| 14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 389
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (04-08-09), طارق راحیل (06-08-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ " آج بابااکرم بیٹھک پر موجود نہیں ۔ لگتا ہے اپنی بیٹی کے پاس گیا ہوا ہے" شاہد نے گلی مڑتے ہی کہا تو سب لڑکوں کی نظریں بیٹھک کی طرف اٹھ گئیں۔ " نہیں یا ر ۔ بابا اکرم تو پچھلے ہفتے وہا ں گیا ہو ا تھا" حفیظ نے یا د دلایا تو سب نے ہا ں میں ہا ں ملائی " پھر کیا مسئلہ ہے؟ " میرے پڑوسی شہر یا ر نے پریشانی کے لہجے میں کہا۔ " چلو واپسی پر پتہ کرلیں گے " میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے سکول کی طرف قدم بڑھا دیے۔ واپسی پر بابا اکرم کے بارے میں معلومات لینے کا کسی کو خیال نہ آیا ۔ دوسرے دن بانا اکرم پھر غا ئب پائے گئے۔ اب تو ہم لوگ بے چین ہوگئے۔ ارشد بابا اکرم کے گھر کے نزدیک ہی رہتا تھا اور ہم سے ایک کلاس آگے تھا ۔ اس سے پو چھا تو پتہ چلا بابا اکرم بیمار ہے اور اسی وجہ سے بیٹھک پر نہیں بیٹھ رہا۔ ہم لڑکوں نے شام کو بابا اکرم کے پاس جا نے کا پروگرام بنا یا ۔ گھر والوں سے اجازت لے کر ہم شام کو بابا اکرم کے گھر پہنچ گئے۔ انکی بیگم نے دروازہ کھو لا اور اتنے سارے بچے دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔ مگر جب ہم نے بتا یا کہ ہم بابا اکرم کی طبیعت کے بارے میں پتہ کرنے آئے ہیں تو بہت خوش ہوئیں۔ اور سب کو اندر بلا لیا۔ بابا ایک چارپائی پرلیٹے ہوئے تھے ۔ ہمیں دیکھا تو پہلے حیران ہوئے مگر جب اماں نے بتا یا کہ یہ سب آبکی طبیعت کا پتہ کرنے آئے ہیں تو اتنے خوش ہوئے کہ اٹھ کر سب کو باری باری گلے لگایا۔ اور بیٹھنے کیلئے کہا۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ انکی آنکھوں سے اتنے موٹے موٹے آنسو گر نے لگے۔ جیسے تسبیح کے دانے گر رہے ہوں میں نے اس دن زندگی میں پہلی مرتبہ ان کو روتے دیکھا۔ پھر بے اختیا ر میری آنکھوں سے بھی جھڑی جا ری ہوگئی۔ بابا اکرم تو تڑپ اٹھے اور ایک اٹھ کر میرے پاس آگئے ۔ " آپ کو کیا ہوا بیٹے۔ کیوں رورہے ہو" انہوں نے مجھے اپنے بڑے بڑے بازوئوں میں سمیٹتے ہوئے۔ تو میری منہ سے صر ف اتنا نکلا " بابا جی آپ جو رو رہے ہیں" to be continued Last edited by ڈاکٹرنور; 05-08-09 at 08:35 AM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بابا جی نے اپنے آنسو فورا پونچھے اور مسکراتے ہو ئے کہا " بھئ میں تو بیمار تھا اس وجہ سے رو رہا تھا۔ چلو خیر چھوڑو۔
یہ بتائؤ ۔ اپنے گھر والوں کو بتا کر آئے ہو" " جی" سب لڑکوں نے کورس میں کہا تو با با مطمئن ہو گئے۔ ہم نے با با سے بہت ساری باتیں کیں۔ امان جی ہما رے دودہ لے کر آئیں۔ جو سب نے پیا ۔ اب با با جی کی طبیعت بہت بہتر لگ رہی تھی۔ کہنے لگے " بچو میں آج آب کو ایک کہا نی سنا تا ہوں۔ پھر پتہ نہیں زندگی موقع دے یا نہ دے۔" ہم سب متوجہ ہوگئے۔ بابا جی نے کہا نی شروع کی " بہت سال پہلے ایک بہت ہی خوبصورت گائوں میں ایک بچہ رہتا تھا۔ جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ اسکی سات بہنیں تھیںاور سب کی سب اپنے بھا ئی پر وارے جاتی تھیں۔ بچے کا باپ ایک بہت بڑا زمیندار تھا اور اسکے گھر روپے پیسے کی کمی نہ تھی ۔ چنا نچہ لاڈلا ہونے کی وجہ سےبچے کی ہر خواہش پوری کی جا تی تھی۔ جب بچہ سکول جا نے کی عمر تک پہنچا تو اسے گائوں کے سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ تاہم بچے نے فرمائش کی کہ وہ سکو ل پیدل نہیں جا ئے گا بلکہ بگھی پر جا ئے گا۔ گائوں میں کسی کے پاس بگھی نہ تھی مگربچے نے یہ بگھی قریبی شہر میں دیکھی تھی۔ چنانچہ بچے کیلئے ایک بگھی خریدی گئی اور وہ سکول آنے جا نے لگا۔ بچہ لائق تھا اور ہر کلاس میں ہمیشہ پہلے نمبر پر آتا تھا۔ پانچویں پاس کرنے کے بعد بچے کو شہر کے سکول میں داخل کروایا گیا کیوں کہ گائوں میں صر ف ایک ہی پرائمری سکول تھا۔ وہ بچہ بہت نازو تعم میں پل رہا تھا اور اسکی زندگی جنت کا نمونہ تھی۔ اچانک انہی دنوں خبریں آنے لگیں کہ مسلمان اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔ بچہ اگر چہ ابھی شعور کی منزلیں طے کر ریا تھا مگر وہ کچھ کچھ سمجہ رہا تھا۔ کہ مسلمان اور ہندو آپس میں ایک دوسرے کونا پسند کرتے ہیں۔ تھوڑے ہی دنوں یہ باتیں شدت اختیا ر کرتی گئیں۔ بچے کے والد کے پاس بہت سے لوگ آتے تھے اور بہت دیر تک گفتگو ہوتی تھی ۔ پھر ایک دن اسکے گائوں میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ بہت سارے لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اٹھا کر نعر ے لگا تے تھے۔ بچہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہورہا تھا اور وہ بھی ان نعروں میں شامل ہوگیا۔ اچا نک شور اٹھا کہ قا ئد اعظم محمد علی جناح پہنچ گئے ہیں۔ لوگو ں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ بھر جب قا ئد اعظم بولنے کیلئے آئے تو بچے کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ مگر نعروں میں وہ سب کے ساتھ شریک تھا۔ یہ منظر اس بچے کی یاداشت ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔ کچھ دن بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔ کہ لوگ لڑنا شروع ہو گئے۔ روزانہ جھڑپوں کی با تیں ہوتیں۔ بچے کی حویلی میں بہت سے لوگ آگئے۔ اور صحن ان لوگوں سے بھرنا شروع ہوگیا۔ بہت سی عورتیں اور بچے بھی آنا شروع ہو گئے۔ ان کا گھر گویا مہمان خانہ بن گیا۔ پھر وہ رات بھی آئی جب اس بچے کا سب کچھ لٹ گیا۔ بلوائیوں کے ایک ٹولے نے انکی حویلی پر حملہ کردیا۔ بچے کو جب جا گ آئی تو اس نے دیکھا کہ اسے اسکی ماں نے اسے اپنے کندھے سے لگا یا ہوا ہے اور دوڑ رہی ہے۔ اچانک اسکی مان گری اور اسکے سا تھ ہی بچہ بھی اچھل کر دور جھاڑیوں میں جا گرا۔ پھر بچے نے اپنی ننھی منی معصوم آنکھو ں سے دیکھا کہ ایک سکھ نے اسکی ماں کے سینے میں چھرے کے کئ وار کئے ۔ اور پھر بھا گ گیا ۔ بچہ تو جیسے سن ہو گیا۔ پتہ نہیں کب وہ بچہ دوڑ کراپنی ماں کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا اسکی ماں مر چکی تھی۔۔۔" یہاں پہنچ کر با با اکرم کی گھگھی بندہ گئ۔ میرے سمیت سب لڑکوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ To be continued Last edited by ڈاکٹرنور; 05-08-09 at 08:35 AM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (04-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
قابل احترام ڈاکٹر نور صاحب ایک عرض ہے یہ اگر آپ کی کوئی تحریر لکھے رہے ہو جو مکمل نہ ہوئی ہو تو اس کے آخر پر جاری ہے لکھ دیا کریں تا کہ تحریر کا ردم نہ ٹوٹے جیسے آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ تحریر کے مکمل ہونے سے قبل جوابات آنے شروع ہوگئے ہیں
شکریہ آپ کی تحریر مکمل ہونے پو آپ کو پاک نیٹ کی جانب سے انعامی پوائینٹس ارسال کئے جائیں گے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | خرم شہزاد خرم (04-08-09), رضی (05-08-09) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں دراصل اس تحریر کو کل ہی مکمل کربا چاہ رہا تھا۔ الفا ظ بھی ساتھ دے رہے تھے ۔ کہ اچانک "وہ" نگوڑی چلی گئی جسے " بجلی " کہتے ہیں۔ اب بھلا میں کیا کرتا۔ بہرحال سب دوستوں کی پسندید گی کا شکریہ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (05-08-09), رضی (05-08-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
بابا تھوڑی دیر کے بعد پرسکون ہوئے اور دوبارہ کہابی شروع کی " اسکے بعد وہ بچہ کہاں کہا ں گیا یہ ایک لمبی داستان ہے۔ وہ اپنی بہنوں اور باب کو بہت تلاش کرتا رہا مگر بے سود۔ اس دوران اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ کئی دن تک بھو کا پیا سا رہنے کا تلخ تجربہ حا صل کیا ۔ زندگی کی تمام آسائشیں اب اس سے روٹھ چکی تھیں۔ ہاں اسے قدم قدم پہ کچھ مہربان ملتے رہے۔ اور وہ صعوبتیں برداشت کرتا ایک دن نئے وجود میں آنے والے ملک کی مٹی کو چوم رہاتھا۔ پتہ نہیں اس بچے کو کیسے احساس ہو ا کہ یہ مٹی بہت محترم ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ مٹی اسے پورا خاندان کھونے کے بعد ملی تھی۔ بھر وقت کی گردشوں کیساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوتا گیا لیکن اپنی پہنوں اور باپ کی تلاش بھی جا ری رکھی ۔ ۔ بھر ایک دن یہ تلاش بھی ختم ہو گئی۔ اسے بہت عرصے بعد اسکے آبائی گائوں کا ایک فرد مل گیا ۔ کاش وہ اسے نہ ملا نہ ہوتا۔ اس نے بتا یا کہ اس کا تو پورا خاندان ہی بلوائیوں نے مار دیا تھا۔ ۔ کیا آپ اس کے کرب کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ؟ جب تک اسے یہ خبر نہ ملی تھی وہ ایک آس پر زندہ تھا۔اب تو اس کی یہ آس بھی ختم ہوگئی۔ وہ بالکل بکھر گیا۔" بابا خاموش ہوگئے۔ سب بچے دکھ کی ایک کربناک لہر اپنی اپنی رگ رگ میں محسوس کررہےتھے۔ وہ لمحے بہت بھاری تھے۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ سب کے پا س جیسے الفا ظ ہی ختم ہوگئے تھے۔ جیسے صدیا ں گذر گئیں پھر اچانک ایک ٹوٹتی ہو ئی آواز میں سوال آیا "وہ بچہ اب کدھر ہوگا" با با جی بچوں کی طرح بلکنے لگے " وہ بچہ۔۔۔ وہ بچہ--- تو کب کا مرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ایک بوڑھا جسم آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ میں آپ کے سا منے ہوں " "جی آپ" سب بچے جیسے حیرت سے چیخ پڑے۔ " جی بچو ۔۔۔ وہ بچہ میں ہی تھا" بابا کے لہجے میں صدیوں کا کرب تھا۔ "بچو ۔۔ میں آج اپنے آپ کو بہت ہلکا بھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ آج بہت عرصے بعد کھل کر رویا ہوں شا ید" آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز چند لمحو ں کی یہ ر ا حت بھی بڑی ہو جیسے "بچو۔۔ میں نے آج آپ کو اپنی کہا نی اس لئے سنا ئی ہے کہ آپ کو اندازہ ہو ۔ ہمارے پیارے ملک کی مٹی کتنی مقدس ، کتنی قیمتی ہے۔ بچو ایک پوری نسل نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر آنے والی نسل کو خوشحالی اور آزادی کی تعمت سے سرفراز کیا ہے۔ اس ملک کی مٹی میرے لئے میری آنکھوں کا سرمہ اس لئے ہے کہ میرا پورے خاندان کا لہو اس مٹی کے حصول میں صرف ہوا۔ میرے بچو بڑے ہو کر اپنی پچھلی نسل کی قر با نی کو بھول نہ جانا۔ اس وطن نے ہمیشہ آپ کو خوشیا ں دی ہیں ۔ بہا ر دی ہے۔ خوشبو دی ہے۔ پھول دیے ہیں۔ اگر کبھی زندگی میں آپ کو یہ وطن کانٹے بھی دے تو انکی چبھن کو خا موشی سے سہ لینا۔ کیوں کہ اپنے وطن کے کانٹے غیروں کے بھولوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔" سب بچوں کی آنکھوں میں جلتی شمعوں میں جو عکس تھا اس میں بابا اکرم کیلئے عقیدت اور اپنے وطں کیلئے محبت کا نور جھلک رہا تھا۔ (مکمل( 14 اگست کیلئے لکھی جا نے والی اس تحریر کو میں آپ کی عدالت میں پیش کرتا ہوں۔ بہت عرصے بعد لکھا ہے۔ خا میا ں ہوں گی۔ آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (05-08-09), ام طلحہ (05-08-09), ابو عمار (05-08-09), رضی (05-08-09), طارق راحیل (06-08-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر دو مرتبہ لکھی گئی ہے اس لئے ایک ختم کر دی گئی ہے معذرت کے ساتھ
Last edited by ایس اے نقوی; 05-08-09 at 11:11 AM. |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
ایک خوبصورت تحریر پر آپ کو پاک نیٹ انتظامیہ کی جانب سے 500 پوائینٹس بذریعہ عطیہ ارسال کئے جاتے ہیں مبارک ہو
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ڈاکٹر صاحب بہت ذبردست تحریر ہے۔ ماشاءاللہ
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین تحریر ہے۔۔
ماشاللہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اچھا لکھا آپنے
مبارک ہو |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا | ڈاکٹرنور (06-08-09), ایس اے نقوی (10-08-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکر یہ راحیل صاحب
۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,202
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (10-08-09) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, پاک, پاکستان, پسند, قدم, لوگ, چین, مکمل, موقع, ماں, محبت, آج, انتظامیہ, انعامی, بہترین, تحریر, جواب, خوش, خاروطن, زندگی, سال, شہر, شور, شام, صبح, صحن |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پپو!!! | شیراز احمد | قہقہے ہی قہقے | 0 | 16-02-10 08:59 PM |
| سردار : "اوئے پپو | The Great | قہقہے ہی قہقے | 1 | 08-09-09 07:03 PM |
| م م مغل صاحب کے پھو پھا جی کے لیے دعاِ مغفرت | خرم شہزاد خرم | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 5 | 04-09-08 12:08 PM |
| پپو پاس ہو گیا | طاھر | قہقہے ہی قہقے | 0 | 11-02-08 12:20 PM |
| مخالف امیدوار پپو شاہ کی بی اے کی ڈگری جعلی ہے، فہمیدہ مرزا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:21 AM |