وقتِ اشاعت March 1, 2010

بلوچستان: مشرف دور کا ریکوڈیک منصوبہ منسوخ thumbnail

بلوچستان: مشرف دور کا ریکوڈیک منصوبہ منسوخ

 

 حکومت بلوچستان نے آسٹریلوی کمپنی سے اربوں روپے کے سونے اور تانبے کے ریکوڈیک منصوبے کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان پاکستان کے مرکزی حکومت کے تعاون سے اس منصوبے کو خود چلائے گی یہ معاہدہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا۔

تینتیس لاکھ سینتالیس ہزار ایکٹر پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر از خود مزید کام کرنے کے لیے ایک اطالوی کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور کوشش کی کہ گودار پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو ٹوٹل آمدنی کا صرف پچیس فیصد حصہ ملنا تھا۔

بلوچستان میں گوادر پورٹ اور سیندک کے بعدریکوڈک تیسرا بڑا منصوبہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ریکوڈک میں اس وقت چار اعشاریہ پانچ ملین ٹن سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو قابل عمل بنانے کی صورت میں روزانہ پندرہ ہزار ٹن سونا اور تانبا نکالا جا سکتا ہے جس سے بلوچستان کے عوام کو سالانہ اربوں روپے کی آمدنی ہوگی۔

خیال رہے کہ سابق فوجی دور حکومت میں بلوچستان کی ترقی کے نام سیندک کے سونے اور تانبے کا منصوبہ چین کو دیا گیا تھا اور چین کو دوہزار گیارہ تک سیندک سے سونا اور تانبا نکالنے کا اختیار ہے لیکن صوبائی حکومت نے سیندک جیسے اہم منصوبے پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین سیندک سے سونے اور تانبے کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ نکال کر لے جا چکا ہے، جس کی آمدنی میں سے چین بلوچستان کو صرف ایک فیصد اور پاکستان کو اُنیس فیصد دے رہا ہے۔

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے ہمیشہ اس کی مخالف کی ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل لوٹنے میں حکومت پاکستان کے ساتھ کئی ممالک برابر کے شریک ہیں جب کہ بلوچستان کے عوام اپنے وسائل پر اپناحق چاہتے ہیں۔(بشکریہ بی بی سی نیوز)

 

اس پر تبصرہ کریں

ٹیگز:بلوچستان, حالات حاظرہ, ریکوڈیک, سرورق, قوم پرستگوادر, میرا پاکستان

اس سے ملتی جلتی تحاریر



Comments are closed.




اسی بارے میں

Play Cricket


تازہ ترین موضوع

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو thumbnail پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو

 
 
 تحریر:عبدالہادی احمد
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال2008-09ء(زرداری دور)میں متعدد وفاقی وزارتوں اور محکموں میں323 ارب روپے سے زایدرقم خورد برد کر دی گئی۔ سب سے زیادہ کرپشن(116 ارب) فیڈرل بورڈآف ریونیو میں ہوئی اور سب سے کم 2.5 ارب دفاعی شعبے( پاکستان آرمی، پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی) [...]

مزید مضامین

ایک پردیسی کی کہانی thumbnail ایک پردیسی کی کہانی

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

فورمز کا لنک

فورمز کا لنک فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیں

کچھ مزید۔۔۔۔۔


RSS feed Subscribe to our feed       Delicious Are we delicious?       Digg Add us to Digg       Technorati Bookmark us       Flickr Flickr gallery