| 1971 اور مشرقی پاکستان ہمارا اس فورم کو شروع کرنے کا مقصد تاریخ کے اس افسوسناک اور دکھ بھرے حصے کو یاد رکھنا ہے جس کو اکثریت بھلا رہی ہے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم !
16 دسمبر آیا اور پھر چلا گیا۔ اس تاریخ سے کوئی 30 سال قبل پاکستانی قوم انتہائی دردناک اور روح فرسا سانحے سے دو چار ہوئی تھی۔ایک مسلمان مملکت کی طاقتور ترین فوج کو اسلامی تاریخ کی بد ترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 90 ہزار سے زائد فوجی جوان دشمن کی قید میں چلے گئے جہاں انہوں نے کئی سال تک قید و بند کی شدید ترین تکلیفیں سہی تھیں۔ یہی وہ جنگ تھی جس میں دوست اور دشمن کا کردار کھل کر سامنے آیا تھا۔ساتواں بحری بیڑا آج تک ان سمندروں میں بھٹکتا پھر رہا ہے تاکہ اپنے دوست پاکستان کی مدد کر سکے۔ چائنا کا پاکستان کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی کبھی کبھی سنائی دیتا ہے۔ بہر کیف اس سلسلہ میں جتنے بدنام ہمارے پاکستانی سیاست دان ہوئے ، اتنا ہی الزام امریکہ پر بھی آیا۔ ہمارے سیاستدانوں کے راز تو آج بھی "قومی مفاد" کے نہاں خانوں میں چھپے ہوئے ہیں تاہم امریکہ کی ایک اچھی عادت ہے کہ وہ اپنے راز ایک وقت مقررہ کے بعد افشاں کر دیتا ہے۔ یہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سقوط ڈھاکہ سے متعلق دو رپورٹوں کا اجرا کیا ہے۔ جو اس فورم پر "طاہر بھائی" نے پیش کیں۔ جبکہ منتطمین بھائی نے ان رپورٹس کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی۔ میں اپنی اس ذمہ داری کو کس حد تک اور انداز میں سر انجام دے پایا ہوں اس کا فیصلہ تو آپ ہی کریں گے۔ تاہم میری چند گزارشات ہیں۔ 1۔ چونکہ امریکہ کی اپنی Termsہوتی ہیں جنکو وہ استعمال کرتے ہیں اور اسی نسبت سے مشہور یا بدنام بھی ہیں تو ہو سکتا ہے مجھ سے کسی عہدے یا واقعے سے متعلق اصطلاح کو بیان کرتے غلطی ہو جائے۔ جو الفاظ ہمارے لیے نامانوس ہیں جیسے DEPSEC, FOM وغیرہ تو یہ ترجمہ کرتے وقت دقت بھی پیدا کر رہے ہیں اور غلطی کے چانسز بھی۔میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ ایسی غلطی نہ ہو۔ 2۔میں نے پوری کوشش کی ہے کہ فی البدہیہ ترجمہ کروں ۔تاہم اگر کوئی غلطی ہو جائے تو بھی میں ہی اس کوتاہی کا ذمہ دار ہوں۔ 3۔ اگر کسی قسم کی غلطی محسوس ہو تو بلا جھجھک مجھے مطلع کریں میں تصصیح کرنے کو تیار ہوں شکریہ
__________________
زندگی کیا ہے؟ پہلی سانس سے آخری ہچکی تک مسلسل کوشش . . . . . . ایک دوڑ . . . . . ایک ضد . . . . سب سے آگے نکل جانے کی' سب کچھ حاصل کر لینے کی ' جو نہ ملے اُسے چھین لینے کی۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امریکن سٹیٹ ڈپارٹمنٹ
ٹیلیگرام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ: ؟ فارن منسٹر امریکن مشن جنیوا سیکرٹری سٹیٹ واشنگٹن ڈی سی اسلام آباد ایمبیسی نیو دہلی ایمبیسی ڈھاکہ ایمبیسی ماسکو ایمبیسی تہران ایمبیسی کابل ایمبیسی Subject: ڈپٹی سیکرٹری کی صدر بھٹو سے گفتگو خلاصہ:ڈپٹی سیکرٹری کی 26 اپریل کو صدر بھٹو سے ملاقات کے دوران ، صدر بھٹو نے مجیب کے مسلسل سخت رویہ پر تحفظات کا اظہار کیا۔لیکن حالیہ انڈیا -بنگلہ دیش اعلامیہ علاقہ کے مسائل میں سوچ میں اچھی تبدیلی (thought dent)لا چُکا ہے،۔ گورنمنٹ آف پاکستان نے بھارتیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ روس کے ارادوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایران کے ساتھ باہمی مفادات کا ادراک کیا ہے۔ اور امریکہ کو کہا ہے کہ وہ ایران کی طرح پاکستان میں بھی اپنی دلچسپیوں پر غور کرے۔ڈپٹی سیکرٹری نے شملہ معاہدہ کی بطور ہمدرد مبصر حمایت (Back) کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ ڈپٹی سیکرٹری نے بھٹو کو امن ، تناؤ میں کمی لانے کے عمل میں امریکہ کے پاکستان کا قریبی اور مضبوط دوست ہونے کا بھی اعلان کیا۔ خلاصے کا اختتام بقیہ آئیندہ |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے بدرالزمان کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فیصل ناصر (24-12-09), منتظمین (22-12-09), اخترحسین (22-12-09), راجہ اکرام (23-12-09), طاھر (24-12-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اچھے
![]() اپنے کرتوتوں کو سمجھنے کے لئے بھی ہم امریکی رپورٹوں کے محتاج ھیں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1۔ ڈپٹی سیکرٹری کی صدر بھٹو کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کی طرف سے منسٹر آف سٹیٹ احمد، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چئیر مین اسلام، وزیر خزانہ حسن،صدارتی اسسٹنٹ رضا، فارن سیکرٹری علوی موجود تھے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے SISCOکے اسسٹنٹ سیکرٹری اور Charge sober & laingenموجود تھے۔
2۔ ڈپٹی سیکرٹری نے صدر بھٹو کے دورہ واشنگٹن کے حوالہ سے بات کا آغاز کیا ۔انہوں نے منسٹر احمد کے ساتھ اس صبح ہونے والی اچھی گفتگو کو سراہا ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ صدر بھٹو کی طرف سے علاقے کی صورت حال کے تجزیے (Review) کو اہمیت دیں گے۔ 3۔صدر بھٹو نے 1971 سے صدراتی عہدہ سنبھالنے سے اب تک مجیب سے اپنے تعلقات کی بحالی (Evaluation)پر تفصیلی گفتگو کی۔لب لباب یہ ہے کہ بھٹو نے اس وقت سے اب تک کے وقفے میں مجیب سے ملاقات یا کم از کم تھوڑی سی لچک کی بارہا کوشش کی۔ جس کا نتیجہ صفر رہا۔ تاہم بھٹو مجیب پر دباؤ ڈالتا رہے گا۔ کیونکہ یہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کہ حقیقت کا سامنا کرے اور علاقے کی صورت حال کو نارمل (diffuse)کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالے۔بھٹو سوچتا ہے کہ مسائل پر کچھ نشانات (dent) پڑ گئے ہیں اور وہ ان کوششوں کو جاری رکھے گا۔ لیکن ان کوششوں کی کامیابی کا دارومدار مجیب اور بھارت کی تعاون پر ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے قابل ستائش ہوگی بلکہ یہ مجیب اور بھارت کے لیے بھی اطمینان بخش ہوگی۔ تاہم پاکستان کو ان کوششوں کے طویل المدتی اثرات کو بھی دیکھنا ہے۔ بھارت کے ساتھ دیگر تنازعات جیسے مسئلہ کشمیر کے حل کی نتیجہ خیزی (implication)کو بھی دیکھنا ہے۔ مزید یہ کہ یہ غیر متوقع ہو گا (it is not in the cards)کہ بھارت کشمیر سے چلا جائے اور پاکستان کو حل (settlement) کے نقصانات (brunt)بھگتنا پڑیں ( some help needed) (جاری) Last edited by بدرالزمان; 26-12-09 at 08:02 PM. |
|
|
|
| بدرالزمان کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (24-12-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
4۔ چناچہ مجیب کی طرف سے کچھ لچک لازمی ہے۔ جبکہ مجیب کی طرف سے جنگی جرائم اور trail کا راگ الاپنا (معاملات خراب کر رہا ہے) جن پر اگر عمل کیا جائے تو یہ palm tree justiceہوگا اور پاکستان میں تباہ کن اثرات ڈالتے ہوئے point of no return کی صورت حال پیدا کر دے گا۔ صرف ایک مہینہ قبل ہی اس کو ایک آفیسر کی بغاوت سے نبٹنا پڑا۔(مدد درکار) یہ تصور کرنا ناقابل فہم ہے کہ طویل ملٹری حکومت کے بعد پاکستان میں سول حکومت کی بالادستی اتنی آسانی سے قائم کی جا سکتی ہے۔تاہم موجودہ حالات میں اہمیت ، جمہوریت کے تحفظ اور ممکنہ ملٹری رُول سے بچاو کرنا ہے۔ کیونکہ اگر ملٹری حکومت آ گئی تو ملک میں خانہ جنگی ہونے کا اندیشہ ہے اور خود ملٹری میں پھوٹ پر سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ میں ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے روسی بھارتی، حتیٰ کہ افغان بھی اپنے مفادات کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اسی لیے اسکا point of no return ہونا خارج از امکان نہیں ہے(no idle talk)۔
جاری Last edited by بدرالزمان; 26-12-09 at 07:58 PM. |
|
|
|
| بدرالزمان کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (24-12-09) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,470
کمائي: 37,379
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,102
3,831 مراسلہ میں 9,548 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
point of no return کے لیے ناقابل واپسی استعمال کیا جا سکتاہے۔
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,288
کمائي: 26,063
ميرا موڈ:
شکریہ: 954
1,402 مراسلہ میں 3,866 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
quell کے معنی زائل کرنا، مٹا دینا یا کچل دینا ہے۔ شاید یہ جملہ کسی آرمی افسر کی بغاوت کی منصوبہ بندی کو کچلنے سے نمٹنے کے متعلق ہے۔ والسلام طاہر
__________________
|
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | بدرالزمان (26-12-09), راجہ اکرام (24-12-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں ممکنہ طور پر یہی ہو گا۔ مجھے اپنے پاس موجود ڈکشنری میں سے یہ لفظ نہیں مل سکا تھا۔
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(گزشتہ سے پیوستہ)
5۔یہ پاکستان کی مفاہمت کی خوہش ہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان نے حالیہ بھارت-بنگلہ دیش اعلامیہ پر سوچ سمجھ کر اور مثبت رد عمل کا ظہار کیا ہے۔بھٹو نے پاکستان کے رد عمل کو تفصیلی بیان کیا اور خاص کرگورنمنٹ آف پاکستان کی پوزیشن کو، کہ بھارتیوں سے بات چیت تاکہ انکو جو مسائل در پیش ہیں ان پر بات چیت کی جا سکے۔ "پاکستان بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں کے دباؤ میں نہیں آئے گا"۔ پاکستان کی پوشین پاکستان کے ان اصولوں کے تناظر میں سمجھی جا سکتی ہے یعنی کہ بنگلہ دیش کے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرنا، سابقہ تنازعات کے افسوس ناک باب کو بند کرنا، اور بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں کے ساتھ مفاہمت کے عمل کر بڑھانے میں رضامند ہونا۔ تاہم پاکستان کسی بھی صورت میں بھارتیوں کے غلبہ یا انکی طاقت کے جھوٹے مظاہرے (great power pretensions) میں نہیں آئے گا کیونکہ بھارت کے پاس عظیم طاقت بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اگر بھارت کو عظیم طاقت بننا ہی ہے تو اسکو صلح جو (Modest)بننا ہو گا یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے قومیں عظیم بنتی ہیں۔تاہم پاکستان کو بھارت سے اس قسم کی کوئی سوچ (Approach)نہیں دکھائی دے رہی۔ Last edited by بدرالزمان; 26-12-09 at 08:01 PM. |
|
|
|
| بدرالزمان کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (05-02-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
6۔ڈپٹی سیکرٹری نے صدر نکسن اور امریکی عوام کی پاکستان کے لیے دوستی کے احساسات اور ان خواہشات کہ وہ پاکستان کو ترقی کرتا ہوا اور معاشی طور پر مضبوط ملک دیکھنا چاہتے ہیں'کا اعادہ کیا ۔ڈپٹی نے اس بات پر زور دیا کہ صدر نکسن کی امن عالم کی کوششیں بشمول چائنہ اور رشیا کے ساتھ اٹھائے گئے اہم اقدامات کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ان طاقتوں کے اور خاص کرروس کی دلچسپیوں سے صرف نظر کر رہا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ مذاکرات اور ٹینشن کو کم کرنے کی سٹریٹیجی پر یقین رکھتا ہے اور یہ کہ امریکہ بطور آزاد معاشرے کے ان ممالک کے بند معاشروں پر کئی لحاظ سے سبقت رکھتا ہے۔ٹینشن کم کرنے کی یہ کوششیں پاکستان جیسے دوست ممالک کی قیمت پر ہر گز نہیں ہوں گی۔امریکہ مجیب اور مسز گاندھی کو بتا چُکا ہے کہ وہ ان سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ایسےہی وقت میں وہ پاکستان کا بھی اچھا دوست رہے گا۔امریکہ برصغیر کے ان معاملات میں کسی قسم کی کوئی مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکتا تاہم امریکہ انسانی ہمدردی کی وجہ سے دلچسپی لیتا رہے گا اور کیونکہ جنوبی ایشیا میں جاری تنازعات صدر نکسن کی امن کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پاکستان کو صدر بھٹو کی مضبوط لیڈر شپ کا فائدہ حاصل ہے جو کہ ملک کو اندرونی طور پر بھی چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور شملہ معاہدے پر بھی پیش رفت کر سکتے ہیں۔پاکستان کا نہایت اہم سرمایہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خاص کر شاہ ایران ہیں جنہوں کے دپٹی سیکرٹری کے حالیہ دورہ تہران کے موقع پر ان سے کہا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے
|
|
|
|
| بدرالزمان کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (31-01-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
عمر: 29
مراسلات: 4,459
کمائي: 18,471
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,888
1,799 مراسلہ میں 4,516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
8۔صدر بھٹو نے امریکی گورنمنٹ کی مسلسل مدد خاص کر جو امریکہ نے پاکستان کے پچھلے ایک سال میں اسکو مشکلاتسے باہت نکالنے کے لیے کیں کا شکریہ اور تعریف کی۔پاکستان کو مستقبل میں بھی امریکی مدد کی ضرورت رہے گی خاص کر گندم کی مسلسل سپلائی تاکہ مناسب سٹاک اکھٹا ہو سکے۔انہوں نے اس پر بھی امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اپنی امداد کے منصوبوں میں ماضی کی نسبت مدد بڑھا دے گا۔ امریکہ بہت فیاض رہا ہے اور پاکستان اسکا تہ دل سے شکر گزار ہے۔
8۔بھٹو نے ڈپٹی سیکرٹری کے شاہ ایران کے بارے میں ریمارکس کی تائید کی کہ شاہ ایران کی مضبوطی اور بہتری علاقے کی stabilityکے لیے اہم ہے۔پاکستان کی ایران کے ساتھ علاقے کے مسائل پر باہمی دلچسپی کے امور پر ہم آہنگی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو ایران تک کیوں کر ایک خط کھینچنا پڑ گیا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اس خط کو تھوڑا سا گہرا کرے کیونہکہ پاکستان سے کچھ قبل ہی رک جانا امریکی مفادات کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔خاس کر تب کہ جب پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکی مضبوطی کا اہم سورس ثابت ہو سکتا ہے۔ بھٹو نے تبصرہ کیا کہ تمام تر عاجزی کے ساتھ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں پاک امریکہ تعلقات میں خرابی خاص کر 1962 سے 1966 کے دورانیہ میں آنے والی خرابی پاکستان سے زیادہ امریکہ کی علاقے کی صورت حال اور خاص کر چائنہ میں بھارتی مفادات کا درست ادراک نہ کر پانے کی وجہ سے آئی۔تاہم ماضی میں جو ہوا اسکا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اور امریکہ مضبوط تعلق نہ رکھیں کیونہ وہ وقت گزر چکا۔اس لیے اب تعلقات باہمی مفادات اور روس کے عزائم کی بنیاد ہونی چاہیے۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
اتنی لمبی رپورٹ ؟
اس میںکوئی قابل ذکر بات ہے تو بتائیں، بندہ اب اس عجیب و غریب قسم کی باتوں کی کتنا پڑھے ؟
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
اتنی لمبی رپورٹ ؟
اس میںکوئی قابل ذکر بات ہے تو بتائیں، بندہ اب اس عجیب و غریب قسم کی باتوں کی کتنا پڑھے ؟ |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, فورم, کوشش, پاکستانی, وقت, واقعے, قید, مسلمان, آج, الزام, انجام, انداز, امریکہ, اردو, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, خلاف, دوست, دے, سیاست, سال, طاقتور, عادت, غلطی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سقوط ڈھاکہ اور بٹھو کا کردار | naeemuddin | میرا پاکستان | 7 | 22-12-09 10:59 PM |
| چاند کی تسخیر کے بارے میں چند مغالطے | طارق اقبال | دیگر تحقیقات | 2 | 24-09-09 05:59 PM |
| روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ‘انٹرلنک بنکوں نے سٹیٹ بنک سے روپے کی قدر مستحکم کرنے کا مطالبہ کر | زین خان | خبریں | 0 | 16-10-08 01:46 PM |
| ’مریخ پر یخ بستہ پانی کی تصدیق‘ | وجدان | دلچسپ اور عجیب | 0 | 01-08-08 04:35 PM |
| مریخ پر یخ بستہ پانی کی تصدیق | Real_Light | کائنات کے راز | 0 | 01-08-08 12:12 PM |