واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


آذادی کی اصل تکمیل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-08-10, 01:36 PM   #1
آذادی کی اصل تکمیل
سحر سحر آن لائن ہے 10-08-10, 01:36 PM

کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے بد تر ذہنی غلامی ہوا کرتی ہے۔ کیوں کہ اس میں انسان آزاد ہونے کے باوجود اپنی مرضی سے نہ تو سوچ سکتا ہے اور نہ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انگریزوں نے جب برصغیر پر قبضہ کیا تو مسلمان ،اس وقت غلام نہیں ہوئے جب ان کے حکمرانوں کو انگریزوں نے پابند سلاسل کیا، بلکہ مسلمانوں کی اصل غلامی کا آغاز ان کے تعلیمی نظام کی تبدیلی سے ہوا ۔
انگریزوں نے مسلمانوں کو غلام بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پرمسلمانوں کا صدیوں سے چلتا ہوا تعلیمی نظام بدل ڈالا۔ جس کے بعد راتوں رات عربی اور فارسی جاننے والا جاہل قرار دے دیا گیا اور انگریزی بولنے ولا عالم ۔ اور مسلم معاشرے کو ہر طرح کی ترقی سے پیچھے دھکیلنے کے لئے نوکریوں کے لیے انگریزی کو لازم کردیا گیا ۔ اور اس سازش میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام سرکاری ملازمتوں پر انگریز اور ہندو قابض ہوتے چلے گئے۔
سرسیید احمد خان نے وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انگریزی کی تعلیم پر زور دیا اور مسلمانوں کے لئے اس کا انتظام کیا ۔لیکن اس کے ساتھ چونکہ مسلمانوں کو اپنے ثقافتی ورثے سے منسلک رکھنے کے اقدامات مؤثر نہیں کئے گئے تھے اس لئے آہستہ آہستہ مسلمان اپنی تہذیب کو بھولتے گئے اور مغربی تہذیب اور انگریزوں کا طور طریقہ اپنانے میں فخر محسوس کرنے لگے ۔ یہاں سے صحیح معنوں میں مسلمانوں کی سوچ غلام ہونا شروع ہوئی۔
جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ہم جسمانی طور پر تو آذاد ہوگئے لیکن ذہنی غلامی کا دور ختم نہ ہو سکا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس طرح ہنگامی بنیادوں پر انگریزوں نے ہمارا تعلیمی نظام بدلہ تھا اسی طرح ہنگامی بنیادوں پر ہم کوبھی واپس اپنے تعلیمی نظام اور اپنی تہذیب کی طرف لوٹ آنا چاہیے تھا ۔ لیکن ایسا نا ہوا۔۔ ہم ہر آنے والے دن کے ساتھ ذہنی غلامی میں اس قدر پختہ تر اور اتنے خوگر ہوتے چلے گئے کہ آزادی کے لئے جدوجہد تک ترک کر دی۔
سب سوچ رہے ہونگے کہ کہ انگریزی بولنے اور مغربی لباس پہن لینے میں کیا قباحت ہے۔ بات درست ہے اس میں کوئی قباحت نہ سہی لیکن اصل مسئلہ انگریزی بولنے یا مغربی لباس پہنے کا نہیں بلکہ مسئلہ اس سوچ کا ہے جس کے تحت انگریزی بولنے والا عالم اور اردو بولنے ولا جاہل تصور یا جاتا ہو۔ انسان کو اس کی قابلیت سے پرکھنے کے بجائے اس کی زبان سے پرکھا جائے، اورقابل لوگوں کو معاشرے میں اچھا مقام اس لیے نا ملے کہ وہ انگریزی نہیں جانتے ۔
اس کو غلامانہ سوچ کہتے ہیں ۔
مغربی لباس پہننے میں کوئی برایی نہیں لیکن پینٹ شرٹ پہنے ہویے شخص کو مہذب اور شلوار قمیص میں ملبوس انسان کو پینڈو سمجھنا غلامانہ سوچ ہے ۔
کانٹے چھڑی سے کھانا کھانے والے کو مہذب اور ہاتھ سے کھانے والے کو غیر مہذب سمجھا جائے
یہ سوچ غلامانہ سوچ ہے ۔

جہاں تک نصاب تعلیم میں عربی اور فارسی کا تعلق ہے تو یہ اس لیے بھی ضروری پے کہ ہمارے اکابرین کی کتب انہی زبانوں میں ہیں۔ اگرچہ کچھ مواد کا ترجمہ ہو چکا ہے لیکن ایک بڑا ذخیرہ تا حال انہی دو زبانوں میں ہے۔ اگر ہم اپنے اسلاف کے بارے میں جاننا چاہیں تو ہمیں ان زبانوں کا آنا بہت ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز پاکستان باقی غلام ممالک سے قدرے بہتر ہے
آج پاکستانی انگریزی آنے کے باوجود اردو بولنا پسند کرتے ہیں ، شلوار قمیض پہن کر فخر کرتے ہیں ۔اور اپنے تشخص کی حفاظت کی کوشش کرتے ہیں ۔
لیکن ہم مکمل آذاد اس وقت ہونگے جب ہمارا تعلیمی نظام ہمیں ایک بار پھر ہماری روایات اور ہماری تہذیب کی طرف لانے والا ہو گا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1163
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), فیصل ناصر (10-08-10), ھارون اعظم (10-08-10), نورالدین (10-08-10), ناصحی (11-08-10), منتظمین (10-08-10), محمد عاصم (13-08-10), مرزا عامر (11-08-10), احمد بلال (11-08-10), راجہ اکرام (10-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10), عبداللہ حیدر (10-08-10)
پرانا 10-08-10, 02:09 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں اور ہارون بھائی سے درخواست ہے کہ ایک ادھ دن میں لگا دیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), ھارون اعظم (10-08-10), احمد بلال (11-08-10), راجہ اکرام (10-08-10), سحر (10-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 10-08-10, 02:22 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,195
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

14
بہت اچھی تحریر ہے سحر بہن
14 اگست کے حوالے سے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (10-08-10), راجہ اکرام (10-08-10), سحر (10-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 10-08-10, 02:50 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم سحر بہنا
بہت ہی خوبصورت تحریر ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

ہم لوگ عالم رنگ و بو پر قناعت کر کے بیٹھ گئے ہیں، صرف جسمانی آزادی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ اصل آزادی تو ذہنی آزادی ہے، سوچ اور فکر کی آزادی ہے۔
اور اس کے لئے پہلا سنگ میل نظام تعلیم ہے ۔۔جب تک یہ ہماری روایتی قدروں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا تب تک اس غلامی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by shafresha; 10-08-10 at 10:40 PM. وجہ: ایک حرف کی تصیح!
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-08-10), ھارون اعظم (10-08-10), مرزا عامر (11-08-10), احمد بلال (11-08-10), سحر (10-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 10-08-10, 11:58 PM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
سرورق کے لیے پیش کریں اور ہارون بھائی سے درخواست ہے کہ ایک ادھ دن میں لگا دیں۔
السلام علیکم،

سحر بہن کی تحریر سرورق کے لئے شیڈول کردی گئی ہے۔

شکریہ
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-08-10), احمد بلال (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 11-08-10, 06:58 PM   #6
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,992
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں

ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس طرح ہنگامی بنیادوں پر انگریزوں نے ہمارا تعلیمی نظام بدلہ تھا اسی طرح ہنگامی بنیادوں پر ہم کوبھی واپس اپنے تعلیمی نظام اور اپنی تہذیب کی طرف لوٹ آنا چاہیے تھا ۔ لیکن ایسا نا ہوا۔
آپ موجودہ تعلیمی نظام میں کس قسم کی تبدیلیاں چاہتی ہیں؟
صرف تعلیمی میڈیم کو انگلش سے اردو میں بدلنے کی یا نصابی مضامین کو بھی بہت حد تک بدلنے کی ضرورت ہے ؟
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-08-10), کنعان (11-08-10), مرزا عامر (11-08-10), سحر (16-08-10)
پرانا 12-08-10, 12:01 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,635
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
آپ موجودہ تعلیمی نظام میں کس قسم کی تبدیلیاں چاہتی ہیں؟
صرف تعلیمی میڈیم کو انگلش سے اردو میں بدلنے کی یا نصابی مضامین کو بھی بہت حد تک بدلنے کی ضرورت ہے ؟
دیکھیں ناصی بھایی
جب نظام کے بدلنے کی بات ہوتی ہے تو وہ کویی ایک یا دو پواینٹس پر مقید نہیں‌ہوتی ہے ۔
ہمارا اپنا ایک تعلیمی نظام موجود تھا ، وہ کیا تھا ۔
بات صرف میڈیم بدلنے کی نہیں ۔
بات یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بنانا کیا چاہتے ہین اور شروع سے ہی ہم ان کو سکھاتے کیا ہیں ۔
آپ مونٹسری سے لیے کر میٹرک تک کا کورس اٹھا کر دیکھ لیں ۔ اس میں ہماری تہذیب کے مطابق کتنا علم دیا جاتا ہے ۔
بچوں کو بالکل شروع میں زبانی پویم سکھایی جاتی ہیں ۔
ان میں ہماری تہذیب کا کچھ نہیں ہوتا ۔ بلکہ ان نظموں کا مقصد اگر انگریزی میں ہے تو انگریزی کی وکیبلری بڑھانا ہے ۔
پہر جب لکھنا شروع کرتا ہے تو پورے سال ہا سال اے بی سی لکھتا رہتا ہے
نا اتنے چھوٹے بچوں کو آداب سکھایے جاتے ہیں‌، نا سلام کرنا سکھایا جاتا
اور نا کویی دعاییں یاد کرایی جاتی ہیں ، یہ سب کام ماں باپ کے ہوتے ہیں‌اور اگر ماں باپ سکھانے والے ہوں تو وہ سکھاتے ہیں
سلام بھی گڈ مارننگ ، دعاوں کی جگہ نظمیں وہیں ہمٹی ڈمٹی ۔
یہ ہمٹی ڈمٹی ہے ہماری تہذیب ۔

میں اپنے بچوں کو خود پڑھاتی ہوں ۔
چھوٹے بچوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اتنی اچھی ہوتی ہے کہ ہم ان کو اللہ کا بیغام سکھادیں‌تو وہ سمجھ جاییں ۔
لیکن ہم بچوں کی اس صلاحیت کو زنگ لگادیتے ہیں اپنے سسٹم کی بدولت

میں رات کو اپنے بچوں کو کہانی سنانی ہوں
ذیادہ تر کہانیاں یا قصے ۔ قرآن کے قصے ہوتے ہیں‌
مجھے حیرت ہوتی ہے اپنے پانچ سال کے بچے پر کہ اس کو ہر بات اتنی اچھی طرح یاد رہتی ہے اور وہ ہر بات سمجھتا بھی ہے ۔
ہم اسکول میں‌قرآن کے متعلق بچوں کو کتنا بتاتے ہیں‌
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے متعلق کتنا علم دیتے ہیں‌
کیا ہمارے کورس میں شامل اسلامیات ۔ اس ضرورت کو پورا کرتی ہے
بالکل بھی نہیں

میں ایک ڈاکٹر ہوں ۔ میں‌بھی اسی سسٹم سے تعلیم حاصل کی

اپنی گریجویشن کے بعد جب میں‌نے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک انسٹٹیوشن داخلہ لیا ۔ اور پڑھنا شروع کیا تو مجھے ایسا لگا کہ میں جاہل ہوں
مجھے اسلام کی بہت سی بنیادی باتوں کا علم نہیں تھا ۔

میں ایسے سسٹم کی بات کررہی ہوں جہاں ہم کو ہمارے دین ، ہمارے اسلاف ، اور ہماری تہذیب کا علم دیا جایے
انگریزی ایک سیبجیکٹ کی طرح پڑھانے میں کویی ہرج نہیں ۔
لیکن عربی اور فارسی بھی ضروری ہونی چاہیے ہمارے نصاب میں‌۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-08-10), فیصل ناصر (12-08-10), مرزا عامر (12-08-10), احمد بلال (12-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 12-08-10, 02:37 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,915
شکریہ: 10,606
1,223 مراسلہ میں 3,229 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی سسٹم کے حوالے سے میں‌بھی سحر بہنا سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن میں نے جب دوبارہ تحریر پڑہی تو کلیئر ہو گیا۔
ہمیں‌ اپنے بچوں کو اپنی تہذیب اور اسلاف کا سبق سکھانا ہے۔
رہی بات انگریزی میڈیم کی تو جیسے ہمادے آبا نے تحقیق کی تھی تو پوری دنیا میں جدید تحقیق عربی ،فارسی میں مہیا تھی۔ اسی طرح آج ہر جدید سسٹم اور تحقیق زیادہ تر انگریزی میں موجود ہے اس لئے ہمیں‌ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے انگریزی سسٹم کا سہارا لینے میں‌کوئی حرج نہیں۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-08-10), منتظمین (12-08-10), سحر (12-08-10)
پرانا 12-08-10, 02:58 PM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,635
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دیکھیں بلال بھایی
انگریزی سیکھنے کی بھی ضرورت ہر ایک کو نہیں ہے
ہر بچہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماسٹرز نہیں کرتا ہے ۔
اور بہت سے سبجیکٹس ہم بغیر انگریزی کے بھی سیکھ سکتے ہیں‌۔
میں آپ کو ایک مزے کی بات بتاتی ہوں
ہمارے ڈینٹل کالج میں‌ایک دو کو چھوڑ کر تمام ٹیچرز اردو میں ہی لیکچرز دیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو انگلش نہیں آتی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انگلش اتنی بھی ضروری نہیں ہے
ہمارے ڈینٹل کالج میں کافی لڑکیاں اردو میڈیم سے آتی تھی ۔ ان کو شروع میں‌مشکل ہوتی تھی لیکن ٹیچرز کے لیکچرز کی وجہ سے وہ ایڈجسٹ ہوجاتی تھیں ۔
حالانکہ ہماری کتابیں‌سب انگلش میں‌ہوتی ہیں‌
ہم اگر چاہیں تو ہر کتاب کا ترجمعہ اردو میں باآسانی کرسکتے ہیں ۔

چائنہ کو ترقی کرنے کے لیے انگلش کی ضرورت کیوں نہیں پڑی ۔
وہ تو بغیر انگریزی کے آیندہ کی سپر پاور بننے کی تیاری کررہا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), مرزا عامر (12-08-10), احمد بلال (12-08-10), عبداللہ آدم (12-08-10)
پرانا 12-08-10, 05:40 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,101
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,719 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جاپان اور کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جاپان نے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکیوں سے صرف اپنے تعلیمی نظام کو جوں کا توں رکھنے کی شرط منوائی تھی اور آج سب ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوری ا جانے والے حضرات کو انگلش کام نہیں اتی کہ انہوں نے سائنسی کتب کا ترجمہ کورین ہی میں کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہیں جہاں میں زندہ قومیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-08-10), مرزا عامر (12-08-10), احمد بلال (12-08-10), سحر (12-08-10)
پرانا 13-08-10, 02:30 AM   #11
Senior Member
 
گوہر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
کمائي: 14,486
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مقامات اعتبار بہت حسیں ہیں مگر
حالات یہ بتاتے ہیں کہ اعتبار نہ کر

حقیقت پسندی یہ ہے کہ انگلش کو صرف اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ ایک بین الاقوامی زبان ہے جو تمام ممالک کے مابین باہمی روابط میں اسانی پیدا کرتی ہے ، البتہ اگر سارے انگریز مسلمان ہو گئے تو کیا یہ زبان پھر بھی اپنی تاریخ کے آئینہ میں دیکھی جائے گی؟
__________________
زندگی کا ہر روز تیری تاریخ کا ایک ورق ہے جبکہ الفاظ اپنی قوت میں بیمثال ہوتےہوئے زندگی کو دوام بخشتے ہیں
www.urdusky.com
گوہر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوہر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10)
جواب

Tags
ہندو, کوشش, پاکستان, پاکستانی, پسند, وقت, مکمل, مسلمان, آزاد, آزادی, انسان, اردو, ترک, جاہل, حال, خان, شخص, شروع, عالم, عربی, عزیز, غلامی, صلاحیت, صحیح, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:35 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger