واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


کس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-08-11, 09:00 PM   #1
کس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟
skjatala skjatala آف لائن ہے 14-08-11, 09:00 PM

Name:  Pakistan_Flag_2.jpg
Views: 99
Size:  27.8 KB
جب بھی جشن آزادی کا موقع آتا تو ملک صاحب یکم اگست سے ہی اس کی تیاریوں میں مگن ہوجاتے لیکن اسے اتفاق کہیے یا مَلک کی بد قسمتی جونہی یہ کاغذی جھنڈیاں لگاتے اُسی رات بارش برستی اور صبح کاغذی جھنڈیوں کی جگہ دھاگوں کا جال بُنا دکھائی دیتا۔ اس بار بھی مَلک صاحب نے ہم سے پیسے لے کر جذبہ حب الوطنی کا مظاہر کرنے کے لیے جھنڈیاں خرید لیں اور گلی کو دلہن بنادیا۔ ہم نے ایک نظر ڈالی تو مَلک صاحب ہمارا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ ہم کیا سوچ رہے ہےں، اس لیے جھٹ سے کہا”یار! دعا کرو اس مرتبہ بارش نہ ہو یا پھر چودہ آگست آگے ہوجائے۔“


مَلک کی سادگی پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے، کیونکہ وقت رُکتا نہیں اور بارش آنی ہو تو ٹلتی نہیں۔ بارش اور اگست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پورے سال آسمان پر کالے بادلوں کی جگہ کالے کوے نظر آتے رہیں گے مگر ماہِ اگست شروع ہوتے ہی بادلوں کی ٹولیاں اُمڈ اُمڈ آتی ہیں اور کوے بھی بھیگی بلی بنے کھمبے نوچتے دکھائی دیتے ہیں۔ سو اِس مرتبہ بھی یہی ہوا۔ اِدھر گلی میں جھنڈیاں لہرانے لگیں اور اُدھر محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی کہ چوبیس گھنٹوں میں بارش کا امکان ہے۔ یہ سن کر مَلک ہی نہیںا ور بھی لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب بارش نہیں ہوگی کیونکہ جس طرح موسم کا اعتبار نہیں اسی طرح محکمہ موسمیات بھی بے اعتباری میں اپنا مقام اور نام رکھتا ہے۔ ملک صاحب محکمے کی روایتی کارکردگی کے بھروسے پر سوگئے لیکن صبح جب اٹھے تودلہن بنی گلی انہیں غسل کے بعد نکھری نکھری نظر آئی اور دھاگے اس طرح نظر آرہے تھے جیسے کسی نے اُردو کی کاپی کو آسمان پر کھول رکھا ہو۔
[ATTACH]Name:  Pakistan-Flag-Contact-Lenses.jpg
Views: 106
Size:  20.1 KB[/ATTACH]
مَلک صاحب غصے سے کھولتے دکھائی دے رہے تھے، ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ لنگر پھینک پھینک کر دھاگوں کو بھی کھینچ توڑ دالیں۔ ”مَلک صاحب حوصلہ کریں۔ ابھی جشن آزادی میں چار دن باقی ہیں۔ “ ہم نے تسلی دی۔ میں تو حوصلہ کرلوں گا مگر محکمہ موسمیات والوں کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔“ مَلک غصے میں اس طرح بھرا نظر آیا جیسے وہ کریلاہو اور اس میں کسی نے قیمے کی بجائے کریلے ہی بھر رکھے ہوں۔ کس قسم کا فیصلہ، کون سا فیصلہ؟“ ہم نے پوچھا۔ یاتو یہ موسمیات والے سچ بولا کریں یا پھر محکمے کی ساکھ کو برباد نہ کریں۔“ مَلک نے کہا۔ کیا مطلب؟ کیسی ساکھ؟“ ہمارا اَگلا سوال ۔

”جب بھی محکمے والے کہتے ہیں کہ موسم خشک رہے گا تو ایسی زُوں زُوں ہوا چلتی ہے کہ مزا آجاتا ہے۔ جس دن یہ کہتے ہیں کہ طوفان کا خطرہ ہے، لو گ بے خوف خطر سمندر جا پہنچتے ہیں کہ آج موسم خوشگوار رَہے گا۔ اور جب موسمیات والے کہتے ہیں کہ بارش ہوگی تو اُس دن بارش کے سوا سب کچھ ہوجاتا ہے تو اس بار ان کا کہا غلط کیوں ثابت ہورہا ہے۔“ مَلک نے تفصیلی سوال پوچھا۔ بہت آسان بات ہے، موسمیات والے بھی روزہ رکھتے ہوں گے اور رَوزے میں جھوٹ بولنے سے اثر پڑتا ہے اس لیے انہوں نے سچ سچ بتادیا اور آپ لوگ اسے بھی مذاق سمجھتے رہے۔“ ہمارا جواب بھی تفصیلی تھا مگر سوال سے کم۔

”لاﺅ پھر ہزار رَوپے۔“ ملک نے ہتھیلی آگے کی۔ مجھے کب دیئے تھے؟“ ہم نے پوچھا۔ پہلے بھی تم نے ہی دیئے تھے، اب بھی جھنڈیاں لگانے کے لیے تم ہی پیسے دو گے۔“ مَلک نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ہمت سے بھی کام لیا اور ہماری جیب میں ہاتھ ڈال کر خود ہی نوٹ نکال لیے۔ مَلک صاحب! مانا کہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر محکمہ موسمیات والوں کے سچ کی سزا ہمیں کیوں دی جارہی ہے؟“ہم نے حسرت سے نوٹوں کو دیکھا۔

” کیا تمہیں وطن سے پیار نہیں؟ اس دھرتی ماں کا تم پر کوئی حق نہیں؟ اتنا اس ملک سے کماتے ہو ہزار دو ہزار اس پر خرچ کرتے ہوئے موت آتی ہے۔“ مَلک صاحب نے ہمارے ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ تو آپ پر بھی واجب ہوتا ہے۔“ ہم نے ضمیر کو زحمت دینے کی بجائے ذہن سے کام لیا۔ مہنگائی تو دیکھو کتنی ہوگئی ہے، گھر کے راشن اور بیگم کے درشن کا سامان ہی بڑی مشکل سے پورا کرپاتا ہوں پھر آدھے سائز اور ڈبل قیمت کی جھنڈیاں کیسے خرید سکتا ہوں۔“ مَلک نے اپنی معیشت کا رونا اس طرح رویا جیسے وہ صدر اوباما ہو اور مالداروں کو زیاد قرض دینے پر اُبھار رَہا ہو۔

”تو گلی والوں سے چندا کرلیتے ہیں، میں اکیلا ہی تو دھرتی ماں کا مقروض نہیں۔“ ہم نے بچت کا طریقہ سوچا۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ محلے والوں کی نظروں میں کیوں خود کو اور مجھے گرانا چاہتے ہو۔ کیا کہیں گے کہ ہم پچاس پچاس روپے کے لیے ہر گھر کا دروازہ بجا رہے ہیں۔آخر مَلک برادری کی عزت بھی کوئی چیز ہے۔“ مَلک صاحب نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا۔ جس سے ہماری قابو کی گئی کھانسی بے قابو ہوگئی اور اس طرح کھانسنے لگے جیسے دمِ آخر آن پہنچا ہو۔ کیونکہ مَلک صاحب نے اپنے سینے پر نہیں ہمارے سینے پر ہاتھ مارا تھا۔دو چار دن سے کھانسی نے سینے کو کٹی پہاڑی سمجھ کر یلغار کر رکھی تھی اس لیے ہم نے بھی سیکورٹی کا کام مختلف کلر کے شربتوںسے لے رکھا تھا جو مَلک کی ذرا سی بے احتیاطی سے پھر حملہ آور ہوچکی تھی۔ آپ یہاں مَلک کو ہمارا دوست مَلک ہی سمجھئے کہیں کٹی پہاڑی اور بے احتیاطی سے آپ کا دھیان رحمن مَلک کی طرف نہ چلا جائے۔

کھانس کھانس کر تھک چکے یا تھک تھک کر کھانس چکے تو کچھ حواس بحال ہوتے ہی مَلک کو دیکھنا چاہا مگر وہ تو امریکا بنا مشکل گھڑی میں غائب تھا۔کچھ دیر بعد آیا تو اس کے ہاتھ میں مختلف رنگوں کی جھنڈیوں کے پیکٹ تھے سوائے ہرے رنگ کے۔ ہم نے پوچھا ”مَلک صاحب! کیا چودہ اگست نہیں منانی؟“ ہم سچے پاکستانی ہیں، چودہ اگست ہی منائیں گے۔‘ ‘ مَلک نے لال جھنڈیوں کا پیکٹ کھولتے ہوئے کہا۔ تو پھر ہرے رنگ کی جھنڈیاں کیوں نہیں لائے؟“ ہم نے نیلے اور براﺅن کلر کے پیکٹ کی طرف دیکھا۔

”دکاندار نے تو مجھے ہرے رنگ کا ہی پیکٹ دیا تھا۔ میں نے اُس سے فرمائش کی کہ کسی اور رَنگ کی جھنڈیاں دکھاﺅ تو اس نے مجھے یہ دے دیئے۔“ مَلک صاحب نے اپنی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ لیکن یہ تو پاکستان کا پرچم نہیں۔“ ہم نے سرخ جھنڈی کو دیکھا۔ پرچم ، پرچم ہوتا ہے لال ہو یا ہرا۔“ مَلک شاید بھول کر خود کو وزیر رئیسانی سمجھ بیٹھا۔ پاگل تو نہیں ہوگئے! اس پرچم کی خاطر تو ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی اور تم منہ اُٹھا کر سبز ہلالی پرچم کی بجائے یہ گولا گنڈا مارکہ جھنڈیاں اُٹھا لائے۔“

”یار! سمجھا کر۔ بادلوں کو دھوکہ دینے کے لیے ضروری تھا۔ “ مَلک نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کیا مطلب؟“ ہم نے بے ساختہ پوچھا۔ جہاں سبز ہلالی پرچم ہو وہاں خدا کی رحمت چھما چھم برستی ہے۔ یہ لگاﺅں گا تو ایک دو دن بارش تو رُکی رہے گی۔“ملک نے سرخ جھنڈی دکھائی۔


مَلک ٹھیک ہی کہتا ہے، ہمیں خدا کی رحمتوں کی ضرورت نہیں رہی،اسی لیے تو ہم لال پیلے جھنڈ وں کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں، سبز ہلالی پرچم کے لیے نہیں۔ جشنِ آزادی مبارک ہو!!

بشکریہ: کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام


Internal Server Error

The server encountered an internal error or misconfiguration and was unable to complete your request.

Please contact the server administrator, webmaster@pak.net and inform them of the time the error occurred, and anything you might have done that may have caused the error.

More information about this error may be available in the server error log.

Additionally, a 500 Internal Server Error error was encountered while trying to use an ErrorDocument to handle the request.

Attached Images
 

__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 818
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (17-08-11), فیصل ناصر (14-08-11), کنعان (14-08-11), نیلم خان (15-08-11), محمد یاسرعلی (14-08-11), مرزا عامر (16-12-11), اسراراحمد چوہدری (15-08-11), سام (14-08-11), عبدالقدوس (15-08-11), عروج (16-08-11)
پرانا 14-08-11, 09:30 PM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,827
شکریہ: 13,535
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قومی ترانہ


اس بچہ سے بھی قومی ترانہ سنیں


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (14-08-11), فیصل ناصر (14-08-11), نیلم خان (15-08-11), محمد یاسرعلی (14-08-11)
کمائي نے کنعان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
15-08-11 نیلم خان بہت خوبصورت 100
پرانا 15-08-11, 01:12 AM   #3
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,196
شکریہ: 25,590
10,454 مراسلہ میں 38,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوبصورت تحریر
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (17-08-11), skjatala (15-08-11), کنعان (15-08-11)
پرانا 15-08-11, 11:05 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مَلک ٹھیک ہی کہتا ہے، ہمیں خدا کی رحمتوں کی ضرورت نہیں رہی،اسی لیے تو ہم لال پیلے جھنڈ وں کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں، سبز ہلالی پرچم کے لیے نہیں۔ جشنِ آزادی مبارک ہو!!
واقعی ملک ٹھیک کہتا تھا۔
اسی لیے تو اللہ کی رحمتوں سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (15-08-11), نیلم خان (16-08-11), عروج (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 12:32 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے اپنے بچپن کی وہ ساری جشن ِ آ زادیاں یاد آگئیں جب ساری گرم تپتی دوپہر میں بھائی کے حکم بجا آوری کے شوق میں جھنڈیاں لگا کر فخر سے شام اور رات کے پہلے پہرتک جھنڈیاں لگے صحن کو تکتے ۔ اگلی صبح اسی دکھی دل سے گیلی جھنڈیاں سمیٹ رھے ھوتے تھے۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
skjatala (16-08-11), نیلم خان (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 12:38 AM   #6
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,196
شکریہ: 25,590
10,454 مراسلہ میں 38,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
مجھے اپنے بچپن کی وہ ساری جشن ِ آ زادیاں یاد آگئیں جب ساری گرم تپتی دوپہر میں بھائی کے حکم بجا آوری کے شوق میں جھنڈیاں لگا کر فخر سے شام اور رات کے پہلے پہرتک جھنڈیاں لگے صحن کو تکتے ۔ اگلی صبح اسی دکھی دل سے گیلی جھنڈیاں سمیٹ رھے ھوتے تھے۔
صیحح کہا آپ نے ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (17-08-11), skjatala (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 05:30 PM   #7
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
مجھے اپنے بچپن کی وہ ساری جشن ِ آ زادیاں یاد آگئیں جب ساری گرم تپتی دوپہر میں بھائی کے حکم بجا آوری کے شوق میں جھنڈیاں لگا کر فخر سے شام اور رات کے پہلے پہرتک جھنڈیاں لگے صحن کو تکتے ۔ اگلی صبح اسی دکھی دل سے گیلی جھنڈیاں سمیٹ رھے ھوتے تھے۔
14 اگست کو بارش نے بھی لازمی آنا ہوتا تھا۔ یاد ہے نا بہنا؟
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
skjatala کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (17-08-11)
پرانا 16-08-11, 06:05 PM   #8
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,232
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
مجھے اپنے بچپن کی وہ ساری جشن ِ آ زادیاں یاد آگئیں جب ساری گرم تپتی دوپہر میں بھائی کے حکم بجا آوری کے شوق میں جھنڈیاں لگا کر فخر سے شام اور رات کے پہلے پہرتک جھنڈیاں لگے صحن کو تکتے ۔ اگلی صبح اسی دکھی دل سے گیلی جھنڈیاں سمیٹ رھے ھوتے تھے۔
لگتا ہے 14اگست پربارش ۔۔ رحمت نہیں ۔۔۔۔ ہم تو جھنڈیاں سمیٹ لیتے تھے مگر آج کل کی نسل ایسا نہیں کرتی۔۔۔
__________________
RADIO WORLD ... UNITY FOR PEACE
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (17-08-11), عبدالقدوس (16-08-11)
پرانا 17-08-11, 06:58 AM   #9
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,909
کمائي: 561,196
شکریہ: 25,590
10,454 مراسلہ میں 38,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں اللہ پاک کی حکمت ہے کہ وہ بارش بھیج دیتا ہے
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (17-08-11), skjatala (16-12-11)
پرانا 15-12-11, 10:44 PM   #10
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 10
کمائي: 434
شکریہ: 0
7 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قومئ ترانہ کیاھے؟ ۔صرف ایک گیت بن گیا ھے جو ہم صرف سال میں ایک بار اپنے ہونٹوں پر سجا تے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں کوئی مھجے جواب دے
ROSE آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
contact, email, کراچی, پاکستانی, پاگل, ڈاٹ, وزیر, نظر, مہنگائی, موقع, موت, ماں, جھوٹ, جواب, خدا, دیکھو, دوست, دعا, روزہ, رات, سال, عزت, صاف, صبح, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یہ کون لوگ ہیں؟ عمران1111 خبریں 6 28-05-11 05:44 PM
آج کل آپ کیا کررہے ہیں؟ ارشد کمبوہ خبریں 6 16-05-11 09:12 PM
سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ nsa47 دلچسپ اور عجیب 25 25-06-10 07:50 PM
ہم کس گروہ سے ہیں؟ sahj عمومی بحث 4 01-02-10 01:38 PM
خود کُش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟ میاں شاہد اسلام اور عصر حاضر 3 04-11-08 11:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:37 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger