واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


چودہ اگست اور اقلیتیں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 12-08-10, 06:36 PM   #1
چودہ اگست اور اقلیتیں!
shafresha shafresha آف لائن ہے 12-08-10, 06:36 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

1946 کے دسمبر کی ایک صبح کو بمبئی کے ایک چوک میں دو "بھنگی" جھاڑو لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک ہجوم وہاں سے گذرا جو "بٹ کے رہے گا ہندوستان، لے کر رہیں گے پاکستان" کے نعرے لگارہا تھا۔
ایک بھنگی نے دوسرے سے پوچھا "جارج " یہ کیا چاہتے ہیں؟
کچھ نہیں "مائیکل" ! یہ ہم سے آزادی مانگ رہے تھے۔

اب پھر چودہ اگست قریب ہے!!!!!!!!!

میں دیکھتا ہوں اپنے چاروں طرف گھور اندھیرے، ہر سمت بلکے بے سمت پھیلی ہوئی رات ، بعد جس کے آرزو کسی صبح کی عبث ہی نہیں محال ہے۔

چند دنوں کے بعد وہ دن آئے گا جب سبز پرچم لہرا لہرا کر ، سینے ٹھوک ٹھوک کر اور گلے پھاڑ پھاڑ کر ملی نغمے گاتے بھانڈ ہر طرف نظر آئیں گے۔ کسی کو تغموں سے نوازہ جائے گا ، تو کئی اسناد پائیں گے۔
ایوان صدر میں اک حشر بپا ہوگا، پہلے سے باخبر اور اعزاز پانے کی خوشی کو چہروں پر سجائے مصنوعی تمانت و وقار کے ساتھ نپے تُلے قدموں سے (جن کے چلنے کی پہلے ہی رہرسل کرچکے ہوں گے) باری باری آ کر میڈلوں کے ہار اپنے گلے میں سجائے اور چند سکوں کی بھیک لیئے نام نہاد دانشور وقت کی گرد میں گم ہوجائیں گے۔
آہ !
منزل وہ پائیں گے جو شریک سفر نا ہوئے۔۔۔۔۔

مگر میں کیا کروں ؟ اک سوال سودا کی طرح سر میں سمایا ہے!
کیا پاکستانی ہونے کے لیئے "مسلمان" ہونا ضروری ہے؟

کیا گرنتھ صاحب کا پاٹھ کرنے اور گیتا کے اشلوک پڑھنے والا "پاکستانی" نہیں ہوسکتا؟؟؟
کیا یسوع کے نام لیوا او ر بدھ کی مانند آسن مارے بکھشو اس ملک کے شہری نہیں؟؟؟

آج تریسٹھ سال بعد بھی ہم خود پر"جارج و مائیکل" کی جانب سے کیئے گئے مظالم کا بدلہ ان بے چاری "اقلیتوں" سے لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس کارنیلسن، جسٹس رانابھگوان داس، ڈاکٹر عبدالسلام ، اور کئی بڑے بڑے گم ناموں کو کس بات کی سزا دی گئی؟؟؟

بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940ءکو پیش کی جانے والی قررداد پاکستان پیش کرنے کے لیئے منتخب کردہ لاہورکے راوی روڈ پر بنی "سر گنگا رام" (محسن لاہور) کی سمادھی کچرے کا ڈھیر کیوں بنی ہوئی ہے؟؟؟ اور اسی شہر میں علامہ اقبال کا مقبرہ بقمہ نور کیوں بنا رہتا ہے؟؟؟

شاید سر گنگا رام کی پڑپوتی "شریلہ فلیدر" جو آج بھی گنگا رام ہاسپیٹل کے لیئے ڈونیشن بھیجتی ہے اس بات سے واقف نہیں کے یہ قوم اپنے محسنوں کو بھُلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لائل پورسمیت قدیم شہروں اور قصبوں کو مشرف بہ اسلام کرنے پر تُلے ہوئے یہ شدت پسند آخر چاہتے کیا ہیں؟؟؟
سندھ میں سانگھڑ میں بسا ہوا پاکستان کا اکلوتا مسیحی گاﺅں "سینٹ ایذیڈور" کب تک اپنے نام کا تاج سنبھالے رہے گا؟؟؟ کوئی نہیں جانتا!

صدر کراچی میں پارسیوں کے قائم کردہ ادارے آج بھی علم کا نور بکھیر رہے ہیں اور اردشیر کاﺅس جی کو علماءکے فتویٰ تحفے میں مل رہے ہیں۔

کاش لاہور میں مارے جانے والے احمدیوں کی خوشی میں مٹھائیاں باٹنے والے اُس احمدی "ماں" کا بیان بھی اپنے کانوں سے سُن لیتے جس کے مطابق اُس کا بیٹا تو "اللہ کی عبادت کرنے"کے لیئے گیا تھا۔

تو 1980ءمیں کراچی میں بیچے گئے ”میگنی شیلوم“ کو آباد کرنے کی خواہشمند 82سالہ بوڑھی رچل جو سندھ ہائی کورٹ سے انصاف کی متضاضی ہے، 2005 میں "اسحاق لیون" کے آنجہانی ہونے کے بعد بچے افغانستان کے واحد یہودی زیبلون سمنتو کو جانتی بھی ہے یا نہیں؟؟؟؟
کاش کوئی اِس بڑھیا کو بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرکے پہلے عبادت گاہ و مدرسہ بنانے اور پھر بعد میں روزگار کا سلسلے چلانے کا ہُنر سکھا دے، بے چاری رچل اس بات سے بے خبر ہے کہ اُس کی حیات میں تو یہ فیصلہ ہونے والا نہیں اور اگر بالفرض محال ہوبھی گیا تو ہماری مذہبی جماعتیں عدالت سے اسٹے آڈر لے لیں گی۔
ورنہ کوئی جنت کی آرزو لیئے سینے پر بم باندھے اُن کا یہ کام بھی آسان کردیگا۔۔۔۔

بچپن میں میری ٹیچر نے مجھے پاکستان کے جھنڈے پر رنگ کرنے کا آسان طریقہ سکھایا تھا، کاپی کے صفحے کودرمیان سے برابر برابر دو مرتبہ موڑ لو پھر کاغذ کھولو گے تو کاغذ چار حصوں میں بٹا نظر آئے گا، تین حصے اللہ کے ایک حصہ کافروں کا!
تین حصوں میں سبز رنگ اور ایک کو سادہ ہی چھوڑو ۔ بن گیا پاکستان کا جھنڈا!!!

تو ہم نے ایک حصے کو حقیقتا "ایسے" ہی چھوڑ دیا ہے۔ مجھے سفید رنگ سے اقلیتوں کی نمائندگی کرتا پرچم سبز و سفید کے بجائے سبز و سرخ اچھا لگے گا کیونکہ اس ملک میں ایک مسلمان کے خون کی حرمت کو خانہ کعبہ سے بھی ارفع سمجھنے والوں کے نذدیک احمدیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے لہو کی وقعت مسجد کے پاخانے میں لگے "کموڈ" کے برابر بھی نہیں!

مجھے تو ابن انشاءکا بنایا ہوا "اسلام کا دائرہ" اب اور بھی مختصر ہوتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان زندہ باد!

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2894
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-08-10), کنعان (03-03-11), گوندل (13-08-10), ھارون اعظم (12-08-10), یاسر عمران مرزا (15-08-10), نورالدین (08-03-11), ناصحی (12-08-10), منتظمین (12-08-10), مرزا عامر (12-08-10), معظم (13-08-10), wajee (12-08-10), اویسی (13-08-10), احمد بلال (12-08-10), حیدر (04-03-11), رضی (04-03-11)
پرانا 12-08-10, 09:19 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

14 اگست والے دن کے لیے سرورق پر پیش کریں۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), ھارون اعظم (12-08-10), نورالدین (08-03-11), اویسی (13-08-10), حیدر (04-03-11), طاھر (13-08-10)
پرانا 13-08-10, 12:02 AM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،

قائد اعظم کے فرمان کے مطابق پاکستان میں کسی کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر برا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ کچھ لوگ اگر اپنی کم علمی یا ذاتی مفادات کی بناء پر ان سے برا سلوک کرتے ہیں تو انتہائی غیر مناسب بات ہے۔

ویسے تان ہمیشہ اسلام پر ہی آکے ٹوٹتی ہے۔ آپ نے اوپر جن اقلیتوں کا ذکر کیا ہے، ان کے کافر ہونے میں کسی کو شک ہے کیا؟ اچھا سلوک اپنی جگہ، ان کے جان و مال کی حفاظت مملکت اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، لیکن ان کے ساتھ کی جانے والی بد سلوکی کو برا کہنے کی آڑ میں ایسی باتیں مناسب نہیں۔

رہی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خون کی بات، تو واقعات کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ یہاں‌ پر مسلمانوں‌ کا خون غیر مسلموں سے زیادہ بہتا ہے۔ اس لئے پرچم کو سبز اور سرخ رکھنے کی بجائے سفید اور سرخ رکھیں تو اچھا رہے گا۔

شکریہ
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), کنعان (03-03-11), محمد عاصم (13-08-10), مرزا عامر (13-08-10), اویسی (13-08-10), احمد بلال (13-08-10), حیدر (04-03-11), راجہ اکرام (13-08-10), سحر (13-08-10), عبداللہ حیدر (03-03-11)
پرانا 13-08-10, 01:41 AM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,635
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,399 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ فریشہ بھایی
آپ کے دکھ کا اندازہ اس تحریر کو پڑھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
ایسے مضامین کو پڑھ کر کافی حیرت ہوتی ہے جب ملک کے حالات اس نہج پر ہوں جہاں مسلمان کو اس کے کلمہ گو ہونے کی سزا مل رہی ہو ، ہر داڑھی والا طالبان کہہ کر واجب القتل قرار دے دیا جایے
جہاں ہزاروں مسلمان کافروں کی سازشوں کی نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی کے شکار ہورہے ہوں
جہاں مسلمانوں پر ڈرون حملے ہورہے ہوں کافروں کی جانب سے
جہاں سیکڑوں مسلمان لاپتہ ہوں
کیا ڈرون حملوں میں مرنے والوں میں ایک بھی اقلیتی ہے
کیا لاپتہ افراد میں ایک بھی اقلیتی ہے

انسان کو ہر معاملے میں‌انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے
اللہ نیتوں کا دیکھنے والا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), مسلم بھائی (13-08-10), اویسی (13-08-10), احمد بلال (13-08-10), حیدر (04-03-11), راجہ اکرام (13-08-10), عبداللہ حیدر (03-03-11)
پرانا 13-08-10, 01:52 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر بہت اچھی ہے انداز تحریر کے اعتبار سے، شکریہ شاہد بھائی

لیکن مندرجات سے میں متفق نہیں
بعد میں اس حوالے سے کچھ عرض کروں گا انشاء اللہ اگر وقت میسر ہوا تو
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), ھارون اعظم (14-08-10), حیدر (04-03-11)
پرانا 13-08-10, 02:23 AM   #6
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم،

انتہائی افسوسناک قسم کا مضمون لگا۔ جی ہاں افسوسناک اس لیئے کہ آجکل ہمارا ٹرینڈ پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں‌کو انتہا پسند، اذیت پسند اور پتا نہی کیا کیا ثابت کرنا بنتا جا رہا ہے، اور اس مضمون سے جس چیز کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئ ہے اس کا مقصد کیا ہے؟

پاکستان بنانے والے اور اسے میں رہنے والوں‌کے ذہنوں میں کبھی اس قسم کا خناس نہی سمایا کہ یہاں کے رہنے والوں‌کو زبردستی مسلمان کر دیا جائے۔ پاکستان میں اقلیتوں‌کا تناسب کبھی بھی کمی کی جانب گامزن نہیں رہا۔ بحیثیت ایک عام پاکستانی میرا ذاتی تجربہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی کے کئی ادوار میں اس قسم کا رویہ رکھنے والے کسی انسان کو نہیں دیکھا۔ ایک دوسرا مسئلہ ہمیں یہ ہو گیا ہے کہ ہم Exceptions کو تمام کیسسز میں فٹ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔


کیا میڈل اور چند سکوں کی بھیک ہی وہ منزل تھی جس کے لیئے محبان پاکستان نے محنت اور جدوجہد کی تھی؟ آپ کے ذاتی خیال میں کیا کبھی بھی کسی اقلیتی شہری کے سینے پر یہ "منزل"‌ نہی سجی؟ اور کیا کچھ ایسے مسلمان پاکستانی نہیں ہیں جو اس قسم کی منزل کے زیادہ حقدار تھے؟ اس میں مسلم اور غیر مسلم کو زبردستی فٹ‌کرنا سمجھ نہی آیا۔

آپ نے سر گنگا رام کی سمادھی کا اشارہ تو کردیا لیکن کیا کبھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ پاکستان کی کئی محسنین کی "سمادھیوں" کے حالات کیا ہیں؟ میرے خیال میں‌پاکستان میں‌صرف قائد اعظم، علامہ اقبال کے ہی مزارات ہیں، کیا باقی اور کسی محسن کی "سمادھی"‌ کا نہ ہونا آپ کے لیئے باعث افسوس نہی؟ صرف ایک طرف اشارہ کرکے اگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان کے ساتھ تو سب کچھ صحیح‌ہورہا ہے لیکن اقلیتوں کے ساتھ نہیں، تو میرے دوست یہ بات آپ اچھی طرح‌جانتے ہیں‌کہ کلمہ گو پاکستانی غیر کلمہ گو سے قطعا مختلف نہیں۔

شہروں، قصبوں اور گاؤں کو مشرف بہ اسلام کرنے کا کارنامہ جن شدت پسند پاکستانیوں کے گلے آپ فٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیا انہیں ایبٹ آباد، ہری پور اور دیپالپور وغیرہ وغیرہ کو مسلمان کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ بھائی صاحب -- انگریزی میں Over Exaggeration شاید اسی کو ہی کہتے ہیں۔

رہی بات تعلیمی اداروں کی تو کراچی اور ملک کے مختلف شہروں‌میں‌قیام پاکستان سے بھی پہلے کے قائم کیئے گئے ادارے تاحال موجود ہیں اور لوگ ان کی خدمات کی قدر کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے زیادہ تر عیسائی چرچ کے زیر اہتمام تھے اور آج تک کئی اسی طرز اور نظام کے تحت چل رہے ہیں جیسا کہ وہ پہلے چلتے تھے۔ آپ کے بیان کردہ شدت پسند پاکستانی کلمہ گو نے انہیں کیوں‌نہیں چھیڑا؟‌ کیوں‌انہیں‌ سینٹ جوزف سے مدرسہ محمدیہ بنانے کی جدوجہد نہی کی گئی؟ کیوں آج بھی پاکستان کے کلمہ گو مسلمان اکثریت اپنے بچوں کا ان اسکولوں میں داخل کرواتی ہے؟

لاہور میں احمدیوں‌کو مارنے والے کیا آپ کے خیال میں پاکستان کی کسی مسجد پر بم دھماکے کرنے والوں‌سے "کچھ" مختلف تھے؟‌کیا انہوں‌نے اپنے بموں اور گولیوں پر کلمہ پڑھا ہوا تھا؟ کیا آپ نے احمدیوں‌کی مسجد پر حملہ کرنے والوں کی خود کش حملہ کرنے سے پہلے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ انتہائی فضول بات کی توقع قطعا آپ سے نہی تھی، لیکن اب کیا کہیئے کہ آپ ایک مسلمان کی عبادت گاہ پر حملے کرنے والوں‌کو تو آپ غیر مسلم، کافر اور پتا نہی کیا کیا قرار دے دیتے ہیں اور کسی اقلیت سے یہ سلوک ہو تو اس کا قصوروار شدت پسند پاکستانی مسلمان ہی کیوں‌قرار پاتا ہے؟ کیوں کسی غیر مسلم پاکستانی کے ساتھ جب ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہم ایسی ناانصافی کیوں کرتے ہیں؟

پاکستان کے جھنڈے کو پاکستان کا جھنڈا ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔ یہ اقلیتوں کی ترجمانی کرتا ہے اور درست کرتا ہے۔ رہی بات انہیں‌ایسے ہی چھوڑ دینے کی تو یہ بات درست نہی۔ کیا کراچی کی ایک کچی آبادی میں رہنے والے کلمہ گو پاکستانی کو کسی اقلیت سے کچھ زیادہ ملتا ہے؟ جناب عالی، پاکستان کے امیر چاہے وہ اکثریت سے تعلق رکھتے ہوں‌ یا اقلیتوں‌سے، سب ایک جیسے ہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہی کہ پاکستان کے غریب بھی مذہب کے فرق سے ہٹھ کر ایک جیسے حالات میں‌زندگی گذار رہے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی کئی اقلیتیں‌ حکومت کے اعلی عہدوں‌پر فائز ہیں - ٹھیک ہے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے لیکن اگرآبادی کے حساب سے تناسب نکالا جائے تو پھر بھی ایک بہتر صورتحال ہے۔

آخر میں میری گذارش یہ ہے کہ بھائی پاکستان کی برائی کریں‌، ضرور کریں‌مگر زبردستی کی نہ کریں۔ دنیا میں یہ پورٹرے نہ کریں‌کہ پاکستان کا ایک عام مسلمان شدت پسند ہے اور اس کی حالت ایک اقلیتی سے کہیں بہتر ہے۔ اگر ایک عام "پاکستانی" کی حالت دیکھنی ہے تو گاؤں دیہات جانے کی نہیں کسی بھی کچی آبادی میں جانے کی ضرورت ہے جہاں بقول کسے شیر اور بکری سب ہی بکری ہیں۔

اللہ ہمیں‌عقل اور علم نافع دے - آمین

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
proiub (13-08-10), shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), کنعان (03-03-11), محمد عاصم (13-08-10), مسلم بھائی (13-08-10), احمد بلال (13-08-10), بلال الراعی (13-08-10), حیدر (04-03-11), راجہ اکرام (13-08-10), رضی (04-03-11), سحر (13-08-10), عبداللہ حیدر (03-03-11)
پرانا 13-08-10, 02:25 AM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
14 اگست والے دن کے لیے سرورق پر پیش کریں۔

والسلام
السلام علیکم،

جناب لگتا ہے آپ کسر نفسی سےنہیں بلکہ مجرمانہ غفلت سے کام لے رہے ہیں اتنے اہم موضوع کو صرف ایک دن نہیں‌ بلکہ ابھی سے سرورق پر لگا دیں‌تو شاید اس کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ لوگوں‌کو ہو ہی جائے ، کیا خیال ہے؟

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), ھارون اعظم (14-08-10), مرزا عامر (29-08-10), حیدر (04-03-11), سحر (13-08-10), عبداللہ حیدر (03-03-11)
پرانا 13-08-10, 08:09 AM   #8
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,113
شکریہ: 285
376 مراسلہ میں 1,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادر Shafresha آپ کے دل سے نکلے ہوئے ان درد بھرے الفاظ سے میں تو پوری طرح متفق ہوں۔پاکستان پر تمام اقلیتوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہم پاکستانیوں کا۔ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے تعین میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ دوسرے ممالک اپنی اقلیتوں کے حقوق اور حدود طے کرنے میں آزاد ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ پاکستان بننے سے پہلے جب اقلیتوں نے قائد اعظم اور دیگر مسلمان زعما سے اپنے متعلق سوال کیا تھا تو انھیں یہ جواب دیا گیا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کومسلمانوں کےبرابر حقوق حاصل ہوں گے۔یہ بات تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔چنانچہ یہاں اقلیتوں کے معاملے میں کوئی امتیازی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔
میرا خیال ہے کہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس وعدے کا تعلق قیام پاکستان سے ہے۔ اگر اس میں کوئی تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو 14 اگست 19947 والی پوزیشن سے پہلے والی جگہ پر واپس جانا ہوگا اور پھر اس معاہدے کو جو اقلیتوں سے کیا گیا ہے ختم کیا جاسکتاہے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پہلے پاکستان کو ختم کرکے تقسیم سے پہلی حالت کو واپس لایا جائے گا اور پھردوبارہ اقلیتوں کو انتخاب کا حق دیا جائے گا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اور اگرآپ لوگ ایسا نہیں چاہتے اور یقینا میرے سمیت کوئی بھی ایسا نہیں چاہے گا۔ تو پھراقلیتوں کو حسب وعدہ ان کے تمام برابر حقوق دیے جانے چاہییں،اس سے قطع نظر کہ ہمارا دل کیا چاہتا ہے،یا علما کیا چاہتے ہیں،بلکہ اور تو اور اب اس میں اسلام بھی کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔
ایک بات اور بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ اسلام میں کافر اور غیر مسلم دو الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ہر غیر مسلم کافرنہیں ہوتا۔کافر صرف اس غیر مسلم یا مسلم کو کہا جاسکتا ہے جس تک اسلام کی دعوت پورے اہتمام سے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے پہنچا دی جائے اور وہ اس کو دل سے مان بھی لے،اس کےخلاف اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اور پھر وہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکا ر کرے۔ اسی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ اور دوسرے غیرمسلموں کے سٹیٹس کو الگ رکھا تھا۔ مشرکین مکہ یا قبیلہ قریش کےمنکرین کے علاوہ مثلا یہود و نصاریٰ کو کافر نہیں کہا گیا۔
امید ہے احباب ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), نورالدین (08-03-11), ناصحی (14-08-10), منتظمین (13-08-10), مسلم بھائی (13-08-10), احمد بلال (13-08-10), حیدر (04-03-11), رضی (04-03-11)
پرانا 13-08-10, 12:03 PM   #9
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,682
کمائي: 52,664
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
لاہورکے راوی روڈ پر بنی "سر گنگا رام" (محسن لاہور) کی سمادھی کچرے کا ڈھیر کیوں بنی ہوئی ہے؟؟؟ اور اسی شہر میں علامہ اقبال کا مقبرہ بقمہ نور کیوں بنا رہتا ہے؟؟؟
اگر ایسا ہے تو کوئی بتائے گا کہ ہند میں بابری مسجد کیوں شہید کی گئی؟؟؟
ہند میں مسلمانوں کے ساتھ صرف امتیازی ہی نہیں بلکہ گٹیا ترین سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟
مسلمانوں کو ایک خاص گریڈ تک کیوں محسوس کردیا گیا ہے؟؟؟
مسلمانوں کا آئے روز قتلِ عام کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟
کیا پاکستان میں کبھی بھی کسی ہندو، عیسائی، پارسی یاکسی بھی کافر قوم کا قتلِ عام ہوا ہے؟؟؟
اگر نہیں تو یہ تحریر پاکستان دشمن کی تحریر ہے۔
اللہ کے لیے ایسی تحریر جس میں صرف اسلام دشمنی ہی نہیں بلکہ پاکستان دشمنی بھی ہوتی ہے کیوں پوسٹ کی جاتی ہیں؟؟؟
کیا یہ پاکستانیوں کا فورم ہے اگر ہے تو پاکستان کو تعصب کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟؟؟
یہاں گو کہ ظلم ہے زیادتیاں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی اقلیتوں کے ساتھ ایسا ظلم ہر گز نہیں ہوتا جیسا ہندوستان میں ہوتا ہے۔
ہندوستان میں جو جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے اس پر اگر لکھا جائے تو مہینوں لگ جائیں۔
میں ہارون بھائی سے گزارش کرون گا کہ وہ اس کو سرورق پر نہ لگائیں۔ شکریہ
یہ میری رائے گا کیونکہ اس تحریر میں پاکستان دشمنی نظر آرہی ہے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (03-03-11), shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), مسلم بھائی (13-08-10), احمد بلال (13-08-10), بلال الراعی (13-08-10), حیدر (04-03-11), راجہ اکرام (13-08-10), سحر (13-08-10)
پرانا 13-08-10, 12:52 PM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا اسلام اور پاکستان بس ہندوستان میں کیا کچھ ہوتا ہے اسی تک محدود ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), حیدر (04-03-11), طاھر (13-08-10)
پرانا 13-08-10, 01:07 PM   #11
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,568
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیا اسلام اور پاکستان بس ہندوستان میں کیا کچھ ہوتا ہے اسی تک محدود ہے؟
السلام علیکم،

آپ کا سوال درست ہے - پاکستان اور پاکستان کے اسلام کو اپنی حدود متعین کرنی چاہیئے۔

اگرکسی غیر مسلم ملک میں کچھ اچھا ہوتا ہے تو اس کو پاکستان کے اسلام سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیئے جیسا کہ ایک عام طریقہ ہے، اسی طرح‌پاکستان میں غلط کاموں کا مقابلہ بھی کسی اور سے نہیں‌کرنا چاہیئے۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-08-10), فیصل ناصر (13-08-10), منتظمین (13-08-10), حیدر (04-03-11), رضی (04-03-11), سحر (14-08-10)
پرانا 13-08-10, 10:45 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
برادر Shafresha آپ کے دل سے نکلے ہوئے ان درد بھرے الفاظ سے میں تو پوری طرح متفق ہوں۔پاکستان پر تمام اقلیتوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہم پاکستانیوں کا۔ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے تعین میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ دوسرے ممالک اپنی اقلیتوں کے حقوق اور حدود طے کرنے میں آزاد ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ پاکستان بننے سے پہلے جب اقلیتوں نے قائد اعظم اور دیگر مسلمان زعما سے اپنے متعلق سوال کیا تھا تو انھیں یہ جواب دیا گیا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کومسلمانوں کےبرابر حقوق حاصل ہوں گے۔یہ بات تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔چنانچہ یہاں اقلیتوں کے معاملے میں کوئی امتیازی قانون نہیں بنایا جاسکتا۔
میرا خیال ہے کہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس وعدے کا تعلق قیام پاکستان سے ہے۔ اگر اس میں کوئی تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو 14 اگست 19947 والی پوزیشن سے پہلے والی جگہ پر واپس جانا ہوگا اور پھر اس معاہدے کو جو اقلیتوں سے کیا گیا ہے ختم کیا جاسکتاہے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پہلے پاکستان کو ختم کرکے تقسیم سے پہلی حالت کو واپس لایا جائے گا اور پھردوبارہ اقلیتوں کو انتخاب کا حق دیا جائے گا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اور اگرآپ لوگ ایسا نہیں چاہتے اور یقینا میرے سمیت کوئی بھی ایسا نہیں چاہے گا۔ تو پھراقلیتوں کو حسب وعدہ ان کے تمام برابر حقوق دیے جانے چاہییں،اس سے قطع نظر کہ ہمارا دل کیا چاہتا ہے،یا علما کیا چاہتے ہیں،بلکہ اور تو اور اب اس میں اسلام بھی کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔
ایک بات اور بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ اسلام میں کافر اور غیر مسلم دو الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ہر غیر مسلم کافرنہیں ہوتا۔کافر صرف اس غیر مسلم یا مسلم کو کہا جاسکتا ہے جس تک اسلام کی دعوت پورے اہتمام سے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے پہنچا دی جائے اور وہ اس کو دل سے مان بھی لے،اس کےخلاف اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو اور پھر وہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکا ر کرے۔ اسی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ اور دوسرے غیرمسلموں کے سٹیٹس کو الگ رکھا تھا۔ مشرکین مکہ یا قبیلہ قریش کےمنکرین کے علاوہ مثلا یہود و نصاریٰ کو کافر نہیں کہا گیا۔
امید ہے احباب ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔
گوندل صاحب
بہت اچھی ترجمانی کی ہے آپ نے اقلیتوں کی
لیکن اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ اسلام مداخلت کیوں نہیں کر سکتا؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), حیدر (04-03-11)
پرانا 14-08-10, 07:12 AM   #13
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم دوستوں،
ہم اکثر ایک جملہ استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شخص کی تحریریں بڑی جاندار یا بکواس ہوتیں ہیں، یا فلاں صاحب اپنی تحریر میں افراط سے کام لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کیا آپ یقین کریں گے کہ زیر بحث مضوع لکھنے سے پہلے نا ہی میرے ذہن میں کوئی خاکہ تھا اور نا ہی کوئی خیال !
ہاں البتہ اتنا ضرور سوچا تھا کہ سب دوستوں کی طرح میں بھی اس مرتبہ کچھ ناکچھ ضرور لکھوں گا۔ پھر اچانک نماز پڑھنے کے فورا بعد میں اُٹھا اور ٹائپ کرنا شروع کردیا، غالبا 22 منٹ لکھے تھے اسے ٹائپ کرنے میں !

میں فرمائشی طور پر کچھ بھی نہیں لکھ سکتا ،اگر ایسا کرسکتا تو بہت پہلے ہی کسی اخبار یا رسالے سے وابستہ ہوچکا ہوتا(اگرچہ میری خوہش بھی تھی)۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ "میں نے یہ تحریر نہیں لکھی" بلکے اس تحریر نے "مجھ سے خود کو لکھوایا ہے"۔

اسے ٹائپ کرنے کے بعد سوچا کہ کہیں دوست احباب خوامخواہ کی "سوءظنی" میں مبتلاءنا ہوجائیں۔۔۔۔ مگر پھر خیال آیا کہ نہیں بھئی ایسا بھی نہیں ہے وہ ایک عرصے سے مجھے جانتے ہیں، میری "حب الوطنی" و "پاکستانیت" کو کوئی خطرہ درپیش نہیں۔

اب دوستوں کے تبصرے پڑھنے کے بعد لانڈھی چراغ ہوٹل کے چراغ قبلہ مرحوم "خالد علیگ" مرحوم کا یک شعر یاد آ رہا ہے
ع
یہ قوم مردہ پرستی میں ماہر ہے
یہ روئے کی کل مجھ کو آج اس کو رو لوں میں

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک محفل میں اُنہوں نے فرمایا تھا؛ ع

پھر ہے نزولِ تیرہ شبی، روشنی کی خیر
اپنوں کی خیر بلکہ ہر ہر اک اجنبی کی خیر

پھر آدمی کے ہاتھوں خنجر ہے، دوستو!
اور میں یہ سوچتا ہوں کہ اب "آدمی" کی خیر

اس حسن بندبست کے قربان جائیے
دست تہی کی خیر، نہ تاج سبی کی خیر

پتھر ہے "دست شیشہ گراں"کا نصیب آج
خالد یہ حال ہو تو بھلا کیا کسی کی خیر

میری بات بہت آسان اور سادہ تھی!

کیا پاکستانی ہونے کے لیئے "مسلمان"ہونا لازمی ہے؟
یا
کیا پاکستان میں قلیتوں کوبرابر کے حقوق حاصل ہیں؟

1971ءتک گورنمنٹ کالج لاہور میں سال اول کی انگریزی کی درسی کتاب کے پہلے سبق "قائداعظم" کا یہ حصہ اب کیوں شامل نصاب نہیں جس میں کہا گیا تھا کہ؛
"آپ اپنی مساجد اور مندروں میں جانے کو آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں ہندو ، ہندو رہے گا نہ مسلمان، مسلمان۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ شہری حقوق کے لحاظ سے۔ ریاست کی نگاہ میں سب برابر کے پاکستانی ہوں گے۔ کسی سے کوئی امتیاز نہیں رکھا جائیگا"۔


ریکارڈ گواہ ہے کہ قائداعظم نے 11 اگست 1947ءکو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا؛
"’اب آپ آزاد ہیں مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں‘ اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں‘ آپ کا کسی مذہب‘ ذات‘ پات‘ یا عقیدے سے تعلق ہو‘ کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں‘"


گویا اُن کی نگاہوں میں پاکستانی ہونے کے لیئے "مسلمان"ہونا ضروری نہیں تھا بلکہ کوئی ہندو یا عیسائی بھی پاکستانی ہوسکتا اور اور اُسے بھی اس مملکت میں "برابر کے حقوق"حاصل ہوسکتے ہیں۔

10 اگست کے دن پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ایک ہندو "جوگندر ناتھ منڈل" کی زیر صدارت میں منعقد ہوا اور اُنہی کی زیر صدارت 11 اگست کے اجلاس میں قائداعظم پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے صدر منتخب کر لئے گئے۔
اسی دن کے اجلاس میں جناب لیاقت علی خان نے محمد علی جناح کے نام کے ساتھ لازما "قائداعظم" لکھنے اور پکارنے کے لیئے ایک قرارداد پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

"پاکستان کے لیے تو آئین موجود ہے اور وہ آئین قرآن ہے"جیسا جملہ کہنے والے جناب قائد اعظم نے 19 فروری 1948 کے خطاب میں کہا تھا:

"پاکستان میں پاپائیت کا نظام رائج نہیں۔ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسلام ہم سے دوسرے عقائد کو گوارا کرنے کا تقاضا کرتا ہے اورہم اپنے ساتھ ان لوگوں کے گہرے اشتراک کا دلی خیر مقدم کرتے ہیں جو خود پاکستان کے سچے اور وفادار شہریو ں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے رضامند ہوں"


پاکستان بننے اور قائد اعظم کے انتقال( 11ستمبر) اُنیس سو اڑتالیس کے بعدتقریبا دو سال کے بعد یعنیٰ 12 مارچ 1949ءکوپاکستان کے آئین کا "لازمی"حصہ دی گئی" قرارداد مقاصد" جس کے مطابق پاکستان ایک "اسلامی جمہوریہ" ہے دراصل دین میں شامل "بدعت حسنہ" کی مانند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ گومگو کی کیفیت میں رہتا ہے کچھ اُسے ثواب سمجھتے ہیں تو کچھ جہنم کی وعید!!!

میری تو بس اتنی سی گذارش ہے کہ ہم اپنے اعمال پر اللہ عزوجل کو جوابدہ ہیں اور دین نے ہمیں "سوءظنی"سے منع فرمایا ہے بلکہ حدیث میں تو اسے گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے، لہذا اختلاف رائے رکھتے ہوئے تحمل کے ساتھ تبصرہ کریں اور کسی کی حب الوطنی پر انگلی اُٹھانے سے پہلے یہ جان لیجیئے کہ کیا آپ کی جانب سے کیا گیا تبصرہ دراصل مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات سے متعلق ہے یا محض "چند سستے سے جذباتی جملوں کا ڈھیر"ہے جس سے ایک خاص طبقہ فکر کو تو خوش کیا جا سکتا ہے لیکن تاریخ کو مسخ نہیں کیا جاسکتا!

والسلام،

Last edited by shafresha; 14-08-10 at 07:15 AM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-08-10), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (14-08-10), نورالدین (08-03-11), ناصحی (14-08-10), منتظمین (14-08-10), مرزا عامر (29-08-10), ابرارحسین (14-08-10), احمد بلال (15-08-10), حیدر (04-03-11), طاھر (14-08-10)
پرانا 14-08-10, 01:14 PM   #14
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,641
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں


ہندوستان میں جو جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے اس پر اگر لکھا جائے تو مہینوں لگ جائیں۔
میں ہارون بھائی سے گزارش کرون گا کہ وہ اس کو سرورق پر نہ لگائیں۔ شکریہ
یہ میری رائے گا کیونکہ اس تحریر میں پاکستان دشمنی نظر آرہی ہے۔
السلام علیکم،

اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی تحریر کو اشاعت سے روکنے کا مطلب ہار تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مجھے خوشی ہوگی اگر کوئی ساتھی اس تحریر کا مدلل جواب دے، اور ہم اس تحریر کو ایک دوسرے نقطہ نظر کے طور پر سرورق پر شائع کریں۔

شکریہ
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), فیصل ناصر (14-08-10), ناصحی (14-08-10), منتظمین (14-08-10), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (15-08-10), حیدر (04-03-11), راجہ اکرام (14-08-10), طاھر (14-08-10)
پرانا 14-08-10, 04:44 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہد بھائی
دو قومی نظریے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-10), ھارون اعظم (14-08-10), احمد بلال (15-08-10), حیدر (04-03-11), رضی (04-03-11)
جواب

Tags
color, کورٹ, کراچی, ٹیک, پاکستان, پاکستانی, پسند, نظر, ماں, مسجد, اللہ, اسلام, تاج, خون, رات, سفر, سودا, سال, علامہ, عبادت, عبدالسلام, عدالت, صفر, صبح, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جیتیں انعام 100000 کا ۔ ۔ ۔ ۔ میاں شاہد دلچسپ اور عجیب 57 09-06-11 04:09 PM
500 پوائنٹ کا انعام جیتیں ام طلحہ گپ شپ 22 12-01-09 10:26 PM
نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے والے نظام تعلیم کی ضرورت خرم شہزاد خرم طالب علموں کی بیٹھک 4 03-04-08 06:37 AM
ہم جیتیں گے تفسیر حیدر کرکٹ 1 23-09-07 01:51 AM
ناظمین کی صلاحیتیں واپس آ گئی ہیں منتظمین خاص آفرز اور اعلانات 11 17-08-07 09:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:37 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger