بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
شروع اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت March 2, 2010
"بدر بھائی بہت مشکل علاقہ ہے۔ ہمکو بہت مشکل ہوتی ہے وہاں پہنچنے میں۔کبھی گھسٹ کر جانا پڑتا ہے تو کبھی اندھی غاروں میں لیٹ لیٹ کر۔ عجیب عجیب اشیا بھی پائی جاتی ہیں وہاں۔ ہم تو ہر سال جاتے ہیں۔ تم نے تو دیکھا ہو گا نہ وہ علاقہ؟" یہ میرا ایک چھوٹا سا شیعہ دوست تھا جو مجھے 2001 میں میرے کراچی میں قیام کے دوران بوریت سے بچانے کے لیے اکثر ہی میرے فلیٹ میں پایا جاتا تھا۔
جب میں نے اسکو بتایا کہ میں تو وہ علاقہ دیکھنا دور کی بات۔ ۔ ۔ اسکے بارے میں کبھی سنا بھی نہیں تو جھنجھلا کر مجھے کہتا تھا کہ "کیسے بلوچ ہو کہ اپنے علاقے کا ہی پتا نہیں"
کچھ دن قبل جب جنگ اخبار میں اسی علاقہ سے متعلق ایک فیچر پڑھا تو ساری پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔تو سوچا کہ نیا ٹاپک اسی سلسلہ پر ہی لکھ ڈالوں۔ یاد رہے کہ مری معلومات کا ذریعہ جنگ اخبار ہی ہے۔ میں نے آج تک اس علاقہ کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقہ وڈھ میں ایک اہم زیارت گاہ "لاہوت لا مکاں" کہلاتی ہے۔اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائینات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیا گیا تھا اور کچھ روایات کے مطابق حضرت آدام کو اسی جگہ اتارا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہر سال یہاں دشوار گزار راستہ طے کر کے آتے ہیں۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہور بزرگ شاہ بلاول نورانی کا مزار بھی ہے۔
کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے اس سلسلہ کا پہلا پڑاؤ "محبت فقیر" کے مزار پر ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی کے غلام تھے۔ (واللہ عالم) پھر اگلا پڑاؤ "قدم گاہ" پر ہوتا ہے جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہاں حضرت علی کے پاؤں کے نشانات ہیں(واللہ عالم) ان نشانات کو ریشمی جھالروں سے سجایا گیا ہے۔ شاہ بلاول نورانی کا مزار یہاں سے نزدیک ہی ہے۔اس کے نزدیک ہی ایک مسجب بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا یہ خؤد ہی وجود میں آئی ہے (واللہ عالم) اور یہاں مصنف کو ایک دیدہ زیب پتھر بھی نظر آیا۔اسکی خواہش ہوئی کہ اسکو ساتھ لے لیا جائے۔تو بقول مصنف جیسے ہی اس پتھر کو ہاتھ لگایا تو ارد گرد موجود مور چیخنے لگے اورپتھر کا جو ٹکڑا توڑا تھا وہ دوبارہ اپنی جگہ پر جڑ گیا (واللہ عالم) اس قدم گاہ سے نزدیک ہی پریوں کا باغ بھی موجود ہے ۔جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیو گوکل کی حکومت تھی اور لوگ اس سے تنگ تھے۔ ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی تو ایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنہوں نے اس دیو کو شکست دے کر لوگوں کو اس کے ظلم سے آزاد کروایا۔ بقول مصنف اس پہاڑی علاقہ پر جا بجا ایسے نشانات موجود ہیں جس سے بھاگتے قدموں کے نشانات اورخراشوں اور لڑائیوںً کے نشانات واضح ہیں۔ (واللہ عالم)
اس باغ سے اصل زیارت گاہ "لا ہوت لامکاں" کے راستے نکلتے ہیں۔پیدل زائیرین کے لیے سات پہاڑوں کو عبور کر کے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتا ہے۔اس راستے سے صرف سخت جاں لوگ ہی گزر سکتے ہیں ۔دوسرا راستہ قدرے آسان ہے۔اس راستے پر لوہے کی سیڑھیاں موجود ہیں۔ بقول مصنف دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزور ہیں لیکن کئی سو من وزن آسانی سے برداشت کر لیتی ہیں۔ ہزاروں زائرین ایک ہی وقت میں چڑھتے اترتے ہیں/لوگ اسے بھی روحانیت کی قوت قرار دیتے ہیں۔
سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد ایسے پتھروں سے سامنا ہوتا ہے جنکی شکل خونخؤار جانور اور شیر سے ملتی ہے۔ ان کے بارے میں بھی روایات ہیں کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے انکو پتھر بنا دیا گیا۔ اور یہ بھی یہ جانور اب بھی ان زیارت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
پھر ایک غار آتا ہے جو بہت بڑے غار کی مانند ہے۔مصنف کا کہنا ہے کہ اس غار میں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھونا پڑتا ہے۔یہ صابن پتھر پر پانی گرنے سے بنتا ہے اور اس سے منہ دھوتے ہی غار کا اندھیرا ختم ہو جاتا ہے اور ہر چیز روشن ہو جاتی ہے(واللہ عالم) اسی غار میں پتھر کی بنی ایک اونٹنی بھی ہے اور ایک پتھر بھی جو فرش سے بر آمد ہو کر غار کی چھت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس پتھر کے بارے میں روایات ہیں کہ جس دن یہ پتھر چھت سے ٹکرا جائے گا اس دین قیامت آ جاے گی۔ مصنف بیان کرتا ہے کہ چند انچ کا ہی فاصلہ باقی ہے۔
اس غار کے بعد ایک اور غار ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اور بہت زیادہ پھسلن بھی۔ اس میں انسان سیدھے رخ داخل نہیں ہو سکتا۔ غار کے آکری دہانے پر شاہ نورانی کی چلہ گاہ موجود ہے اور اس کے ساتھ ایک چشمہ بھی۔
بقول مصنف اس سارے علاقہ میں پتھر کے بنے عجیب عجیب جانور، پرندے پائے جاتے ہیں۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہا ہے تو کہیں کسی اور خونخوار جانور کی آنکھوں سے۔ایک جگہ بھینس کے تھنوں سے مشابہ پتھر ہیں جہاں سے چشمہ نکل رہا ہے وغیرہ۔/
(واللہ عالم)
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو
تحریر:عبدالہادی احمد
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال2008-09ء(زرداری دور)میں متعدد وفاقی وزارتوں اور محکموں میں323 ارب روپے سے زایدرقم خورد برد کر دی گئی۔ سب سے زیادہ کرپشن(116 ارب) فیڈرل بورڈآف ریونیو میں ہوئی اور سب سے کم 2.5 ارب دفاعی شعبے( پاکستان آرمی، پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی) [...]
مزید مضامین
ایک پردیسی کی کہانیفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links