وقتِ اشاعت October 4, 2009

اردو زبان thumbnail

اردو زبان

كہا جاتا ہے كہ انگريز جہاں سے جاتے ہيں وہاں كچھ نہ كچھ چھوڑ كر جاتے ہيں بر صغير سے جانے كے بعد بھي بہت كچھ چھوڑ كر گئے ہيں جن ميں سے ايك انگريزي زبان ہے. اس پيارے ملك كے معرض وجود ميں آنے كے بعد سے ليكر مادرِ ملت كے سال يعني آج تك يہاں انگريز كي انگريزي كا راج ہے, اردو جو كہ قومي زبان ہے صرف كہنے كي حد تك محدود ہے. ہم روزمرہ كي زندگي ميں بھي انگريزي بڑے شوق سے بولتے ہيں, ہمارے ہر شعبے ميں انگريزي چھائي ہوئي ہے. چاہے حكمران طبقے كے افراد ہو, سركاري محكمات ہو, تعليمي ادارے ہوں يا دفاتر ہوں, نجي شعبے كے ادارے ہوں, اسپتال ہوں, عدالتيں ہو, بازار ہوں, سڑكوں كے ساتھ لگے سائن بورڈ ہوں دفتروں كے باہر لگے بورڈ ہوں يا عوامي مقامات پر لگي ہدايات ہوں ہر طرف انگريزي كا دور دورہ ہے. حكمران اخباري نمائندگان سے بات چيت كر رہے ہوں يا كسي تقريب سے خطاب كر رہے ہوں انگريزي ان كا پيچھا نہيں چھوڑتي يا يہ اس كو نہيں چھوڑتے, ايسا معلوم ہوتا ہے كہ پاكستاني قوم صرف انگريزي جانتي ہے يا يہاں سارے انگريز رہتے ہيں.

بازاروں ميں جائيں تو كاروباري لوگ بھي اس انگريزي كي دوڑ ميں كہيں پيچھے نہيں ہيں. دوكانوں كے باہر بورڈ اور بينر بڑے ٹھاٹھ كے ساتھ انگريزي كو شہرت دوام بخش رہے ہوتے ہيں, اكثر ہم ديكھتے ہيں كہ عوامي گزرگاہوں پر ملك كي صفائي سے متعلق ارشادات انگريزي ميں درج ہوتے ہيں, جبكہ گزرنے والے اكثر لوگ اردو بھي مشكل سے پڑھتے ہيں, نظام تعليم بھي اميرزادوں اور غريبوں كيلئے الگ الگ ہے. يہاں بھي انگريزي نے فرق جما ركھا ہے. تعليم يافتہ ہونا انگريزي بولنے سے مشروط ہو گيا ہے, اگر كسي غريب كو بھولے بھٹكے كہيں سے انٹرويو كيلئے بلاوا آجائے تو معيار انگريزي ميں انٹرويو دينا ٹہرتا ہے. آج كل كئي پيشہ ور مرد وخواتين سماجي كاركن كے طور پر غريب كي غربت كا مزاق اڑانے كے چكر ميں منڈي ميں دستياب ہيں, ان كا بھي طريقہ واردات انگريزي سے شروع ہو كر انگريزي پر ختم ہوتا ہے. ہمارے ذرائع ابلاغ (خصوصاً برقي) بھي بجائے اردو كي ترويج كرنے كے اوٹ پٹانگ, اچھل كود والے انگريزي لے پالك بچوں كي بے سري موسيقي سنا كر لوگوں كا وقت ضائع كرتے رہتے ہيں. اردو كا مزاق اڑانے كي رہي سہي كسر پاپ موسيقي والوں نے پوري كردي.

انگريزي فلميں بھي ہمارے معاشرے ميں گہرے اثرات چھوڑ رہي ہيں. ہر "ويڈيو سينٹر" ميں نوجوانوں كي تباہي كا سامان موجود ہے اور ان سے كڑوڑوں روپے كے زرمبادلہ كا بھي نقصان ہو رہا ہے. كسي كي توجہ اس جانب نہيں ہے. كيبل اور انٹرنيٹ كے ذريعے بھي انگريزي كو علم كي بنياد قرار دينے كي كوششيں ہو رہي ہيں, حالانكہ ہمارے لئے ايك روشن مثال موجود ہے يعني ملك چين جو كہ ہم سے بعد ميں آزاد ہوا اور وہ ہمارا اتحادي بھي ہے آج معاشي وتعليمي اعتبار سے دنيا ميں اپنا ايك خاص مقام ركھتا ہے, اس كي بنيادي وجہ يہي ہے كہ ان كا نظام تعليم ان كي اپني قومي زبان ميں ہے جس كي وجہ سے وہاں تعليم كي ترويج ہوئي اور آج چين ترقي كي منزليں بہت تيزي سے طے كرتا چلا جارہا ہے اور اس ملك كے سفارتكار ہماري سركاري وغير سركاري تقاريب ميں اردو ميں تقرير كركے ہميں احساس دلانے كي كوشش كرتے ہيں كہ ہماري قومي زبان كسي زبان سے كم نہيں ہے, اس كو نظام زندگي ميں رائج كريں اگر مستقل ترقي چاہتے ہيں تو……؟
جو قوميں خود انحصاري پر يقين ركھتي ہيں, كشكول توڑنے كي طاقت ركھتي ہيں, محنت كو اپنا شعار بناليتي ہيں اور اپني معاشرت, بودوباش, ثقافت اور زبان كو فروغ دينے كيلئے كوشاں رہتي ہيں ترقي ان كے قدم چومتي ہے. ہم نے آزادي كي نصف صدي گزار دي ہے. اردو قومي زبان ہونے كے باوجود ابھي تك سركاري زبان بننے سے قاصر ہے. قومي اور ملكي ترقي كيلئے ضروري ہے كہ قومي زبان كو فروغ ديا جائے. تمام سركاري وغير سركاري تقاريب ميں اردو كو رينت ممبر ہونا چاہئے, نظام تعليم كو اردو ميں نافظ العمل ہونا چاہئے تاكہ ہر امير غريب كي يكساں طور پر علم تك رسائي ہو سكے۔
ملك خالد حسين

 

 

 

اس پر تبصرہ کریں

ٹیگز:آزاد, اتحاد, احساس, اخبار, اردو, اردو ادب, اردو زبان, انگريز, انگريزي زبان, بر صغير, بل, بچوں, توجہ, ثقافت, حالات حاظرہ, حد, ختم, دل, دوڑ, رات, رب, ردا, روشن, روپے, زبان, سرورق, سماج, شر, شہر, شہرت, ضائع, طاقت, عدالت, علم, عمل, عوام, غربت, قوم, قومي زبان, لوگ, مادر, مثال, محنت, مذاہب اور انسانی زندگی, مرد, معاشرے, معاشی و معاشرتی مسائل, منزل, میرا پاکستان, نظام تعليم, پاکستانی کلچر, چاہت

اس سے ملتی جلتی تحاریر



Comments are closed.




اسی بارے میں

Play Cricket


تازہ ترین موضوع

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو thumbnail پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو

 
 
 تحریر:عبدالہادی احمد
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال2008-09ء(زرداری دور)میں متعدد وفاقی وزارتوں اور محکموں میں323 ارب روپے سے زایدرقم خورد برد کر دی گئی۔ سب سے زیادہ کرپشن(116 ارب) فیڈرل بورڈآف ریونیو میں ہوئی اور سب سے کم 2.5 ارب دفاعی شعبے( پاکستان آرمی، پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی) [...]

مزید مضامین

ایک پردیسی کی کہانی thumbnail ایک پردیسی کی کہانی

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

کچھ مزید۔۔۔۔۔


RSS feed Subscribe to our feed       Delicious Are we delicious?       Digg Add us to Digg       Technorati Bookmark us       Flickr Flickr gallery