واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


زینب۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-08-11, 10:50 PM   #1
زینب۔
عروج عروج آف لائن ہے 15-08-11, 10:50 PM

پیاری زینب مگر زینب کو پیاری ''آپا'' ۔ گھر میں چھوٹی اور ایک ھی بھائی ۔ والد فوجی۔ آپا کے رشتے آنے لگے تو زینب کو تو یہی فکر کہ دولہا محبت کرنے والا اور خوبصورت بھی ھو۔ اللہ نے اسماعیل کا رشتہ بھیجا تو گھر کی رونق میں اضافے کے اسباب بھی بنادئیے۔ ھاں ۔اسماعیل کی خوبرو بہن زینب اس کے وجیہہ بھائی شفیع کے لیے منتخب ھوگئی۔
بہن کے بیاہ کی پریشانی پر زینب کے دل میں بھابھی کے آنے کی خوشی نے فتح پالی۔ اللہ اللہ کر کے یتیم اسماعیل اور آپا نیکاں کو اللہ نے محمد یاسین کی شکل میں اِک نیا جیون دیا۔ اب تو زینب کو ھر وقت محمد یاسین کو دیکھنے کی تمنا رھتی۔
اللہ نے آپا کو اگلے ھی سال جمیل عطا کر دیا۔زینب کی خواھش کو زبان مل گئی اور وہ اپنے پہلوٹھی کے بھانجے کو گھر لے جانے پر مُصر ھوگئی۔ آپا کی لاڈلی کی فرمائش محمد یاسین کی رھائش تبدیل کر کے پوری کی گئی۔
آتے برس آپا کو اللہ نے دلبر حسین کی شکل میں اپنی ایک اور نعمت سے نوازا۔ زینب کے پاؤں آپا کی خوشیاں دیکھ دیکھ کر زمین پر نہ ٹکتے۔ ھندوستان میں حالات نے پلٹا کھایا۔ دوست ،دشمن بنتے سبھی نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ آپا ایک بار پھر بچی کی ماں بنی مگر بچی کچھ ھی عرصے میں فوت ھو گئی۔ زینب کی شادی ایک پڑھے لکھے جوان عبدالرّحمٰن سے ھو چکی تھی سو وہ دوسرے گاؤں جا چکی تھی۔ جب زینب کوعلم ھؤا کہ آپا کے گاؤں کو جلا دیا گیا ھے۔ تو رو روکر اسکا بُرا حال ھوگیا۔ ان کا قافلہ خیریت سے پاک سرزمین پہنچ گیا جہاں وطن پہنچنے کی خوشی تھی وھیں اپنوں کے یوں چلے جانے کا غم بھی تڑپا رھا تھا۔
ایک روز کوئی بچہ چیخ کربولا''خالہ'' نظریں اٹھائیں تو پیاری آپا کی نشانی محمد یاسین تھا۔ دونوں لپٹ کر روتے رھے اور پاس کھڑا بھائی شفیع انہیں رونے دیتا رھا۔
میکہ میں فوجی باپ اپنے گھر میں موجود افراد کو تو بچا لایا مگر اس کی آپا کے مقدر میں اسماعیل سے جدائی نہ تھی۔ زینب نے بھائی سے بھانجا مانگ لیا اور شہر میں ھی سکول میں داخل کرادیا۔ ''خورشید'' انکی زندگی میں سورج کی روشنی ھی بن کر آئی۔
وقت کا کام گزرنا ھے۔عبد الرّحمٰن ا پنےبڑھتے کاروبار میں اور زینب بچوں اور ذمہ داریوں کے بڑھوتری میں مصروف ھو گئے۔ سخی د ل والوں کے گھر میں سےبہت سوں کا گزارا چل رھا تھا۔ اب محمد یاسین کے کان میں وہ بات پڑ گئی '' اگر اللہ تجھے بیٹی دے تو مَیں اپنا بیٹا تم پڑھے لکھے خاندان والوں ھی کو دے دوں گی کہ پڑھا تو دوگے تم لوگ''آ پا نے زینب کے پڑھے لکھے شوھر کو دیکھ کر بہن اور بیٹے کی چاھت میں ایک بار یہ بات کہی تھی۔
محمد یاسین خالو کے گھر کو مستقبل کا سسرال جانتے ھوئے واپس ماموں کے پاس گاؤں آگیا۔ اب ذرعی یونیورسٹی سے بی ایس سی سے فارغ ھونے پر اچھے نمبروں کی وجہ سے اسے اچھی نوکری مل گئی ۔ادھر خورشید رحمان م
میٹرک سے فارغ ھی ھوئیں تھیں کہ آ پا کی محبت نے جوش مارا، اور ان کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کا خیال مضبوطی پکڑنے لگا۔
خورشید ،محمد یاسین کے سُونے گھر میں بھی اپنی چمک بکھیرنے لگیں۔ زینب کچھ مطمئن ھو گئیں۔ اسکے اپنے بچے بیمار رھنے لگے ادھر محمد یاسین کے گھر میں خوشیوں اور نعمتوں کا اضافہ ھونے لگا۔ شفیق دل عبد الرّحمٰن زینب کا ساتھ دیتا رھا اس لیے وہ اپنے گھر، بیمار بچوں اور بھانجے کے گھر کے درمیان خود کو بانٹتی رھیں مگر عبد الرّحمٰن نے اس کی محبت کی مجبوری کو سمجھتے ھوئے کبھی گِلہ نہ کِیا۔
اللہ نے محمد یاسین کو تین بیٹیوں سے تو نوازا مگر ابھی بیٹا عطا نہ کیا تھا جس کو زینب شدّت سے محسوس کرتی تھی۔ زینب کی بیمار بیٹی اللہ کو پیاری ھوگئی وہ راضی بہ رضا رھی۔
محمد یاسین کے ھاں پھر اچھی امید لگی ھوئی تھی۔ زینب کا بیٹا شدید بیمار تھا مگر دل تو محمد یاسین کے توسط سے آپا کے گھر کی خوشی میں اٹکا تھا۔'' محمد عامرکی پیدائش '' زینب کے بھانجے کا بیٹا، آپا اور اسماعیل کا پوتا۔ مارے خوشی کے زینب سے بات نہیں ھو رھی تھی۔ مگر اللہ کو کچھ اور امتحان بھی منظور تھے اس پَری وش سے۔ اس کا اپنا بیٹا اللہ کو پیارا ھو گیا۔ ایک بار پھر زینب صبر کا پہاڑ ثابت ھوئی اور سبھی کا سہارا بنیں۔
وقت نے اپنا حق جمانا شروع کر دیا تھا۔ زینب بیمار رھنے لگیں ،بچوں کی شادیاں تو کردیں ایک بیٹے کے سواء مگر عبدالرّحمٰن کی بیماری جو برداشت نہیں ھو پا رھی تھی۔ جب ڈاکٹروں نے مایوسی سے عبدالرّحٰمن کو لاسٹ سٹیج بتایا تو زینب کادل اب کی بار ساتھ چھوڑ گیا۔ شوھر کے روپ میں مسیحا، جس نے ھجرت ِ پاکستان کے زخموں کو سِیا، ھر ھر تکلیف، غم اورد کھ میں ساتھ دیا اب ساتھ جو چھوڑ رھا تھا۔ دل ھی دل میں جُدائی کا زخم سہتے کچھ اور برس بیت گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یاسین بھی بچوں کی شادیاں کرنے میں مصروف تھا۔ایم ایس سی کرنے پر کیمسٹ آفیسر بھی بن چکا تھا۔ اورآجکل ریٹائرمنٹ لے کر ترویج ِ اسلام کے اس فرض کو نبھارھا تھا جو ذرعی یونیورسٹی کی تعلیم کے پہلے ھی سال مولانا زکریا رحمت اللہ علیہ کے دورہ ِ پاکستان کے موقع پر اللہ سے انکے ھاتھ بیت ھونے پر کیا تھا۔
اللہ نے محمد عامر کو بیٹا عطا کیا تو زینب اپنے بھانجے کے پوتے اور نسل کا سوچ کر بہت خوش ھوئیں۔ زینب دل میں جدائیوں کے صدمے برداشت کرتے کرتے تھک چکی تھی۔ وہ بیمار ھی رھنے لگی۔ محمد یاسین ان دنوں شہر سے باھر ترویج ِ اسلام کی فرضیت کو نبھاہنے کے لیے گئے ھوئے تھے۔بیٹے ،بیٹیاں سب خدمت کے لیےجمع تھے۔ پھر اس اصلی گھر جانے کا بگل بج اٹھا۔ صبح سویرے وہ رخت ِ سفر باندھ گئیں۔
محمد یاسین جب آئے تو پتہ چلا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کچھ سوچ کر خاموش ھو گئے کہ '' آپا کی پیاری اور سبھی کی دُلاری نے ملاقات تو کرنی ھی تھی کہ اس صبر کا پھل بھی تو پانا ھے''
اللہ ان تمام جانوں پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے جو وطن ِ عزیز کے لیے قربا ن ھوئیں۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔ از۔ عروج۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔

Last edited by عروج; 16-08-11 at 12:22 AM..

عروج
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 352
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-08-11), نیلم خان (16-08-11), نبیل خان (15-08-11), محمد یاسرعلی (16-08-11), بزم خیال (24-08-11), رضی (11-09-11), عبدالقدوس (16-08-11), عبداللہ آدم (24-08-11)
پرانا 16-08-11, 01:19 AM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,196
شکریہ: 25,590
10,454 مراسلہ میں 38,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت اعلٰی
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 06:18 AM   #3
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,670
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی اعلٰی تحریر ہے
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (17-08-11)
پرانا 24-08-11, 01:12 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

صرف 2 قاری؟ ایسے تو دل نہ توڑیں
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پاک, پاکستان, لوگ, نوکری, موقع, ماں, محبت, اللہ, امتحان, اسلام, بھائی, بچوں, تعلیم, دل, رشتے, زندگی, سفر, سال, شہر, شادی, عزیز, غم, صبح, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم یعنی زین اور زینب زین اور زینب گپ شپ 16 03-02-11 10:52 PM
زین خان کے لئے گفٹ نیلم خان عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 13 25-09-09 01:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:36 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger