واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


خار وطن کے سامنے سب پھو ل ہیچ ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-08-09, 10:02 AM   #1
خار وطن کے سامنے سب پھو ل ہیچ ہیں
ڈاکٹرنور ڈاکٹرنور آف لائن ہے 04-08-09, 10:02 AM

یہ تو ہمار ا روز کا معمول تھا
ہم سکول جا تے ہوئے بابا اکرم کو ضرور سلام کرتے ۔
وہ ہمیشہ اپنے گھر سے منسلکہ بیٹھک پر صبح سویرے آکر بیٹھ جا تے ۔ ایک حقہ ان کا رفیق خاص ہوتا۔وہ ایک خوبصورت پایوں والی رنگین سوتی بان سے بنی چارپا ئی پر اکیلے بیٹھے ہوتے- ان کے سامنے دائیں اور بائیں جانب تین تین چارپائیاں مزید بچھی ہوتیں۔ وقت گذرنے کیسا تھ ساتھ ان چارپائیوں پر آکر بیٹھنےوالوں کی تعدا د بڑھتی جا تی۔
جب ہم با با اکرم کو سلام کرتے تو وہ بہت پیار سے مسکراتے، ہلکا سا سر کو خم دیتے اور بڑی دبنگ آواز میں کہتے
" وعلیکم السلام۔ ہاں بھئ بچو ۔ سکو ل کی تیاریاں ہو گئیں۔"
ہم کہتے " جی بابا جی"
"شاباش بچو۔ جیتے رہو" ان کا جواب ہوتا۔
ہمارے کان روزانہ ان فقروں کو سننے کے عادی تھے۔
بہت کم ایسا ہو تا کہ بابا اکرم اپنی بیٹھک پر صبح سویرے موجود نہ ہوتے۔ اور جب ایسا ہوتا تو ہم سمجھ جاتے ۔ آج بابا اکرم اپنی بیٹی سے ملنے ساتھ والے گائوں گیا ہے۔ اور دو دن کے بعد ہی واپس آئے گا۔ بابا اکرم کی ایک ہی بیٹی تھی جو ساتھ والے گائوں میں بیاہی ہو ئی تھی۔ بابا اکرم مہینے میں ایک آدھ دفعہ اپنی بیٹی سے ملنے ضرور جا تا۔
یہ بابا اکرم کون تھا ۔ اس بارے میں ہما ری معلومات بہت محدو د تھیں۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ پاکستان بننے کے ایک سال بعد وہ ہمارے گائوں آیا تھا۔ اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ بابا اکرم کا تعلق ہندوستان کے کسی گائوں سے تھا اور وہ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگیا تھا۔
بس اس سے زیا دہ ہم کچھ نہ جانتے تھے ۔
بے شک ہم بابا اکرم کے بارے میں زیا دہ نہ جانتے تھے لیکن بابا اکرم کی شفقت اور محبت کے ہم گرویدہ تھے۔ انکے دبنگ مگر پیار کی چاشنی سے لبریز لہجے میں رچی بسی لفظوں کی مٹھاس ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے تھے۔

 
ڈاکٹرنور's Avatar
ڈاکٹرنور
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 389
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (04-08-09), طارق راحیل (06-08-09)
پرانا 04-08-09, 11:08 AM   #2
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ

" آج بابااکرم بیٹھک پر موجود نہیں ۔ لگتا ہے اپنی بیٹی کے پاس گیا ہوا ہے" شاہد نے گلی مڑتے ہی کہا تو سب لڑکوں کی نظریں بیٹھک کی طرف اٹھ گئیں۔
" نہیں یا ر ۔ بابا اکرم تو پچھلے ہفتے وہا ں گیا ہو ا تھا" حفیظ نے یا د دلایا تو سب نے ہا ں میں ہا ں ملائی
" پھر کیا مسئلہ ہے؟ " میرے پڑوسی شہر یا ر نے پریشانی کے لہجے میں کہا۔
" چلو واپسی پر پتہ کرلیں گے " میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے سکول کی طرف قدم بڑھا دیے۔
واپسی پر بابا اکرم کے بارے میں معلومات لینے کا کسی کو خیال نہ آیا ۔
دوسرے دن بانا اکرم پھر غا ئب پائے گئے۔
اب تو ہم لوگ بے چین ہوگئے۔ ارشد بابا اکرم کے گھر کے نزدیک ہی رہتا تھا اور ہم سے ایک کلاس آگے تھا ۔ اس سے پو
چھا تو پتہ چلا بابا اکرم بیمار ہے اور اسی وجہ سے بیٹھک پر نہیں بیٹھ رہا۔
ہم لڑکوں نے شام کو بابا اکرم کے پاس جا نے کا پروگرام بنا یا ۔ گھر والوں سے اجازت لے کر ہم شام کو بابا اکرم کے گھر پہنچ گئے۔
انکی بیگم نے دروازہ کھو لا اور اتنے سارے بچے دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔ مگر جب ہم نے بتا یا کہ ہم بابا اکرم کی طبیعت کے بارے میں پتہ کرنے آئے ہیں تو بہت خوش ہوئیں۔ اور سب کو اندر بلا لیا۔
بابا ایک چارپائی پرلیٹے ہوئے تھے ۔ ہمیں دیکھا تو پہلے حیران ہوئے مگر جب اماں نے بتا یا کہ یہ سب آبکی طبیعت کا پتہ کرنے آئے ہیں تو اتنے خوش ہوئے کہ اٹھ کر سب کو باری باری گلے لگایا۔ اور بیٹھنے کیلئے کہا۔
پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ انکی آنکھوں سے اتنے موٹے موٹے آنسو گر نے لگے۔ جیسے تسبیح کے دانے گر رہے ہوں
میں نے اس دن زندگی میں پہلی مرتبہ ان کو روتے دیکھا۔ پھر بے اختیا ر میری آنکھوں سے بھی جھڑی جا ری ہوگئی۔

بابا اکرم تو تڑپ اٹھے اور ایک اٹھ کر میرے پاس آگئے ۔ " آپ کو کیا ہوا بیٹے۔ کیوں رورہے ہو"
انہوں نے مجھے اپنے بڑے بڑے بازوئوں میں سمیٹتے ہوئے۔ تو میری منہ سے صر ف اتنا نکلا " بابا جی آپ جو رو رہے ہیں"
to be continued

Last edited by ڈاکٹرنور; 05-08-09 at 08:35 AM.
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09)
پرانا 04-08-09, 11:51 AM   #3
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بابا جی نے اپنے آنسو فورا پونچھے اور مسکراتے ہو ئے کہا " بھئ میں تو بیمار تھا اس وجہ سے رو رہا تھا۔ چلو خیر چھوڑو۔
یہ بتائؤ ۔ اپنے گھر والوں کو بتا کر آئے ہو"
" جی" سب لڑکوں نے کورس میں کہا تو با با مطمئن ہو گئے۔
ہم نے با با سے بہت ساری باتیں کیں۔ امان جی ہما رے دودہ لے کر آئیں۔ جو سب نے پیا ۔
اب با با جی کی طبیعت بہت بہتر لگ رہی تھی۔
کہنے لگے " بچو میں آج آب کو ایک کہا نی سنا تا ہوں۔ پھر پتہ نہیں زندگی موقع دے یا نہ دے۔"
ہم سب متوجہ ہوگئے۔
بابا جی نے کہا نی شروع کی
" بہت سال پہلے ایک بہت ہی خوبصورت گائوں میں ایک بچہ رہتا تھا۔ جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ اسکی سات بہنیں تھیںاور سب کی سب اپنے بھا ئی پر وارے جاتی تھیں۔ بچے کا باپ ایک بہت بڑا زمیندار تھا اور اسکے گھر روپے پیسے کی کمی نہ تھی ۔ چنا نچہ لاڈلا ہونے کی وجہ سےبچے کی ہر خواہش پوری کی جا تی تھی۔ جب بچہ سکول جا نے کی عمر تک پہنچا تو اسے گائوں کے سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ تاہم بچے نے فرمائش کی کہ وہ سکو ل پیدل نہیں جا ئے گا بلکہ بگھی پر جا ئے گا۔ گائوں میں کسی کے پاس بگھی نہ تھی مگربچے نے یہ بگھی قریبی شہر میں دیکھی تھی۔
چنانچہ بچے کیلئے ایک بگھی خریدی گئی اور وہ سکول آنے جا نے لگا۔ بچہ لائق تھا اور ہر کلاس میں ہمیشہ پہلے نمبر پر آتا تھا۔
پانچویں پاس کرنے کے بعد بچے کو شہر کے سکول میں داخل کروایا گیا کیوں کہ گائوں میں صر ف ایک ہی پرائمری سکول تھا۔
وہ بچہ بہت نازو تعم میں پل رہا تھا اور اسکی زندگی جنت کا نمونہ تھی۔
اچانک انہی دنوں خبریں آنے لگیں کہ مسلمان اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔
بچہ اگر چہ ابھی شعور کی منزلیں طے کر ریا تھا مگر وہ کچھ کچھ سمجہ رہا تھا۔ کہ مسلمان اور ہندو آپس میں ایک دوسرے کونا پسند کرتے ہیں۔
تھوڑے ہی دنوں یہ باتیں شدت اختیا ر کرتی گئیں۔ بچے کے والد کے پاس بہت سے لوگ آتے تھے اور بہت دیر تک گفتگو ہوتی تھی ۔ پھر ایک دن اسکے گائوں میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ بہت سارے لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اٹھا کر نعر ے لگا تے تھے۔ بچہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہورہا تھا اور وہ بھی ان نعروں میں شامل ہوگیا۔
اچا نک شور اٹھا کہ قا ئد اعظم محمد علی جناح پہنچ گئے ہیں۔ لوگو ں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔
بھر جب قا ئد اعظم بولنے کیلئے آئے تو بچے کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ مگر نعروں میں وہ سب کے ساتھ شریک تھا۔
یہ منظر اس بچے کی یاداشت ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔

کچھ دن بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔ کہ لوگ لڑنا شروع ہو گئے۔ روزانہ جھڑپوں کی با تیں ہوتیں۔ بچے کی حویلی میں بہت سے لوگ آگئے۔ اور صحن ان لوگوں سے بھرنا شروع ہوگیا۔ بہت سی عورتیں اور بچے بھی آنا شروع ہو گئے۔
ان کا گھر گویا مہمان خانہ بن گیا۔
پھر وہ رات بھی آئی جب اس بچے کا سب کچھ لٹ گیا۔

بلوائیوں کے ایک ٹولے نے انکی حویلی پر حملہ کردیا۔ بچے کو جب جا گ آئی تو اس نے دیکھا کہ اسے اسکی ماں نے اسے اپنے کندھے سے لگا یا ہوا ہے اور دوڑ رہی ہے۔ اچانک اسکی مان گری اور اسکے سا تھ ہی بچہ بھی اچھل کر دور جھاڑیوں میں جا گرا۔
پھر بچے نے اپنی ننھی منی معصوم آنکھو ں سے دیکھا کہ ایک سکھ نے اسکی ماں کے سینے میں چھرے کے کئ وار کئے ۔ اور پھر بھا گ گیا ۔
بچہ تو جیسے سن ہو گیا۔
پتہ نہیں کب وہ بچہ دوڑ کراپنی ماں کے پاس آیا۔
اس نے دیکھا اسکی ماں مر چکی تھی۔۔۔"
یہاں پہنچ کر با با اکرم کی گھگھی بندہ گئ۔
میرے سمیت سب لڑکوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
To be continued

Last edited by ڈاکٹرنور; 05-08-09 at 08:35 AM.
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09)
پرانا 04-08-09, 12:10 PM   #4
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قابل احترام ڈاکٹر نور صاحب ایک عرض ہے یہ اگر آپ کی کوئی تحریر لکھے رہے ہو جو مکمل نہ ہوئی ہو تو اس کے آخر پر جاری ہے لکھ دیا کریں تا کہ تحریر کا ردم نہ ٹوٹے جیسے آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ تحریر کے مکمل ہونے سے قبل جوابات آنے شروع ہوگئے ہیں
شکریہ
آپ کی تحریر مکمل ہونے پو آپ کو پاک نیٹ کی جانب سے انعامی پوائینٹس ارسال کئے جائیں گے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 08:17 AM   #5
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
قابل احترام ڈاکٹر نور صاحب ایک عرض ہے یہ اگر آپ کی کوئی تحریر لکھے رہے ہو جو مکمل نہ ہوئی ہو تو اس کے آخر پر جاری ہے لکھ دیا کریں تا کہ تحریر کا ردم نہ ٹوٹے جیسے آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ تحریر کے مکمل ہونے سے قبل جوابات آنے شروع ہوگئے ہیں
شکریہ
آپ کی تحریر مکمل ہونے پو آپ کو پاک نیٹ کی جانب سے انعامی پوائینٹس ارسال کئے جائیں گے
شاہ جی۔
میں دراصل اس تحریر کو کل ہی مکمل کربا چاہ رہا تھا۔ الفا ظ بھی ساتھ دے رہے تھے ۔ کہ اچانک "وہ" نگوڑی چلی گئی جسے " بجلی " کہتے ہیں۔
اب بھلا میں کیا کرتا۔
بہرحال سب دوستوں کی پسندید گی کا شکریہ۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (05-08-09), رضی (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 09:16 AM   #6
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ

بابا تھوڑی دیر کے بعد پرسکون ہوئے اور دوبارہ کہابی شروع کی
" اسکے بعد وہ بچہ کہاں کہا ں گیا یہ ایک لمبی داستان ہے۔ وہ اپنی بہنوں اور باب کو بہت تلاش کرتا رہا مگر بے سود۔
اس دوران اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ کئی دن تک بھو کا پیا سا رہنے کا تلخ تجربہ حا صل کیا ۔
زندگی کی تمام آسائشیں اب اس سے روٹھ چکی تھیں۔
ہاں اسے قدم قدم پہ کچھ مہربان ملتے رہے۔ اور وہ صعوبتیں برداشت کرتا ایک دن نئے وجود میں آنے والے ملک کی مٹی کو چوم رہاتھا۔
پتہ نہیں اس بچے کو کیسے احساس ہو ا کہ یہ مٹی بہت محترم ہے۔
شاید اس لئے کہ یہ مٹی اسے پورا خاندان کھونے کے بعد ملی تھی۔
بھر وقت کی گردشوں کیساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوتا گیا لیکن اپنی پہنوں اور باپ کی تلاش بھی جا ری رکھی ۔
۔
بھر ایک دن یہ تلاش بھی ختم ہو گئی۔
اسے بہت عرصے بعد اسکے آبائی گائوں کا ایک فرد مل گیا ۔
کاش وہ اسے نہ ملا نہ ہوتا۔
اس نے بتا یا کہ اس کا تو پورا خاندان ہی بلوائیوں نے مار دیا تھا۔
۔
کیا آپ اس کے کرب کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ؟
جب تک اسے یہ خبر نہ ملی تھی وہ ایک آس پر زندہ تھا۔اب تو اس کی یہ آس بھی ختم ہوگئی۔
وہ بالکل بکھر گیا۔"

بابا خاموش ہوگئے۔
سب بچے دکھ کی ایک کربناک لہر اپنی اپنی رگ رگ میں محسوس کررہےتھے۔
وہ لمحے بہت بھاری تھے۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ سب کے پا س جیسے الفا ظ ہی ختم ہوگئے تھے۔

جیسے صدیا ں گذر گئیں
پھر اچانک ایک ٹوٹتی ہو ئی آواز میں سوال آیا
"وہ بچہ اب کدھر ہوگا"

با با جی بچوں کی طرح بلکنے لگے
" وہ بچہ۔۔۔
وہ بچہ--- تو کب کا مرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ایک بوڑھا جسم آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
میں آپ کے سا منے ہوں "

"جی آپ"
سب بچے جیسے حیرت سے چیخ پڑے۔
" جی بچو ۔۔۔ وہ بچہ میں ہی تھا" بابا کے لہجے میں صدیوں کا کرب تھا۔
"بچو ۔۔
میں آج اپنے آپ کو بہت ہلکا بھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ آج بہت عرصے بعد کھل کر رویا ہوں شا ید"

آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز
چند لمحو ں کی یہ ر ا حت بھی بڑی ہو جیسے


"بچو۔۔ میں نے آج آپ کو اپنی کہا نی اس لئے سنا ئی ہے کہ آپ کو اندازہ ہو ۔ ہمارے پیارے ملک کی مٹی کتنی مقدس ، کتنی قیمتی ہے۔
بچو ایک پوری نسل نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر آنے والی نسل کو خوشحالی اور آزادی کی تعمت سے سرفراز کیا ہے۔
اس ملک کی مٹی میرے لئے میری آنکھوں کا سرمہ اس لئے ہے کہ میرا پورے خاندان کا لہو اس مٹی کے حصول میں صرف ہوا۔
میرے بچو
بڑے ہو کر اپنی پچھلی نسل کی قر با نی کو بھول نہ جانا۔
اس وطن نے ہمیشہ آپ کو خوشیا ں دی ہیں ۔ بہا ر دی ہے۔ خوشبو دی ہے۔ پھول دیے ہیں۔
اگر کبھی زندگی میں آپ کو یہ وطن کانٹے بھی دے تو انکی چبھن کو خا موشی سے سہ لینا۔ کیوں کہ اپنے وطن کے کانٹے غیروں کے بھولوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔"
سب بچوں کی آنکھوں میں جلتی شمعوں میں جو عکس تھا اس میں بابا اکرم کیلئے عقیدت اور اپنے وطں کیلئے محبت کا نور جھلک رہا تھا۔ (مکمل(

14 اگست کیلئے لکھی جا نے والی اس تحریر کو میں آپ کی عدالت میں پیش کرتا ہوں۔
بہت عرصے بعد لکھا ہے۔ خا میا ں ہوں گی۔
آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (05-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09)
پرانا 05-08-09, 09:16 AM   #7
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر دو مرتبہ لکھی گئی ہے اس لئے ایک ختم کر دی گئی ہے معذرت کے ساتھ

Last edited by ایس اے نقوی; 05-08-09 at 11:11 AM.
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-08-09, 11:14 AM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,020
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک خوبصورت تحریر پر آپ کو پاک نیٹ انتظامیہ کی جانب سے 500 پوائینٹس بذریعہ عطیہ ارسال کئے جاتے ہیں مبارک ہو
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (05-08-09), رضی (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 11:28 AM   #9
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,087
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ڈاکٹر صاحب بہت ذبردست تحریر ہے۔ ماشاءاللہ
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (05-08-09), ایس اے نقوی (05-08-09), رضی (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 12:00 PM   #10
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہترین تحریر ہے۔۔
ماشاللہ
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (05-08-09), ایس اے نقوی (10-08-09), رضی (05-08-09)
پرانا 06-08-09, 11:34 AM   #11
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھا لکھا آپنے
مبارک ہو
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (06-08-09), ایس اے نقوی (10-08-09)
پرانا 06-08-09, 11:35 AM   #12
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھا لکھا آپنے
مبارک ہو
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ڈاکٹرنور (10-08-09)
پرانا 10-08-09, 12:03 PM   #13
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت شکر یہ راحیل صاحب
۔۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-08-09, 12:04 PM   #14
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
بہت بہترین تحریر ہے۔۔
ماشاللہ
بہت شکریہ
لیکن الفاظ کے استعمال میں اتنی کنجوسی
میں تو آپ سے بھر پور تبصرے کی توقع کر رہا تھا۔۔۔۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
ہندو, پاک, پاکستان, پسند, قدم, لوگ, چین, مکمل, موقع, ماں, محبت, آج, انتظامیہ, انعامی, بہترین, تحریر, جواب, خوش, خاروطن, زندگی, سال, شہر, شور, شام, صبح, صحن


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پپو!!! شیراز احمد قہقہے ہی قہقے 0 16-02-10 08:59 PM
سردار : "اوئے پپو The Great قہقہے ہی قہقے 1 08-09-09 07:03 PM
م م مغل صاحب کے پھو پھا جی کے لیے دعاِ مغفرت خرم شہزاد خرم آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 5 04-09-08 12:08 PM
پپو پاس ہو گیا طاھر قہقہے ہی قہقے 0 11-02-08 12:20 PM
مخالف امیدوار پپو شاہ کی بی اے کی ڈگری جعلی ہے، فہمیدہ مرزا عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger