واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے قومی تہوار > 14اگست



14اگست پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز پر 14اگست کے حوالہ سے خاص فورم جس میں تحریکِ پاکستان سے لیکر اب تک کیا کھویا؟ کیا پایا؟ ہماری محنت، ملکی حالات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کی جائے گی


63 واں جشن آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بار کا پیغام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-08-10, 03:17 PM   #1
63 واں جشن آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بار کا پیغام
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 10-08-10, 03:17 PM

آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ زندہ قومیں کبھی اس بیش بہا نعمت پر کسی قیمت کا سودا نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جاں آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر قرباں میری ساری زندگی
لیکن آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

آج ہم کن حالات میں جشن آزادی منانے جا رہے ہیں؟؟؟
وطن عزیز پاکستان کو آزاد مملکت کے طور پر معرض وجود میں آئے 63 سال مکمل ہو چلے، یہ آزادی جن قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ان کی اندوہناک داستان ہم میں سے کون نہیں جانتا۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر جب یہ وطن حاصل کیا گیا تو ایک ہی مقصد پیش نظر اور ایک ہی نعرہ سب کی زبان پر تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ

لیکن ہم اس عہد کے ساتھ وفا نہ کر سکے، اپنے مقصد اور اس بنیادی نظریے کو پس پشت ڈال دیا جس کے لئے ہزاروں عصمت مآب ماؤں بہنوں نے قربانیاں دی تھیں، ہزاروں بھائیوں اور بیٹوں نے اپنی جانیں لٹا دی تھیں، اور ہزاروں بوڑھوں نے اپنی متاع حیات وار دی تھی ۔۔

وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدو جہد اور قربانیوں کی داستاں رقم کی گئی وہ یاپنے ہی اجنبی ہو گیا۔ کار حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری ایک عام روش بن گئی۔

نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت نے جب اپنے نظریے سے دوری اختیار کی تو باوجود ظاہر آزادی کے، غیروں کی ذہنی غلامی کی زنجیریں پہنتی چلی گئی۔ اور آج یہ عالم ہے کہ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بیرونی آقاؤں کے اشارہ ابرو پر کٹھ پتھلیوں کی طرح ناچنے کو فخر سمجھتے ہیں۔

غیروں کی غلامی میں ہم اس قدر آگے نکل گئے کہ اپنے ملکی مفاد تک کو بالائے طاق رکھ دیا، غربت اور بے روزگاری پر توجہ دینے کے بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول میں مگن رہے۔ جس کے نتیجے میں حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

ترقی تو درکنا، مہنگائی اور بے روزگاری تک پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اور سب سے بڑھ کر امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں کہ انسان اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔

اس پر حالات کی ستم ظریفی کہ پانی نے ہمیں چاروں اور سے آ لیا۔ آسمان پانی برسانے لگا اور زمین سے پانی ابلنے لگا۔ رہی سہی کسر ہماری ’’امن کی آشا‘‘ کے ہمدرد ساتھی اور ہمارے دیرینہ ’دوست‘ نے پوری کر دی۔ جب دیکھا کہ پانی روک کر تو انہیں ختم نہیں کر سکے تو چلو اس موقع پر پانی بہا کر ان کا صفایا کرتے ہیں۔

ایک طرف پانی کی تباہ کاریاں ہیں، بے گو ر کفن لاشے، لٹے پٹے لوگ اور بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں، تو دوسری جانب روشنیوں کے شہر کراچی میں اس سیلابی پانی والا کام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان کر رہے ہیں۔ یہاں پانی کا سیلاب ہے تو وہاں خون کے دریا۔
جشن آزادی کیسے منائیں؟؟

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اس بار جشن آزادی کیسے منایا جائے؟
ایک تعداد تو پچھلے کئی سالوں سے اس قدر مایوس اور بد دل ہو چکی ہے کہ اس کے لئے اس ایک دن کو منانا سراسر منافقانہ روش ہے۔ کہ جب ہم سارا سال اسی وطن کے ساتھ دشمنی کا عملی ثبوت دیں، ملک میں ہر سو آگ اور خون کا ہولناک کھیل کھیلا جا رہا ہو، بلوچستان سے لے کر قبائلی علاقوں تک اور خیبر سے کراچی تک کوئی جگہ محفوظ نہ ہو، حکمران اور عوام سب اس ملک کو لوٹنے میں مصروف ہوں، وطن عزیزی میں ہم وطنوں سے زیادہ آزادیاں وطن دشمنوں اور بلیک واٹر والوں کو ہوں، ہماری تقدیر کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے واشنگٹن میں ہوں، اور ہم آزاد ہو کر بھی بد ترین غلامی سے گزر رہے ہوں تو ایسے میں جشن آزادی منانا اور مبارکباد کی تقریبات منعقد کرنا منافقت اور دوغلا پن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے خیال میں سارا سال نہ سہی اسی ایک دن میں ہی اپنے وطن سے محبت کا اظہار، یکجہتی کا مظاہرہ اور اس عہد کی یاد تازہ کر لینا بہت ضروری ہے۔

اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سارا سال بھی اور اس خاص دن میں بھی وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں، سرگرم عمل اور دعا گو ہیں۔

تمام حقائق درست سہی، تمام مایوسیاں اور جھنجھلاہٹ بجا سہی، حالات بہت دردناک سہی، غیروں کی اجارہ سہی لیکن پھر بھی اس وطن عزیز کی صورت میں ہمیں جو ایک نعمت بیش بہا ملی ہوئی ہے، اور ان بد ترین حالات مین بھی ہم جن آزادیوں سے مستفید ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے باسیوں کو نصیب ہوں۔ اور ویسے بھی آزادی کا ایک لمحہ بھی اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے جشن میں ساری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔


14 اگست 2010ء کے یوم آزدی کا تقاضا

اس وقت ہم انتہائی نازک حالات سے گزر رہے ہیں، پورا ملک بد ترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے، کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے، لاکھوں لوگ بے گھر، بے سرو سامان کھلے آسمان تلے ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔ وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں اور ملک بد ترین غذائی بحران کی طرف جا رہا ہے۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، انفراسٹرکچر پانی کی نذر ہو گیا ہے۔ دریاؤں کے پل، پاور ہاؤسز، تیل ریفائنریز، لائیو سٹاک الغرض کیا ہے جو اس تباہی کا شکار نہیں بنا۔

ان حالات میں یہ یوم آزادی تقاضا کرتا ہے ایک بار پھر اس جذبے اور ولولے کا جسکا مظاہرہ 14 اگست 1947ء کیا گیا۔ اس قربانی کا جو ہمارے اسلاف نے دی، اس ہمت کا جو اس بے سرو سامان قوم نے دکھائی اور اس بھائی چارے کا جو مہاجرین کے ساتھ میزبانوں نے کیا۔

اس وقت ایک پورا ملک از سر نو تعمیر ہونے جا رہا تھا، وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، سب لوگ بے سروسامان تھے، لیکن پھر بھی ایک عزم تھا جس نے ایک خواب کو حقیقت بنا دیا۔

آج جب کہ ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں، ملک کا ایک حصہ اگر تباہ ہوا ہے تو ایک بڑا حصہ تا حال بفضل تعالی سلامت ہے اور کارو بار زندگی معمول کے مطابق ہے۔ اگر ہم سب ایک بار پھر اسی جذبے کا عزم کریں، ہر صاحب حیثیت ایک ایک خاندانی کی کفالت یا ایک ایک فرد کا ذمہ ہی لے لے تو ہم اس مشکل وقت کا مقابلہ اچھے انداز سے کر سکتے ہیں، اور ایک بار پھر ان اجڑے شہروں اور دیہاتوں کی رونقیں بحال کر سکتے ہیں۔

یقینا ایسے میں پٹاخوں اور پھلجڑیوں، قمقموں اور بے جا چراغاں، پر شکوہ تقریبات اور بڑے بڑے جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کرنا زیادتی ہو گی۔ ان تمام سرگرمیوں پر صرف ہونے والے انسانی اور مالی وسائل کا بہترین مصرف وہ بھائی اور علاقے ہیں جو اس تباہی کا شکار ہیں۔

آیئے عہد کریں کہ وطن عزیز کو جنت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 934
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), فیصل ناصر (11-08-10), مرزا عامر (10-08-10), اویسی (10-08-10), ام طلحہ (10-08-10), احمد بلال (11-08-10), رضی (11-08-10), سحر (10-08-10), عدنان دانی (10-08-10)
پرانا 10-08-10, 03:27 PM   #2
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوبصورت پیغام ہے۔راجہ بھائی۔یہ ٹھیک ہے کہ اس موقع پر ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے لیکن ہمیں خدا کا شکرانہ نہیں بھولنا چاہئے۔ یہ ملک سلامت رہے تو ہم ان مشکلات پر قابو پا ہی لیں گے۔انشاللہ
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), مرزا عامر (10-08-10), راجہ اکرام (10-08-10)
پرانا 10-08-10, 03:36 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,653
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), راجہ اکرام (10-08-10)
پرانا 10-08-10, 08:45 PM   #4
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,232
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
آزادی کی قدر و منزلت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ زندہ قومیں کبھی اس بیش بہا نعمت پر کسی قیمت کا سودا نہیں کرتیں بلکہ اپنا سب کچھ لٹا کر آزادی کی نعمت کا حصول ممکن بناتی ہیں۔
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جاں آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر قرباں میری ساری زندگی
لیکن آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے

آج ہم کن حالات میں جشن آزادی منانے جا رہے ہیں؟؟؟
وطن عزیز پاکستان کو آزاد مملکت کے طور پر معرض وجود میں آئے 63 سال مکمل ہو چلے، یہ آزادی جن قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ان کی اندوہناک داستان ہم میں سے کون نہیں جانتا۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر جب یہ وطن حاصل کیا گیا تو ایک ہی مقصد پیش نظر اور ایک ہی نعرہ سب کی زبان پر تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ

لیکن ہم اس عہد کے ساتھ وفا نہ کر سکے، اپنے مقصد اور اس بنیادی نظریے کو پس پشت ڈال دیا جس کے لئے ہزاروں عصمت مآب ماؤں بہنوں نے قربانیاں دی تھیں، ہزاروں بھائیوں اور بیٹوں نے اپنی جانیں لٹا دی تھیں، اور ہزاروں بوڑھوں نے اپنی متاع حیات وار دی تھی ۔۔

وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدو جہد اور قربانیوں کی داستاں رقم کی گئی وہ یاپنے ہی اجنبی ہو گیا۔ کار حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری ایک عام روش بن گئی۔

نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت نے جب اپنے نظریے سے دوری اختیار کی تو باوجود ظاہر آزادی کے، غیروں کی ذہنی غلامی کی زنجیریں پہنتی چلی گئی۔ اور آج یہ عالم ہے کہ ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بیرونی آقاؤں کے اشارہ ابرو پر کٹھ پتھلیوں کی طرح ناچنے کو فخر سمجھتے ہیں۔

غیروں کی غلامی میں ہم اس قدر آگے نکل گئے کہ اپنے ملکی مفاد تک کو بالائے طاق رکھ دیا، غربت اور بے روزگاری پر توجہ دینے کے بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول میں مگن رہے۔ جس کے نتیجے میں حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

ترقی تو درکنا، مہنگائی اور بے روزگاری تک پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اور سب سے بڑھ کر امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں کہ انسان اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔

اس پر حالات کی ستم ظریفی کہ پانی نے ہمیں چاروں اور سے آ لیا۔ آسمان پانی برسانے لگا اور زمین سے پانی ابلنے لگا۔ رہی سہی کسر ہماری ’’امن کی آشا‘‘ کے ہمدرد ساتھی اور ہمارے دیرینہ ’دوست‘ نے پوری کر دی۔ جب دیکھا کہ پانی روک کر تو انہیں ختم نہیں کر سکے تو چلو اس موقع پر پانی بہا کر ان کا صفایا کرتے ہیں۔

ایک طرف پانی کی تباہ کاریاں ہیں، بے گو ر کفن لاشے، لٹے پٹے لوگ اور بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں، تو دوسری جانب روشنیوں کے شہر کراچی میں اس سیلابی پانی والا کام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان کر رہے ہیں۔ یہاں پانی کا سیلاب ہے تو وہاں خون کے دریا۔
جشن آزادی کیسے منائیں؟؟

ان حالات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اس بار جشن آزادی کیسے منایا جائے؟
ایک تعداد تو پچھلے کئی سالوں سے اس قدر مایوس اور بد دل ہو چکی ہے کہ اس کے لئے اس ایک دن کو منانا سراسر منافقانہ روش ہے۔ کہ جب ہم سارا سال اسی وطن کے ساتھ دشمنی کا عملی ثبوت دیں، ملک میں ہر سو آگ اور خون کا ہولناک کھیل کھیلا جا رہا ہو، بلوچستان سے لے کر قبائلی علاقوں تک اور خیبر سے کراچی تک کوئی جگہ محفوظ نہ ہو، حکمران اور عوام سب اس ملک کو لوٹنے میں مصروف ہوں، وطن عزیزی میں ہم وطنوں سے زیادہ آزادیاں وطن دشمنوں اور بلیک واٹر والوں کو ہوں، ہماری تقدیر کے فیصلے اسلام آباد کے بجائے واشنگٹن میں ہوں، اور ہم آزاد ہو کر بھی بد ترین غلامی سے گزر رہے ہوں تو ایسے میں جشن آزادی منانا اور مبارکباد کی تقریبات منعقد کرنا منافقت اور دوغلا پن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے خیال میں سارا سال نہ سہی اسی ایک دن میں ہی اپنے وطن سے محبت کا اظہار، یکجہتی کا مظاہرہ اور اس عہد کی یاد تازہ کر لینا بہت ضروری ہے۔

اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سارا سال بھی اور اس خاص دن میں بھی وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں، سرگرم عمل اور دعا گو ہیں۔

تمام حقائق درست سہی، تمام مایوسیاں اور جھنجھلاہٹ بجا سہی، حالات بہت دردناک سہی، غیروں کی اجارہ سہی لیکن پھر بھی اس وطن عزیز کی صورت میں ہمیں جو ایک نعمت بیش بہا ملی ہوئی ہے، اور ان بد ترین حالات مین بھی ہم جن آزادیوں سے مستفید ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے باسیوں کو نصیب ہوں۔ اور ویسے بھی آزادی کا ایک لمحہ بھی اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے جشن میں ساری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔


14 اگست 2010ء کے یوم آزدی کا تقاضا

اس وقت ہم انتہائی نازک حالات سے گزر رہے ہیں، پورا ملک بد ترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے، کئی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے، لاکھوں لوگ بے گھر، بے سرو سامان کھلے آسمان تلے ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔ وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں اور ملک بد ترین غذائی بحران کی طرف جا رہا ہے۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، انفراسٹرکچر پانی کی نذر ہو گیا ہے۔ دریاؤں کے پل، پاور ہاؤسز، تیل ریفائنریز، لائیو سٹاک الغرض کیا ہے جو اس تباہی کا شکار نہیں بنا۔

ان حالات میں یہ یوم آزادی تقاضا کرتا ہے ایک بار پھر اس جذبے اور ولولے کا جسکا مظاہرہ 14 اگست 1947ء کیا گیا۔ اس قربانی کا جو ہمارے اسلاف نے دی، اس ہمت کا جو اس بے سرو سامان قوم نے دکھائی اور اس بھائی چارے کا جو مہاجرین کے ساتھ میزبانوں نے کیا۔

اس وقت ایک پورا ملک از سر نو تعمیر ہونے جا رہا تھا، وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، سب لوگ بے سروسامان تھے، لیکن پھر بھی ایک عزم تھا جس نے ایک خواب کو حقیقت بنا دیا۔

آج جب کہ ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں، ملک کا ایک حصہ اگر تباہ ہوا ہے تو ایک بڑا حصہ تا حال بفضل تعالی سلامت ہے اور کارو بار زندگی معمول کے مطابق ہے۔ اگر ہم سب ایک بار پھر اسی جذبے کا عزم کریں، ہر صاحب حیثیت ایک ایک خاندانی کی کفالت یا ایک ایک فرد کا ذمہ ہی لے لے تو ہم اس مشکل وقت کا مقابلہ اچھے انداز سے کر سکتے ہیں، اور ایک بار پھر ان اجڑے شہروں اور دیہاتوں کی رونقیں بحال کر سکتے ہیں۔

یقینا ایسے میں پٹاخوں اور پھلجڑیوں، قمقموں اور بے جا چراغاں، پر شکوہ تقریبات اور بڑے بڑے جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کرنا زیادتی ہو گی۔ ان تمام سرگرمیوں پر صرف ہونے والے انسانی اور مالی وسائل کا بہترین مصرف وہ بھائی اور علاقے ہیں جو اس تباہی کا شکار ہیں۔

آیئے عہد کریں کہ وطن عزیز کو جنت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو
محترم بھائی
السلام علیکم۔بہت اچھی تحریر ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی ہمت دے۔آمین
آپ کی یہ تحریر اپنی ویب کے سرروق پر لگنا چاہتا ہوں کہ اس کی اجازت ہوگی؟ اسرار
__________________
RADIO WORLD ... UNITY FOR PEACE
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), مرزا عامر (10-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 10-08-10, 09:55 PM   #5
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,819
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,603 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا بات ہے راجا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم تو مدبر بنتے جا رہے ہو
(یاد رہے آگ سے کھیل رہے ہو)۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 10-08-10, 09:58 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو
آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین آمین
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 07:14 AM   #7
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,232
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اسراراحمد چوہدری مراسلہ دیکھیں
محترم بھائی
السلام علیکم۔بہت اچھی تحریر ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی ہمت دے۔آمین
آپ کی یہ تحریر اپنی ویب کے سرروق پر لگنا چاہتا ہوں کہ اس کی اجازت ہوگی؟ اسرار
محترم بھائی
السلام علیکم۔بہت اچھی تحریر ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی ہمت دے۔آمین
آپ کی یہ تحریر اپنی ویب کے سرروق پر لگنا چاہتا ہوں کہ اس کی اجازت ہوگی؟ اسرار
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 10:06 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
مکرمی اسرار بھائی
ضرور لگایئے مجھے خوشی ہو گی
یہ تو پیغام ہے تمام اہل وطن کے لئے، اور وہ پیغام ہی کیا جو پھیلے ناں

اور میری کوئی بھی تحریر آپ لگا سکتے ہیں ۔۔ بس نام لکھ دیجئے گا ۔۔۔ راجہ اکرام الحق

اور اگر ممکن ہو تو پاک نیٹ کا لنک ضرور دے دیجئے گا

خوش رہیں آباد رہیں
و السلام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 10:18 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
کیا بات ہے راجا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم تو مدبر بنتے جا رہے ہو
(یاد رہے آگ سے کھیل رہے ہو)۔
السلام علیکم
شاہد بھائی
حسن نظر ہے آپ کا

اور آج کل تو مدبروں کی بہاریں ہیں ، آگ کا کھیل کیسے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 03:13 PM   #10
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبادتوں کے اس دور میں
آؤ مانگیں سب کے لیے مغفرت
مانگتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ اپنے لیے
چلو آج دوسروں کے لیے مانگیں
رمضان کی آمد کی خوشی ہے بہت
ساتھ ہی اس کے رخصت ہو جانے کا غم
خدا کرے وقت تھم جائے اس وقت
جب برس رہی ہو خدا کی رحمت ہم پر
رمضان کے رخصت ہونے سے پہلے
درِ توبہ بند ہونے سے پہلے
اس مبارک مہینے کی ہر فضیلت حاصل کر لیں
جو ہم گزشتہ سالوں میں حاصل نہ کر سکے
رمضان مبارک ، رمضان مبارک
رمضان مبارک ، رمضان مبارک
آیا ہے رمضان
االلہ کا احسان، ملا ہے رمضان
ھم سب کا مہمان ، آیا ہے رمضان

روزہ رکھیں گے ہم ،قرآں پڑھیں گے ہم
پکائیں گے پکوان، آیا ھے رمضان

کھانے سے رکیں ہم، غیبت سے بچیں ہم
کھلے گی کم زبان، ملا ہے رمضان

تراویح پڑھیں ہم، تہجد میں اٹھیں ہم
سنائیں رب کو داستاں ،آیا ہے رمضان

بھولیں نہ اپنوں کو ہم، کم کریں ان کے دکھوں کو ہم
ہو جائیں وہ شادماں ،آیا ہے رمضان

نیکیوں میں دوڑیں ہم، گناہوں کو چھوڑیں ہم
راضی ہو جائے رحمٰن ،ملا ہے رمضان

افطاری کرائیں ہم ،بھوکوں کو کھلائیں ہم
رحمتیں برسائے آسمان ،آیا ہے رمضان

لیں عفو و گزر سے کام ،کر لیں دلوں کو صاف
سج جائے پھولوں سے گلدان، ملا ہے رمضان

دعائیں مانگیں ہم، سب کو یاد رکھیں ہم
پھر کب آئے مہماں، آیا ہے رمضان

الہی کر کرم،رحم کی اک نظر
سنور جائیں دو جہاں، آیا ہے رمضان

مبارک رمضان،مبارک رمضان
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 09:57 PM   #11
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,232
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
مکرمی اسرار بھائی
ضرور لگایئے مجھے خوشی ہو گی
یہ تو پیغام ہے تمام اہل وطن کے لئے، اور وہ پیغام ہی کیا جو پھیلے ناں

اور میری کوئی بھی تحریر آپ لگا سکتے ہیں ۔۔ بس نام لکھ دیجئے گا ۔۔۔ راجہ اکرام الحق

اور اگر ممکن ہو تو پاک نیٹ کا لنک ضرور دے دیجئے گا

خوش رہیں آباد رہیں
و السلام
بہت بہت شکریہ۔اجازت کا آپ ہماری ویب کا وزٹ کریں اور اپنی رائے بھی دیں۔
Home - WELCOME UNITY FOR PEACE & FRIENDSHIP Short Wave Media Net Club
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 10:09 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,584
کمائي: 315,372
شکریہ: 25,214
16,402 مراسلہ میں 41,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم اسرار بھائی
میں نے آپ کی ویب سائٹ دیکھی بہت اچھا لگا دیکھ کر
اور آپ بھی میری طرح امن کے سفیر ہیں
شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (11-08-10)
پرانا 11-08-10, 10:38 PM   #13
Senior Member
 
اسراراحمد چوہدری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 200
کمائي: 7,232
شکریہ: 146
162 مراسلہ میں 425 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم اسرار بھائی
میں نے آپ کی ویب سائٹ دیکھی بہت اچھا لگا دیکھ کر
اور آپ بھی میری طرح امن کے سفیر ہیں
شکریہ
بہت شکریہ بھائی۔۔ یہ آپ کی ذرا نوازی ہے ورنہ بندہ کس قابل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسراراحمد چوہدری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اسراراحمد چوہدری کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-08-10), راجہ اکرام (11-08-10)
جواب

Tags
کراچی, پاکستان, وفا, واشنگٹن, لوگ, نظر, مہنگائی, مکمل, مقابلہ, ممکن, محبت, ایمان, اللہ, انسان, اجنبی, اسلام, اسلامی, بہترین, خون, دل, دعا, زیست, سودا, عشق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فکرِ اقبال کا پیغام راجہ اکرام پاکستان کے ہیروز 15 10-11-11 02:45 PM
آج آپکو کتنےذاتی پیغامات یا پروفائل پیغامات آئیں ہیں۔ champion_pakistani گپ شپ 105 21-05-11 04:18 PM
حماس کا پیغآم عبداللہ آدم عمومی بحث 2 28-11-10 11:02 PM
شہدا کا اپنی ماؤں کو پیغام رضی پاکستان میں دہشت گردی 10 02-11-10 04:39 PM
مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا محمدعدنان شعر و شاعری 1 02-05-08 04:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:38 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger