وقتِ اشاعت October 27, 2009

کشمیری بہنوں کی بے حرمتی thumbnail

کشمیری بہنوں کی بے حرمتی

کشمیری بہنوں کی بے حرمتی اور قتل پر پاکستان کیوں خاموش ہے؟

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں سانحہ شوپیاں کے خلاف زبردست ہنگامہ آرائی ہوئیـ پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے خواتین کی بے حرمتی اور قتل کے واقعہ پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً سپیکر اسمبلی کو مائیک دے ماراـ واقعہ کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے محبوبہ مفتی اور ان کے ساتھیوں کو دھکے دے کر زبردستی اسمبلی سے باہر نکال دیاـ اس موقع پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئیـ تمام اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور سخت جملوں کا تبادلہ ہواـ محبوبہ مفتی نے اسمبلی سے باہر نکالے جانے کے خلاف سڑک پر دھرنا دے دیاـ انہوں نے کہا کہ آج سے اسمبلی سڑک پر لگے گیـ سپیکر نے جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اس لئے ان کے خلاف احتجاج جاری رہے گاـ
چند روز پہلے شوپیاں کے ایک رہائشی شکیل احمد آہنگر کی 24سالہ بیوی اور 17سالہ بہن گھر کے قریب واقع میوہ کے باغ میں گئیںـ جب شام کے سائے گہرے ہونے لگے اور دونوں خواتین واپس گھر نہ پہنچیں تو شکیل تشویش میں مبتلا ہو کر باغ میں پہنچاـ وہاں تلاش بسیار کے باوجود جب اسے بیوی اور بہن نہ ملیں تو اس نے اردگرد کے لوگوں سے دونوں خواتین کی بابت پوچھاـ کچھ لوگوں نے اسے بتایا کہ مذکورہ خواتین باغ میں آئی ضرور تھیں اور کچھ لوگوں نے انہیں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئیں وہ کچھ نہیں جانتےـ تاہم کچھ لوگوں نے شکیل کو بتایا کہ مذکورہ خواتین جس وقت باغ میں موجود تھیں اسی دوران وہاں سے ایک فوجی گاڑی گزری تھیـ شکیل اور اس کے گھر والوں کا ماتھاٹھنکاـ انہوں نے فوری طور پر قریبی تھانے میں رپورٹ کیـ خواتین کی تلاش شروع ہوئی تو شکیل کی بیوی کی لاش ندی کے قریب پڑی ملیـ اس کی بے حرمتی کرکے بے دردی کے ساتھ گلا گھونٹا گیا تھاـ ایک کلو میٹر آگے ندی کے کنارے شکیل کی 17 سالہ بہن کی لاش بھی مل گئیـ جسے ریپ کرنے کے بعد قتل کیا گیا تھاـ اس واقعے نے وادی میں آگ لگا دیـ اور بھارتی فوج کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئےـ مظاہروں نے زور پکڑا تو اس واقعے کا ملبہ مسلمان پولیس اہلکاروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن مقامی لوگ جانتے تھے کہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے چنانچہ انہوں نے احتجاج جاری رکھاـ اسی دوران خواتین کی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ دونوں خواتین کی عزت پامال کرنے کے بعد انہیں قتل کیا گیا ہےـ اب واقعے کی عدالتی انکوائری جاری ہے لیکن عدالتوں کے فیصلوں کا کیا حشر ہوتا ہے اس حوالے سے ہر کشمیری باخبر ہےـ درحقیقت کشمیری اس وقت دو محاذوں پر ”جنگ” لڑ رہے ہیںـ قانونی محاذ پر بھی لڑائی جاری ہے اور سڑکوں پر احتجاج بھی جاری ہےـ حریت کانفرنس کے رہنما اس احتجاج میں شریک ہیں لیکن بیشتر رہنمائوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رکھا گیا ہےـ
اس واقعے نے پی ڈی پی جیسی بھارت نواز جماعت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور محبوبہ مفتی اسی حوالے سے اسمبلی میں بات کرنا چاہتی تھیںـ ان کی خواہش تھی کہ اسمبلی اس واقعے پر بحث کرے اور کھل کر اس شرمناک واقعے کی مذمت کرےـ اس کے جواب میں جب سپیکر نے اسمبلی کو بحث کرنے کی اجازت نہ دی تو محبوبہ مفتی بھپر گئیں اور انہوں نے سپیکر کو مائیک کھینچ ماراـ ان کی دیکھا دیکھی پی ڈی پی کے دیگر ارکان بھی مشتعل ہوگئے اور سپیکر کے خلاف نعرے بازی شروع ہوگئیـ ہنگامہ اتنا بڑھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھیـ سیکورٹی اہلکاروں نے محبوبہ مفتی کو دھکے دے کر اسمبلی سے باہر نکال دیا اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر سڑک پر احتجاج کرنے لگیںـ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب اگلا اجلاس بھی ایوان کے بجائے سڑک پر ہوگاـ
اس واقعے کے خلاف کشمیریوں کے جذبات کس قدر شدید ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ڈی پی جیسی بھارت نواز جماعت کی سوئی ہوئی غیرت بھی جاگ اٹھی ہے اور محبوبہ مفتی نے بے اختیار ہو کر مائیک سپیکر کو کھینچ ماراـ
درحقیقت کشمیر کی گزشتہ 20 سال کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے ـ1989ء میں جب وادی میں مسلح تحریک آزادی شروع ہوئی تو بھارتی حکومت بوکھلا اٹھی اور اس نے تحریک کو دبانے کے لئے وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیےـ ان ہتھکنڈوں میں خواتین کی بے حرمتی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا گیاـ بھارتی فورسز اور حکومت کا خیال تھا کہ جب کشمیری عوام اپنی بہو بیٹیوں کی بے حرمتی ہوتے دیکھیں گے تو ان پر تانی بندوق پھینک دیں گے اور مسلح تحریک کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں گے لیکن ان کا یہ خیال اس وقت خام ثابت ہوا جب آزادی کے متوالوں نے بھارتی حکومت کی اس گھٹیا اور رذیل پالیسی کے باوجود ہار ماننے سے انکار کر دیا اور جان و مال کے ساتھ عزت و آبرو کی قربانی کے لئے بھی تیار ہوگئےـ
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 10ہزار کشمیری خواتین کو ریپ کیا گیا جبکہ بعض دیگر ذرائع یہ تعداد آٹھ ہزار بتاتے ہیںـ گھٹیا پن کی انتہا تو یہ ہے کہ سات سال کی بچی سے لے کر 70سال کی بزرگ خواتین تک کو ریپ کیا گیاـ خاوندوں کے سامنے ان کی بیویوں ‘ بھائیوں کے سامنے ان کی بہنوں کو، باپوں کے سامنے ان کی بیٹیوں کو اور بیٹوں کے سامنے ان کی مائوں کو ریپ کیا گیاـ چشم فلک نے آسمان ہلا دینے والا یہ منظر بھی دیکھا کہ گھر کے مردوں کو باندھ کر ان کے سامنے خواتین کو ریپ کیا گیاـ ان گنت خواتین نے اس طرح کے واقعات کے بعد خودکشیاں کرلیں اور ان گنت اس بوجھ کو ساتھ لے کر آزادی کی آس میں جی رہی ہیںـ
سچ تو یہ ہے کہ اس حوالے سے ہم پاکستانی بھی گناہ گار ہیںـ ہمیں یہ بات تو آج تک یاد ہے کہ پاکستان بننے کے دوران ہماری ہزاروں عفت مآب بہو بیٹیوں کو سکھوں نے ریپ کیا اور ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے لیکن مظفرآباد سے صرف چار گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع سری نگر اور وادی کے دیگر حصوں میں بھارتی فوجی ہماری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ہمارے پاس یہ دیکھنے کی فرصت ہی نہیںـ یہ وہی بیٹیاں ہیں جو جہاد کشمیر شروع ہونے کے بعد دف بجا کر کشمیری زبان میں ہماری فوج کے لئے خیرمقدمی گیت گایا کرتی تھیںـ ان گیتوں میں یہ بول بھی شامل تھا کہ پاکستانی فوجی بھائی آئیں گے اور انہیں بھارتی فوج کے چنگل سے نجات دلائیں گےـ حقیقت تو یہ ہے کہ آج حضرت عمر اور محمد بن قاسم جیسے لوگ موجود ہوتے تو بھارتی فوج سے ایک ایک ظلم کا حساب لیتے لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں کہ پاکستان کی محبت میں جینے اور پاکستان کی محبت میں مرنے والے کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہےـ ان پر ہر ستم صرف اس لئے ڈھایا جارہا ہے کہ ان سے پاکستان سے محبت کا جرم سرزد ہوا ہے جو بھارتیوں کے لئے ناقابل معافی ہےـ یہ لوگ آج بھارت کے ساتھ رہنا قبول کرلیں تو بھارت ہر کشمیری کو سونے میں تولنے کے لئے تیار ہےـ
کشمیریوں نے بہت قربانیاں دے دیںـ اب قربانی دینے کی باری ہماری ہےـ ہمیں کھل کر کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگاـ وہ ہاتھ توڑنے ہوں گے جو ہماری بہو بیٹیوں کی عزت وعفت کی طرف اٹھتے ہیں اگر ہم یہ نہ کر سکے تو ہمیں اس کی سزا دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت میں بھیـ اور یہ خدائی فیصلہ ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا

 

 

 

 

اس پر تبصرہ کریں

ٹیگز:آخرت, آزاد, آزادی, احتجاج, اسلام اور معاشرہ, اسمبلی, انکار, باپ, بزرگ, بل, بھائ, بھائی, بھائیوں, بھارت, بہن, بہنوں, بیوی, بیٹی, بیٹیاں, بیٹیوں, بے اختیار, بے حرمتی, تاریخ, تحریک آزادی, تول, جذبات, جرم, جنگ, جہاد, حالات حاظرہ, حرمت, حساب, حق, حقیقت, حکومت, خبر, ختم, خواتین, خواتین کا کارنر, خواہش, خودکشی, خیر, درد, دل, دنیا, دین, ر ظلم, رب, زبان, سانحہ, ستی, سرزد, سرورق, سزا, سڑک, سیاست, شام, شر, شریک, ظلم, عدالت, عزت, عوام, غیرت, فوج, فوجی, قانون, قتل, قربان, قربانی, لوگ, مبتلا, محبت, محبوب, مذاہب اور انسانی زندگی, مرد, مردوں, مسلم, مسلمان, معاشی و معاشرتی مسائل, معاف, مقبوضہ کشمیر, منظر, میرا پاکستان, میڈی, میڈیکل, نظر, وحشیانہ, پاکستان, پاکستانی, پاکستانی فوج, پولیس, پہاڑ, چاہت, ڈرامہ, کا, کشمیر, کشمیری, کوشش, کی, گل, گناہ, گھر, ھائی, ھارت, ہتھیار

اس سے ملتی جلتی تحاریر



Comments are closed.




اسی بارے میں

Play Cricket


تازہ ترین موضوع

یہ بھی پڑھیں

پُرسکون زندگی thumbnail پُرسکون زندگی

 
 
 کائنات کی ہر ذی روح چیز میں خواہشات کا مادہ ہے ‘ چاہے انسان ہو یا حیوان۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواہشات کی گھٹی ان کو پلائی گئی ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش ایک پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے [...]

مزید مضامین

پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو thumbnail پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

کچھ مزید۔۔۔۔۔


RSS feed Subscribe to our feed       Delicious Are we delicious?       Digg Add us to Digg       Technorati Bookmark us       Flickr Flickr gallery