الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت February 6, 2010
انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم سائمینٹک کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک جرائم پیسے بنانے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں سائمینٹک نے ایسی چیزیں فروخت کرنے والی سائٹس کا حوالہ دیا ہے جہاں بینک اکاؤنٹس کی تفصیل اور کریڈٹ کارڈ تک فروخت کیے جاتے ہیں۔
ویب سائٹس پر حملے کرنے والا وہ سافٹ ویئر بھی فروخت ہوتا ہے جسے جرائم پیشہ افراد اپنے کاروبار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد مائی سپیس اور فیسبک جیسی قابلِ اعتبار سائٹس کو دوسروں کے کمپیوٹروں پر حملے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے ٹیکنالوجی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ ابھی تک ہیکر
رتًا کمپیوٹر پر وائرس کے حملے کرتے تھے لیکن اب انہوں نے پیسے بنانے شروع کر دیے ہیں۔
اس حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب اس طرح کے حملے اربوں ڈالر کی صنعت بن چکے ہیں۔
اس میں ان آن لائن ڈسکشن بورڈز کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ممبران ایسی معلومات خریدتے اور بیچتے ہیں جس سے دوسرے کی آئڈینٹٹی تھیفٹ یا شناخت کی چوری ممکن ہو سکتی ہے۔
نامہ نگار کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کی ایک سائٹ پر کچھ لوگ سو ملین ای میل اڈریسیسز سے لے کر بینک لاگ انز اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات فروخت کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ ایسی کٹس بھی دستیاب ہیں جنہیں خریدنے والا بینکوں کی جعلی سائٹس بنا سکتا ہے تاکہ گاہکوں کو پھنسایا جا سکے۔
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو
تحریر:عبدالہادی احمد
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال2008-09ء(زرداری دور)میں متعدد وفاقی وزارتوں اور محکموں میں323 ارب روپے سے زایدرقم خورد برد کر دی گئی۔ سب سے زیادہ کرپشن(116 ارب) فیڈرل بورڈآف ریونیو میں ہوئی اور سب سے کم 2.5 ارب دفاعی شعبے( پاکستان آرمی، پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی) [...]
مزید مضامین
ایک پردیسی کی کہانیفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links