| Chit Chat This section is opened for those who requested to have an English section. This section is in experimental stage. Please post all your views about Pakistan, its society, culture and social values. |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,514
کمائي: 118,821
شکریہ: 13,538
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() A MAN from Pakistan and two Hungarian women have been jailed after their plot to stage a sham marriage in Cardiff was foiled.
Aspiring business student Asif Hussain, 25, was about to marry 33-year-old Hungarian Elizabet Balogh when they were arrested at Cardiff Register Office. Hussain was in the UK illegally after his student visa expired in February 2011 and wanted to marry Balogh as a citizen of the European Economic Area. But they aroused the suspicion of the registrar because the couple needed Balogh’s cousin, 45-year-old Hungarian Valerie Farkas, to act as an interpreter between the would-be bride and groom who did not speak a common language. All three admitted conspiracy to facilitate a breach of the UK’s immigration laws. Under questioning, the pair initially claimed their relationship was genuine and Hussain said they lived together in a flat on Splott Road, Cardiff – using internet translation services to communicate. But enquiries revealed that there were no signs of the flat being occupied by a woman and that Balogh had spent most of the months leading up to the wedding in Manchester, London and Hungary, only returning to the UK from Budapest on July 30 – just three days before the Cardiff ceremony. Judge Neil Bidder told the trio their sentences would have been much harsher if it were not for their early guilty pleas. Hussain was sentenced to 12 months in jail, Balogh was jailed for 10 months and Farkas for six months. He said it did not require much vigilance on the part of the registrar to realise the marriage was a sham because of the presence of Farkas as an interpreter. In interview, Balogh claimed she had fallen in love with Hussain after a chance meeting at London Victoria Station. She told officers she loved Pakistan and its culture and people – but could not name its capital, Islamabad. Judge Bidder said they had told a “pack of lies” after they were arrested and that it was difficult to see how the arrangement was initiated. Speaking after the sentencing, Chris Lovejoy, from the UK Border Agency’s immigration crime team, said: “Asif Hussain saw this sham marriage as a shortcut to a life in the UK. Instead, he has earned himself a significant spell behind bars.”
__________________
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | محمدعدنان (19-11-11), مرزا عامر (19-11-11), احمد نذیر (21-11-11), حیدر (19-11-11), عبیداللہ عبید (19-11-11) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
چلو جیل میں بھی کمائی کرنے کا چانس مل گیا اس کو اور کیا چاہئے
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایسی بھی کیا جلدی تھی تھوڑا سا ہوم ورک کر لیتے تو بات بن سکتی تھی
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,514
کمائي: 118,821
شکریہ: 13,538
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
مرزا بھائی اس کا کچھ نہیں بن سکتا تھا اور اسے ہوم ورک کا بھی پتہ ہو گا مگر اس نے سمجھا ہو گا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ھے شائد لوگ ڈراتے ہیں اس لئے اس نے چانس لے لیا۔ اس پر ایک واقعہ میں بھی پیش کرتا ہوں اسی سے آپ کو ہوم ورک کے بارے میں بھی علم ہو جائے گا۔ پہلے یہاں قانون تھا کہ بندہ اللیگل ھے یا اس کا کیس اڑ گیا ہوا ھے اور اسے ڈپورٹ کرنے کے آرڈر جاری ہو چکے ہیں تو وہ ایسا کرتے تھے کہیں سے بھی شادی کا آخری کارڈ کھیلتے تھے، اس وقت شادی کرنا اتنا مشکل نہیں تھا اور شادی کرتے ہی بیوی کی طرف سے کیس دائر ہوتا تھا جس سے اریسٹ وارنٹ و ہر قانون فیل فیل ہو جاتا تھا اور وقت کے ساتھ بندے کو لیگل سٹیٹس مل جاتا تھا۔ میرے ابتدائی دنوں میں میں ہیتھرو ائرپورٹ کے قریب ہونسلو جگہ میں رہتا تھا اور میرا روم پارٹنر ایک ریسٹورنٹ میں شیف تھا نام اس کا بشیر جوندہ تھا اس نام کے ویزہ پر یہاں آیا تھا، عثمان جوندہ نام سے اس نے اسائلم کیس ڈالا ہوا تھا جو ہر طرح سے اڑ گیا تھا اس سے اس کا کیس ختم ہو گیا ہوا تھا اس پر بھی ایک سٹوری ھے وہ پھر کبھی لکھوں گا، تعلق اس کا وزیر آباد کے قریب ایک گاؤں ھے جس کا نام دھونکل ھے یہاں کا رہائشی تھا، اس کے بعد یہ بھی شادی کے لئے کوششیں کر رہا تھا ان دنوں برٹش گورنمنٹ سے اعلان ہوا کہ شادی پر قانون بدل رہا ھے اور اسے منع کیا تھا کہ اب شادی کا آپش چھوڑ دو کیونکہ ان کا پتہ نہیں اس پر کب عملدرآمد شروع ہو جائے۔ خیر جمعہ کے دن اس نے اپنی چھٹی پکی کروائی ہوئی تھی جمعہ پڑھنے کے لئے، اس لئے یہ جمعہ کے دن شام کو کام پر جاتا تھا۔ ایک دن جمعہ کو یہ صبح ہی گھر سے چلا گیا حالنکہ اس کو پوچھا کہ جمعہ کو تو ابھی بہت وقت ھے اور اتنی جلدی تو اس نے کہا کہ کچھ شاپنگ کرنی ھے۔ خیر فون آیا اس کے چھوٹے بھائی کو جو وہ بھی ساتھ میں ہی رہتا تھا۔ اسے فون آیا کہ رسٹورنٹ کے مالک کو جا کر کہے کہ مجھے ایمگریشن نے پکڑ لیا ھے اور وہ میری ذمانت کا بندوبست کرے جس پر ریسٹورنٹ کے مالک کے اپنے وکیل سے بات کی تو اس نے 6 ہزار پاؤنڈز مانگے اور میرا بھی ایک جان پہچان کا وکیل تھا میں نے اس سے بات کی تو اس نے ڈھائی ہزار پاؤنڈز مانگے، خیر اس کے بھائی نے کہا کہ اسے پاکستان ہی جانے دو پھر سب نے مل کر اس کے بھائی کو کہا کہ ہم سب مل کر تم کو ڈھائی ہزار کر دیتے ہیں بھائی کو چھڑوا لو مگر وہ نہیں مانا۔ پکڑا کیسے گیا اس پر میں پہلے قانون بتا دیتا ہوں جو بدلا تھا اور اب تک وہی قانون چل رہا ھے پھر اس کی پکڑے جانے کی وجہ بھی لکھوں گا۔ یہاں شادی پر قانون ھے کہ اگر کوئی فارنر جو وزٹ پر آیا ہوا ھے یا سٹوڈنٹ ویزہ پر یا کاروباری وغیرہ وغیرہ، نئے بننے والے دولہا اور دلہن دونوں کو کونسل آفس میں رجسٹرار سیکشن میں جا کر شادی کے لئے اپنا اندراج کروانا پڑتا ھے اور اس کے لئے ایک چھوٹی سے ایسسمنٹ ہو گی، اس میں ضروری ھے کہ لیگل سٹیٹس ہونا بہت ضروری ھے اور اگر ویزہ وزٹ ھے تو اس کی مدت کم از کم ایک سال سے دو سال کی ہونی چاہئے اگر 6 مہینے کی مدت ھے تو بھی رسک نہیں لینا چاہئے۔ رجسٹرار آفیسر 3 سے 6 مہینے تک کا وقت کی تاریخ دے گا شادی کرنے کے لئے اور پھر رجسٹرار آفیسر دونوں کے کاغذات ہوم آفس/ ایمگریشن ڈپارٹمنٹ کو بھیجتا ھے۔ ہوم آفس ویزیٹر کی تمام تحقیقات کر کے ان کو شادی کی اجازت دے گا یا انکار کر دے گا۔ شادی کی اجازت ملنے پر نئے دلہا دلہن رجسٹرار آفس میں اپنے دوستوں یا عزیز و اقارب کے ساتھ جائیں گے اور انگلش نکاح شادی کریں۔ جوندہ صاحب نے بتایا کہ ساؤتھ ہال سے ایک عورت جو شادیاں کرواتی ھے اس سے بات ہوئی تھی 12 ہزار میں شادی کروائے گی، اور لڑکی و گواہ سب کا بندوبست بھی اسی کا۔ شادی کے دن یہ اپنی کار میں رجسٹرار آفس گیا اور وہ عورت دلہن اور گواہوں کے ساتھ ایک کار میں آئی، اسے شائد شک تھا کہ قانون پر کوئی تبدیلی نہ واقع ہو گئی ہو اور اس نے دلہن اور دلہا کو کہا کہ آپ اندر جاؤ اور اپنا نام نکلواؤ ہم ریڈی ہو کر تھوڑی دیر بعد آتے ہیں۔ جوندہ صاحب اور دلہن نے رجسٹرار آفیسر کو اپنے نام بتائے اور رجسٹرار آفیسر نے باہر بیٹھی پولیس اور ایمگریشن کی ٹیم کو اندر بلوا لیا۔ ایمگریشن آفیسر نے جوندہ صاحب کا منی کمپیوٹر سیکنر پر اپنا انگوٹھا لگانے کو کہا جس کے بعد جوندہ کا ریکارڈ سامنے آ گیا اور ایمگریشن آفیسر نے پولیس آفیسر کو اسے اریسٹ کرنے کو کہا اور ہتھکڑیاں لگ گئیں، آفیسر نے کہا کہ تمہارا اسائلم کیس فلاں تاریخ کا ختم ہو گیا ہوا ھے اور تم ہمیں مطلوب ہو، بہت سے خطوط کے بعد تم نے رابطہ ختم کر لیا اور غائب ہو گئے اور اب تیسرے نام سے شادی کرنے آ گئے۔ دلہن نے وہاں اونچی آواز میں زور زور سے رونا شروع کر دیا کہ مجھے نہیں پتہ تھا فلاں عورت نے میری پکی شادی کروانے کے لئے مجھے کہا تھا اور وہ باہر کھڑی ھے جس پر پولیس باہر آئی اور ٹیم نے جب دیکھا تو وہ اپنی کار میں وہاں سے بھاگ گئے۔ جوندہ صاحب کچھ دنوں بعد ڈپورٹ ہو گئے اس وقت نیا قانون تھا اس لئے سزا نہیں ہوئی۔ 6 ہزار ایڈوانس دیا ہوا تھا جس پر اس کا بھائی اس عورت کے پاس بہت سے بندے لے کر گیا کہ مل جائیں مگر یہ رقم واپس نہیں ملتی اور بعد میں پھر خود پیچھے ہٹ گیا۔ اللیگل کا اب شادی کرنا ممکن نہیں اگر ویزہ ویلڈ ھے تو قدم اٹھائیں مگر کسی وکیل سے مشورہ کر کے اور اگر ویزہ ختم ہو گیا ھے تو پھر ایک راستہ ھے جس سے شادی ہو سکتی ھے مگر ۔۔۔۔۔۔۔ رہنے دیتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
برطانیہ کی حکومت ہر قا نون سخت کرتی جا رہی ہے ۔ جن دنوں میں وہاں تھا تو ویزا تو دور کی بات اگر کسی کے پاس پاسپورٹ بھی نہ ہو تب بھی شادی ہو جاتی تھی ۔ اور دو شادیوں میں تو میں نے گواہ کے دستخط بھی کیئے ہیں ۔ شاید دنیا بھر میں معاشی بحران کی وجہ سے لوگ برطانیہ کا رخ کرتے ہیں اس لیئے انہیں قوانین سخت کرنے پڑے ۔ خود برطانیہ میں بھی بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے ۔ انڈسٹری پہلے ہی چائینا منتقل ہو گئی ہے۔
اگر کوئی انگلینڈ جانا چاہے اور اس سے یہ کہو کہ یار اب انگلینڈ میں وہ بات نہیں رہی تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے حسد کر رہے ہیں۔ اسائلم پر رہنے والے لوگوں کو میں نے دیکھا ہے بہت زیادہ ذہنی پریشانی اور الجھن میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔ سالوں رات کی نیند اور دن کا سکون غائب رہتا ہے ۔ بہت سے لڑکوں کو میں نے یہ کہتے سنا ہے کہ خود کشی کرنے کا جی کرتا ہے ۔ لیکن خود کشی کا کوئی واقعہ میری نظر سے نہیں گزرا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
کل کی خبر ہے کہ ملکہ نے اپنی خاندانی روایت کو توڑتے ہوئے محل کو کرائے پر دینے کا اشتہار دے دیا
حساب لگا لو اب پادشاہ بھی کنگلے ہوگئے ہیں
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| business, com, common, economic, expired, internet, interview, language, love, loved, marriage, marry, meeting, name, pakistan, people, sham, shortcut, there, using, were, when, who, with, woman |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| hp pavilion dv6700 laptop drivers needed | وقاص0097 | Ask Experts ماہرین کی رائے | 11 | 05-11-08 06:57 PM |
| Urdu Unicode Help needed in Windows XP | kutkutariyaan | Ask Experts ماہرین کی رائے | 5 | 28-05-08 11:33 PM |
| The Old Couple | ابو عمار | Chit Chat | 0 | 01-10-07 10:42 PM |
| AA APNI ZINDGI KII HAR SHAM | عبدالقدوس | شعر و شاعری | 0 | 29-07-07 02:17 PM |
| SAA APNI ZINDGI KII HAR SHAM | عبدالقدوس | شعر و شاعری | 0 | 29-07-07 02:02 PM |