اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
ہمیں سیدھا راستہ دکھا
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت March 1, 2010
ہر سال محرم میں کروڑوں مسلمان، شیعہ بھی اور سنی بھی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر اپنے رنج و الم کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن افسوس کہ ان غم گساروں میں سے بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کے لیے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ دیکھنا چاہیے کہ وہ مقصد کیا تھا؟
کیا امام تخت و تاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحقاق کا دعویٰ رکھتے تھے؟ اور اس کے لیے انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی؟ کوئی شخس بھی جو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی بلند سیرت کو جانتا ہے ،یہ بدگمانی نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اپنی ذات کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر مسلمانوں میں خون ریزی کر سکتے ہیں۔اگر تھوڑی دیر کے لیے ان لوگوں کا نظریہ مان بھی لیا جائے تب بھی حضرت ابو بکر سے لے کر حضرت امیر معاویہ تک ،پچاس برس کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑنا اور کشت و خون کرنا ہرگز ان کا مسلک نہ تھا۔ اس لیے لا محالہ یہ ماننا ہی پڑے گا کہ امام عالی مقام کی نگاہیں اس وقت مسلم معاشرے اور اسلامی ریاست کی روح اور اسکے مزاج اور اس کے نظام میں کسی بڑے تغیر کے آثار دیکھ رہیں تھیں جسے روکنے کے لیے جدوجہد کرنا ان کے نزدیک ضروری تھا،حتیٰ کہ اس راہ میں لڑنے کی نوبت بھی آ جائے تو نہ صرف جائز بلکہ فرض سمجھتے تھے۔
وہ تغیر کیا تھا؟ ظاہر ہے لوگوں نے اپنا دین نہیں بدل دیا تھا۔ حکمران سمیت سب لوگ خدا،رسول، اور قرآن کو اسی طرح مان رہے تھے جس طرح پہلے مانتے تھے۔مملکت کا قانون بھی نہیں بدلا تھا۔عدالتوں میں قرآن و سنت کے مطابق ہی فیصلے ہو رہے تھے۔
بعض لوگ یزید کے شخصی کردار کو بہت نمایاں کر کے پیش کرتے ہیں جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے وہ تغیر جسے روکنے کے لیے امام عالی مقام کھڑے ہو گئے تھے،بس یہ تھا کہ ایک بُرا آدمی برسر اقتدار آ گیا تھا۔ لیکن یزید کی سیرت و کردار کا جو بُرے سے بُرا تصور بھی پیش کر دیا جائے اُسے جوں کا توں مان لینے کے بعد بھی یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے کہ اگر نظام صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو محض ایک بُرے آدمی کا برسر اقتدار آ جانا کوئی ایسی بڑی بات ہو سکتی ہے جس پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا دانا و زیرک اور علم شریعت میں گہری نطر رکھنے والا شخص بے صبر ہو جائے۔ اس لیے یہ شخصی معاملہ بھی وہ اصلی تغیر نہیں جس نے امام عالی مقام کو بے چین کیا۔
تاریخ کے بغور مطالعہ سے جو چیز واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اسکی تخت نشینی سے در اصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور ،اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی کے پورے نتائج اگرچہ اس وقت سامنے نہ آئے تھے لیکن اس صاحب نظر آدمی گاڑی کا رخ تبدیل ہوتے ہی یہ جان سکتا ہے کہ اب اسکا راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر یہ مڑ رہی ہے وہ آخر کار اسے کہاں لے جائے گا۔ یہی رخ کی تبدیلی تھی جسے امام نے دیکھا اور گاڑی کو پھر سے صحیح پٹڑی پر ڈالنے کے لیے اپنی جان لڑا دینے کا فیصلہ کیا۔
اس چیز کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور خلفا راشدین کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چلتا رہا تھا اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں اور یزید کی ولی عہدی سے مسلمانوں میں جس دوسرے نطام ریاست کا آغاز ہوا اس کے اندر کیا خصوصیات بعد کے خلفا یا امرا و بادشاہوں میں نمودار ہوئیں۔ اسی تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیں یہ گاڑی پہلے کس لائن پر چل رہی تھی اور اس نقطہ انحراف پر پہنچ کر آگے وہ کس لائن پر چل پڑی۔اسی تقابل سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور سیدہ فاطمہ اور حضرت علی کی آغوش میں تربیت پائی تھی اور جس نے صحابہ کی بہترین سوسائٹی میں بچپن سے بڑھاپے تک کی منزلیں طے کی تھیں ،وہ کیوں اس نقطہ انحراف کے سامنے آتے ہی گاری کو نئی لائن پر جانے سے روکنے کے لیے کھڑا ہو گیا ،اور کیوں اس نے اس بات کی بھی پروا نہ کی کہ اس زوردار گاڑی کا رخ موڑنے کے لیے اس کے آگے کھرے ہو جانے کا کیا انجام ہو گا۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کونسی تبدیلیوں کے آثار دیکھے؟
اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف زبان سے ہی کہا جاتا تھا بلکہ سچے دل سے یہ مانا بھی جاتا تھا اور عملی رویہ سے اس عقیدہ و یقین کا پورا ثبوت بھی دیا جاتا تھا کہ ملک خدا کا ہے، باشندے خدا کی رعیت ہیں، اور حکومت اس رعیت کے معاملے میں خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیں، اور رعیت اسکی غلام نہیں ۔ لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی تھا۔عملاً اس نے وہی نظریہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہ کا رہا ہے یعنی ملک بادشاہ کا ، رعیت کی جان ،مال آبرو ہر چیز کا مالک بادشاہ ہے۔ خدا کا قانون اگر نافذ ہوگا تو عوام پر ،بادشاہ اس سے مستثنیٰ ہے۔
2۔اسلامی ریاست کا مقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کا قائم کرنا اور فروغ دینا تھا جو خدا کو محبوب ہیں۔ ان برائیوں کو مٹانا اور دبانا مقصود تھا جو خدا کو ناپسند ہیں۔مگر انسانی بادشاہت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد حکومت کا مقصد فتح ممالک، تسخیر خلائق اور عیش دنیا کے سوا کچھ نہ رہا۔ان کے ہاتھوں بھلائیاں کم پھیلیں اور برائیوں نے زیادہ فروغ پایا۔حد یہ کہ ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی بھی کوششیں کیں۔جس کی بد ترین مثال بنو امیہ کے دور میں نو مسلموں پر جزیہ لگانے کی صورت میں طاہر ہوئی۔
3۔دستور اسلامی کا سنگ بنیاد یہ تھا کہ حکومت لوگوں کی آزادانہ مرضی سے قائم ہو۔کوئی شخص اپنی کوشش سے اقتدار حاصل نہ کرے بلکہ لوگ اپنے مشورےسے بہت آدمی کو چن کر اقتدار اسکے سپرد کر دیں۔بیعت حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کسی کوشش یا سازش کا دخل نہ ہو۔لوگ بیعت کرنے یا نہ کرنے میں ازاد ہوں۔جب تک کسی آڈمی کو بیعت حاصل نہ ہو وہ اقتدار میں نہ ائے اور جب سب لوگوں کا اعتبار اس سے اتھ جائے تو اقتدار سے چمٹا نہ رہے۔خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدے سے بر سر اقتدار آیا۔ لیکن یزید کی ولی عہدی نے اس قاعدے کو الٹ دیا۔اس سے خآندانوں کی موروثی بادشاہتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد سے آج تک پھر مسلمانوں کو انتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہوا۔اب حکمران طاقت سے بر سر اقتدار آنے لگے، طاقت اور اقتدار سے بیعت حاصل کی جانے لگی، اسی جبری بیعت کو کالعدم قرار دیے جانے پر خلیفہ منصور کے زمانے میں امام مالک کی پیتھ پر کوڑے بھی برسائے گئے اور ان کے ہاتھ شانوں سے اکھڑوا دئیے گئے۔
4۔ایک اہم ترین قاعدہ یہ بھی تھا کہ حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے کیا جائے جن کے علم ،تقویٰ اور اصابت رائے پر لوگوں کو اعتبار و اعتماد ہو۔ لیکن شاہی دور کا آغاز ہوتے ہی شورائی دور کا اختتام ہوا۔ بادشاہ اپنی مرضی سے فیسلے کرنے لگے۔
5۔اسلامی دستور کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ لوگوں کو اظہار رائے کی پوری آزادی تھی۔لوگون کے ضمیر اور انکی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط کام پر بڑے سے برے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کر سکیں۔لیکن بادشاہی کے دور کا آغاز ہوتے ہی ضمیروں پر قفل چڑھا دئیے گئے، منہ بند کر دئیے گئے۔اب قاعدہ یہ ہو گیا کہ منہ کھولنا ہے تو تعریف کے لیے کھولو ورنہ چپ رہو۔اگر تم باز نہیں رہ سکتے تو قید یا قتل کے لیے تیار رہو۔یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کو کم ہمت، بزدل اور مصلحت پرست بناتی چلی گئی۔خطرہ مول لے کر حق بات کہنے والے کم ہوتے گئے۔
6۔ایک اور اسؤل یہ تھا کہ خلیفہ اور اس کی حکومت خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہے۔جہاں تک خدا کے سامنے جواب دہ ہونے کا تعلق تھا تو اس کے شدید احساس سے خلفائے راشدین پر دن رات کا چین آرام حرام ہو گیا تھا۔ اور جہاں تک خلق کے سامنے جواب دہی کا تعلق تھا تو وہ ہر وقت،ہر جگہ اپنے آپکو عوام کے سامنےجواب دہ سمجھتے تھے۔لیکن یزید کے حکومت کے آتے ہی جواب دہی کا تصور ختم ہو گیا۔ خقل میں سے کونسا مائی کا لال تھا جو ان سے جواب طلب کر سکتا؟وہ اپنی قوم کے فاتح تھے۔مفتوحوں کے سامنے کون جواب دہ ہوتا ہے۔وہ طاقت سے بر سر اقتدار ائے تھے اور انکا نعرہ تھا کہ جس میں طاقت ہو وہ ہم سے اقتدار چھین لے
مزید اصول یہ تھے کہ بیت المال خدا کا مال اور خلق کی امانت ہے۔ اس پر خلیفہ یا حکمران کا کوئی حق نہیں اور یہ کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔سبھی کے لیے ایک ہی قانون ہے۔لیکن بادشاہی کے دور میں ان دونوں اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ بادشاہ بیت المال کو اپنا خزانہ سمجھ کر صرف کرنے لگے اور قانون تو انکے گھر کی باندی بن گیا۔
یہ تھے وہ تغیرات جو اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے سے رونما ہو رہے تھے۔یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہ آغاز تھی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد حکومت میں وہ سب خرابیاں نمو دار ہو گئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔چناچہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا زیرک، دانا آدمی خرابی کا ظہور ہونے سے قبل ہی بھانپ گیا کہ کیا خرابیاں ہونے والی ہیں اس پر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو بد تر سے بد تر نتائج بھی انہیں ایک مضبوط جمی جمائی حکومت کے خلاف اتھنے میں بھگتنے پڑیں، ان کا خطرہ مول لے کر انہیں اس غلط انقلاب کو روکنا چاہیے۔اس کوشش کا جو انجام ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسے بچانے کے لیے ایک مومن اپنا سر بھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیتھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔ کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ سیاسی کام کہہ لے مگر حسین ابن علی کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا ،اسی لیے انہوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔ (ماخوذ از سید ابو الاعلی مودودی)
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پُرسکون زندگی
کائنات کی ہر ذی روح چیز میں خواہشات کا مادہ ہے ‘ چاہے انسان ہو یا حیوان۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواہشات کی گھٹی ان کو پلائی گئی ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش ایک پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے [...]
مزید مضامین
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہوفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links