیز عورت وغیرہ جیسے کمنٹس کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔ ۔
اور جہاں سیریس بات ہورہی ہو وہاں اس قسم کے کمنٹس کے کیا معنی ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آبی ٹوکول (31-10-11), آصف رضا (30-11-11), سیپ (31-10-11), سام (02-11-11)
پرانا 31-10-11, 04:03 PM   #15
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہن جی بات یہ ہے کے عورت اور مرد کی فطرت و عادات اللہ نے الگ الگ رکھی ہے
اسلئے جب بھی عورت اور مرد کا تقابلہ کیا جائے گا تو کسی مشترک نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے

رہ گیاسوال کے گھریلو حالات کا ذمہ دار کون ؟
تو اس میں شوہر اور بیوی دونوں کا ہی کچھ نا کچھ کردار ہوتا ہے
کبھی شوہر اسکا ذمہ دار تو کبھی بیوی اس کی وجہ بنتی ہے اور کبھی دونوں
ویسے میرے نزدیک تو اس کی زیادہ وجہ شوہر و بیوی کے درمیان کمیونیکشن گیپ ہوتا ہے

اب اگر ہم یہ بحث کریں کے کون ذمہ دار تو ؟؟
تو اس کا کوئی عالمی کلیہ نکل ہی نہیں سکتا

پھر کیا یہ فضول بحث نہیں کہلائے گی ؟
موجودہ تھریڈ کی کہانی کا ایک جملہ آپ نے نظر انداز کردیا
اقتباس:
وہ بزرگ اللہ والے اور سمجھدار تھے، ایسے ویسے دنیا کمانے والے عاملوں کی طرح نہیں تھے، سمجھ گئے کہ اصل بیماری تو عورت کے اندر ہے،
یہاں علاج جب کیا جارہا ہے جبکے مرض ڈائگنوس ہوچکا ہے ؟
یہ نہیں کہا گیا کے ہر صورت میں بیوی ذمہ دار ہوتی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (31-10-11), مرزا عامر (30-11-11), آصف رضا (30-11-11)
جواب

Tags
کوشش, گھر, واقعات, مکمل, محبت, مسلمان, آج, اللہ, جیت, حکم, حال, خوش, خلاف, دنیا, رات, سردار, شوہر, شخص, عورت, عورتوں, علامت, علاج, غالب, غصہ, صفات


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger