مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
روزِ جزا کا مالک ہے
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت October 9, 2009
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یہاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
پیدا ہوتے ہی انسان کو جہاں بہت سی چیزیں و دیعت کی جاتی ہیں وہاں عطیہ خداوندی سے بہت رشتے مل جاتے ہیں جیسے ماں،باپ،بہن،بھائی،نانا،نا نی،دادا،دادی، پھوپی،چچا،خالہ،پھوپھی ذاد پھر خالہ زاد،ماموں زاد،چچا زاد الغرض پیدا ہوتے ہی انسان رشتوں کی ایک لکمبی زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے
مگر دوستی وہ رشتہ ہے جو انسان اپنی پسند اپنیمرضی سے بناتا ہے لیکن یہ رشتہ باقی تمام رشتوں سے زیادہ مضبوط گہرا اور قریبی ہوتا ہے
کسی مقدس صحیفے کی مانند ایک سچا اور مخلص دوست خداوند کی نعمت ہے اور اور اس دنیا میں کسی خلوص دوست کا مل جانا گویا قارون کا خزانہ پانے کے برابر ہے
غریب وہ ہے جس کے پاس مال و دولت نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں
ایک سچے اور پر خلوص دوست کی قدر کرنی چاہیئے اگر وہ روٹھ جائے تو اسکو منانے میں کوئی عار نہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ ہم اپنی دولت خرچ کر کے ساتھی تو ڈھونڈ سکتے ہیں دوست نہیں
آجکل کے اس مادی دور میں دوستی جیسا لازوال رشتہ اپنی اصل شکل اور کشش کھو چکا ہے
دوستی میں انسان کو دوسرے کی بہت سی ناگوار باتوں کو نظر انداز بھی کرنا پرتا ہے
دکھ سکھ میں دوستی کے بہت سے فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں
اور کبھی کبھی اس رشتے کو مضبوط کرنے اور قائم رکھنے کےلئے قربانی بھی دینا پڑتی ہے
آج جب ہر شخص دوسرے شخص سے زیادہ سے زیادہ دولت مند ہونے ،زیادہ بااثر ہونے،اور شیادہ باحیثیت اور مقبول ہونے کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے اپنے اسٹیٹس کو دوسرے سے بلند کرنے میں ہر رشتہ کو روند کر آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہے انہین دوستی کی عظمت کا کیا پتہ ہو اور انہیں کیسے دوست ملیں؟
مولا علی علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ بھائی سونا اور دوست ہیرے کی مانند ہے
سونا پھگل کر نئی شکل اختیار کر لیتا ہے جبکہ ہیرا ایک بار ٹوٹ گیا تو جڑ نہیں سکتا
۔۔۔
جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے اسی طرح تلخ بات دوستی کے رشتے مین ناختم ہونے والی دوریاں پیدا کر دیتی ہیں
کھرے اور سچے دوست کی پہچان مصبیت اور مشکل گھڑی میں ہوتی ہے اور اچھے دوست کی مثال عطر فروش کی سی ہے
آپ اگر عطر نہ بھی خریدیں تو خوشبو اس سے آنے لگتی ہے
اسی طرح اچھے عادات و خصائل کے حامل شخص کی دوستی آپ کے مزاج پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتی ہے جبکہ کسی بدقماش و بدکردار شخص کی دوستی آپ کو بھی بدنامی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے اسی طرح زندگی کے نشیب و فراز میں اچھے برے دور آتے رہتے ہیں مگر جو مشکل گھڑی میں ساتھ چھوڑ جائے وہ کیسا دوست ہے
دنیا اتے جیرا کم نہ آوے اوکھے سوکھے ویلے
اس بے فیضے سنگی کو لوں بہتر آں اسی کلے (اکیلے)
مولا علی علیہ اسلام کا قول ہے کہ مین اپنے دشمنوں کی نسبت اپنبے دوستوں سے زیادہ ڈرتا ہوں کیونکہ ایک دوست جب دشمن بن جائے تو وہ بدترین دشمن ہوتا ہے کیونکہ وہ ہماری تمام کمزوریوں اور خامیوں سےآگاہ ہوتا ہے
اگر آپ مخلص اور سچا دوست چاہتے ہیں تو پہلے خود دوسروں کے پر خلوص دوست بنیں دوسرا خود بخود آپکا ہو جائے گا
اپنی دوستی کو پائیدار اور کوشگوار بنانے کےلئے چند زریں اصولوں پر عمل کریں
کبھی کسی بات کو اپنی انا کا مسلئہ نہ بنائیں
دوسروں کے سامنے دوست کا مذاق نہ اڑائین
اور نہ ہی کسی دوسرے کے سامنے اپنے دوست کی کسی خامی یا کمزوری کا تذکرہ کریں
نہ کبھی دل دکھانے والی بات کریں اور ایسی باتوں سے احتراز کریں جس سے آپ کے دوست کی دل شکنی ہوتی ہو اسے اسکی کوتاہیوں یا کسی خامی سے آگاہ ضرور کریں مگر اکیلے میں
دوست کی جھوٹی اور بے جا تعریف نہ کریں اسکیذاتی زندگی پسند و نہ پسند میں دخل نہ دیں جب تک وہ خود آپ کو اپنی کسی بات یا راز میں شریک نہ کرے خود سےٹوہ نہ لیں
نہ ہی اپنی پسند کو زبردستی اس پر مسلط کریں
دوست ہمارا تعارف بن جاتے ہیں
کم ظرف اور مطلبی دوست آڑے وقتوں میں نظریں پھیر لیتے ہیں ایسے ہی کسی دوست کےلئے شاعر نے کیا خوب کہا ہے
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
مگر اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
__________________
دستخط:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پُرسکون زندگی
کائنات کی ہر ذی روح چیز میں خواہشات کا مادہ ہے ‘ چاہے انسان ہو یا حیوان۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواہشات کی گھٹی ان کو پلائی گئی ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش ایک پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے [...]
مزید مضامین
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہوفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links