إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت October 14, 2009
مجھے دو تھپڑ لگا کر میری ماں سو گئی بدر
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں
قصے کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ماں اپنے بیٹے کو "میرا لال" کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ ماں مجھے بھی "لال" کہہ کر بلایا کرو۔اماں نے جوتیوں سے اتنی پٹائی کی کہ میں "لالو لال" ہو گیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ قصے کہانیوں کی مائیں بھی بس قصہ کہانی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری ماں نے ماشااللہ سے اپنی دہشت خوب قائم رکھی اور اسی مقصد کے لیے جوان ہونے تک اپنے تمام بچوں کو گوڈے تھلے دبا کر خوب چمڑیسا کرتی تھیں۔ اسی لیے آج بھی ہمارے بھائی 50 سال کے ہو جانے کے باوجود اماں کی آواز سن کر لرز جاتے ہیں۔
ایک مرتبہ ہمارے معصوم دل میں خواہش جاگی کہ چلو نہر پر نہا کر آتے ہیں۔ چلے گئے۔ واپسی پر ہمارے محلے دار نے معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا کہ محتاط رہنا۔ ہمارا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ہم کو حوصلہ تھا کہ نہیں آج ظلم کی روایت نہیں دوہرانے دیں گے۔ آگ تاریخ کو بدل دیں گے۔ میں بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا پتا نہیں بھائی میرا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ اماں شاید کمرے میں تھیں اور کمرے کے دروازے پر ان کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے گھبرا کر بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور کہا کہ میرے تو پیٹ میں درد ہے میں تو باتھ روم جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باہر سے نہ جانے کیوں کافی دیر تک جھاڑو دینے کی آواز آتی رہی۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ یہ اماں کو اس وقت کیوں جھاڑو دینا یاد آ گیا۔ خیر یہی کوئی 1 گھنٹے بعد میں باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا اماں باہر ہی دالان میں بیٹھی ہیں اور جھاڑو ساتھ ہی رکھا ہے۔ انہوں نے جابرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھا کہ شاید کہیں گی کہ جھاڑو سائیڈ پر رکھ آؤں ۔خراماں خراماں ۔ ۔ ۔ اماں کے پاس پہنچا تو یکایک مجھ پر جھاڑو برس پڑے ۔ کتنی دیر جھاڑو سے میری صفائی کی گئی مجھے یاد نہیں ۔ تاہم سارا وقت مجھے یہی خیال آتا رہا کہ اتنی صفائی اماں دالان کی کر لیتیں تو کم از کم گھر تو صاف ستھرا ہوتا۔ مگر نہیں اماں کو تو ہماری صفائی کی پڑی تھی۔ حالانکہ ہم تو نہر سے پاک صاف ہو کر آ رہے تھے اور اگر مزید پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی بھی تو باتھ روم کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر اماں کو کون سمجھائے۔وہ ایسا کام خود کرنے کی قائل تھیں۔
خیر اپنی اچھی طرح صفائی کروا کر میں اپنے بگ برادر کے پاس چھت پر چلا گیا اور ہم دونوں اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر پلان بنایا کہ اس ظلم کی حد ہو گئی۔ اب ہمکو شادی کر لینی چاہیے۔ بھایئ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور سنا ہے اب وہ اپنی بیگم سے ااسی طرح مستفید ہوتا ہے یعنی اسکی زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا کہ میئں اس سے انسپائر ہو کر حالات کے خلاف بغاوت کر دیتا۔ میں نے یہی سوچ کر حالات سے سمجھوتا کر لیا کہ چلو "نئی" سے "نت نئی" قسم کی مار کھانے سے بہتر ہے "آزمائے ہوئے کو ہی آزمایا جائے"
جوانی میں شوق جاگا کسی لڑکی سے دوستی کی جائے۔ اس دور میں انٹر نیٹ اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ خیر سے ہم بھی اس بحر ظلمات میں کود پڑے اور گوہر مقصود کی تلاش شروع کر دی۔ کافی تلاش بسیار اور لڑکی نما لڑکوں سے گپ شپ کرنے کے اور اس سے قبل کے ہم کو یقین ہو جاتا کہ انٹرنیٹ پر لڑکی نما مخلوق نہیں پائی جاتئ ۔ ۔ ۔کہ اچانک ہم کو ہماری منزل مقصود مل گئی اور ماشا اللہ سے ایک لڑکی سے چیٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر پھولے نہ سمائے۔ گپ شپ چلتی رہی ۔ کچھھ دن بعد اس نے مری ماں کے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ تو ہمارے منھ سے سچ نکل گیا کہ میری ماں تو ہٹلر ہے ۔ اب بھی جھاڑو سے پیٹتی ہے۔ وہ دن اور آج کا دن اس لڑکی کا آئی ڈی آن نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیوں
ہماری اماں اس قدر جابر خاتون ہیں کہ میرے دوستوں کا کہنا ہے وہ اس قدر اپنی ماؤں سے نہیں ڈرتے جس قدر میری ماں سے ڈرتے ہیں۔ اب تو انہوں نے اسی خوف میں میرے گھر کی گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی ہے۔باہر کھڑے ہو کر فون کر دیتے ہیں کہ باہر آؤ۔ ایک مرتبہ ایک دوست کا سامنا ہو گیا اماں سے تو اس کی باقاعدہ گھگھی بندھ گئی۔ پتا نیہیں اماں اتنی جابر کیوں ہیں۔ آج بھی افطاری میں پکوڑئے گن کر دیتی ہیں ۔حد ہو گئی بھی اب ایویں ای لالچ میں موقع دیکھ کر بچوں کے پکوڑؤں پر ہاتھھ صاف کرنا پڑتا ہے۔ اس بے ایمانی کی زمہ دار اماں ہیں میں صاف بتائے دیتا ہوں۔
ایک مرتبہ ہمارا جھگڑا گلی کے ایک بد معاش سے ہو گیا۔ ہم تو اماں کے جبر تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ سوچا جانے دو پتا نہیں کیوں منمنا رہا ہے۔کچھھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اسکا مقصد کیا ہے۔ اماں کو دوسرے دن پتا چلا تو اس کے گھر جا کر دھمکی لگا آئی کہ کسی خیال میں نہ رہنا میرے ایک بیٹے کو مارؤ گے تو کیا ہوا میرے پاس اور بھی ہیں۔ تمہارا تو اکیلا ہے۔ اس دن کے بعد اس بدمعاش کی شکل نہیں دکھائی دی۔ پتا نہیں مزید بیٹے تلاش کر رہا ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ اماں محض ظلم و جبر کا ہئ شاہکار ہے اماں ہم سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اس کا کئی مرتبہ عملی مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے اماں نے مجھے اپنی گود میں سلایا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے میرے سر میں تیل ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے مجھے میری غلطی پر مجھے کچھھ نہیں کہا تھا۔پتا نہیں کیوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میرے سارے دشمنوں کی مری طرح کی ماں دے تاکہ انکو بھی لگ پتا جائے۔
میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی
__________________
بدرالزمان بلوچ
کوئٹـہ ۔ پاکستان
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پُرسکون زندگی
کائنات کی ہر ذی روح چیز میں خواہشات کا مادہ ہے ‘ چاہے انسان ہو یا حیوان۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواہشات کی گھٹی ان کو پلائی گئی ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش ایک پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے [...]
مزید مضامین
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہوفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links