الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے
ہمارے پراجیکٹس
وقتِ اشاعت March 9, 2010
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
علماء فلکیات کے کہنے کے مطابق ، ان شاء اللہ ،پرسوں بروز جمعہ بتاریخ 29 محرم 1431 ، ہجری ، اور15 جنوری 2010 ، عیسوی کو،30 دسمبر3043 عیسوی یعنی مستقبل کے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت میں سب سےبڑا سورج گرھن لگنے والا ہے ،
اُن کا کہنا ہے کہ یہ گرھن تقریبا چار گھنٹے اور پنتالیس منٹ تک رہے گا ، یہ وقت گرھن کے چاروں مراحل کو ملا کر ہو گا ،
مختلف معاشروں میں سورج اور چاند گرھن کے بارے میں مختلف عقائد پائے جاتے تھے ، عرب معاشرے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سورج یا چاند کو گرھن کسی خاص شخصیت کے مرنے یا پیدا ہونے کے وجہ سے لگتا ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بھی ایک دفعہ سورج گرھن ہوا ، اور اللہ کی حِکمت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کیے صاحبزادے اِبراہیم رحمہُ اللہ کی موت کے بعد ہوا ،
تو اسی عقیدے کے مطابق لوگوں نے یہ کہا کہ سورج گرھن کی وجہ ابراہیم رحمہ اللہ کی موت ہے ، لوگوں کی یہ بات سن کر
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن کےعقیدے کی اصلاح کرتے ہوئے انہیں سورج اور چاند گرھن کے بارے میں یہ بتایا کہ (((((إِنَّ الشَّمسَ وَالقَمَرَ لَا يَنكَسِفَانِ لِمَوتِ أَحَدٍ ولا لِحَيَاتِهِ فإذا رَأَيتُم فَصَلُّوا وَادعُوا اللَّهَ::: بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرھن نہیں لگتا اور نہ ہی کسی کی زندگی کی وجہ سے لہذا جب تُم لوگ سورج یا چاند گرھن دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے( اس کے عذاب سے بچنے کی ) دُعا کرو )))))
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نماز کسوف یعنی سورج گرھن کے صورت میں پڑھی جانی والی نماز ، اور نمازءِ خسوف یعنی چاند گرھن کی صورت میں پڑھی جانے والی نماز خود پڑھ کر اور اپنے صحابہ کو پڑھا کر اس کا طریقہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھایا اور ان کے ذریعے اپنی اُمت کو سکھایا ،
اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ ، عبداللہ ابن عَمرو ابن العاص ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس نماز کا طریقہ اور کیفیت بیان کی ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :::
""" جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج کو گرھن لگا تو آواز لگوائی گئی """ نماز با جماعت """ ((((( فَصَلَّى رسول اللَّهِ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ القِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قام فَأَطَالَ القِيَامَ وهو دُونَ القِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وهو دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ فَعَلَ في الرَّكعَةِ الثَّانِيَةِ مِثلَ ما فَعَلَ في الأُولَى ثُمَّ انصَرَفَ::: اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےلوگوں کو نماز پڑھائی اور بہت دیر تک قیام فرمایا ( یعنی نماز میں کھڑے رہتے ہوئےقرأت فرمائی ) اور پھر رکوع کیا اور پھر قیام فرمایا جو پہلے والے قیام سے کچھ کم تھا اور پھر رکوع کیا (یعنی ایک رکعت میں دو دفعہ رکوع فرمایا اوردوسرے رکوع کے بعد بھی کافی لمبا قیام فرمایا ) پھر سجدے فرمائے اور سجدے کو بھی خوب لمبا فرمایا ، اور پھر اسی طرح دوسری رکعت میں بھی کیا اور پھر نماز ختم فرمائی ))))) اور جب نماز ختم فرمائی تو اس وقت تک سورج گرھن سے نکل چکا تھا """
قارئین کرام ، امید کرتا ہوں کہ ہر ایک قاری اس بات کا خیال رکھے گا کہ پرسوں ہونے والے سورج گرھن کا وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان اور سنت مبارکہ کے مطابق باجماعت نماز پڑھتے ہوئے گذارے ، اور کہیں کسی کو کسی سبب سے با جماعت نماز میسر نہ ہو سکے تو اللہ کے ذکر میں اور اللہ سے دُعا کرتے ہوئے گذارے ، اپنے والدین کے لیے ، اپنے پیاروں کے لیے ، اپنی دین کی سر بلندی کے لیے ، دِین کے دشمنوں کی تباہی کے لیے ، اپنی اُمت کی دینی دُنیاوی اور اُخروی خیر کے لیے ،
قارئین کرام براہ مہربانی جہاں جہاں تک اس کی خبر کر سکتے ہیں ضرور کیجیے ،
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُن کی ہر سنّت مبارکہ پر عمل پیرا ہونے کی ہمت دے دے اور اپنے ہرعذاب سے محفوظ کر دے ، و السلام علیکم۔
اسی بارے میں
Play Cricket
تازہ ترین موضوع
یہ بھی پڑھیں
پُرسکون زندگی
کائنات کی ہر ذی روح چیز میں خواہشات کا مادہ ہے ‘ چاہے انسان ہو یا حیوان۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواہشات کی گھٹی ان کو پلائی گئی ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں۔ انسان کی لامتناہی خواہشات میں سے ایک مشترکہ خواہش ایک پُرسکون زندگی کا خواب ہے جس کو پورا کرنے [...]
مزید مضامین
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہوفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںفورمز کا لنک
فورمز میں جانے کے لیے یہاں تشریف لائیںکچھ مزید۔۔۔۔۔
Related Links