آج سے 64 سال قبل 14 اگست 1947 بروز جمعتہ المبارک رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک الگ آزاد ملک کے طور پہ نمودار ہوا۔ اور اس وقت بعضوں یہ کہنا تھا کہ پاکستان زیادہ دن قائم نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس وقت پاکستان کےلئے اس قدر مسائل پیدا کردئیے گئے تھے کہ بظاہر لگتا تھا کہ پاکستان ان مسائل کا بوجھ برداشت نہیں کرپائے گا اور اپنا وجود کھودے گا۔ لیکن آج الحمدللہ ہم پاکستان کا 64 واں یومِ آزادی منارہے ہیں اور یہ اس خیال کے حامی لوگوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے جن کا ماننا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔
میری طرف سے تمام اہلیانِ پاکستان کو 64 واں یومِ آزادی بہت بہت مبارک ہو۔
اور میری اللہ تعالی سے التجا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔اور پاکستان میں پھیلی ہوئی بدامنی، بے سکونی کو ختم کرے اور پاکستان کے تمام مسائل کو اپنی رحمت سے ختم کردے۔ آمین
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
