<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>

<rss version="2.0" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
	<channel>
		<title>پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز</title>
		<link>http://pak.net/</link>
		<description><![CDATA["اردو فورم,پاکستان, فورمز, شاعری, اردو, ادب, خواتین, پاکستان کی آواز "]]></description>
		<language>ur</language>
		<lastBuildDate>Sat, 31 Jul 2010 12:13:09 GMT</lastBuildDate>
		<generator>vBulletin</generator>
		<ttl>60</ttl>
		<image>
			<url>http://pak.net/images/fauna/misc/rss.jpg</url>
			<title>پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز</title>
			<link>http://pak.net/</link>
		</image>
		<item>
			<title>دوہڑے ماہیے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%B2/%D8%AF%D9%88%DB%81%DA%91%DB%92-%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92-41320/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 11:59:25 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم دوستو! 
 
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Blue">السلام علیکم دوستو!</font><br />
<br />
<br />
<font color="DarkOrange">سرائیکی دوہڑے ماہیوں کا شوق رکھنے والے دوہڑے اور ماہیے اس تھریڈ میں پوسٹ کریں</font><br />
<br />
<font color="darkorange"><font color="Purple">اور کوشش کریں کے ایک نہ ایک لازمی پوسٹ کریں۔</font></font><br />
<br />
<font color="purple"><font color="DarkGreen">تا کہ سب شوقین استفادہ کر سکیں۔</font></font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%B2/">سرائیکی فورمز</category>
			<dc:creator>اسد لطیف</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%B2/%D8%AF%D9%88%DB%81%DA%91%DB%92-%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92-41320/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان دہشتگردی کرارہا ہے‘ برطانیہ‘ بھارت اور افغانستان تینوں یک زبان ہوگئی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92%E2%80%98-%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%E2%80%98-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AA%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA-%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%8C-41319/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 11:54:23 GMT</pubDate>
			<description>*نئی دہلی/کابل/اسلام...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Blue"><b><font face="Arial Black">نئی دہلی/کابل/اسلام آباد (خبر ایجنسیاں )برطانیہ ،بھارت اور افغانستان نے وکی لیکس کی رپورٹ کے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے ،افغانستان نے امریکاپر بھی تنقید کی کہ وہ افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ ،پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی اور خفیہ اداروںکا کردار واضح ہے ،کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،پاکستان دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہے ۔<br />
<br />
<b> تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کو مدد کے ثبوت موجود ہیں ،پاکستان اپنی سرزمین کو عالمی سطح پر دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔</b><br />
<br />
<br />
بھارت جاتے ہوئے طیارے میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کیلئے دہری پالیسی اختیار نہ کرے ایک طرف افغانستان کو مستحکم کرنا اور<b> دوسری طرف دہشت گردوں کی مددکرنا ناقابل قبول ہے۔انکا کہنا تھا کہ ماضی بھی اس کے ثبوت موجود ہیں کہ پاکستان شدت پسندوں کی مدد کرتا رہا ہے</b> تاہم حال ہی میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف موئثر کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت لائے۔<br />
<br />
 انہوں نے کہا کہ برطانیہ کسی طرح یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ پاکستان بھارت یا افغانستان میں دہشت گردی برآمد کرے۔بھارت نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے ۔ بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کیلئے نامزد دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ <b>نئی دہلی سے جاری بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے حوالے سے وکی لیکس کے انکشافات درست ہیں۔ آئی ایس آئی کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی ، حمایت اور تعاون فراہم کرنا پاکستان کی رہاستی پالیسی کا حصہ ہے جو قابل مذمت ہے اور اسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے ۔</b><br />
<br />
ترجمان نے پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد پاکستان بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے ۔ افغان صدر حامد کرزئی کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین داد فر نے کابل سے جاری بیان اور بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت کے خلاف جنگ میں امریکا دہری پالیسی پر گامزن ہے۔ <b>افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ خفیہ معلومات منظر عام پر آنے کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لانا معنی خیز ہے ۔</b> انہوں نے کہا کہ وکی لیکس رپورٹ میں پاکستان کے دہرے کردار کی نشاندہی کے بعد مغرب کو پاکستان پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیے۔<b> انہوں نے افغان جنگ میں پاکستان کے منفی کردار پر امریکا کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کو نظرانداز کرکے افغان جنگ میںدوغلی پالیسی اپنا رہا ہے۔امریکا9برس میں پاکستان میں روپوش طالبان رہنماؤں اور ان کے حامیوں پر حملے کرنے میں ناکام رہا ہے۔رنگین </b>دادفر کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ اتحادیوں نے علاقائی سلامتی واستحکام کیلئے عالمی دہشت گردوں کیلئے بیرون ملک مدد سے متعلق ضروری توجہ نہیں دی ۔ <br />
<br />
انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطرناک کھیل ہے اور اسے روکنا ہوگا۔بعد ازاں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد پر بھی سوالات اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ افغان عوام کیلئے ناقابل قبول ہے کہ پاکستان کو تعمیر نو میں مدد اور اسکی سیکورٹی فورسز کو 11ارب ڈالر سے زائد امداد دی جائے اور پھریہی فورسز دہشت گردوں کو تربیت دیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکا پاکستان میں طالبان کے ٹھکانوں اور ان کے حامیوں کے خاتمہ اورافغان پالیسی کا از سر نو جائزہ نہیں لیتا جنگ جیتنا مشکل ہوگا۔علاوہ ازیں برطانوی وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بہتر تعلقات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی علاقے کی جغرافیائی صورتحال کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا ۔  <br />
<br />
<br />
برطانیہ جانتا ہے کہ دہشت گرد دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان اوربھارت کی نسبت دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہے ،ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے دوست ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیلئے بھارت پر اپنا اثر ڈالیں گے۔ ادھرسیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے کردار کے بارے میں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کی موجودگی کا الزام لگانے والے افغانستان میں اتحادی افواج کی شکست کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے خلاف وکی لیکس کا پروپیگنڈا بیمار ذہنیت کا عکاس ہے اور یہ بدنیتی پر مبنی ہی، رپورٹ ناقابل برداشت تضحیک کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ان الزامات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک امریکا تعاون متاثر ہوسکتا ہے تاہم امریکی انتظامیہ نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔</font></b></font> <br />
<br />
روزنامہ جسارت<br />
29/7/2010<br />
<a href="http://www.jasarat.com/unicode/detail.php?category=1&amp;newsid=40860" target="_blank">Jasarat , Jasarat First Urdu Online Newspaper in Pakistan - Daily Jasarat</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>sahj</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92%E2%80%98-%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%E2%80%98-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AA%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA-%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%8C-41319/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Wire Transfer کیا ہے؟</title>
			<link>http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/wire-transfer-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%9F-41317/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 10:45:56 GMT</pubDate>
			<description>اسلام علیکم، 
       ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اسلام علیکم،<br />
        مجھے Wire Transfer کے بارے میں معلومات درکار ہیں کہ یہ کیا ہے اور اس کا انٹرنیت پر کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟<br />
<br />
<br />
والسلام</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/">Ask Experts  ماہرین کی رائے</category>
			<dc:creator>پاکستانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/wire-transfer-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%9F-41317/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>بوس تو پھر بوس ہوتا ہے۔</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%A8%D9%88%D8%B3-%D8%AA%D9%88-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%88%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%DB%94-41316/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 07:38:27 GMT</pubDate>
			<description>ایسے میں  ورکرکو  کیا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ایسے میں  ورکرکو  کیا کرنا چاہیے؟؟:confused::confused:<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
:o:o<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32795d1280561876-boss-gif" target="_blank">http://pak.net/attachment.php?attach...1=&amp;d=1280561876</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32795d1280561876-boss-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>احمد بلال</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%A8%D9%88%D8%B3-%D8%AA%D9%88-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%88%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%DB%94-41316/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>تربیت اساتذہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے دینی مدارس (آراء اور تجاویز)</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D8%AA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%B3-%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2-41315/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 06:21:44 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم دوستو۔...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم دوستو۔<br />
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اور ایمان و صحت کی بہترین حالت میں اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے۔<br />
<br />
مدارس عربیہ کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں، بطور خاص اسلام کی تشخص کو برقرار رکھنے اور ہمارے علمی اثاثے کو ہم تک پہنچانے میں ان کا کردار قابل ستائش ہے۔<br />
اس سے انکار ممکن نہیں کہ خامیاں اور کوتاہیاں ہر انسان اور ہر ادارے میں ہوتی ہیں۔ لکن ان کی وجہ سے اس کے اصل کردار کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔<br />
<br />
مدارس کی اہمیت کئی حوالوں سے ہے ۔ لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کی اہمیت میں روز افزوں اضافہ  نو ستبمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد ہوا۔<br />
<br />
اب مختلف جہات سے، اندرونی و بیرونی، مدارس کو دہشت گردی کی فیکٹریاں اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جا رہا ہا ہے ۔۔ لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں<br />
<br />
اس واقعے کے بعد مدارس کی اصلاحات کے لئے دنیا بھر سے کوششیں اور آوازیں شروع ہو گئیں۔<br />
مغرب کی جانب سے اس مد میں کافی پیسہ آیا جو حکومت وقت اور غیر سرکاری اداروں  کی تجوریوں اور پیٹوں کی نذر ہو گیا۔<br />
اس سارے مرحلے میں سوائے ناکامی کے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس کی بنیادی وجہ باہر سے اصلاحات تھوپنا تھا۔ حالانکہ اصل تبدیلی وہ ہے جو اندر سے آئے ،،<br />
<br />
لیکن اس سارے عرصہ میں  اپنی مدد آپ کے تحت  خود مدارس کی جانب سے بہت سی اصلاحات ہوئی ہیں۔  جس کی جتنی اسطاعت تھی اس نے اتنی کوشش کی ۔۔۔۔<br />
<br />
ہم بھی مدارس کی برائیوں میں تو بہت توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن نک نیتی سے ان کی اصلاح کے لئے اگر تجاویز طلب کی جائیں تو ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں ۔<br />
<br />
<font color="Blue">ان اصلاحات یا ریفارمز  کا ایک پہلو<font color="Red"><font size="6"> تربیت اساتذہ </font></font>ہے ۔<br />
اس حوالے سے مختلف کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن کوئی منظم اور مربوط نظام تا حال موجود نہیں ہے ۔<br />
<br />
آپ تما احباب سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں اپنی آراء دیں، جو قابل عمل بھی ہوں  اور مفید تر بھی۔۔۔<br />
<br />
کیا واقعی اساتذہ مدارس کو تربیت کی ضرورت ہے؟<br />
کس کس میدان میں تربیت زیادہ ضروری ہے؟<br />
کیا تربیت کا کام مدارس ہی سے متعلق افراد کریں یا دیگر ماہرین ہی یہ کام انجام دیں ؟؟<br />
<br />
نصاب مدارس کی تدریس کی تربیت کے علاوہ اور کون سے موضوعات ایسے ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے ؟<br />
کیا آپ کے علم میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو یہ کام کر رہا ہے ؟ اگر ہاں تو اس کے کیا نتائج ہیں ؟؟؟<br />
<br />
ہندوستان یا بنگلہ دیش کے مدارس کے نظام کے بارے میں کسی کو کچھ معلومات ہوں تو وہ بھی شامل کرے ۔<br />
</font><br />
باقی سوالات ساتھ ساتھ آتے رہیں گے<br />
<br />
<br />
<font size="6"><font color="Red">نوٹ: </font></font>صرف سنجیدہ اور موضوع کے مطابق مراسلات شامل کئے جائیں ۔۔ شکریہ</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/">عمومی بحث</category>
			<dc:creator>راجہ اکرام</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D8%AA%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%B3-%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2-41315/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>نور الدین زنگی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%B2%D9%86%DA%AF%DB%8C-41314/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 05:47:13 GMT</pubDate>
			<description>نور الدین زنگی 
 
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>نور الدین زنگی<br />
<br />
<br />
مسلمانوں نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں عیسائیوں سے مسجد الاقصا بغیر کسی جنگ کے حاصل کی اور اسکے بعد  مسجد مسلمانوں کی بھرپور طاقت کے زیر اثر رہی۔ سلجوق ایمپائر کے زمانے میں فرانس، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپین ریاستوں کی متحدہ افواج نے مسلمانوں کی ریاست پر  حملہ کیا۔ ابتدا میں متحدہ جارح کو شکست کی منہ دیکھنا پڑا۔ مگر بعد میں جب سلجوق اپنی طاقت قائم نہ رکھ سکے تو بزدل عیسائی جارح یورپین ریاستوں نے متحد ہوکر دوبارہ حملہ کیا۔ اس وقت تک مسلمان عملاً کئی چھوٹی ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے اور کچھ اپس میں ہی دستِ گریبان تھیں ۔ سلجوق بھی اپنی  بھرپور طاقت کھو چکے تھے لہذا عیسائی جارح نے  492 ھ میں یروشلم فتح کرلیا۔ جب کم ظرف عیسائی مسجد القصا پر فتح کا جھنڈا لہرانے  ائے تو انھوں نے بے تحاشا مسلمان مرد،عورتوں اور حتٰی کہ بچوں کو بھی بے دریغ قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ستر ھزار معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔<br />
<br />
مسلمان حالت غم میں تھے مگر پھر بھی اپس میں لڑرہے تھے اور اتنے کمزور تھے کہ وہ عیسائی طاقت کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاسکے۔ اس وقت ایک بہادر مسلمان حکمران سامنے ایا۔ اس کا نام امام الدین زنگی تھا۔ وہ سلجوقی دور میں موصل کا حکمران تھا۔ جب سلجوق کمزور ہوئے تو وہ طاقت پاگیا کیونکہ اس نے دوسری مسلمان طاقتوں سےنہ لڑنے کہ پالیسی اپنائی۔ امام الدین زنگی عیسائیوں سے لڑنے کے لیے اکیلا سامنے ایا۔ اُس نے عیسائیوں کے کئی قلعے فتح کرلیے۔ اس نے مسجد الاقصا کو عیسائیوں کے ناپاک قبضے سے نجات دلانے کا عزم کررکھا تھا لہذا وہ عیسائیوں کو پے درپے شکست دیتا ہوا یروشلم کی طرف بڑھتا رہا۔ مگر اس کی قسمت میں فاتح بیت المقدس بننانہیں لکھا تھا۔وہ بیمار ہوگیا اور بالاخر انتقال فرماگیا۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔ اس نے 521ھ سے 541 ھ تک حکمرانی کی۔<br />
<br />
امام الدین کے بعد اسکا بیٹا نور الدین زنگی کے سر پر تاج ِحکمرانی سجایا گیا۔ نورالدین نے عیسائیوں سے جہاد جاری رکھا اور 541-568 ھ تک ان سے جنگ کرتا رہا مگر جب نور الدین نے دیکھا کہ عیسائی بٹی ہوئی مسلمان ریاستوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں لہذا مسلمان ریاستیں نور الدین کی عیسائیوں کے خلاف کوئی مدد نہیں کررہی ہیں تو اس نے مسلمان ریاستوں کو متحد کرنے کی ٹھانی۔ مسلمان حکمرانوں کے سر پر حسب روایت کوئی جوں نہ رینگی۔ لہذا نور الدین نے اپنا طریقہ کار میں تبدیلی کی اور بے حس مسلم حکمرانوں کے خلاف جنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں  مسلم ریاستوں کے متحد ہونے کا کام انجام پاسکا۔<br />
<br />
مصر ان دنوں  فاطمی حکمران کے زیر اثر تھا جو کہ بے حد کمزور حکمران تھے۔ مصر کی فلسطین کے ساتھ سرحد  مشترکہ تھی۔ عیسائیوں نے مصر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا۔ مگر نورالدین نے عیسائیوں کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ اس نے عیسائیوں کےمصر پر قبضہ سے پہلے ہی مصر پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد کسی دوسرے مسلم حکمران کو جرات نہ ہوئ کہ نور الدین سے لڑ سکے۔ اسکے بعد نور الدین نے فلسطین پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایامگر قضا نے اسے مہلت نہ تھی اور وہ 48 سال کی عمر میں انتقال فرماگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔<br />
<br />
بہادر باپ اور بیٹا دونوں سچے مسلمان تھے اور اللہ پر ہی یقین رکھتے تھے۔ دونوں اتنے بہادر تھے کہ دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نور الدین بہت بہادری سے دادِشجاعت دے رہا تھا اسکے ایک کمان دار نے اس سے کہا &quot; اگر اپ کو کچھ ہوگیا تو عیسائیوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور وہ مسلمانوں کا تباہ کردیں گے&quot; نور الدین نے اسکے جواب میں کہا &quot; پہلے تولو پھر بولو! اپ اللہ کی قدر و قدرت کے خلاف بول رہے ہیں۔ بتائیے مجھ سے پہلے کس نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی؟&quot;<br />
<br />
نور الدین ایک ذہین فرماروا تھا۔ اسنے لاتعداد مدرسہ، ھسپتال، اور کئی اقسام کی عمارات لوگوں کی خدمت کے لیے تعمیر کیں۔ وہ ایک منصف مزاج حکمران تھا۔ اس نے اسلامی بیت المال قائم کیا اور خزانے سے اپنے لیے ایک ٹیڈی پائی بھی نہیں لی۔ زیادہ تر وہ جنگی معرکوں میں مصروف رہا اور اس نے مال غنیمت سے اتنا ہی وصول کیا جتنا دوسرے سپاہیوں کے لیے مخصوص تھا۔ تمام بیت المال کے اساسے فلاحی کاموں کے لیے مخصوص تھے۔ اس کے دور حکمرانی میں مہمانوں کو سرائے میں اور مریضوں کو ھسپتالوں میں مفت سہولتیں دی جاتی تھیں۔ نور الدین زنگی کا اندازِحکمرانی ہمیں  'عمربن عبدلعزیز' کی یاد دلاتا ہے۔ نور الدین نے عوام پر کوئی ناجائز تیکس نہیں لگایا۔ وہ اتنا منصف تھا کہ ایک دفعہ ایک ادمی نے نورالدین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ جب نور الدین نے سنا اس وقت وہ پولو کھیل رہا تھا جو کہ اس کا پسندیدہ کھیل تھا۔ نورالدین اسی وقت میدان ِکھیل سے باھر ایا اور عدالت کی طرف دوڑ لگادی اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کی۔<br />
<br />
ایک دفعہ اس کی بیوی نے کچھ مزید رقم کا تقاضا کیا اور کہا کہ جو وظیفہ اسکو ملتا ہے وہ گزارے کے لیے کافی نہیں۔ نورالدین نے جواب دیا &quot; میں کہاں سے رقم حاصل کروں۔ بیت المال مسلمان عوام کے لیےہے اور میں صرف اسکا رکھوالا ہوں&quot; اس کی حکمرانی دراصل شریعت کی حکمرانی تھی۔ شراب نوشی اور کاروبار اس دور میں ممنوع تھے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی شریعت کا پابند تھا۔ اللہ نور الدین زنگی پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ امین۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/">اسلامی قصے</category>
			<dc:creator>میاں شاہد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%B2%D9%86%DA%AF%DB%8C-41314/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>جُليبِب رضي اللہ عنہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D8%AC%D9%8F%D9%84%D9%8A%D8%A8%D9%90%D8%A8-%D8%B1%D8%B6%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%86%DB%81-41313/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 05:41:24 GMT</pubDate>
			<description>جُليبِب رضي اللہ عنہ  
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>جُليبِب رضي اللہ عنہ <br />
<br />
اپ کا نام کچھ غیر  مانوس اور  نامکمل سا تھا۔ جُلیبِب &quot;جلباب&quot; کا   مختصر مترادف ہے جس کا مطلب ہے &quot;کوتاہ بڑھوتی&quot;۔ اس نام ہی سے ظاہر ہے کہ جُلیبِب کوتاہ قد اور  کسی حدتک کبڑے جیسے حالت کے حامل تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو &quot;دامیم&quot; سے بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کا مطلب بدصورت،  بدنما اور متنفر کرنے والا ہے۔<br />
<br />
اس سے بھی پریشان کن بات یہ تھی کہ جس معاشرے میں وہ رہتے تھے وہاں حسب نسب کی بڑی اہمیت تھی مگر جُلیبِب کے نسب کا بھی کو ئی پتہ نہیں تھا۔ اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ ان کے والد اور والدہ کون تھے اور یہ کہ کس قبیلہ سے ان کا تعلق تھا۔ یہ اس معاشرے میں ایک بہت بڑی معذوری تھی جس کے وہ فرد تھے۔  جُلیبِب  اس معاشرے سے کسی قسم کی کوئی رفاقت، مدد اور محافظت کی توقع نہیں تھی جہاں حسب نسب ہی انسان کی بڑائی سمجھاجاتا تھا۔ ان کے بارے میں صرف اتنا معلوم تھاکہ وہ ایک عرب ہیں اور جہاں تک اسلام کی تشکیل کردہ نیا معاشرے کا تعلق تھا  اس میں ان کی تعلق انصار سے تھا۔ شاید ان کا تعلق مدینہ سے باھر کے کسی قبیلہ سے تھا اور بعد میں وہ شہر میں منتقل ہوگئے یا وہ شاید مدینہ ہی کے کسی انصار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔<br />
<br />
اس معذوری کے ساتھ جس میں جُلیبِب مبتلا تھے بہت کافی تھا  کہ لوگ ان کا مذاق بناتے اور معاشرے میں کمتر مقام  کے حقدار ٹھہرتے اور درحقیقت انہیں کچھ گھروں میں داخل ہونے کی ممانعت تھی مثلاً  اسلم قبیلہ کے ابو بارزہ۔ انھوں نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا:<br />
<br />
&quot; جُلیبِب کو گھر میں داخل نہیں ہونے دینا۔ اگر وہ داخل ہوں تو میں ان کے ساتھ سخت سلوک کروں گا&quot; شاید اس لیے کہ جُلیبِب مردوں کی محفل میں سخت مذاق، طعن و تشنع کا نشانہ بنتے اور خواتین کی پناہ ليتے تھے<br />
<br />
کیا اس بات کی کچھ توقع تھی کہ  جُلیبِب کے ساتھ باوقار طریقے سے برتاؤ کیا جائے گا؟  کیا  اس کی کچھ امید تھی کہ بطور ایک  فرد اور مرد کے  وہ اپنے جذبات کی تسکین کرسکیں؟ کیا اس بات کی کچھ امید تھی کہ وہ حقوق جن کو ہرکوئی پیدائشی حق گردانتا ہے ان کے حصے میں بھی اسکیں؟ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اسلام کے روبہ تشکیل نئے معاشرے میں  کیا ان کی حثیت اتنی ہی معمولی رہے گی  کہ وہ  ریاست کے عظیم معمولات  اور زندگی کے بالاتر  معاملات میں ہمہ تن مصروف پیغمبر (ص) کی توجہ سے محروم رہیں؟<br />
<br />
تقدیر اور زندگی کے بارے میں اعلیٰ ترین  علم رکھنے والے رحمت العالمین (ص) کو اپنے اس صحابی کے ضروریات اور حساسیت کے بارے میں بھی اچھی طرح علم تھا۔  <br />
<br />
۔ پیغمبر اسلام (ص) جُلیبَب (ر) کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک صحابی کے پاس گئے اور کہا &quot; میں چاہتا ہوں کہ اپ اپنی صاحبزادی کی شادی کردیں&quot;۔ &quot;کتنی اچھی اور مبارک بات ہے اے رسول اللہ اور یہ تو میری انکھوں کی ٹھنڈک ہوگی&quot;۔ انصاری صحابی نے  خوشی اور مسرت کے ساتھ کہا۔ &quot;میں اپنے لیے بات نہیں کررہا ہوں&quot; پیغمبر نے مزید کہا۔ &quot; پھر کس کے لیے اللہ کے پیغبر (ص)&quot;۔ صحابی نے کچھ اداسی کے ساتھ کہا۔ &quot;جُلیبَب کے لیے&quot; پیغمبر (ص) نے کہا۔<br />
<br />
انصاری ذرا  صدمہ سا پہنچا اور وہ بمشکل کہہ سکے کہ &quot; میں اس کے ماں سے مشورہ کرلوں&quot; اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ &quot; اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی شادی کرلے&quot;۔  انھوں نے اپنی شریک حیات کو مطلع کیا۔ &quot; یہ تو بہت اچھا خیال ہے اور ہمارے لیے بہت ہی خوشی کی بات ہے&quot;  شریک حیات نے سرشاری کی سی کیفیت میں جواب دیا۔ &quot; مگر وہ خود شادی کے خواہش مند نہیں ہیں بلکہ وہ  جُلیبِب کے ساتھ شادی کی منشا ظاہر کی ہے&quot;۔ تو وہ بھی ششدر رہ گئیں۔<br />
<br />
&quot;جُلیبِب کے ساتھ! نہیں، جُلیبِب کے ساتھ کبھی نہیں، اللہ کی قسم، ہم  جلُیبَب کے ساتھ اس (بیٹی کی) شادی نہیں کریں گے&quot;۔ انھوں نے احتجاجاً کہا<br />
<br />
انصاری اپنی بیوی کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے جانے کے لیے اٹھ ہی رہے تھے کہ ان کی صاحبزادی جو اپنی والدہ کا احتجاج سن چکی تھیں نے کہا :&quot; کس نے اپ کو کہا کہ میری شادی کردیں؟&quot;<br />
<br />
ماں نے اپنی صاحبزادی رسول اللہ کی جُلیبِب کے ساتھ شادی کی درخواست کے بارے میں بتایا۔ جب انھوں نے سنا کہ درخواست رسول اللہ (ص) کی طرف سے ہے اور ان کی والدہ نے اس کی مخالفت کی ہے تو وہ بہت  پریشان ہوگئیں اور کہا :<br />
<br />
&quot; کیا اپ اللہ کے رسول کی درخواست کو مسترد کررہے ہیں؟ اپ یہ بات قبول کرلیں کہ یقیناً وہ میرے لیے بہتر ہی کریں گے&quot;۔ یہ  ایک ایسے عظیم شخصیت کا جواب تھا جو بلاشبہ یہ جانتی تھی کہ بحیثیت مسلمان ان سے کیا درکار ہے۔ اس سے زیادہ قابل اطمینان اور تکمیل ایمان کسی مسلمان کے لیے کیا ہوسکتا ہے کہ وہ بالخوشی اللہ کے رسول کی درخواست و احکام کے اگے سر تسلیم خم کرے۔ بلاشبہ ان صحابی رسول  جن کا نام معلوم نہیں نے یہ ایات جان رکھیں تھیں کہ:<br />
<br />
&quot;اور تھمارے گھروں میں  جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور  حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں)  ان کو یاد رکھو۔  بے شک خدا باریک بیں اور باخبر ہے (33)  (جو لوگ خدا کے اگے سراطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی ) مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں  اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سےیاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں ۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے خدا نے  بخشش اور اجر عظیم تیار کررکھا ہے (35)  اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے  کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے  وہ صریح گمراہ ہوگیا (36)   ( القران : سورہ احزاب 33-36)<br />
<br />
یہ آیات حضرت زینب بنت جیش اور حضرت زید ابن الحارث  کی شادی کے پش منظر میں نازل ہوئی تھیں جس کا انتطام پیغمبر رسول (ص) نے معاشرتی مساوات کی اسلامی روح کو اجاگر کرنے کے لیے کیا تھا۔ زینب (ر) پہلے پہل تو  زید (ر) سےشادی کے خیال سے تو ذرا دلگیر ہوگئیں اور شادی سے انکار کردیا۔ مگر رسول اللہ (ص) کی ترغیب پر بالاخر یہ شادی منقعد ہوگئی۔ مگر شادی اخرکار طلاق پر ختم ہوئی اور حضرت زینب (ر) کی شادی پھر رسول اللہ (ص) سے ہوئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انصاری خاتون نے یہ آیات تلاوت کیں اور اپنے والدین سے کہا:<br />
<br />
&quot;میں مکمل مطمئین ہوں اور  جو کچھ میرے لیے بہتر سمجتھے ہیں اس کے اگے سر تسلیم خم بخوشی کرتی ہوں&quot;<br />
<br />
رسول اللہ (ص)  نے انصاری خاتون کا عمل سنا اور اس کے لیے دعا یوں فرمائی :&quot; اے رب،  اس پر خیر کثیر نازل فرما اور اس کی زندگی کو مشکل اور پرمصیبت نہ بنا۔&quot;<br />
<br />
کہا جاتا ہے کہ وہ خاتون شادی کے لیے انصار کے درمیان سب سے بہتر  انتخاب تھیں۔ انھوں نے رسول اللہ (ص)کے حکم پر جُلیبِب (ر) سے شادی کی اور  پھر  ان کے ساتھ ہی رہیں حتیٰ کہ جُلیبِب کو شہادت کارتبہ مل گیا۔<br />
<br />
اور جُلیب کیسے شھید ہوئے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک معرکہ میں شریک تھے اور ان کی کچھ مشرکین کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی۔ جب لڑائی ختم ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے پوچھا: &quot; کیا اپ کا کوئی ساتھی کم ہے؟&quot;۔  قریبی رشتہ دار اور دوستوں نے ان لوگوں کے نام بتائے جو شھید ہوئے تھے۔ ایک اور گروپ نے کہا کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نےکہا :<br />
<br />
&quot;مگر میں نے جُلیب کو کھو دیا ہے ان کی میدان جنگ میں تلاش کرو۔&quot; انھوں نے تلاش شروع کی اور جُلیب (رضی اللہ عنہ) کو اس حالت میں پایا کہ ان کے قریب ساتھ مشرکین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں جُلیب (رضی اللہ عنہ) نے شھادت سے پہلے مضروب کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور وہاں پہنچے جہاں جُلیب (ر)، اپ(ص) کے صحابی، کا جسم موجود تھا۔ آپ (ص) وہاں کھڑے ہوگئے اور کہا :&quot; انھوں نے سات افراد کو قتل کیا اور پھر قتل ہوئے۔  یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔&quot;<br />
<br />
اپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو یا تین دفعہ دھرایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جُلیب (ر) کے ہتھیار لے لیے اور کہا کہ &quot; ان کے لیے رسول اللہ (ص) کو گود سے بہتر کوئی بستر نہیں&quot;۔ پھر رسول اللہ نے  ایک قبر خود تیار کی اور اپنے صحابی کو اپنے  ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ انھوں نے غسل نہیں دیا کیونکہ شھید کو غسل نہیں دیا جاتا۔<br />
<br />
جُلیب (ر) اور ان کی شریک حیات ان صحابیوں میں شامل ہیں جن کا تذکرہ اور مدح اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ مگر بہت کم تفصیلات جو کہ ان کے بارے میں معلوم ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اتنے غیر نمایاں صحابیوں کوبھی امید اور عزت نفس رسول اللہ (ص) کی جانب سے عطاہوتی تھی جب وہ تنہا اور مشکل میں ہوتے تھے۔<br />
<br />
اس نامعلوم انصاری خاتون کا عمل، جو کہ فوراً جُلیب جیسے غیر نمایاں مرد سے شادی کے لیے تیار ہوگئیں ، ان کے اسلام کی بہترین سمجھ کی جھلک دکھاتاہے۔ اپنے اپ کو اورا پنی ترجیحات کو اسلام کے لیے فنا کرنا جب کہ ان کے والدین بھی شادی کے لیے کچھ رضامند نہ تھے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کے اور رسول اللہ کے احکام کی پابندی کرنا ان کو کتنا محبوب تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ کی حکمت اور  اختیار کے اگے  سر تسلم خم کرنا ان کا اختیاری فعل تھا جو کہ ایک سچے مومن کی نشانی ہے۔<br />
<br />
جُلیب (ر)  ایک ایسے شخص کی مثال ہیں جو کہ ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے معاشرتی طور پر اچھوت کی سی حثیت رکھتے تھے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے توجہ، مدد، اور حوصلہ ملنے سے وہ بہادرانہ اقدامات کرنے کے قابل ہوسکے اور قربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس قول کے مستحق ہوئے کہ &quot; میں ان سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں۔&quot;</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/">اسلامی قصے</category>
			<dc:creator>میاں شاہد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D8%AC%D9%8F%D9%84%D9%8A%D8%A8%D9%90%D8%A8-%D8%B1%D8%B6%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%86%DB%81-41313/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%A1-%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%86%DB%81-41312/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 05:36:17 GMT</pubDate>
			<description>قبول اسلام سے پہلے: 
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>قبول اسلام سے پہلے:<br />
<br />
ابو دردا علی الصبح بیدار ہوکر سیدھے اپنے گھر کے سب سے اچھے حصے میں رکھے گئے بت کی طرف <br />
<br />
گئے۔  انھوں نے بتوں کو نمستے کہا اور اس کے اگے کورنش بجالائے۔ پھر انہوں نے بت کو اپنی ہی شاندار <br />
<br />
دکان کی سب سے اچھی خوشبو لگائی اور خوبصورت ریشم کے کپٹر ے سے جو ایک تاجر یمن سے کل ہی لایا <br />
<br />
تھا ملبوس کردیا۔<br />
<br />
جب سورج سر پر اگیا تو وہ اپنی دکان کی طرف روانہ ہوئے۔ اس وقت تک یثرب کی گلیاں اور کوچے  حضرت <br />
<br />
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیرؤکاروں سے بھرچکے تھے جو بدر سے واپس ارہے تھے اور ان کے ساتھ <br />
<br />
کئی جنگی قیدی بھی تھے۔ ابو دردا نے مجمع پر ایک طائرانہ نظر ڈالی پھر ایک خزراجی نوجوان کے پاس گئے <br />
<br />
اور  اس سے عبداللہ ابن رواح کے بارے میں دریافت کیا۔<br />
<br />
&quot;وہ جنگ کے سب سے مشکل مرحلہ سے  گذرے ہیں مگر محفوظ نکل ائے۔۔۔&quot;<br />
<br />
ابودردا یقیناً اپنے دوست عبداللہ ابن رواح کے بارے میں بہت پریشان تھے۔ یثرب کا ہر فرد ان دونوں کے برادرانہ <br />
<br />
تعلقات کےبارے میں زمانہ جہالت سے جانتا تھا جب کہ اسلام یثرب میں داخل نہیں ہوا تھا۔ جب اسلام کا سورج <br />
<br />
یثرب کے اسمان پر طلوع ہوا تو عبداللہ  ابن رواح نے اسے قبول کرلیا مگر ابن دردا نہ مسترد مگر ان دونوں کے <br />
<br />
برادرانہ تعلقات پر اس سے کوئی اثر بھی نہیں پڑا۔ عبداللہ نے  ابن دردا سے ملناجلنا نہیں چھوڑا اور مسلسل انہیں <br />
<br />
اسلام  کی خوبیاں، فوائد اور  بڑائی کے بارے میں اگاہ کرتے رہے۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ابو دردا مشرک <br />
<br />
ہی رہے جیسے دیکھ کر عبداللہ غمزدہ اور فکر مند ہوجایاکرتے۔<br />
<br />
ابودردا اپنی دکان پر ائے اور اپنی ارام دہ کرسی پر سکون سے بیٹھ کر خرید فروخت کے بارے میں اپنے  <br />
<br />
ملازمین کو ہدایتں دینا شروع کردیں۔ اس بات سے بےخبر تھے کہ ان کے گھر پر کیا ہورہا ہے۔ عبداللہ ابن رواح <br />
<br />
ایک ارادہ کرکے ان کے گھر پہنچے وہاں عبداللہ نے دیکھا کی مرکزی دروازہ کھلا ہے۔ ام دردا صحن میں <br />
<br />
موجود تھیں۔ عبداللہ نے ان سے کہا۔ &quot; اسلام وعلیکم۔ اپ پر سلامتی ہو بندیِ خدا&quot;<br />
<br />
&quot;وعلیکم اسلام ۔ اپ پر بھی سلامتی ہو ۔ او برادرِ ابو دردا۔&quot;<br />
<br />
&quot;ابو دردا کہاں ہیں&quot; ابن عبداللہ نے پوچھا۔<br />
<br />
&quot;اپنی دکان پر۔ کچھ ہی دیرمیں وہ واپس اجائیں گے&quot; جواب  ملا۔<br />
<br />
&quot;کیا مجھے اندر انے کی اجازت مل سکتی ہے&quot; عبداللہ نے درخواست کی۔<br />
<br />
&quot;بلاتکلف۔ یہ بھی تو اپ کا اپنا ہی گھر ہے&quot; ام دردا نے کہا اور وہ پھر گھریلو مصروفیات اور بچوں کی دیکھ <br />
<br />
بھال میں مصروف ہوگئیں۔<br />
<br />
عبداللہ ابن رواح سیدھے اس کمرے میں گئے جہاں بت رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک تیشہ نکال کر جو اپنے ساتھ ہی لائے <br />
<br />
تھے اور بت پر ضربیں لگانی شروع کردیں۔ وہ کہتے جارہے تھے کہ<br />
<br />
 &quot;کیا ہر وہ شے باطل نہیں جسے اللہ کے سوا پوجا جائے&quot;<br />
<br />
جب بت مکمل طور پر تباہ ہ ہوگیا تو عبداللہ گھر سے نکل گئے۔ کچھ لمحوں بعد ابودردا کی شریک حیات کمرے <br />
<br />
میں داخل ہوئیں اور صورت حال دیکھ کر متحیر ہوگئیں۔ انھوں نے اپنے گالوں کو غم کی وجہ سے پیٹنا شروع <br />
<br />
کردیا اور کہا &quot; تم تو ہم پر تباہی لے ائے ہو ابو عبداللہ&quot; جب ابوعبداللہ گھر میں واپس ائے تو دیکھا کہ ان کی <br />
<br />
شریک حیات اس کمرے کے دروازے سے لگی بیٹھی ہیں جہاں بت رکھا تھا&quot; کیا مسئلہ ہے&quot; ابودردا سوالیہ انداز <br />
<br />
میں پوچھا۔<br />
<br />
اپ کے بھائی عبداللہ ابن رواح تھماری غیر موجودگی میں یہاں ائے تھے اور خود دیکھ لو انہوں نے تھمارے بت <br />
<br />
کے ساتھ کیا کیا ہے&quot; ابو دردا بت کی طرف دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئے۔ وہ غصے سے بھرے ہوئےبدلہ لینے پر <br />
<br />
تل گئے۔ مگر زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ ان کا غصہ ٹھنڈا پڑگیا۔ اب وہ سوچ رہے تھے کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا <br />
<br />
ہے اور انھوں نے خودکلامی کے انداز میں کہا &quot;<br />
<br />
&quot;اگر کوئی خدا اس بت کے اندر ہوتا تو وہ اس توڑپھوڑ کا خود دفاع کرسکتا تھا&quot;<br />
<br />
وہ پھر سیدھے عبداللہ کے پاس گئے اور ان کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ پھر انہوں نے <br />
<br />
اپنے اسلام کا اعلان کردیا۔ وہ اپنے علاقے کے اخری فرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/">اسلامی قصے</category>
			<dc:creator>میاں شاہد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%82%D8%B5%DB%92/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%A1-%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%86%DB%81-41312/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>شوگر کے علاج کا بہترین نسخہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%A8%DB%81-%D8%B7%D8%A8/%D8%B4%D9%88%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D9%86%D8%B3%D8%AE%DB%81-41311/</link>
			<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 05:13:05 GMT</pubDate>
			<description>Image:...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center"><img src="http://www.deeneislam.com/ur/misc/Sugar_Medicine/Sugar_Medicine_1.gif" border="0" alt="" /></div></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%A8%DB%81-%D8%B7%D8%A8/">شعبہ طب</category>
			<dc:creator>میاں شاہد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%A8%DB%81-%D8%B7%D8%A8/%D8%B4%D9%88%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D9%86%D8%B3%D8%AE%DB%81-41311/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>:: لڑکیاں ::</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-41309/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 22:00:24 GMT</pubDate>
			<description>لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں ان کے ہنسنے اور رونے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتاجی چاہے تو جنازے پر کھی کھی کرنے لگیں اور جی چاہے تو عید کے دن موٹے موٹے آنسو بہانے لگیں ۔عمر کے معاملے میں اتنی محتاط ہوتی ہیں کہ جو پچیس سال کی ہو جاتی ہے آگے ہی نہیں بڑھتی ۔ میاں صاحب کہتے ہاں عورت کی عمر کا صحیح پتا چلانا ہو تو اسے بولتے ہوئے غور سے دیکھنا چاہیئےجو عورت بات کرتے وقت زیادہ منہ کھولے اس کی عمر بھی زیادہ ہو گی اور جو کم کھولے اس کی عمر بھی کم ہو گی ۔ میں نے تجرباتی طور پر 84 سالہ اماں جیراں سے پوچھا کہا ماں تم بڑی جہاندیدہ ہویہ بتاو کیا واقعی یہ سچ ہے کہ جو عورت بات کرتے وقت کم منہ کھولے اس کی عمر بھی کم ہوتی ہے۔<br />
اماں جیراں نے چونک کر میری طرف دیکھا پھر ذرا سا منہ کھول کر بمشکل بولی  &quot;پت مینوں کی پتہ &quot;<br />
<br />
:d<br />
<br />
پیار محبت کے معاملے میں بھی لڑکیاں ہمیشہ شاکی نظر آتی ہیں ۔ایک لڑکی نے مجھے لکھا کہ شادی کے بعد مرد بالکل ہی مختلف ہو جاتے ہیں ۔<br />
میں نے کہا کوئی مثال؟<br />
کہنے لگی آپ دیکھیں نا شادی سے پہلے میرے شوہر مجھے بہت اچھے لگتے تھے لیکن اب ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اف یہ مرد بھی کتنی جلدی بدل جاتے ہیں ۔ <br />
<br />
:d<br />
<br />
سیانے کہتے ہیں کہ لڑکیاں اپنی تعریف بہت پسند کرتی ہیں سیانے غلط کہتے ہیں لڑکیاں صرف دوسری لڑکیوں کی بد تعریفی پسند کرتی ہیں اگر آپ ان کے سامنے کسی خوبصورت لڑکی کی تعریف شروع کر دیں تو فورا ہی کوئی ایسا جملہ کہہ دیتی ہیں کہ تعریف کو بریک لگانا پڑ جاتی ہےمیں نے اپنی کلاس فیلو سے کہا ریما بہت خوبصورت ہےمنہ بنا کر بولی ۔ کون گدھے کا بچہ اسے خوبصورت کہتا ہے ۔<br />
میں نے سر کھجا کر کہا میڈونا تو بہر حال خوبصورت ہے۔<br />
لاپرواہی سے بولی ہاں گھٹیا درجے کے تماش بین اسے پسند کرتے ہیں ۔<br />
میں نے کھسیانا ہو کر کہا......صائمہ تو خوبصوتی کی انتہا ہے.......ناخنوں پر نیل پالش لگا کر پھونک مارتے ہوئے بولی.......ہمارا “چوکیدار“ اس کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتا ہے۔<br />
<br />
:d<br />
<br />
لڑکیاں شادی کے معاملے میں بھی نرالی ہوتی ہیں ۔ رشتہ آنے پر ایسے ایسے سوال کرتی ہیں جیسے خاوند نہیں مینجر بنا رہی ہوں لیکن جوں جوں عمر گزرتی ہے سوالات میں‌تبدیلی آتی جاتی ہے20سال کی عمر میں لڑکی کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے لڑکا کیسا ہے؟<br />
25سال کی عمر میں جب رشتہ آتا ہے تو پہلا سوال یہی ہوتالڑکا کیا کرتا ہے؟<br />
اور جب لڑکی کی عمر 30سال سے تجاوز کر جاتی ہے تو کوئی بھی رشتہ آنے پر پہلا سوال یہی ہوتا ہے &quot;کہاں ہے &quot;<br />
<br />
:d<br />
<br />
لڑکیوں کو اپنی قابلیت جمانے کا بھی بہت شوق ہوتا ہےکسی بات کا نہ بھی پتہ ہو پھر بھی اپنی ٹانگ ضرور اڑاتی ہیں ۔ میں نے اپنے ایک کولیگ سے پوچھاکبھی نیو جرسی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟<br />
جلدی سے بولی ۔آئے ہائے نوخیزمیں تو ہر سیزن میں نیو جرسی خریدتی ہوں۔<br />
<br />
:d<br />
<br />
ہماری ایک کلاس فیلو کا رولنمبر 2 (two)تھا ۔ لہذا جب بھی ہم کنٹین میں بیٹھ کر گانے بجانے کا اہتمام کرتے تو اونچی آواز میں گاتے &quot;ٹو&quot; میری زندگی ہے‘<br />
ایک دن غصے میں آکر اس نے پرنسپل کو شکایت کر دی میں نے کہاہم تو عام سا گانا گا رہے تھے ۔<br />
غصے میں آ کر بولی &quot;تو&quot; کو &quot;ٹو&quot; کہہ رہے تھے۔<br />
میں نے کہا اب معاف کر دیجیئے آئندہ کبھی &quot;ٹو&quot; نہیں کہیں گے،<br />
نرمی سے بولی ، ہاں ،،،بالکل ٹھیک آئندہ ٹو نہیں کہنا بلکہ تھری کہنا کیونکہ اب میرا رولنمبر تھری ہے۔<br />
<br />
:d<br />
<br />
لڑکیا ں بدلہ بھی بہت برا لیتی ہیں ۔ کالج کے زمانے میں ایک دفعہ الیکشن میں کھڑا ہوا تھامیرے مقابلے میں ایک لڑکی کھڑی تھی ۔ میں نے دوستوں  کے ساتھ مل کر اس کے پرس میں ایک چھپکلی رکھ دی جب وہ تقریر کرنے ڈائس پر آئی اور تقریر والا کاغذ نکالنے کے لیئے پرس مٰں ہاتھ ڈالاتو ٹھیک ساڑھے چار سیکنڈ اس کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ پھر اچانک پوری ذمہ ڈاری سے غش کھا کر گر گئی ۔ اس بات کا بدلہ اس ظالم نے یوں لیا کہ میرے الیکشن والے پوسٹروں پر راتوں رات جہاں جہاں بھی “نامزد امیدوار“ لکھا تھاوہاں وہاں سے “نامزد“میں “ز“ سے نقطہ اڑا دیابس آج تک اس کی سیاسی بصیرت پر حیران ہوں‘‘‘<br />
<br />
:d<br />
<br />
لڑکیاں بعض اوقات ایسی بات کر جاتی ہیں کہ دوسرے کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتامیرا ایک دوست ایک لڑکی کے ساتھ نئی گاڑی میں لانگ ڈرائیو پر جا رہا تھا کہ اچانک لڑکی کہنے لگی ۔سنوکیا تم ایک ہاتھ سے گاڑی چلا سکتے ہو؟<br />
کیوں نہیں ‘‘‘ لڑکے نے بڑے فخر سے جواب دیا<br />
لڑکی آہستہ سے بولی ۔ تو پھر دوسرے ہاتھ سے اپنی ناک صاف کر لو‘‘‘‘<br />
<br />
:d<br />
<br />
لڑکیاں دلیل کی بڑی قائل ہوتی ہیں ۔ اتنی زیادہ کہ اگر انہیں لطیفہ سنایا جائے توسب سے پہلے دلیل کی رو سے پرکھتی ہیں <br />
میں نے اپنی ایک کزن سے کہا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مسلمان تھا اور،<br />
اس نے وہیں ٹوک دیا َ،مسلمان بھی کبھی ایک ہوا ہے؟؟؟؟؟<br />
میں نے سر ہلا کر کہا بات تو ٹھیک ہےچلو دوسرا لطیفہ سنوایک دفعہ امریکہ میں بلیوں کی ریس ہوئی ،جس میں پاکستان سے بھی ایک بلی شریک ہوئی،<br />
بات کاٹ کر بولی ۔ یہ ریس کب ہوئی؟اور پاکستان کے کون سے شہر سے بلی شریک ہوئیمیں نے تو کبھی سنا نہیں،<br />
میں نے سر پیٹ کر کہا بی بی یہ صرف لطیفہ ہےلطیفہ ۔ اسے سنو اور انجوائے کرو،<br />
سختی سے بولی مگر یہ لطیفہ نہیں جھوٹ ہےاور میں جھوٹ برداشت نہیں کر سکتی““<br />
<br />
:d<br />
<br />
کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اکثر کالج کی لڑکیاں“فرشتے“ ڈھونڈتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور یونیورسٹی کی “رشتے“۔۔۔۔۔۔۔لڑکیوں کی پسند بڑی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔جو جتنی خوبصورت ہواس پسند اتنی ہی احمقانہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تجربہ کر کے دیکھ لیجیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی خوبصور ت لڑکی سے پوچھیئے تمہیں بش اور مشرف میں سے کون پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟<br />
وہ کہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں ہی ناپسند ہیں۔۔۔۔۔میں تو کولن پاول کی دیوانی ہوں۔۔۔۔۔،<br />
<br />
گُل نوخیز اَختر کی تحریر<br />
<br />
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - <br />
<br />
<font color="Green">اگر چہ پاکستان کے حالات ایسے نہیں کہ ہم بہت زیادہ مزاح میں شامل ہوں ۔ پھر بھی آپکا موڈ کچھ فریش کرنے کے لیے یہ پوسٹ سبھی فورم ممبران کی نظر<br />
<br />
اسلام آباد میں جہاز کے کریش ہونے کے بعد جو پاکستانی بھائی اللہ کو پیار ے ہو گئے ان کے لیے اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کر دیجیے اور پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے لیے اللہ پاک سے رحم کی دعا کیجیے۔ بلکہ سبھی پاکستانیوں کے لیے شاید اللہ پاک ہم پاکستانیوں سے ناراض ہو رہے ہیں اس لیے وہ ہم پر کبھی ڈرون حملوں کبھی خود کش بمباروں اور کبھی نااہل حکمرانوں کی صورت میں عذاب لا رہے ہیں۔<br />
<br />
محترم طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالی ، پتھروں کی بارش برسانے، بھیانک آواز سے پردوں کے پھٹ جانے یا دھرتی کو اٹھا کر پلٹ دینے والا عذاب نہیں لائیں گے بلکہ چھوٹے چھوٹے عذابات سے انہیں سلجھنے کے مواقع فراہم کریں گے ۔ انہیں تنبیہ کریں گہ کہ وہ سیدھے رستے پر آ جائیں۔ یہ زلزلے، سیلاب، نالائق حکمران، دہشتگردی کرنے والے، دنیا بھر سے میڈیا پروپیگینڈا کے ذریعے بدنامی کا سبب بننے والے عناصر سب ہی شاید عذابات کی ہی ایک شکل ہیں۔ <br />
<br />
اپنے عمل کو سدھاریے، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے دعا کیجیے۔ اللہ تعالی ہمیں معاف کرے اور سیدھی راہ دکھائے۔ آمین</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/">مزاحیہ ادب</category>
			<dc:creator>یاسر عمران مرزا</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-41309/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>الفاروق ۔ مولانا شبلی نعمانی</title>
			<link>http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82-%DB%94-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C-41308/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 20:37:53 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم 
 
مولانا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم<br />
<br />
مولانا شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق مندرجہ ذیل لنک سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے۔<br />
<br />
<a href="http://www.esnips.com/doc/846e5f2e-dee4-41d8-9c71-43faddab179b/AlfarooqDoc" target="_blank">الفاروق حصہ اول</a><br />
<br />
<a href="http://www.esnips.com/doc/53a1d607-3463-4eee-aa70-e4c2efd96905/Alfarooq2Doc" target="_blank">الفاروق حصہ دوم</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/">کتاب گھر</category>
			<dc:creator>ھارون اعظم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82-%DB%94-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D8%A8%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C-41308/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>مسلم قومیت کی بدعت</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%AF%D8%B9%D8%AA-41307/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 19:27:44 GMT</pubDate>
			<description>الامام سیدابوالاعلیٰ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>الامام سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ<br />
<br />
	<font color="Blue">دعوت انبیاء کا مطالعہ کریں تو اﷲتعالیٰ سے تعلق پیدا کرلینے کے بعد اگر کسی اجتماعی فرض کا کوئی نقشہ آپ کے قلب وذہن میں بنتا ہے تو وہ ایک ’اصولی تحریک‘ کا قیام ہی کہلاسکتا ہے مگر واقعاتی دنیا میں آئیں تو آپ ششدر رہ جاتے ہیں کہ وہی اسلام جو عقیدہ اور عمل کا مجموعہ ہے اور جو موروثی فضیلت یا علاقائی برتری اور نسلی بالادستی کا سب سے بڑا مخالف اور اس کی میزان میں اتباع حق کے سامنے قومی مفاد کوئی وزن ہی نہیں رکھتا ۔۔۔<font color="Red">آج وہ اسلام خود ایک ’قوم‘بنادیا گیا ہے عقیدہ وعمل کی کوئی شرط رکھے بغیر ایک وراثت کی طرح نسل درنسل منتقل ہوتا ہے</font> ۔اور ایسی نسل کی ترقی ہی اسلام کی ترقی کہلاتی ہے مسلمان نام کی اس نسل کو دوسری اقوام پر فتح دلانا اب اسلام کی فتح ہے ۔جواسلام پوری انسانی زندگی کو اپنے نقشے پر بدل دینے کا مطالبے پر بضد رہا تھا اور <font color="Red">باطل سے دست وگریباں رہنا دنیا میں اس کا امتیاز ہوا کرتا تھا اب نہ صرف وہ باطل نظاموں کے زیر سایہ ہنسی خوشی بس لیتا ہے بلکہ ان شرکیہ نظاموں کی خدمت وترقی کی غرض سے اپنے پیروکاروں کو ان سے صلح جوئی اور وفاداری کے سبق بھی دینے لگا ہے۔</font><br />
<br />
	اسلام کے معنی ومفہوم میں اس قدر بڑی حیرت انگیز تبدیلی جو بجا طور پر تاریخ اسلام کی چند بڑی بدعات اور عظیم ترین انحرافات میں سے ایک کہلاسکتی ہے ’’مسلم قومیت ‘‘کے نام سے منسوب ہوئی ۔یہی بدعت آگے چل کر وطنیت ،علاقائیت اور جمہوریت وغیرہ ایسی گمراہیوں کوجنم دیتی رہی ہے اسی نے پچھلے سوسال کے عرصے میں مسلم خون کی بھینٹ لی اور آئندہ بھی نظر آتا ہے کہ اس گمراہی کا علاج نہ کیا گیا تو اسلام کی راہ میں جو کچھ دیا جائے گا وہ اسی کو وصول ہوتا رہے گا ۔قومیت کا یہ بت توڑنا اس لیے آسان نہیں کہ اس نے عبائے اسلام باقاعدہ زیب تن کرکررکھی ہے مگر فرزندان اسلام کو اﷲوحدہ لاشریک کے آگے جھکانے کے لیے اس بدعت ضلالت کا پردہ چاک کردینا بہرحال ضروری ہے اور اس دور کا ایک بہت بڑا فریضہ ۔<br />
<br />
	ویسے تو امت اسلام کسی دور میں خیر سے یکسر محروم نہیں رہی مگر برصغیر میں قومیت کے اس بت کے خلاف ایک منظم اور مسلسل آواز آج سے ساٹھ ستر برس قبل اٹھائی گئی ہمارے علم میں اس بدعت ضلالت کے خلاف اس سے بہتر اور اس قدر واضح آواز برصغیر کی تاریخ میں نہیں سنی گئی:)مدیر ایقاظ)</font><br />
<br />
                           <font size="6"><font color="Red">   مسلم قومیت کی بدعت</font></font><br />
<br />
	’’’’ مسلمان کے نام سے جو یہ قوم اس وقت موجود ہے وہ خود بھی اس حقیقت کو بھول گئی ہے اور اس کے طرز عمل نے دنیا کو بھی یہ بات بھلادی ہے کہ <font color="Red">اسلام اصل میں ایک تحریک کانام ہے جو دنیا میں ایک مقصد اور کچھ اصول لے کر اٹھی تھی اور مسلمان کا لفظ اس جماعت کے لیے وضع کیا گیا تھا ۔جو اس تحریک کی پیروی اور علمبرداری کے لیے بنائی گئی تھی تحریک گم ہوگئی اس کا مقصد فراموش کردیا گیا </font>۔اس کے اصولوں کو ایک ایک کرکے توڑا گیا ۔<font color="Red">اور اس کا نام اپنی تمام معنویت کھودینے کے بعد اب محض ایک نسلی ومعاشرتی قومیت کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے حد یہ ہے کہ ان مواقع پر بھی بے تکلف استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں اسلام کا مقصد پامال ہوتا ہے ،جہاں اس کے اصول توڑے جاتے ہیں جہاں اسلام کے بجائے غیر اسلام ہوتا ہے ۔</font><br />
<br />
       جیل خانوں کا معائنہ کیجئے ’’مسلمان چوروں ‘‘، ’’مسلمان ڈاکوؤں ‘‘اور ’’مسلمان بدمعاشوں‘‘سے آپ کا تعارف ہوگا۔دفتروں اور عدالتوں کے چکرلگائیے رشوت خوری ،جھوٹی شہادت ،جعل ،فریب ،ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگاہوا پائیں گے سوسائٹی میں پھرئیے کہیں آپ کی ملاقات’’ مسلمان شرابیوں ‘‘سے ہوگی ،کہیں آپ کو ’’مسلمان قمار باز‘‘ملیں گے ۔کہیں’’ مسلمان سازندوں ‘‘اور ’’مسلمان گویوں‘‘ اور ’’مسلمان بھانڈوں‘‘ سے آپ دوچارہونگے۔<br />
<br />
	<font color="Red"><font color="Blue">بھلا غور تو کیجئے یہ لفظ ’’مسلمان ‘‘کتنا ذلیل کردیا گیا ہے اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہورہا ہے ۔مسلمان اور زانی! مسلمان اور شرابی! مسلمان اور قمار باز! مسلمان اور رشوت خور! اگر وہ سب کچھ جو ایک کافر کرسکتا ہے وہی ایک مسلمان بھی کرنے لگے تو پھر مسلمان کے وجود کی دنیا میں حاجت ہی کیا ہے اسلام تو نام ہی اس تحریک کا تھا جو دنیا سے ساری بداخلاقیوں کو مٹانے کے لیے اٹھی تھی اس نے مسلمان کے نام سے ان چیدہ آدمیوں کی جماعت بنائی تھی جو خود بلند ترین اخلاق کے حامل ہو ں اور اصلاح اخلاق کے علمبردار بنیں ۔اس نے اپنی جماعت میں ہاتھ کاٹنے کی ،پتھر مارمار کرہلاک کردینے کی ،کوڑے برسابرسا کر کھال اڑا دینے کی ،حتی کہ سولی پر چڑھادینے کی ہولناک سزائیں اسی لیے تومقرر کی تھیں کہ جو جماعت دنیا سے زنا کو مٹانے اٹھی ہے خود اس میں کوئی زانی نہ پایا جائے جس کاکام شراب کا استیصال ہے وہ خود شراب خوروں کے وجود سے خالی ہو ۔جسے چوری اور ڈاکہ کا خاتمہ کرنا ہے خود اس میں کوئی چور اور ڈاکو نہ ہو ۔</font></font><br />
<br />
	اس کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ جنہیں دنیا کی اصلاح کرنی ہے وہ دنیا بھر سے زیادہ نیک سیرت ،عالی مرتبہ اور باوقار لوگ ہوں اسی لیے قمار بازی ،جعل سازی اور رشوت خوری تو درکنار اس نے تو اتنا بھی گوارانہ کیا کہ کوئی مسلمان سازندہ اور گویّا ہو ۔کیونکہ مصلحین اخلاق کے مرتبہ سے یہ بھی گری ہوئی چیز ہے جس اسلام نے ایسی سخت قیود اور اتنے شدید ڈسپلن کے ساتھ اپنی تحریک اٹھائی تھی اور جس نے اپنی جماعت میں چھانٹ چھانٹ کر بلند ترین کیریکٹر کے آدمیوں کو بھرتی کیا تھا اس کی رسوائی اس سے بڑھ کراور کیا ہوسکتی ہے کہ  بھڑوے اور چور اور زانی تک کے ساتھ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگ جائے ۔کیا اس قدر ذلیل اور رسواہوجانے کے بعد بھی ’اسلام‘ اور ’مسلمان‘کی یہ وقعت باقی رہ سکتی ہے کہ سر اس کے آگے عقیدت سے جھک جائیں اور آنکھیں اس کیلئے فرش راہ بنیں ؟جو شخص بازار بازار اور گلی گلی خوار ہورہا ہو کیا کبھی اس کے لیے بھی آپ نے کسی کو ادب سے کھڑے ہوتے دیکھا ہے ؟<br />
<br />
	یہ تو بہت ذلیل طبقہ کی مثال تھی اس سے اونچے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت اور زیادہ افسوس ناک ہے ۔<font color="Red">یہاں یہ سمجھاجاتا ہے کہ اسلام ایک نسلی قومیت کا نام ہے اور جو شخص مسلمان ماں باپ کے ہاں پیدا ہوا ہے وہ بہرحال مسلمان ہے خواہ عقیدہ ومسلک اور طرز زندگی کے اعتبار سے وہ اسلام کے ساتھ کوئی دور کی مناسبت بھی نہ رکھتا ہو</font> ۔سوسائٹی میں آپ چلیں پھریں تو آپ کو ہرجگہ عجیب وغریب قسم کے ’مسلمانوں ‘سے سابقہ پیش آئے گا ۔<font color="Red">کہیں کوئی صاحب خدا اور رسالت اور آخرت کے قطعی منکر ہیں اور کسی مادہ پرستانہ مسلک پر پورا ایمان رکھتے ہیں مگر ان کے ’مسلمان ‘ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ایک تیسرے صاحب سود کھاتے ہیں اور زکوٰۃ کا نام تک نہیں لیتے مگر ہیں یہ بھی ’مسلمان‘ہی۔</font><br />
<br />
	ایک اور بزرگ بیوی اور بیٹی کو میم صاحبہ یا شریمتی جی بنائے ہوئے سنیما لیے جارہے ہیں ۔یا کسی رقص وسرور کی محفل میں صاحب زادی سے وائلن بجوارہے ہیں مگر آپ کے ساتھ بھی لفظ’مسلمان‘بدستور چپکا ہوا ہے ۔<br />
	<br />
	<font color="Red">ایک دوسرے ذات شریف نماز ،روزہ، حج ،زکوٰۃ ،تمام فرائض سے مستثنیٰ ہیں شراب،زنا،رشوت ۔جوا اور ایسی سب چیزیں ان کے لیے جائز ہوچکی ہیں حلال وحرام کی تمیز سے نہ صرف خالی الذہن ہیں بلکہ اپنی زندگی کے کسی معاملہ میں بھی ان کو یہ معلوم کرنے کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اﷲکا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے خیالات ،اقوال اور اعمال میں ان کے اور ایک کافر اور مشرک کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا ۔مگر ان کا شمار بھی ’مسلمانوں ‘ہی میں ہوتا ہے </font>۔<font color="Blue">غرض اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کا جائزہ لیں گے تو اس میں آپ کو بھانت بھانت کا’مسلمان‘نظر آئے گا مسلمان کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ شمار نہ کرسکیں گے۔یہ ایک چڑیا گھر ہے جس میں چیل کوے ،گدھ ،بٹیر ،تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ’چڑیا ‘ہے کیونکہ <font color="Blue">چڑیا گھر</font> میں ہے۔</font><br />
<br />
	پھر لطف یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام سے انحراف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ اب یہ ہوگیا ہے کہ <font color="Red">’مسلمان‘جو کچھ بھی کرے وہ ’اسلامی ‘ہے حتی کہ اگر وہ اسلام سے بغاوت بھی کرے تو و ہ اسلامی بغاوت ہے</font> یہ بینک کھولیں تو اس کانام <font color="Blue">’اسلامی بینک ‘</font>ہوگا ، یہ انشورنس کمپنی قائم کریں تو وہ <font color="Blue">’اسلامی انشورنس کمپنی</font>‘ہوگی ،یہ جاہلیت کی تعلیم کا ادارہ کھولیں تو وہ<font color="Blue">’ مسلم یونیورسٹی‘، ’اسلامیہ کالج‘ یا ’اسلامیہ اسکول‘ہوگا </font>،ان کی کافرانہ ریاست کو ’<font color="Red">اسلامی ریاست </font>‘کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ )اس وقت دنیامیں ایسی اسلامی ریاستوں کی تعداد ۵۵تک پہنچتی ہے اﷲکرے زور حریت اور زیادہ(۔<br />
 <br />
	ان کے فرعون اور نمرود ،<font color="Red">’اسلامی بادشاہوں </font>‘کے نام سے یاد کئے جائیں گے ان کی جاہلانہ زندگی ’اسلامی تہذیب وتمدن ‘قرار دی جائے گی ۔ان کی موسیقی ،مصوری اور بت تراشی کو ’اسلامی آرٹ ‘کے معزز لقب سے ملقب کیا جائے گا ان کے زندقے اور اوہام لاطائل کو <font color="Red">’اسلامی فلسفہ‘</font>کہا جائیگا ۔<font color="Red">حتی کہ یہ سوشلسٹ بھی ہوجائیں تو ’مسلم سوشلسٹ‘کے نام سے پکاریں جائیں گے ان سارے ناموں سے آپ آشنا ہوں چکے ہیں اب صرف کسرباقی ہے کہ ’اسلامی شراب خانے‘ ، ’اسلامی قحبہ خانے‘ اور ’اسلامی قمار خانے ‘ جیسی اصطلاحوں سے بھی آپ کا تعارف شروع ہوجائے</font> <font color="Blue">۔مسلمانوں کے اس طرز عمل نے اسلام کے لفظ کو اتنا بے معنی کردیا ہے کہ ایک کافرانہ چیز کو ’اسلامی کفر‘یا’اسلامی معصیت‘کے نام سے موسوم کرنے میں اب کسی تناقض فی الاصطلاح Contradiction in termsکا شبہ تک نہیں ہوتا۔حالانکہ اگر کسی دکان پر آپ ’سبزی خوروں کی دکان گوشت ‘یا ولایتی سودیشی بھنڈار‘ کا بورڈ لگا دیکھیں یا کسی عمارت کا نام ’’موحدین کا بت خانہ‘‘سنیں تو شاید آپ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکے گی ۔</font><br />
	جب افراد کی ذہنیتوں کا یہ حال ہے تو قومی اور قومی پالیسی کا اس تناقض سے متاثر نہ ہونا امرمحال ہے آج مسلمانوں کے اخباروں اور رسالوں میں ،مسلمانوں کے جلسوں اور انجمنوں میں مسلمان پڑھے لکھے طبقہ میں آپ ہر طرف کسی چیز کی پکار سنتے ہیں ؟بس یہی ناکہ سرکاری ملازمتوں میں ہمیں جگہیں ملیں ۔<font color="Red">غیر الٰہی نظام حکومت کو چلانے کے لیے جس قدر پرزے درکار ہیں ان میں سے کم از کم اپنے پرزے ہم پر مشتمل ہوں شریعت سازمجلسوں (Lagislatives)کی نشستوں میں کم از کم ا تنا تناسب ہمارا ہو<font color="Blue">’’من لم یحکم بما انزل اﷲ ‘‘</font> میں کم سے کم اتنے ہی فیصدی ہم بھی ہوں ’’والذین یقاتلون فی سبیل الطاغوت‘‘میں غالب حصہ ہمارا ہی رہے اسی کی ساری چیخ وپکار ہے </font>۔اسی کانام اسلامی مفاد ہے اسی محور پر مسلمانوں کی قومی سیاست گھوم رہی ہے یہی گروہ عملاً اس وقت مسلم قوم کی پالیسی کو کنٹرول کررہاہے <font color="Blue">حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اس کی عین ضد ہیں </font>۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ ہوتا تو کیا اس کا نقطہ نظر یہی ہوتا؟<br />
<br />
	کیا کوئی اجتماعی اصلاح کی تحریک اور کوئی ایسی جماعت جو خود اپنے اصول پر دنیا میں حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت میں اپنے پیروؤں کو کل پرزے بننے کی اجازت دیتی ہے ؟کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ اشتراکیوں نے بینک آف انگلینڈ کے نظام میں اشتراکی مفاد کا سوال اٹھایا ہو یا فاشسٹ گرانڈ کو نسل میں اپنی نمائندگی کے مسئلہ پر اشتراکیت کی بقا وفنا کا انحصار رکھا ہو ؟اگر آج روسی کمیونسٹ پارٹی کا کوئی ممبر نازی حکومت کا وفادار خادم بن جائے تو کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ ایک لمحہ بھر کیلئے بھی اسے پارٹی میں رہنے دیا جائے گا ؟اور اگر کہیں وہ نازی آرمی میں داخل ہوکر نازیت کو سربلند کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ اس کی جان کی سلامتی کی بھی امید کرسکتے ہیں ؟<font color="Red">مگر یہاں آپ کیا دیکھ رہے ہیں اسلام جس روٹی کو زبان پر رکھنے کی اجازت بھی شاید انتہائی اضطرار کی حالت میں دیتااور جس کو حلو سے اتارنے کے لیے )غیرباغ ولا عاد(کی شرط لگاتا اور پھر تاکید کرتا کہ جس طرح سخت بھوک کی حالت میں جان بچانے کے لیے سور کھایا جاسکتا ہے اسی طرح بس یہ روٹی بھی بقدر سد رمق کھالو ۔یہاں اس روٹی کو نہ صرف یہ کہ ھنیئا ً مریئاً  کرکے پورے انسباط کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔بلکہ اسی پر کفر اوراسلام کے معرکے سر ہوتے ہیں اور اسی کو اسلامی مفاد کا مرکزی نقطہ قرار دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد تعجب نہ کیجئے اگر ایک اخلاقی و اجتماعی مسلک کی حیثیت سے اسلام کے دعوائے حکمرانی کو سن کر دنیا مذاق اڑانے لگے کیونکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں نے خود اس کے وقار کواور اس کے دعوے کو اپنے معبود شکم کے چرنوں میں بھینٹ چڑھا دیا ہے۔	<br />
</font><br />
<br />
 ماخوذ از ترجمان القرآن نومبر 1939(<br />
<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
<br />
بشکریہ سہ ماہی&quot; ایقاظ&quot;</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A7%D8%AA/">متفرقات</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%AF%D8%B9%D8%AA-41307/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%88%DB%81-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9-%DA%A9%DB%92%E2%80%98-%DA%A9%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%92%E2%80%A6%D9%86%D8%B0%DB%8C%D8%B1-%D9%86%D8%A7%D8%AC%DB%8C-41306/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 18:47:08 GMT</pubDate>
			<description>آج سوگ کا دن ہے۔...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>آج سوگ کا دن ہے۔ دارالحکومت‘ اسلام آباد جہاں تباہی اور ہلاکتوں کا کھیل بہت عرصے تک کھیلا گیا‘ کچھ دنوں سے پرسکون تھا۔مگر وہاں کے شہریوں کا یہ سکون قائم نہ رہ سکا اور ایسا دردناک حادثہ رونما ہوا‘ جو میریٹ‘ مصری سفارتخانے میں دھماکے‘ آبپارہ اور پولیس ٹریننگ سینٹر پر خودکش حملوں‘ لال مسجد کے سانحے اور اسی طرح کی دیگر تباہ کاریوں اور ہلاکتوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محض ایک سانحہ تھا یا قبل ازیں پیش آنے والے واقعات کی طرح تخریب کاری اور دہشت گردی۔ یہ سوال کبھی حل نہیں ہو گا۔ جہاز کے اندر موجود ہر ذی نفس کوئی شہادت یا بیان دینے کے لئے زندہ نہیں رہ گیا۔ فضائی سفر کے طور طریقوں کی روشنی میں اس سانحے کا کئی پہلوؤں سے جائزہ لیاجا رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے ہر پیشہ وارانہ اور ماہرانہ‘ پہلو سے اس سانحے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ چھان بین کے دوران جو بات نمایاں ہو کر سامنے آئی‘ وہ بے حد تشویشناک ہے۔ پتہ یہ چلا کہ ہمارے دارالحکومت کے انتہائی حساس مقامات ہر وقت خطرے کی زد پر ہیں۔ ہر ایئرپورٹ پر جہازوں کو اترنے سے پہلے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس انتظار کے لئے اسے ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے دائرے میں پرواز کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے کہ دنیا کے بہت سے ایئرپورٹ ایسی جگہوں پر واقع ہیں‘ جہاں پانچ میل کے اس دائرے میں کافی بلند پہاڑ آتے ہیں۔ مثلاً ایتھنز کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہو کر دیکھیں‘ تو لینڈ کرنے والے طیارے پہاڑ کے پیچھے سے اچانک نمودار ہوتے ہیں‘ تو ان کے پہیے پوری طرح کھلے ہوتے ہیں اور وہ سیدھے رن وے پر اترنے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جس طرح وہ‘ قطار کے اندر سے نکل کر رن وے کی طرف آتے ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں دیر تک پانچ میل کے دائرے کے اندر گھومنا پڑا ہو گا۔ انقرہ کا ایئرپورٹ بھی کم و بیش اسی طرح کے مقام پر ہے۔ لیکن نہ تو سول ایوی ایشن اور نہ ہی پائلٹوں کو لینڈنگ کے انتظار میں پہاڑوں کے اوپر نچلی پروازیں کرتے وقت کوئی مشکل پیش آتی ہے اور نہ ہی راڈار اور کنٹرول ٹاور والوں کے ساتھ رابطوں میں خلل پڑتا ہے۔ بدھ کو سانحے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کے ساتھ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا۔ کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کے درمیان جو بھی بات چیت ہوئی اس میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ پھر طیارہ مقررہ دائرے سے باہر کیسے گیا؟ اسلام آباد کے شہری بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ ایئرپورٹ پر اترنے والے کسی بھی مسافر طیارے کو مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر اس حالت میں نہیں دیکھا گیا‘ جیسے حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ نظر آیا۔ اس حوالے سے دو سینئر صحافیوں خوشنود علی خان اور صالح ظافر کے مشاہدے غور طلب ہیں۔ <br />
طیارے کی بات یہیں چھوڑتے ہوئے‘ میں اس تشویش کی طرف آتا ہوں‘ جو یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد پیدا ہوئی کہ ہمارے دارالحکومت کے حساس ترین مقامات‘ پانچ میل کے اس دائرے کے اندر آتے ہیں‘ جس میں لینڈنگ کے منتظر طیاروں کو پرواز کرنا ہوتی ہے اور ذرا سی لغزش سے ان طیاروں کا دائرہ پرواز 8میل ہو جائے‘ تو پھر ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس‘ قومی اسمبلی اور دنیا بھر کے سفارتی مراکز بھی اس دائرے میں آ جاتے ہیں۔ جی ایچ کیو تو پانچ میل سے بھی کم فاصلے پر رہ جاتا ہے۔ 9/11کو مسافر طیاروں کا دہشت گردی کے لئے جس طرح استعمال کیا گیا‘ اس کے بعد دنیا بھر میں سلامتی کے نئے تصورات اور قواعد و ضوابط معرض وجود میں آئے۔ ایئرپورٹس کے محل وقوع کے جائزے لے کر‘ سلامتی کے نئے اصول وضع کئے گئے اور پروازوں کے راستے بھی نئی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق بدلے گئے۔ پاکستان میں ایسا ہوا یا نہیں؟ یہ میں نہیں جانتا۔ مگر اب یہ سوال یقینی طور پر زیرغور لانا پڑے گا کہ مسافر طیاروں کی پروازوں کے لئے لینڈنگ کی باری کا انتظار کرنے کے لئے‘ جو حدیں پہلے سے چلی آ رہی ہیں‘ کیا ان میں ردوبدل کی ضرورت ہے؟ <br />
اسلام آباد ایئرپورٹ کے محل وقوع پر بھی نظر ڈالنا ہو گی۔ یہاں پر لینڈنگ سے پہلے انتظار کے لئے پرواز کا دائرہ کسی بھی طرح سے یوں نہیں بنایا جا سکتا کہ حساس مقامات اس میں سے باہر نکال دیئے جائیں۔ لینڈنگ کی منتظر کوئی بھی پرواز اتنے تنگ دائرے میں نہیں گھوم سکتی کہ اس کے اندر سے جی ایچ کیو کو باہر نکالا جا سکے اور اگر دہشت گرد کسی طیارے پر قبضہ کے اسے مقررہ دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کریں تو اسے ناکام بنانے کے لئے کسی بھی حفاظتی مشینری کو بروئے عمل لانے کا وقت نہیں بچتا۔ جیسے ایئر بلو کے بدنصیب طیارے کے تجربے سے ثابت ہوا کہ وہ نوفلائی زون میں چلا گیا۔ اگر یہ طیارہ ایوان صدر کا رخ کرنا چاہتا‘ تو نشانے سے 30 سیکنڈ سے بھی کم فاصلے پر تھا اور مزید چند سیکنڈ کا فاصلہ امریکی سفارتخانے سے رہ گیا تھا۔ بدھ کواسلام آباد کے تمام فضائی دفاع پر نظرثانی کرنے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ اب اس پر غور و فکر کرنا لازم ہو گیا ہے۔ <br />
بہت دنوں سے سن رہے ہیں کہ فتح جنگ کے مقام پر اسلام آباد کا نیا ایئرپورٹ بننے والا ہے۔ وہ کس حالت میں ہے؟ اور کب بنے گا؟ یہ واضح نہیں۔ لیکن ابھی سے دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ ایئرپورٹ بن رہا ہے‘ تو اس پر لینڈنگ کے لئے انتظار کرنے والے طیاروں کا دائرہ پرواز کیا ہو گا؟ کیونکہ ابھی وہ ایئرپورٹ نہیں بنا‘ اس لئے اس کے چاروں طرف کم از کم 8میل کے اندر اندر حساس تعمیرات ممنوع قرار دے دینا چاہئیں اور اگر کچھ حساس مقامات پہلے سے موجود ہیں‘ تو پھر ایئرپورٹ کے مقام کو بدل دینا چاہیے۔ ملک کے تمام شہروں کے ایئرپورٹس کے گردونواح کا جائزہ لے کر بھی یہ اہتمام کر لینا چاہیے کہ کسی ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے اندر کوئی حساس جگہ موجود نہ ہو۔ اگر کہیں ہے تو اسے منتقل کر دینا چاہیے۔ <br />
اب میں واپس سانحے کی طرف آتا ہوں۔ میڈیا میں جس تفصیل کے ساتھ ہر پہلو سے جائزے لئے گئے ہیں‘ وہ پاکستان میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا تھا‘ جب بھارتی طیارہ اغوا کر کے لاہور لایا گیا۔ میں ان دنوں ”جنگ “کا ایڈیٹر رپورٹنگ تھا۔ میں نے خوشنود علی خان کی سربراہی میں رپورٹرز کی ایک ٹیم تیار کر کے لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کا ایک سسٹم تیار کیا اور خوشنود علی خان کے سپرد کر دیا۔ اردو میں اس طرح کی رپورٹنگ پہلی مرتبہ ہوئی تھی۔ اگلے روز ہر طرف ”جنگ“ اخبار کی مانگ تھی اور پرنٹنگ پریس اسے پوری نہیں کر پا رہا تھا۔ خوشنود علی خان اپنے مشاہدات لکھتے رہتے ہیں۔ کبھی فرصت ملے تو اپنا یہ کارنامہ بھی لکھ ڈالیں۔ یہ پرانا قصہ لکھتے لکھتے یاد آیا کہ طیارے کے حادثے پر کی گئی رپورٹنگ میں‘ میری نظر سے کچھ چیزیں نہیں گزریں۔ یہ سوال رہ گئے کہ کیا لینڈنگ پرمشن کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟ پرواز سے پہلے پائلٹ کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا؟ اور کیا یہ تفصیل معلوم کر لی گئی تھی کہ اپنی گزشتہ پرواز کے بعد ‘نئی پرواز کا چارج لیتے وقت پائلٹ‘ کو آرام کا اتنا وقفہ مل چکا ہے جو عالمی ضوابط کے تحت ضروری ہے۔ نوفلائی زون میں طیارہ ایسے مقام پر تھا جہاں سے ایوان صدر اور امریکی سفارتخانے تک پہنچنے میں‘ چند سیکنڈ رہ گئے تھے۔ کیا حفاظتی انتظامات کے ذمہ داروں کے پاس آرڈر لینے کا وقت رہ گیا تھا؟ کیا حفاظتی مشینری حرکت میں آ گئی تھی؟ اور اگر نہیں آئی تھی‘ تو کیوں نہیں آئی تھی؟ <font color="Red">اور اس کا کیا مطلب ہے کہ موقع پر پہنچنے والے ایک شخص نے تباہ شدہ جہاز کے پاس کھڑے چند نوجوانوں کو نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ کیا یہ ان کے کسی ساتھی یا ساتھیوں کا کارنامہ تھا؟ جہاز کے لڑکھڑانے اور ڈولنے کی تفصیل بتائی گئی ہے‘ کہیں جہاز کے اندر کوئی راشدمنہاس تو مزاحمت نہیں کر رہا تھا؟ کیونکہ پائلٹ صاحب کے طور طریقے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی حد تک انتہاپسندی کی طرف مائل ضرور تھے۔<br />
</font>ـــــــــــــــــــــــــ  ــــــــــ<br />
روزنامہ جنگ۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>ھارون اعظم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%88%DB%81-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9-%DA%A9%DB%92%E2%80%98-%DA%A9%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%92%E2%80%A6%D9%86%D8%B0%DB%8C%D8%B1-%D9%86%D8%A7%D8%AC%DB%8C-41306/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سندھ میں سیلاب کی پیش گوئی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DA%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C-41305/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 18:34:26 GMT</pubDate>
			<description>اسلام علیکم، 
          ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اسلام علیکم،<br />
            ابھی ابھی دنیا نیوز پر ایک خبر دیکھی جس کے مطابق 3 اور 4 اگست کی درمیانی شب دریائے سندھ میں سے 10 لاکھ کیوسک پانی کا سیلابی ریلہ گزرے گا جس سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ <br />
اللہ تعالی ہم سب پر رحم کرے۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین<br />
<br />
<br />
والسلام</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>پاکستانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DA%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C-41305/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>خطبات احمدیہ ازسرسید احمد خان</title>
			<link>http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%B2%D8%B3%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86-41304/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 15:52:37 GMT</pubDate>
			<description>سرسید احمد خان کی کتاب...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>سرسید احمد خان کی کتاب ’’الخطبات الاحمدیہ فی العرب و السیرۃ المحمدیۃ ‘‘ المعروف ’’خطبات احمدیہ’’ معروف مستشرق ولیم منٹگمری واٹ کی کتاب’’لائف آف محمد‘‘ کے تنقیدی جائزے پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں سرسید نے اسلام پر لگائے گئے واٹ کے اعتراضات کا جواب نہایت عمدگی کے ساتھ دیا ہے۔ دور حاٍضر میں مستشرقین اور اسلام کے مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہوگا۔ سرسید نے مخالف کو اسی کی زبان میں ایسا زبردست جواب دیا ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔نہایت عمدہ اور معیاری تنقید  ہے۔<br />
لنک برائے ڈاؤن لوڈ:<br />
<a href="http://www.4shared.com/document/AxUM3A7O/khutbat_e_Ahmadiya.html" target="_blank">khutbat e Ahmadiya.pdf - 4shared.com - document sharing - download</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/">کتاب گھر</category>
			<dc:creator>گوندل</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D8%AE%D8%B7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%B2%D8%B3%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86-41304/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[___ریویو___ [لہریں از کرنل شفیق الرحمٰٰن]]]></title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/___%D8%B1%DB%8C%D9%88%DB%8C%D9%88___-%5B%D9%84%DB%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86%5D-41303/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 12:57:32 GMT</pubDate>
			<description>محض چند ہفتوں کی تعلیم...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Blue"><br />
محض چند ہفتوں کی تعلیم کے بعد ہم نے ریویو بازی شروع کر دی  ۔ <br />
سب سے پہل ریویو ہم نے ایک دیوان پر کیا دیوان وہ کتاب ہوتی ہے جس میں شعر ہی شعر ہوتے ہين۔ یہاں ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہيں کہ ہم نے ایک بھی شعر بھی نہيں کہا  اور نہ فی الحال کوئی ارادہ ہے اور نہ ہمیں شعروں کی کوئی پہجان ہے ۔ <br />
پھر بھی ہم نے ریویو  شروع کر دیا اور وہ ریویو اس قدر مقبول ہوا کہ ہم بیان نہیں کر سکے ۔ ہمارے پاس ریویو کے لیے دھڑا دھڑ کتابیں انا شروع ہوگئیں۔ وہ ریویو کچھ اس طرح تھا ۔:correct<br />
&quot; موجودہ شاعر ی آج کل جس دشوار اور کٹھن منزل سے گزر رہی ہے  اس کا بیان ہماری طاقت سے باہر ہے ۔ یہ دشوار و پرخطر راستہ جس میں جگہ جگہ رکاوٹیں ہيں نہایت بے ہودہ راستہ ہے ۔ ہمارے خیال میں موجودہ شاعرکی کوئی اور راستہ اختیار کرنا چاہیے  تھا خیر اب جو کچھ ہونا تھا ہو چکا ۔ bore:<br />
اب مثا ل کے طور پر شاعر موصوف کے دیوان  مذکور میں سے ایک نظم پیش کرتے ہيں۔ اس میں شاعر نے ایک نہایت مشکل مضمون کو بڑی خوبی سے بنایا ہے۔ پرانی شاعری میں اس خیال کو ہرگز نہیں بیان کیا جا سکتا  تھا لیکن جدید شاعری نے ہمارے لیے نئی راہيں کھول دی ہیں_____________  نظم ملاحظہ ہو :<br />
<br />
<b>لڑ رہی ہيں بلیاں <br />
اف بلیاں<br />
بل <br />
لیاں<br />
<br />
باغ میں اس وقت شاید لڑ رہی ہيں بلیاں <br />
<br />
دھندلکا ہے شام کا <br />
وقت ہے آرام کا <br />
کام کا <br />
انعام<br />
کا <br />
اور لڑ رہی ہیں بلیاں ! <br />
<br />
ہوں گی شاید چار یہ <br />
یا تین ہوں  <br />
لیکن ذرا سا یہ شبہ دل میں ہے میرے بڑھ گیا  کہ بلیاں یہ پانچ ہيں ۔<br />
اور چھ تو ہو سکتی نہيں !<br />
<br />
اور چاندنی سی رات ہے۔<br />
اور چاند ہے نکلا ہوا ۔<br />
اور چاندنی ہے چار سو<br />
اور چاردن کی  چاندنی<br />
اور پھر اندھیری رات ہے !<br />
 کیا کہہ رہا تھا میں بھلا <br />
افوہ ! ابھی تو یاد تھا<br />
اس حافظے کو کیا ہوا <br />
کم بخت سے سمجھے خدا <br />
ہاں مجھ کو یاد آ ہی گیا <br />
کہ لڑ رہی ہیں بلیاں<br />
باغ میں اس وقت شاید لڑرہی ہيں بلیاں <br />
</b><br />
<br />
:umda<br />
<br />
کیا بات ہے سبحان اللہ  جزاک للہ  ! مرحبا  !  دیکھا آپ نے  ؟ اگر نہيں دیکھا تو پھر دیکھیے  مزاح و متانت  کا امتزاج رومان و حقیقت کا عجب و غریب اتصال شاعر نے کیا ہلکی پھلکی پتلی نظم کہی  ہے ۔ :eek:<br />
haha:haha:haha:haha:haha:haha:haha:haha:<br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/">مزاحیہ ادب</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/___%D8%B1%DB%8C%D9%88%DB%8C%D9%88___-%5B%D9%84%DB%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86%5D-41303/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>خیبر پختونخواہ، بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 300 سے زائد ہو گئی، لاکھوں</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%AE%DB%8C%D8%A8%D8%B1-%D9%BE%D8%AE%D8%AA%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D9%86%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81%DB%8C-%D9%85%DA%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DB%94%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF-300-%D8%B3%DB%92-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C%D8%8C-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-41302/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 12:11:58 GMT</pubDate>
			<description>NryRqX045DQ 
 
پشاور...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center"><object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/NryRqX045DQ"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/NryRqX045DQ" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object></div><br />
پشاور (<a href="http://daily.urdupoint.com/featured_135532_1_2.html" target="_blank">اُردوپوائنٹ</a>) خیبرپختونخواہ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے ، ورسک ڈیم میں پانی سطح میں خطرناک حدتک بڑھنے کے بعد تمام اسپل وے کھول دیئے گئے ہیں ۔ سیلاب میں ابتک لقمہ اجل بننے والے لوگوں کی تعداد تین سو سے زائد ہوگئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں ۔ پشاور ،کالام ، مدین اور بحرین میں غیرملکیوں سمیت اٹھائیس سو سیاح پھنس گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔ سیلاب کی وجہ سے صوبے میں چالیس رابطہ پل اور پچپن سے زائد سڑکیں بہہ گئیں ۔ بارشوں ، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے سوات اور شانگلہ میں جاں بحق ہونے والے افرادکی تعداد ایک سوانتالیس ہوگئی ہے جبکہ ایبٹ آباد میں ایوب پل بند کئے جانے کے بعد متبادل پل بھی گرکر تباہ ہوگیا ہے۔ جس کے بعد ایبٹ آباد کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ تربیلاغازی میں بروتھہ پراجیکٹ کی گاڑی پاور چینل پر گر گئی ۔ جس میں چار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیاجارہاہے ۔ ادھر لکی مروت میں پل ٹوٹنے کے باعث کراچی پشاور شاہراہ ٹریفک کےلئے بند کردی گئی ہے ۔ضلع بھر میں سیلاب کی وجہ سے دوافراد جاں بحق جبکہ پانچ لاپتہ ہوگئےاور پانچ سو سے زائد مکانات تباہ ہوگئے ہیں ۔ سیلاب کی وجہ سے چار سدہ میں دس لاکھ سے زیادہ آبادی متاثرہوئی ہے ۔جبکہ ضلع بنوں میں مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے دوسوبیاسی مکانات تباہ ہوگئے ہیں ۔جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سیلابی ریلے سے تباہ ہوگئی ہیں ۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلابی ریلے کی وجہ سےایئرپورٹ کارن وے ، سبزی منڈی ، اور رتہ کلاچی اسٹیڈیم زیر آب آگئے ہیں ۔جس کے بعد ایئرپورٹ بند کردیاگیاہے ۔پروا کے علاقے میں متعدد دیہات سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>پاکستانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%AE%DB%8C%D8%A8%D8%B1-%D9%BE%D8%AE%D8%AA%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D9%86%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81%DB%8C-%D9%85%DA%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DB%94%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF-300-%D8%B3%DB%92-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C%D8%8C-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-41302/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>جب آرٹسٹ بور ہوجائے تو۔۔۔؟</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%AC%D8%A8-%D8%A2%D8%B1%D9%B9%D8%B3%D9%B9-%D8%A8%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%88%DB%94%DB%94%DB%94%D8%9F-41301/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 11:22:42 GMT</pubDate>
			<description>جب آرٹسٹ بور ہوجائے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center">جب آرٹسٹ بور ہوجائے تو۔۔۔؟<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32776-73094983-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32776</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32777-145010122_f140c77a22-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32777</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32778-banana-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32778</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32779-beetle-nut-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32779</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32780-grafficart9-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32780</a></div></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32776d1280488867-73094983-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32777d1280488901-145010122_f140c77a22-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32778d1280488915-banana-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32779d1280488934-beetle-nut-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32780d1280488950-grafficart9-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>عدنان دانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%AC%D8%A8-%D8%A2%D8%B1%D9%B9%D8%B3%D9%B9-%D8%A8%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%88%DB%94%DB%94%DB%94%D8%9F-41301/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>قدرت کا ہاتھ</title>
			<link>http://pak.net/%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82-%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-41300/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 10:35:39 GMT</pubDate>
			<description>عبید کا تعلق ایک غریب...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>عبید کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ اس کے والد صاحب ایک مل میں محنت مزدوری کرتے تھے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرسکیں۔ عبید اپنے والدین کی سب سے پہلی اولاد تھا اور اس کے بعد اس کی تین بہنیں تھیں۔ اس کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہر امتحان میں امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کرتا۔ اس کے والدین بہت مشکل سے اس کے تعلیمی اخراجات برداشت کررہے تھے۔ اور اس کو بھی اس کا احساس تھا اور اس نے کبھی بھی اپنے والدین کے پیسے ضائع نہ ہونے دئیے۔ وہ کافی حساس طبیعت کا مالک تھا اور وہ ہر کسی  کے دکھ درو میں شامل ہوتا اور جہاں تک ممکن ہوپاتا وہ اس تکلیف یا پریشانی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا اور لوگوں سے دعائیں سمیٹتا۔<br />
جب وہ گرایجوایشن کررہا تھا تو اس کے والد صاحب کی اچانک موت واقع ہوگئی جس نے اس کے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ۔ ابھی وہ اتنا میچور نہ تھا اور نہ ہی اس کے ہاتھ میں کوئی ہنر تھا کہ وہ کچھ کام کرسکے اور جس فیکٹری میں اس کا باپ کام کرتا تھا ان کی طرف سے دیا جانے والا پیسہ چند دنوں میں ہی ختم ہوگیا اور گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی۔ اس کی ماں نے گھر میں‌سلائی کڑھائی کا کام شروع کرلیا اور ساتھ ہی محلے کے بچوں کو قرآنِ پاک کی تعلیم دینا شروع کردی۔ جس سے ان کا تھوڑا بہت گزارا ہونے لگا۔ عبید چونکہ کافی حساس طبیعت کا مالک تھا اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کیا کرے وہ اپنی ماں کو سارا دن کوہلو کے بیل کی طرح کام کرتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اپنے طور پر ادھر ادھر کام دیکھنے کی کوشش کی لیکن تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریجیکٹ کردیا جاتا لیکن اس نے ہمت نہیں‌ہاری اور تلاش جاری رکھی اس دوران اس کا گریجوایشن مکمل ہوگیا اور اس کو چند ٹیوشنز بھی مل گئیں۔ لیکن وہ ان ٹیوشن سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مطمئعن نہ تھا کیونکہ اس کی ماں کو اسی طرح سے کام کرنا پڑ رہا تھا۔اس نے نوکری کی تلاش اور تیز کردی لیکن اس کو کہیں کامیابی حاصل نہیں‌ہورہی تھی۔ کہیں سے اس کو اس کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ریجیکٹ کردیا جاتا تو کہیں پہ کوئی ریفرنس یا سفارش نہ ہونے کی بناء‌پہ جواب مل جاتا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری کیونکہ اسے اللہ عزوجل سے پوری پوری امید تھی کہ اس کے تنگی کے دن جلد از جلد ختم ہوجائیں گے۔<br />
اس بھاگ دوڑ کے دوران اس کے تمام دوستوں سے رابطے ختم ہوچکے تھے ایک دن اس کی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے دوست خالد سے رابطہ کیا جائے کیونکہ اس کے والد صاحب کی کئی فیکٹریاں پورے ملک میں تھیں اور اس کے زریعہ اس کے والد کی کسی فیکٹری میں کام لیا جائے۔ یہی سوچ کر وہ اپنے دوست کے پاس پہنچا اس کا دوست اس سے مل کر بہت خوش ہوا اور جب عبید نے اس کو اپنی پریشانی بتائی اور کہا کہ مجھے اپنے والد کی فیکٹر ی میں‌کام دلوادو تو خالد سوچ میں پڑگیا۔ خالد نے اسے کہا کہ میں اپنے والد سے بات کروں گا لیکن مشکل ہے کہ تمہیں یہاں کوئی کام مل پائے کیونکہ تمہیں کوئی کام کرنا تو آتا نہیں ۔ یہ سن کر خالد تھوڑا سا مایوس ہوگیا اوروہاں سے چلا گیا اور دوبارہ اس سے کبھی رابطہ نہیں کیا۔<br />
کئی سالوں بعد عبید دوبارہ خالد کی فیکٹری گیا تو خالد اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ عبید سوٹ بوٹ میں‌ملبوس اور قیمتی گھڑی کے ساتھ سن گلاسز لگائے ہوئے کچھ سال پہلے والے عبید سے بالکل مختلف نظر آرہا تھا اور اس کے پاس بالکل نئے ماڈل کی کار تھی اور اس کے حلیے سے ظاہر ہورہا تھا کہ اس کے پاس بہت پیسہ آگیا ہے۔ خالد حیرانی سے اس کو دیکھتا رہا ۔ بیٹھنے کے بعد رسمی علیک سلیک کے بعد خالد نے اس سے پوچھا کہ لگتا ہے کہ تمہارے پاس بہت زیادہ دولت آگئی ہے لگتا ہے کہیں بڑا ہاتھ مارا ہے ۔ اس کی بات سن کر عبید مسکرانے لگا اور اس کو کہا کہ میں تمہیں ایک واقعہ سناتاہوں۔<br />
عبید نے بتایا کہ تمہارے ہاں سے انکار کے بعد میں کچھ مایوس سا ہوگیا تھا اور میں نے کام سیکھنے کا سوچا ایک دن رات کو جب جب میں ٹیوشنز پڑھانے کے بعد اور کام سیکھنے کے بعد گھر واپس آیا تو امیری والدہ نے مجھے  بتایا کہ ہمارے ایک محلہ دار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور اگر ہوسکے تو تم ہسپتال میں جاکر ان کی تیمار داری کر آئو۔ میں ان کی تیمار داری کے لئے ہسپتال کی طرف چل پڑا ۔ جب میں ہسپتا ل پہنچا تو مجھے  یاد آیا کہ کمرے کا نمبرتو مجھے معلوم ہی نہیں ۔ خیرمیں نے تمام کمروں میں چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب میں ایک ایک کمرے کا دروازہ کھول کے دیکھتا اور اپنا مطلوبہ مریض نہ ملنے پر دروازہ بند کردیتا۔ یونہی میں کمرے چیک کررہا تھا تو میں نے ایک کمرے میں دیکھا کہ بستر پہ ایک بزرگ لیٹے ہوئے ہیں اور ایک نرس ان کے پاس کھڑی ہوئی ہے ۔ جیسے کی نرس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے ڈانٹنا شروع کردیا کہ یہ وقت ہے تمہارے آنے کس وقت سے ہم تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ آئو بیٹھو اور سنبھالو انہیں اتنا کہہ کر وہ نرس چلی گئی ۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا تو بزرگ نے میری طرف ہاتھ کا اشارہ کیا جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور آنکھیں بند کرلیں ۔ مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے کافی وقت ہوگیا لیکن میں‌اسی شش و پنج میں رہا کہ اپنا ہاتھ چھڑائوں یا ناں۔ لیکن جب میں بزرگ کی طرف دیکھتا تو مجھے ان کے چہرے پر ایک سکون سا نظر آیا تو میں نے سوچا کہ اگر میرا ہاتھ تھامنے سے یہ بیمار بزرگ پُرسکون ہے تو کوئی بات نہیں میں ساری رات وہیں اسی حالت میں بیٹھا رہا کہ میرا ہاتھ اس بزرگ کے ہاتھ میں تھا۔ صبح کے وقت جب نرس دیکھنے آئی تو اس نے بتایا کہ ان کی تو موت واقع ہوچکی ہے  جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے ان کے ہاتھ چھڑایا اور باہر کو لپکا کیونکہ میں رات سے گھر سے آیاہوا تھا۔ جب میں کمرے سے باہر نکلا تو اس نرس کے ساتھ دو تین ڈاکٹرز کو آتے ہوئے دیکھا ۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں‌آپ کی والد صاحب کی موت کا بہت افسوس ہوا بس اسی میں اللہ پاک کی مرضی تھی میں ان کی بات سن کر ان کو جواب دیا کہ یہ میرے والد صاحب نہیں‌ہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی رشتہ ہے ۔جس پر وہ ڈاکٹر اور دوسرے لوگ بہت حیران ہوئے کہ اگر یہ تمہارے والد یا کوئی رشتے دار نہیں تو تم ساری رات ان کے پاس کیوں بیٹھے رہے ؟میں نے بتایا کہ جب میں رات کو آیا تو مجھے نرس سے ڈانٹنا شروع کردیا اور میں‌کنفیوژ ہوگیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ لیکن جب بعد میں میں‌جانے لگا تو مجھے احساس ہواکہ اگر میری وجہ سے کسی کوسکون مل رہا ہے تو میں ان کے جاگنے کے بعد چلا جائوں گا جس پر ڈاکٹر اور دوسرے لوگ بہت حیران ہوئے کیونکہ وہ مجھے ان کا بیٹا سمجھ رہے تھے۔ ان لوگوں نے مجھے بہت دعائیں دیں ۔ خیر میں وہاں سے آگیا۔ اس دن کے بعد سے میرے پاس دولت کی فراوانی ہوگئی اور الحمدللہ میرا شمار اس وقت ملک کے امیر ترین لوگوںمیں‌ہوتا ہے ۔ میرے پاس ایک خوبصورت گھر ہے جہاں پہ میری والدہ اور بہنیں رہ رہی ہے، دولت ہے اور ہر قسم کی سہولت اللہ پاک نے دے رکھی ہے۔ اس کی بات سن کر خالد حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ کیا اس بزرگ نے اپنی ساری جائیداد تمہارے نام کردی ؟ عبید ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں اس بزرگ کا ہاتھ میرے لئے قدرت کا ہاتھ ثابت ہوا۔ اور ایک رات جو میں نے اس بزرگ کے پاس گزاری اس کا مجھے اللہ پاک نے صلہ دیا ۔ اب یہ حال ہے کہ اگر میں مٹی بھی ہاتھ ڈال دوں تو وہ سونا ہوجائے ، جس کاروبار میں میں ہاتھ ڈال لوں اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیاب ہوجاتا ہے اور پیسہ میرے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے۔<br />
وہ ایک رات جوعبید  نے اس بزرگ کے پاس گزاری اس احساس کے ساتھ کہ ہوسکتا ہے کہ اس کا  ہاتھ کے پکڑے رکھنے سے ان کو سکون مل رہا ہوں وہ اصل میں قدرت کی طرف سے ایک  امتحان تھا اور جس امتحان پہ وہ پورا اترا اور قدرت نے اس کو اس کا بھرپور انعام دیا۔<br />
قدرت ہم سب کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتی ہے جب قدرت کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں آتا ہے ہم میں سے بہت سے عبید کی طرح ہوتے ہیں جو اس قدرت کے ہاتھ کو تھامے رکھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مقدر کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں جہاں‌پہ ان کو ہر کوئی رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اس کو مصیبت یا بلائے جان یا کچھ اور جان کر جھٹلا دیتے ہیں اور بعد میں‌پچھتاتے ہیں۔<br />
<br />
<b><font color="black">امید کرتا ہوں کہ آپ کو تحریر پسند آئی ہوگی ۔ ایک نیا لکھاری ہونے کے ناطے آپ سب سے گزارش کروں گا کہ اپنی اپنی رائے ضرور دیں تاکہ راقم کی راہنمائی ہوسکے ۔</font></b><br />
شکریہ<br />
<a href="http://adnan.gondlanwala.com/2010/07/%d9%82%d8%af%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be/" target="_blank">قدرت کا ہاتھ | عدنان کا بلاگ</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82-%DA%A9%D8%A7%D8%B1/">نئے تخلیق کار</category>
			<dc:creator>عدنان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82-%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-41300/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سافٹ ویئر ڈویلپنگ</title>
			<link>http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1-%DA%88%D9%88%DB%8C%D9%84%D9%BE%D9%86%DA%AF-41299/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 09:24:17 GMT</pubDate>
			<description>میں پروگرامنگ سیکھنا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>میں پروگرامنگ سیکھنا چاہتا ہوں۔ تھوڑی بہت شدھ بدھ ہےپروگرامنگ سے متعلق۔ اور ایک یونی کوڈ سافٹ وئر بنانا چاہتا ہوں جس کے ساتھ ڈیٹا بیس بھی منسلک ہو گی۔ اب سوال یہ ہے کہ میں کونسی ڈیٹا بیس استعمال کروں اور کونسا ورژن؟ ایس کیو ایل سرور یا مائی ایس کیو ایل؟ اس کے علاوہ یوزر انٹر فیس کس لینگویج میں بناؤں؟</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/">Ask Experts  ماہرین کی رائے</category>
			<dc:creator>عزیر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1-%DA%88%D9%88%DB%8C%D9%84%D9%BE%D9%86%DA%AF-41299/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>طیارے  کے حادثے کی تحقیقات</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%A7%D8%AA-41298/</link>
			<pubDate>Fri, 30 Jul 2010 07:08:14 GMT</pubDate>
			<description>میں طیارے کے حادثے میں...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔<br />
طیارے  کے حادثے کی تحقیقات ایئربس کمپنی اور امریکی ادارے نیشنل ٹرانسپورٹیشن اینڈ سیفٹی بورڈ سے کروائی جائے۔کیونکہ پاکستانی اداروں کی تحقیقات کبھی عوام کے سامنے نہیں آتیں۔اگر آتیں ہیں تو مفصل نہیں ہوتیں۔<br />
طیارے  کے حادثے کی تحقیقات میں نیشنل جیوگرافک چینل کی ٹیم کو بھی شامل کیا جائے۔ تاکہ تحقیقات کی وڈیوز کو ریکارڈ کیا جا سکے۔نیشنل جیوگرافک حادثات کےواقعات کی تحقیقات کو فلمانے میں بہت مشہورہے۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>فرحان دانش</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%A7%D8%AA-41298/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>تاریک راہیں</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA-41297/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 18:42:09 GMT</pubDate>
			<description>تاریک راہیں  
 
تحریر :...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>تاریک راہیں <br />
<br />
تحریر : بابر سلیم بھٹی نایاب <br />
<br />
شکیلہ تم میری زندگی میں بہار بن کر آئی ہو میں تمہیں ہمیشہ اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا ،اشرف نے اپنی نئی نویلی دلہن شکیلہ کو محبت بھرے جذبات سے کہا ۔نئی نویلی دلہن شکیلہ شرمانے لگی ،شکیلہ کے خوبصورت اور چاند جیسے مکھڑے پر شرم و حیا کے رنگ انتہائی حسین انداز میں بکھرنے لگے ۔شکیلہ کو لگا جیسے وہ جنت میں ا ٓ گئی ہے اور زندگی کی خوبصورتی اپنی انتہائی دلکش شوخ رعنائیوں کے ساتھ اُس کا استقبال کر رہی ہے رات آہستہ آہستہ کروٹیں لے رہی تھی اور ان کروٹوں میں شکیلہ کو اُلفت اور پاکیزہ خواہشوں سے آراستہ ،دل کے تاروں کو گدگداتے سہانے گیت سنائی دے رہے تھے جو شکیلہ کے کانوں میں رس گھول رہے تھے ۔ہر ایک لڑکی کی طرح شکیلہ کی بھی آرزو تھی کہ اُس سے شادی کرنے والا بہت محبت کرنے والا ہو مگر یہ بہت کم ہی ہوتا ہے کہ کسی کی آرزو تکمیل کی سرحدوں کو چھوتی ہے اور شکیلہ اس لحاظ سے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہی تھی جو اُسے ایک حد سے زیادہ محبت کرنے والا خاوند ملا ۔ا زواجی زندگی کا بندھن کتنا خوبصورت ہوتا ہے شکیلہ سے سسرال والوں کا سلوک ایسا تھا جیسے کسی راج کمار ی کا ہوتا ہے ۔ نندیں تو محبت کی مٹھاس بن کر شکیلہ کو گھر کا کوئی بھی کام نہ کرنے دیتی جب شکیلہ تھوڑا اُنھیں مجبور کرتی تو وہ کہتیں کہیں تم میلی نہ ہو جاﺅ اور شکیلہ جھینپ کر رہ جاتی اور شکیلہ کی ساس تو شکیلہ کو اپنی بیٹی سے بھی زیادہ محبت کرتی تھی روایتی ساس سے ہٹ کر وہ اُسے بس اپنے خاوند کی زیادہ سے زیادہ محبت حاصل کرنے کے لیے نت نئی باتیں بتاتی رہتی تھی ۔<br />
اشرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک اعلی عہدے پر تھا اور پُر کشش تنخواہ تھی جو ہر ماہانہ وہ بیوی کے ہاتھوں پر رکھتا اور شوخی سے کہتاسرکار ان پیسوں میں سے کچھ بچ جائیں تو وہ بندہ ناچیز کو عطا کر دینا ۔اشرف بخوبی جانتا تھا کہ اُس کی بیوی پیسوں کا استعمال انتہا ہی میانہ روی سے کرتی ہے کبھی مہنگے سوٹ اور مہنگی جیولری نہیں خریدی بلکہ زیادہ تر گھر کی چیزیں بنانے میں مصروف رہتی اور ہمیشہ پیسے بچا کر جوڑ بھی دیتی اور جو وقتا فوقتاً اشرف ضرورت کے وقت نکال لیتا بلکہ اکثر اشرف زبردستی شکیلہ کو مہنگے سوٹ خرید کر دیتا اور کہتا کہ پری کو پری جیسا لباس کا ہی انتخاب کرنا چاہیے ۔شکیلہ کی تربیت بہت اچھے ماحول میں ہوئی شکیلہ کا والد ایک پروفیسر تھا اور والدہ بھی کسی اچھی اتالیق سے کم نہیں تھی۔اسی وجہ سے تو شکیلہ نے جاتے ہی اپنی شائستگی اور اچھے اخلاق کی بدولت سسرال میں سب کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ شکیلہ کی ایک بہن اور دو بھائی اپنے والد کی تربیت کے نتیجہ میں بہت سلجھے ہوئے تھے۔شکیلہ کا باپ سمجھا یا کرتا تھا کہ اچھے خیالات اور اچھی عادات و اطوار زندگی کا وہ بیش بہا خزانہ ہے جس کو بروئے کار لا کر ہر ایک کے دل میں گھر کیا جا سکتا ہے۔ اشرف کا جب رشتہ آیا تو شکیلہ کے ابو نے بہت سوچ و بچار اور جانچ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ اشرف کے ہاتھ میں دیا تھا ۔شکیلہ کا ابو جانتا تھا اچھے رشتے آجکل کہاں ملتے ہیں بس جب اشر ف کی اچھی جاب اور شریف خاندان کا پتا چلا تو انکار کا کوئی جواز باقی نہ رہ سکا ۔شکیلہ کی شادی کے کچھ عرصے بعد شکیلہ کا ایک بھائی جو کہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کالج میں پڑھانے لگا اُس کے لیے شکیلہ کی امی نے اشرف کی بہن کا رشتہ مانگ لیا اورپھر دونوں کی شادی بھی ہو گئی اور رشتوں کی ڈور مزید مضبوط ہو گئی ۔<br />
دن خوشیوں سے بھرپور گزررہے تھے کہ اچانک جیسے شکیلہ کی زندگی میں ایک عذاب نے جنم لینا شروع کر دیا ۔شادی کے چار سال ہونے کو آئے تھے مگر شکیلہ کی گود ابھی خالی تھی ۔ڈاکٹروں اور بہت مشہور حکیموں کو دکھایا گیا جو یہ کہتے تھے کہ کوئی مسلہ نہیں ہے بس جب اﷲ نے چاہا تو گود بھر جائی گئی مگر شکیلہ اب اپنی ساس اور نندوں کے تیور بدلے بدلے محسوس کر رہی تھی ۔جو کبھی اُسے زیادہ کام نہیں کرنے دیتے تھے اب شکیلہ ہے گھر کے سارے کام کرتی تھی اور کوئی نزدیک تک نہیں آتا تھا اور کبھی کبھی تو نندیں اور ساس آپس میں کھسر پھسر کرتے رہتے تھے جس کی شکیلہ کو سمجھ نہیں آتی تھی ۔ایک دن اشرف کے سر میں درد تھی اور وہ دفتر سے تھکا ہارا گھر آیا تھا ۔شکیلہ اشرف کا سر دبا رہی تھی ۔اچانک اشرف کو ناجانے کیا سوجھی زندگی میں پہلی بار اشرف نے شکیلہ کے ہاتھ کو جھٹک دیا اور کہا ،یہ درد تمہاری پیدا کی ہوئی ہے ناجانے کب میں گھر میں بچوں کی آوازیں سنو ﺅ ں گا ۔ اب تو میرے کولیگ بھی میرا مذاق اُڈاتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو بیچارے کو شادی کے چار سال بعد بھی کوئی پاپا کہنے والی آوازنہیں سن پایا ۔شکیلہ اشرف کی یہ بات سن کر سناٹے میں رہ گئی وہ تو سوچتی تھی شاید اشرف اُسے ڈھارس دے گا اُسے دلاسہ دے گا مگر وہ بھی نظریں پھیر رہا ہے مگر شکیلہ نے اپنے دکھ کو ضبط کر کے اپنے سرتاج سے کہا ،میں تو خود اُولاد کے لیے ترس رہی ہوں مگر ہم سب بے بس ہیں یہ تو خدا کی ذات کے حوالے میں ہے وہ کب ہمیں اس نعمت سے نوازے گا ۔اشرف نے اپنی آنکھیں غصے سے بند کر لیں اور پیٹھ موڑ کر سو گیا ۔رات بھر شکیلہ سوچتی رہی کہ اُس کی زندگی میں خوشیوں نے اچانک مُنہ کیوں موڑ لیا ہے اُس نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں سوچا تو اُ س نے تو سب سے محبتیں بانٹیں ہیں ۔مگر خوش قسمتی اپنی خوشیوں کے ساتھ ایک صرف ایک بار ہی دروازہ کھڑکھڑاتی ہے اور بد قسمتی دروازہ کھولنے تک کھڑ کھڑ اتی رہتی ہے اور شاید بدقسمتی نے اُس کے گھر میں ڈیرے ڈال لیے ہیں ۔صبح اشرف ناشتہ کیے بغیر دفتر چلا گیا شکیلہ بہت زیاد ہ دُکھی تھی اُس نے کبھی اپنے خاوند کو ناراض نہیں کیا تھامگر حالات نے ہی کچھ ایسا سنگین روپ اختیار کر لیا تھا جس کی وجہ سے گھر میں کشیدہ سی صورتحال رہنے لگی تھی ۔نندوں نے تو اُ س سے اب بالکل بات کرنا چھوڈ دی تھی ۔شکیلہ سمجھی شاید اُس سے کوئی غلطی ہوئی ہے جو اُس کی نندیں اُس سے روٹھ گئی ہیں اُن کو منانے کے لیے شکیلہ اُن کے کمرے میں گئی تو اُسے اپنی ساس کی آواز سنائی دینے لگی جو کہ رہی تھی۔ہمارے بچے کو کھا گئی یہ شکیلہ ہائے کتنی آرزو ئیں اور تمنا لے کر اسے بیاہ کر لائے تھے مگر یہ تو وبال بن گئی ہے اب اس کے سائے سے بھی بچ کر رہنا اور میں آج اشرف سے بات کر کے ہی رہوں گئی کہ وہ دوسری شادی کر لے ابس اس سے زیادہ سننے کی ہمت شکیلہ میں نہیں تھی اور آنسوؤں کی بارش کے ساتھ شکیلہ اپنے کمرے میں آئی اور پھر سارا دن تکیہ پر سر رکھ کر روتی رہی ۔شکیلہ کے شب و روز بہت اذیت سے گزرنے لگے دن بھر ساس اور نندوں کے زہر آلودہ طعنے جس کو سن کر شکیلہ کی روح تک لرز جاتی تھی اور پھر اشرف کی بے رخی نے تو بالکل نڈھال کر دیا تھا اشرف کی اپنائیت کے لیے وہ ہر کام کرتی تھی شاید کبھی تو اشرف کی پہلے والی محبت لوٹ آئے مگر اشرف تھا کہ اپنی کسی اور دنیا میں مگن تھا گھر تھا کہ ایک ہوٹل جس میں صرف وہ رات گزارتا تھا باقی سارا دن دفتر اور پھر نا جانے کہاں اور شکیلہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اشرف سے پوچھ ہی سکے کہ یہ اُ س کی غلطی ہے اُولاد کا نہ ہونا شاید انسان بہت دھوکے میں ہے قدرت کے فیصلوں کو نہیں مانتا اور انسا ن کو ہی اُس کا قصوار سمجھتا ہے ۔اب تو دور دور کے رشتے دار اور آس پڑوس کے لوگ اُس کی ساس کے پاس آتے اور عجیب عجیب سے باتیں بناتے کبھی کوئی کہتا کہ اس شکیلہ پر کسی نے جادو کر دیا ہے تو کبھی کیا اور سب کی باتیں ایک بات پر ہی آ کر اختتام پذیر ہوتی تھی کہ اب اشرف کو دوسری شادی کر لینی چاہیے ان سب کی باتیں سن کر ایک اُبلتا ہوا لاوا شکیلہ کو اپنے وجود کو چیرتا ہوا محسوس ہوتا اور ہاں کچھ ایسا تھا بھی کیونکہ انسان اپنے دکھوں اور اذیّتوں سے کم مرتا ہے جتنا دوسروں کے طعنوں اور انسانیت سوز باتوں سے اور شکیلہ کے اندر یہ سوالات سلگتے رہتے کہ اگر ان لوگوں اور ان رشتے داروں کی کبھی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ہوتا تو کیا وہ تب بھی ایسی باتیں کرتے اور دوسر ی شادی کے مشورے دیتے ۔شکیلہ کو لگتا تھا اب سارا زمانہ ہی اُس کا دشمن ہو گیا ہے بس جب کبھی وہ اپنے میکے جاتی تو لگتا وہ غموں سے نکل کر کسی پُرسکون جگہ پر پہنچی ہے شکیلہ کی والدہ اُسے بہت ڈھارس دیتی اور شکیلہ کو اپنے ابو کسی دور کی سوچ میں ڈوبے دکھائی دیتے ظاہر اپنی بیٹی کا یہ غم اُ ن کو بھی کھائے جا رہا تھا ۔مگر کبھی انھوں نے شکیلہ پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور شکیلہ کی تربیت بھی ایسی تھی جو اتنے طوفانوں اور آندھیوں میں بھی نہیں ڈگمگائی تھی<br />
ایک دن اشر ف جلدی گھر ا ٓ گیا اور شکیلہ سے کہنے لگا مجھے امی اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ میں شادی کر لوں تمہاری کیا رائے ہے ،شکیلہ نے انتہائی دھیمے لہجے سے کہا ۔سرتاج جو آپ چاہیں ۔اشرف نے پھر کہا ،نہیں میں یہ ظلم تم پر نہیں کرنا چاہتا مگر میں زیادہ عرصہ اب انتظار بھی نہیں کر سکتا اور پھر کچھ عرصے بعد شکیلہ کی گود ہری ہوئی مگر وہ بھی مُردہ بچے کے ساتھ جو پیدا ہوتے ہی فوت ہو گیا شاید اب کو ئی غم شکیلہ کی زندگی میں باقی نہ رہ گیا تھا جس نے شکیلہ کی زندگی میں ہولناک دکھوں میں مزید اضافہ نہ کیا ہو ۔نو سال کا عرصہ یہی مصیبتیں اور اذیت ناک ٹوٹنے والے پہاڑوں سے نبر آزما ہوتے گذر گیا ۔آخر ایک دن اشرف نے بھی جواب دے دیا اور شکیلہ کو کہا اب میں دوسر ی شادی کر رہا ہوں اگر تم اس گھر میں رہنا چاہتی ہو تو تمہاری مرضی ۔مگرشکیلہ میں اب مزید غم کو سہنے کی برداشت نہیں تھی شکیلہ نے کہا ،صاف لفظوں میں آپ کہیں کہ آپ مجھے چھوڈ دینا چاہتے ہیں اور کسی اور کو اپنانا چاہتے ہیں مگر میں آپ کو نہیں روکو ں گئی اور اب خود بھی اس گھر میں نہیں ر کوں گئی آپ کو ا ٓپ کی نئی زندگی مبارک ہو شاید میں نے آپ کو خوشیوں سے بہت دور رکھا مگر میری دعا ہے کہ خدا کی ذات آپ پر ڈھیر سار ی وہ خوشیوں بھی دیں دے جس سے آپ بہت دور رہے ہیں ۔یہ ایک آخری مکالمہ تھا جو اُس نے پنے مجازی خدا سے کہا تھا پھر چپ چاپ شکیلہ اپنے آنسوؤں کو اپنے وجود کے اندر ضبط کر کے اپنے میکے آ گئی اور اپنی والدہ کو سب کچھ بتا دیا اور شکیلہ کے ابو نے انتہائی شفقت سے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا زندگی یہی ختم نہیں ہو جاتی ایک دن ضرور خوشی تمہاری زندگی میں دوبارہ آئے گئی مگر شکیلہ اپنے باپ کے لمس کو اپنے سر پر محسوس کر کے خود پر قابو نہ پا سکی اور جو آنسوشکیلہ کے اندر ہی اندر خشک ہو گئے تھے وہ تیز بارش بن کر برسنے لگے اور شکیلہ کے ابو کہنے لگے صبر کر میری بچی شاید ہمار ے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔شکیلہ کے بھائی کو جب اس بات کا پتا چلا تو اُس نے اپنی بیوی سے کہا دیکھوں تمہارے بھائی نے میری بہن کو چھوڈ دیا ہے اب میں تمہیں بھی نہیں رکھ پاؤں گا مگر شکیلہ کے ابو نے جب اپنے بیٹے کو بُلا یا اور کہا کبھی بھی اپنی بیوی کو کچھ مت کہنا یاد رکھوں تم خدا کو جوابدہ ہو اور میری تربیت نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ ہم اپنی بیٹی کی قسمت کے فیصلے کو کسی مسترد کرتے ہوئے کسی اور کی بیٹی اور بہن سے اس کا بدلہ لیں ۔بس پھر اس کے بعد شکیلہ کے بھائی نے کبھی اپنی بیوی کو کچھ نہیں کہا ۔کچھ ہی عرصے بعد اشرف نے دوسری شادی کر لی اور پھر شکیلہ نے خود خلع لے لی ۔کبھی کبھی اشرف کا کوئی پیغام آتا تھا جس میں وہ کہتا تھا کہ ہم اپنی دوستی کے رشتے کو تو برقرار رکھ سکتے ہیں مگر شکیلہ نے صاف لفظوں میں جواب دے دیا تھا کہ شریعت اب بات کی اجازت نہیں دیتی اور ویسے بھی اب ہم میں کیا رہ گیا ہے جو کسی رشتے کو برقرار رکھیں ۔شکیلہ کو بس اتنا ضرور پتا چل گیا جب سارا زمانہ ساتھ چھوڈ جائے تو ایک ذات رہ جاتی ہے جو کبھی اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتی اسی وجہ سے تو شکیلہ اُ س ذات کے سامنے تنہائی میں سجدے میں گر کر رو رو کر دعا مانگتی تھی اور اسی وجہ سے شکیلہ اپنے آپ کو دوبارہ زندہ رکھ پائی تھی اور پھر شکیلہ نے تعلیم کے میدان کو دوبارہ چن لیا اور اپنی زندگی اُس میں وقف کر دی کیونکہ شکیلہ اب اپنی زندگی کی ان تاریک راہوں سے نکلنا چاہتی تھی اور کچھ عرصے بعد نکل بھی گئی بس کبھی کبھی اپنے سرتاج کی یاد اُسے بے گانہ کر دیتی تھی اور کبھی کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھو نکہ اُسے اپنی ا زواجی زندگی کی پہلی رات کی طرف لے جاتا تھا اور اب تو صرف یادیں ہی رہ گئی تھی اور شاید یادیں ہی تو زندگی کی آخری ساتھی رہ جاتی ہیں جو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتی ۔<br />
<br />
آج زندگی ہم پر یہ کہتے ہوئے ہنس پڑی نایاب<br />
کہ دل کی دیواریں گرنے سے خود گرا نہیں کرتے</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>بابرنایاب</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA-41297/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>میرا پسندیدہ گانا</title>
			<link>http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81-%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7-41295/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 16:44:35 GMT</pubDate>
			<description>اس میں ہر شخص اپنا اپنا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اس میں ہر شخص اپنا اپنا پسندیدہ گانا، نظم یا غزل جو بھی اس کو پسند ہے اس کی ویڈیو پیش کر سکتا ہے۔ <br />
<br />
والسلام</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/">فن و فنکار</category>
			<dc:creator>منتظمین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81-%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7-41295/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[استفسارات و جوابات [دریچے از کرنل شفیق الرحمٰن ]]]></title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%88-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%5B%D8%AF%D8%B1%DB%8C%DA%86%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86-%5D-41293/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 16:22:20 GMT</pubDate>
			<description>سوال: 
میں لیٹریچر کی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Purple"><br />
<br />
<font color="Blue">سوال:</font><br />
میں لیٹریچر کی طالبہ ہوں۔ عمر تقریباً انیس سال ہے اور مجھے تھامس ہارڈی، ترگنیف اور کیپلینگ کی مسحور کن اور دلکش تحریروں سے اس قدر الفت ہے کہ بیان نہیں کر سکتی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کہیں یہ حضرات شادی شدہ تو نہیں؟:confused:<br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
یہ حضرات شادی شدہ ہی نہیں بلکہ ان کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔jhote:<br />
<br />
<font color="blue">سوال:</font><br />
میرا خیال ہے کہ قدرت ایسی اشیاۓ مدرکہ سے مل کر بنی ہے جو ایک دوسرے کے کُل اور جزو کی حیثیت سے شامل ہیں جہاں اضدادی اسلوبِ تفکر تمام اشیاۓ مدرکہ کو سمجھنے کے لۓ کیا گیا ہے وہاں فلسفیانہ دقیقہ رسی، توازنِ اتصال اور اضدادی مادیت کو قوتیاتی رتبہ حاصل ہے۔ کائنات کی حیاتِ مادی ہی مقدم ہے۔ اس کی حیاتِ روحانی ثانوی اور استخراجی ہے۔ اعصابی کیفیتیں اور نا آسودہ جبلتیں در اصل خارجی چیزوں اور ان کے ارتقا کا عکس نہیں ہیں بلکہ خارجی چیزیں ہیں اور ان کا ارتقا حقیقت کی شکل میں او تصور کا محض عکس ہیں جو وجودِ کائنات سے قبل تھا۔ مفکروں کے نزدیک کائنات اور جملہ نظامات ابدی اور استقراری ہیں اور خیالِ نفسِ ناطقہ پر عالمِ بالا لے ترشحات کا نتیجہ ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات کا ارتقا تجویز اور تردید کے تصادم سے عبارت ہوگا تو پھر تدریجی وقفے کے بعد نقطۂ تغیر کب ظہور پزیر ہوگا؟ وہ کون سی تردید ہوگی جو تجویز سے متصادم ہو کر نئی ترکیب کو وجود میں لاۓ گی؟::)   :oh   ::)   :oh  <br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
_____________:eek:ــــــــــــــــ  ــ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔___________________<br />
<br />
<font color="blue">سوال:</font><br />
مجھے تین کہاوتیں بہت پسند ہیں:<br />
_______زر، زمین، زن فساد کی جڑ ہیں<br />
________________اصل دوست وہ ہے جو ضرورت کے وقت کام آۓ۔<br />
____________________________دوسروں سے وہی سلوک کرو جس کی توقع تمہیں ان سے ہو سکتی ہو۔<br />
<br />
یہی سوچتا رہتا ہوں کہ اگر سب لوگ ان پر عمل کرنے لگیں تو دنیا کتنی بہتر جگہ بن سکتی ہے۔ آپ کی کیا راۓ ہے؟<br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
غالباً آپ نہیں جانتے کہ بدلی ہوئی قدروں کے ساتھ پرانی کہاوتیں بھی بدل چکی ہیں، فی زمانہ انہیں یوں پڑھنا چاہیۓ۔<br />
<br />
________زر، زمین، زن کی کمی ہی فساد کی جڑ ہیں۔pagal!<br />
_________________اصلی دوست وہ ہے جسے کوئی ضرورت نہ ہوchoza:<br />
_____________________________دوسرے کے ساتھ فوراً وہی سلوک کرو، بیشتر اس کے کہ وہ تم سے وہی سلوک کر سکیںchal:<br />
<br />
<font color="blue">سوال:</font><br />
مجھے جس لڑکی سے محبت ہے وہ حسین ہونے کے علاوہ انٹیلیکچول بھی ہے۔ میں &quot;ڈاکٹر &quot; ہوں اس لیے علم و ادب میں دلچسپی رکھنے کی قطعاً فرصت نہیں۔ ابھی تک پیغام نہیں بھجوایا کیوں کہ میرے خیال میں وہ ولی دکنی، ہربٹ سپینسر، ابو نواس اور بھرتری ہری کے جانب مائل ہے، جب کبھی اس سے ملتا ہوں، یہی نام سننے میں آتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ آپ کے مشورے کا منتظر ہوں۔:waiting<br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
ہمارے خیال آپ کو فوراً پیغام بھیجنا چاہۓ، اتنے حضرات کے موجودگی میں ذرا سی دیر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔:unity<br />
<br />
<font color="blue">سوال:</font><br />
ان اشعار کا کیا مطلب ہے؟<br />
<br />
لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجا<br />
&quot;سنلقی علیہم عذاباً ثقیلا&quot;<br />
نکل اس کی زلفوں کے کوچے سے اے دل<br />
تو پڑھنا &quot; قم الیلِ الا قلیلا&quot;<br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
ان کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کو عربی بھی آتی ہےga:<br />
<br />
<font color="blue">سوال:</font><br />
میں ہائی سکول میں پڑھتا ہوں لیکن کورس کی کتابوں کے علاوہ لائبریری کے رسالوں اور کتب کے مطالعے کا بھی شوق ہے۔ آپ سے پوچھنا ہے کہ ایک طرف تو خودی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ادھر ایک بڑے مشہور شاعر نے &quot;اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہۓ&quot; کی خواہش ظاہر کی ہے، بھلا کس پر عمل کیا جاۓ؟:idono<br />
<br />
<font color="Magenta">جواب:</font><br />
ہم نے آپ کے سوال کے سلسلے میں تین شاعروں، چار نقادوں اور پانچ پروفیسروں سے رابطہ قائم کیا، لیکن وہ اب تک خاموش ہیں۔ جوں ہی ہمیں کوئی تسلی بخش جواب ملا ، فوراً شایع کردیں گے۔ مطمئن رہیں۔drama:</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/">مزاحیہ ادب</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%88-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%5B%D8%AF%D8%B1%DB%8C%DA%86%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86-%5D-41293/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان میں اقلیتوں‌کی حالت زار</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AA%D9%88%DA%BA%E2%80%8C%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA-%D8%B2%D8%A7%D8%B1-41292/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 16:01:33 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم، 
 
پچھلے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم،<br />
<br />
پچھلے دنوں مملکت خداداد پاکستان میں اقلیتوں کے حالات پر ایک مہربان سے ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی۔ جناب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ نامناسب سلوک روا رکھتے ہیں اور اقلیتیں تاحال اسی برے حال میں‌ہیں جہاں‌آج سے 63 سال پہلے تھیں، وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ بحث فیصل آباد میں دو مسیحی بھائیوں‌کے قتل کے واقعے اور لاہور میں قادیانیوں کی مسجد میں‌دھماکے کے تناظر میں‌ہوئی۔<br />
<br />
میرے اپنے ذآتی خیال اور تجربے میں پاکستان میں‌اقلیت ہو یا اکثریت، ایک عام غریب پاکستانی کی حالات ایک جیسے ہی ہیں۔ کراچی، لاہور یا پنڈی کی کچی آبادیوں کو دیکھیں، جہاں‌ اقلیتیں نہی رہتی، پاکستانی انہی حالات میں زندہ ہیں۔ ان کو آگے بڑھنے اور اپنے حالات کو اچھا بنانے کی مواقع بہت کم میسر آتے ہیں۔ اقلیتوں‌میں‌بھی جن کے پاس مواقع ہوتے ہیں، اچھا پڑھ لکھ کر اہم عہدوں‌پر فائز ہوتے ہیں، حکومتی اداروں اور فوج تک میں‌اقلیتیں‌بہرحال موجود ہیں۔ مذہبی طور پر اقلیتوں‌کو اتنے ہی مواقع حاصل ہیں جتنا دوسروں‌کو، کم از کم کوئی انہیں ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے نہی‌روکتا۔<br />
<br />
اس ٹاپک کو شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب کی آراء‌سے استفادہ کیا جائے کہ آیا اقلیتیں کو خصوصی طورپر کسی خاص مقصد کے تحت پاکستان میں دوسروں‌سے پیچھے رکھا جاتا ہے کہ نہیں؟ اقلیتوں کی پاکستان میں‌کیا حالت ہے؟ کیا انہیں دوسروں‌کی طرح‌طرقی کے مواقع حاصل ہیں؟ آیا انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے کہ نہیں؟ اور کیا ان پر ہونے والے کسی خاص واقعے کو بنیاد بنا کر کچھ زیادہ ہی چرچا تو نہیں کیا جاتا؟  آپ کا اپنا تجربہ کیا کہتا ہے؟<br />
<br />
والسلام <br />
<br />
طاہر</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/">عمومی بحث</category>
			<dc:creator>طاھر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AA%D9%88%DA%BA%E2%80%8C%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%AA-%D8%B2%D8%A7%D8%B1-41292/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ولیوں‌ کو کوئی غم اور خوف نہیں‌ ہوتا</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA%E2%80%8C-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D9%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%E2%80%8C-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-41291/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 14:14:26 GMT</pubDate>
			<description>ایسے جو اللہ کے ولی یعنی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ایسے جو اللہ کے ولی یعنی دوست ہیں - ان کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایک دو نہیں بارہ مقامات پر ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “ کا جملہ استعمال فرمایا ہے - لو گ تو صرف ایک آیت پڑھتے ہیں<br />
<br />
<font color="DarkRed"><font face="Tahoma"><font size="4">اَلاَاِنَّ اَولِیَا ء اللَّہ لاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ  ( یونس : 26)</font></font></font><br />
<br />
اور پھر ہم پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں کہ جناب ! لو- دیکھو ! یہ تو اولیاءکرام کو مانتے ہی نہیں- جی ہاں! ہم مانتے ہیں مگر اس طرح نہیں کہ جس طرح آپ منوانا چاہتے ہیں - ہم مانتے ہیں اس طرح جس طرح رب  قرآن  میں منواتاہے -توآئیے ! ایک نہیں بارہ مقامات دیکھئے اور غور کیجئے کہ  اللہ قرآن میں کس طرح منواتا ہے ؟فرمایا :<br />
<br />
<font face="Tahoma"><font color="DarkRed"><font size="4">فَاِمَّا یَاتِیَنَّکُم مِّنِّی ھُدًی فَمَن تَبِعَ ھُدَایَ فَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ</font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">پھر جب تمہارے پاس میری جانب سے ہدایت آجائے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا - ایسے لوگوں پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے-</font>( البقرہ : 38)<br />
<br />
دوسرا مقام ملاحظہ ہو!<br />
<br />
<font face="Tahoma"><font color="DarkRed"><font size="4">بَلیٰ مَن اَسلَمَ وَجھَہُ لِلَّہِ وَھُوَ مُحسِن فَلَہُ اَجرُہُ عِندَ رَبِّہ وَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ </font></font></font><br />
 <font color="Blue">کیوں نہیں ! جس کسی نے بھی اپنا چہرہ اللہ کے حضور خم کردیا اور وہ محسن بھی ہے ( یعنی سنت مصطفی کا پابند ) تو اس کے لئے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور ایسے لوگوں پر نہ خوف ہوگااور نہ وہ غمگین ہوں گے-</font>( البقرہ : 112)<br />
<br />
تیسرا مقام :<br />
<br />
<font color="DarkRed"><font face="Tahoma"><font size="4">الَّذِینَ یُنفِقُونَ اَموَالَھُم فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ لاَ یُتبِعُونَ مَا اَنفَقُو ا مَنًّا وَلاَ اَذًی لَّھم اَجرُھُم عِندَرَبِّھِم وَلاَ خَوف علیھم و لا ھم یحزنون</font></font></font><br />
<font color="Blue"> وہ لوگ جو اپنے مالوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کے بعد نہ تو احسان جتلاتے ہیں اور نہ ( جس کو دیا اس کو ) ستاتے ہیں - ان کے لئے ان کی مزدوری ان کے پروردگار کے ہاں ہے اور ( قیامت کے دن ) ان پر نہ ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے -<br />
</font>( البقرہ : 262)<br />
<br />
چوتھا مقام:<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma"><br />
اَلَّذِینَ یُنفِقُونَ اَمواَلَھُم بِالَّیلِ وَ النَّھَارِ سِرّاً وَ عَلاَنِیَةً فَلَھُم اَجرُھُم عِندَرَبِّھِم وَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ</font></font></font><br />
<br />
 <font color="Blue">وہ لوگ جو اپنے اموال رات اور دن میں کسی بھی وقت ‘ پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں- ان کےلئے ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پرنہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے -</font>( البقرہ : 274)<br />
<br />
پانچواں مقام :<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma"><br />
اِنَّ الَّذِینَ اٰ مَنُوا وَ عَمِلُو الصَّالِحَاتِ وَاَ قَامُو ا الصَّلَوٰةَ وَ اٰ تُوا الزَّکوٰةَ لَھُم اَجرُھُم عِندَ رَبِّھِم وَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھم یَحزَنُونَ</font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : بلا شبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نماز قائم کی‘ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم میں مبتلا ہوں گے-</font><br />
<br />
 ( البقرہ : 277)<br />
<br />
چھٹا مقام:<br />
<font size="4"><font face="Tahoma"><font color="DarkRed"><br />
اِنَّ الَّذِینَ اٰ مَنُو ا وَالَّذِین ھَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَاریٰ مَن اٰ مَنَ بِاللَّہِ وَالیَومِ الآٰخِرِوَ عَمِلَ صَالِحاً فَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ </font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو (دل سے نہیں ظاھر ی طور پر) ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہوئے اور صابی ( بے دین ) اور عیسائی ہوئے ( غرض ان میں سے ) جو کوئی بھی ( سچے دل سے ) اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو ایسے لوگوں پر بھی نہ کوئی خوف ہوگا اورنہ وہ مبتلائے غم ہوںگے </font>-<br />
<br />
( المائدہ : 69)<br />
<br />
ساتوا ں مقام :<br />
<br />
وَ<font size="4"><font color="DarkRed"><font face="Tahoma">مَا نُرسِلُ المُرسَلِینَ اِلاَّ مُبَشِّرِینَ وَ مُنذِرِینَ فَمَنَ اٰ مَنَ وَ اَصلَحَ فَلاَ خَوف عَلَیہِ ........ الخ </font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : اور نہیں بھیجتے ہم رسولوں کو مگر ( اس مقصد کے لئے کہ وہ نیکوں کو ) خوشخبری سنائیں ( اور منکروں کو ) ڈرائیں- پھرجو کوئی ایمان لایا اور اصلاح کی تو ایسے لوگوں پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے -</font><br />
<br />
 ( الا نعام : 48)<br />
<br />
آٹھواں مقام:<br />
<font face="Tahoma"><font color="DarkRed"><font size="4"><br />
َیَابَنِی اٰدَمَ اِمَّا یَا تِیَنَّکُم رُسُل مِّنکُم یَقُصُّونَ عَلَیکُم اٰ یٰتِی فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَ صلَحَ فَلَا خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَ نُون </font></font></font><br />
<font color="Blue"><br />
ترجمہ :اے آدم کے بیٹو! جب تمہارے پاس تمہی میں سے رسول آئیں- تمہیں میری آیات سنائیں تو جس نے بھی تقویٰ اختیار کیا اور اصلاح کی تو ایسے لوگوں پر نہ ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوںگے</font><br />
<br />
( الاعراف : 35)<br />
<br />
نواں مقام:<br />
<br />
<font color="DarkRed"><font face="Tahoma"><font size="4">ان َّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنا اللَّہُ ثُمَّ استَقَامُوا فَلاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزنُون َ</font></font></font><br />
<br />
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ کہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ ڈٹ گئے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے -<br />
<br />
( الا حقاف: 13)<br />
<br />
دسواں مقام:<br />
<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma">اَلاَ اِنَّ اَولِیَاءَ اللَّہِِ لاَ خَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ ٭ الَّذِینَ اٰ مَنُوا وَکَا نُو ا یَتَّقُونَ</font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : خبردار ! بلاشبہ اللہ کے ولی جو ہیں ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے وہ کہ جو ایمان لائے اور وہ پرہیز گار رہتے تھے -</font><br />
<br />
( یونس : 62: 63)<br />
<br />
مزید دو مقامات :<br />
<br />
قارئین کرام! ہم نے انہی بارہ مقامات کو درج کرنے کا ارادہ کیا کہ جن کے آخرمیں ” لاَخَوف عَلَیھِم وَلاَ ھُم یَحزَنُونَ “ کے جملے آتے ہیں تاہم ایسے بقیہ دو مقامات ہم آخر میں درج کریں گے- فی الحال یہاں درمیان میں ہمارا یہ مضمون اپنے عنوان کے لحاظ سے مزید واضح ہوگا کہ جب ہم قرآن کی مزید دو آیات پیش کریں گے- یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دو آیا ت جو ہم مزید وضاحت کےلئے پیش کررہے ہیں ‘ ان میں بھی خوف اور حزن ( غم ) کے الفاظ ہی آئے ہیں-تو اب ملاحظہ کیجئے یہ دو مقامات ! فرمایا:<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma"><br />
(۱) اِنَّ الَّذِینَ قَالُو ا رَبُّنَا اللَّہَ ثُمَّ استَقَامُو ا تَتَنَزَّلُ عَلَیھِم المَلاَئِکَةُ اَلاَّ تَخَافُوا وَلاَ تَحزَ نُوا واَبشِرُوا بِا لجَنَّةِ الَّتِی کُنتُم تُوعَدُون ٭ نَحنُ اَولِیَا ئُ کُم فِی الحَیَا ةِ الدُّ نیَا وَ فِی لاٰ خِرَ ة ِ وَ لَکُم فِیھَا مَا تَشتَھِی اَنفُسُکُم وَلَکُم فِیھَا مَا تَدَّعُون ٭ نُزُلاً مِّن غَفُورِالرَّحِیم</font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ کہ جنہوں نے کہا: ہمارا رب توہے اللہ -پھر وہ ڈٹ گئے - ان پر ( رحمت کے ) فرشتے نازل ہوتے ہیں ( زندگی کی مشکلات میں ‘ دوران دعوت و تبلیغ ‘ جہاد و قتال ‘ مرتے وقت ‘ قبر میں اور قیامت کے دن اور وہ کہتے ہیں ) کہ مت ڈر و اور نہ ہی غم کھ بلکہ خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا - ( ڈر غم کی کیا ضرورت ) ہم تمہارے ولی ( دوست ‘ساتھی ) ہیں- دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس جنت میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جسے تمہارے دل چاہیں گے اور وہاںتمہارے لئے موجود ہوگا جو تم مانگو گے - مہربان ‘ در گزر کرنے والے ( رب ) کی طرف سے مہمان نوازی ھوگی -</font><br />
<br />
( حم السجدہ : 30 تا‘ 32)<br />
<br />
(۲) اَ<font face="Tahoma"><font size="4"><font color="DarkRed">لاَ خِلَّآَ ء یَو مَئِذٍ بَعضُھُم لِبَعض عَدُو اِلاَّ المُتَّقِینَ ٭ یَا عِبَا دِ لاَ خَو ف عَلَیکُم وَالیَو مَ وَلاَ اَنتُم تَحزَ نُون </font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">ترجمہ : اس دن ( روز قیامت ) پرہیز گاروں کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ( متقین سے اللہ کہیں گے ) اے میر ے بندو ! آج کے دن تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی تم غمزدہ ہوگے-<br />
</font><br />
( الزخرف 67 : 68 )<br />
<br />
گیارھواں مقام :<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma"><br />
وَلاَ تَحسَبَنَّ الَّذِ ینَ قُتِلُو ا فِی سَبِیلِ اللَّہ اَموَاتاً بَل اَحیَا ئ عِندَ رَبِّھِم یُرزُقُونَ ٭ فَرِ حِینَ بِمَا اٰ تٰھُم اللَّہُ مِن فَضلِہ وَ یَستَبشِرُونَ بِالَّذِینَ لَم یَلحَقو ا بِھِم مِّن خَلفِھِم اَلاَّخَوف عَلَیھِم وَلاَ ھم یَحزَنُونَ </font></font></font><br />
<br />
ترجمہ : جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کردئے گئے انہیں مردہ مت خیال کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں‘ اپنے رب کے ہاں سے رزق دئیے جارہے ہیں- وہ اس بات پر خوش ہیں کہ جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اور ان لوگوں ( مجاہدین ) سے بہت خوش ہوتے ہیں جو ان کے پیچھے ( دنیا ) میں ہیں -اور ابھی تک ( شہید ہوکر ) ان سے ملے نہیں کہ انہیں کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے -<br />
<br />
( اٰ ل عمران : 169‘ 170)<br />
<br />
بارھواں مقام:<br />
<font color="DarkRed"><font size="4"><font face="Tahoma"><br />
اُدخُلُو الجَنَّةَ لاَ خَوف عَلَیکُم وَلاَ انتُم تَحزَنُونَ</font></font></font><br />
<br />
ترجمہ : ( اللہ اعلان کریں گے ) جنت میں داخل ہوج - تم پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی تمہیں کسی غم کا ندیشہ ہے -<br />
<br />
( الاعراف : 49)<br />
<br />
<b><font color="Red"><u>خلاصہ کلام</u></font></b><br />
<br />
قارئین کرام ! آپ نے بارہ کے علاوہ مزید دومقاما ت بھی ملاحظہ فرمالئے.... ! وہ ولی کہ جسے کوئی خوف اور غم نہیں مندرجہ بالا قرآنی مقامات کے مطابق اسے خوف و غم سے نجات کا مقام تب ملے گا جب وہ !<br />
<br />
(1) اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کی پیروی کرے گا<br />
<br />
(2) اس نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے خم کردیا او ر نیک بن گیا<br />
<br />
(3) اس نے اللہ کے راستے میں مال خرچ کیا پھرنہ احسان جتلایا اور نہ ستایا<br />
<br />
(4) دن رات خفیہ اور اعلانیہ اپنا ما ل خرچ کیا<br />
<br />
(5) ایمان لایا ‘ نیک عمل کئے ‘ نمازی بنا ‘ زکوٰة اداکی<br />
<br />
(6) منافق ‘ یہودی ‘ بے دین ‘ عیسائی وغیرہ کوئی بھی ہو وہ تائب ہو کر اللہ پر ایما ن لے آیا اور آخرت کے دن کو مان لیا تو وہ بھی ولیوں کے زمرے میں شامل ہوجائے گا<br />
<br />
(7) جو ایما ن لایا اور اس نے اپنی اور لوگوں کی اصلاح کا کام کیا<br />
<br />
(8) اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کو مانا پھر تقویٰ اختیار کیااور اصلاح کی<br />
<br />
(9) ا للہ کو رب مان کر پھر اس کی توحید پر‘ اس کے دین پر ڈٹ گیا<br />
<br />
(10) ایمان لایا پرہیز گار بن گیا<br />
<br />
(11) اللہ کے راستے میں جہادو قتال کرتے ہوئے‘ شہیدہوئے وہ جنتوں میں خوش ہیں اور اس بات پر بھی خوش ہیں کہ ان کے جو ساتھی ان کے پیچھے دعوت و اصلاح اور جہاد و قتال کے راستے پہ لگے ہوئے ہیں جب وہ ان سے آن ملیں گے تو ان کی طرح انہیں بھی خوف ہوگا نہ غم<br />
<br />
(12) ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ اعلان فرمائیں گے کہ ج جنت میں داخل ہوج -<br />
<br />
قارئین کرام ! یہ ہیں اللہ کے ولیوں کی خصوصیا ت جو قرآن بیان کررہا ہے اور واضح کررہا ہے کہ یہ لوگ تو حید و سنت کا احیاءکرنے والے ‘ اصلاح کا کام کرنے والے - جہاد کرنے والے ‘ جانیں دینے والے اور شہادت کی موت پانے والے ہیں .... جی ہاں ! یہ ہیں وہ لوگ کہ جنہیں مظلوم عورتیں ‘ بوڑھے اور بچے کافروں کے ظلم سے تنگ آ کر پکاررہے ہیں‘ اپنی مدد کے لئے بلارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے یوں فریا د کنا ں ہوتے ہیں :<br />
<br />
وَاجعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیَّاً<br />
<br />
وَاجعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیراً<br />
<br />
” اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی ولی بھیج- اپنی جناب سے کوئی مدد گار بھیج -“<br />
<br />
اورپھر یہ ولی .... صحیح مسلم میں اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کے مطابق ” یطیر علی متنہ “ گھوڑے کے دوش پر اڑتا ہوا پہنچتا ہے اور” یَبتَغِی القَتلَ مَظَانَّةً “<br />
<br />
مو ت کو موت کی جگہوں سے تلاش کرتا ہے - شہادت پانے کے لئے بے تاب ہوتا ہے - تو یہ ہیں جناب اللہ کے سچے ولی - ان کو کون نہیں مانتا ؟ اور کون انکی گستاخی کرسکتا ہے ؟<br />
<br />
امیر حمزہ کی کتاب مذہبی اور سیاسی باوے سے ماخوذ</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/">توحید</category>
			<dc:creator>عبداللہ حیدر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA%E2%80%8C-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D9%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%E2%80%8C-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-41291/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[بچے [ از شفیق الرحمٰٰن ]]]></title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%A8%DA%86%DB%92-%5B-%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86-%5D-41290/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 14:06:34 GMT</pubDate>
			<description>بچے 
 
ایک صاحب جو...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Blue"><br />
<div align="center"><font size="7">بچے</font></div><br />
ایک صاحب جو غالباً شکاری تھے اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے کہ کس طرح وہ جنگل میں چُھپتے پھر رہے تھے اور ایک شیر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ بچے طرح طرح کے سوال پوچھ رہے تھے۔ <br />
شیر کا رنگ کیسا تھا؟ <br />
آپ کی شیر سے دشمنی تھی کیا؟<br />
 شیر دُبلا تھا یا موٹا؟ <br />
آپ نے شیر کی کمر پر لٹھ کیوں نہیں مارا؟ <br />
کیا آپ ڈرپوک تھے جو شیر سے ڈر رہے تھے؟<br />
<br />
۔۔۔۔ وہ تھوڑی سی بات کرتے اور سب بچے چلّا کر پوچھتے، <br />
پھر کیا ہوا؟ <br />
اور ساتھ ہی بے تُکے سوالات کی بوچھاڑ ہو جاتی۔ وہ بالکل تنگ آ چکے تھے۔<br />
 ایک مرتبہ بچوں نے پھر پوچھا کہ<br />
 پھر کیا ہُوا؟<br />
&quot; پھر کیا ہونا تھا۔&quot; وہ اپنے بال نوچ کر بولے۔ &quot; پھر شیر نے مجھے کھا لیا۔&quot;<br />
اور بچوں نے تالیاں بجائیں۔ ہپ ہپ ہرے کیا۔ ایک ننھا اپنا ڈھول اٹھا لایا اور ساتھ ہی لکڑی کا نصف گھوڑا، جسے آری سے کاٹا گیا تھا۔ اس گھوڑے کا نام لوئی ساڑھے تین تھا۔ انہوں نے وجہ بتائی کہ پہلے انہوں نے اُسے کسی دوست کے ساتھ مل کر خریدا تھا۔ تب اس کا نام لوئی ہفتم تھا۔ دونوں‌دوستوں کی لڑائی ہوئی تو گھوڑے کو آری سے آدھا آدھا تقسیم کیا گیا۔ چنانچہ اس کا نام لوئی ساڑھے تین رکھ دیا گیا۔<br />
<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔<br />
<br />
<br />
اُدھر بچوں نے ہمیں پریشان کر دیا۔ ایک پوچھتا تھا، بھائی جان چڑیا گھر کو چڑیا گھر کیوں کہتے ہیں؟ دوسرا یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ یہ چیتے اور شیر وغیرہ سرکس سے پہلے کیا کیا کرتے تھے؟ ایک کا غبارہ اُڑ گیا۔ وہ یہ دریافت فرما رہے تھے کہ کششِ ثقل  نے غبارے کو روکا کیوں نہیں؟ کششِ ثقل سے اُن کا اعتبار اُٹھ چلا تھا۔<br />
ایک بچے نے بتایا کہ اس نے ایک شخص دیکھا تھا جس کا نصف چہرہ بالکل سیاہ تھا۔<br />
&quot;یہ کیسے ہو سکتا ہے؟&quot; روفی نے پوچھا۔<br />
&quot;اس کا بقیہ نصف چہرہ بھی سیاہ تھا۔&quot;      achay:<br />
ایک بزرگ فرما رہے تھے۔ &quot; جب میں چھوٹا سا تھا تو اس قدر نحیف تھا ، اتنا کمزور تھا کہ میرا وزن چار پونڈ تھا۔ مجھے دنیا کی بیماریوں نے گھیرے رکھا۔&quot;<br />
&quot;تو کیا آپ زندہ رہے تھے؟&quot; ایک ننھے نے دریافت کیا۔<br />
ایک خاتون فرما رہی تھیں۔&quot; اس وقت اپنے ملک میں ہم جاگ رہے ہیں، لیکن امریکہ کے بعض حصوں میں لوگ سو رہے ہوں گے۔&quot;<br />
&quot; سُست الوجود کہیں کے۔&quot; ایک ننھے نے بات کاٹی۔<br />
<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
<br />
دوسرے کمرے سے ایک بچے نے صدائے احتجاج بلند کی اور نعرہ لگایا۔ ہم بھاگ کر پہنچے تو دیکھا کہ دو بچے لڑ رہے ہیں۔ <br />
بڑا چھوٹے کی خوب تواضع کر رہا تھا۔ مشکل سے دونوں کو علیحدہ کیا۔ دادی جان کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ لڑائی کی تفصیل بیان کی جا رہی تھی۔ چھوٹا بچہ ڈینگیں مار رہا تھا کہ میں نے یہ کیا ، میں نے وہ کیا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ <br />
&quot; میں نے اس کو پکڑ کر اپنے اوپر گرا لیا اور اپنی ناک اس کے دانتوں میں دے دی۔ پھر میں نے اس کی کُہنی اپنی پسلیوں میں چبھو دی اور دھڑام سے اس کا مُکہ اپنی کمر میں رسید کیا۔ پھر زور سے اس کا تھپڑ اپنے منہ پر مارا۔ پھر میں نے اس کی ٹھوکر جو اپنے سینے میں لگائی ہے تو بس۔۔&quot;<br />
<br />
<font size="4">اقتباس از  حماقتیں کرنل شفیق الرحمٰن<br />
<br />
یونی کوڈ بہ شکریہ <a href="http://www.urduweb.org" target="_blank">UrduWeb Home Page</a></font><br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/">مزاحیہ ادب</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%A8%DA%86%DB%92-%5B-%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86-%5D-41290/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ایر بلیو ہوائی جہاز کےکریش کی مزید تصویریں</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%D8%B1-%D8%A8%D9%84%DB%8C%D9%88-%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%DB%92%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D8%B4-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA-41289/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 14:05:27 GMT</pubDate>
			<description>ایر بلیو کے طیارے کا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ایر بلیو کے طیارے کا کریش پاکستان کی ایوایشن تاریخ کایہ سب سے بڑا اور بہت افسوس ناک حادثہ ہے۔ اس کے متعلق ہم سب بہت سے سوالوں کا جواب ڈھونڈنا چاہتے ہیں مگر یہ جواب ملنے میں کچھ وقت لگے گا۔<br />
<br />
میں یہاں آپ کیلیےکچھ تصویریں پیش کر رہا ہوں امید ہے کہ یہ اس حادثے پر  کچھ روشنی ڈالنے کیلےمفید ہونگی۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32737-abc-1-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32737</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32738-abc-2-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32738</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32739-abc-3-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32739</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32740-abc-4-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32740</a><br />
<br />
اس تصویر  پر Ali Mujtaba کا کمنٹ</div><div align="left"><font color="Navy"><i><font size="4">I have photographed AP-BJB eleven times since 2006 on approach to RWY 12. This was my very first shot of the ill-fated aircraft</font></i></font></div>.<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32743-abc-5-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32743</a></div></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32737d1280411922-abc-1-jpg" rel="Lightbox_301428" id="attachment32737" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32737d1280411922t-abc-1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	abc 1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	71.5 KB
ID:	32737" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32738d1280411944-abc-2-jpg" rel="Lightbox_301428" id="attachment32738" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32738d1280411944t-abc-2-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	abc 2.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	55.5 KB
ID:	32738" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32739d1280411962-abc-3-jpg" rel="Lightbox_301428" id="attachment32739" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32739d1280411962t-abc-3-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	abc 3.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	51.7 KB
ID:	32739" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32740d1280411984-abc-4-jpg" rel="Lightbox_301428" id="attachment32740" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32740d1280411984t-abc-4-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	abc 4.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	43.1 KB
ID:	32740" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32743d1280412849-abc-5-jpg" rel="Lightbox_301428" id="attachment32743" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32743d1280412849t-abc-5-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	abc 5.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	93.6 KB
ID:	32743" /></a>
&nbsp;<br /><br />

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>Nasiwise</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%D8%B1-%D8%A8%D9%84%DB%8C%D9%88-%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%DB%92%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D8%B4-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA-41289/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سچے ولی کی چند علامتیں</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/%D8%B3%DA%86%DB%92-%D9%88%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA-41288/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 14:00:59 GMT</pubDate>
			<description>جن معنو ں اور مفاہیم میں...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>جن معنو ں اور مفاہیم میں اللہ تعالیٰ ولی ہیں‘ ان معنوں میں دوسرا کوئی ولی نہیں ہے -باقی مومن بھی ولی ہیں مگر وہ ولی ان معنوں میں ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے کام آنے والے -خوشی اور غم میں ساتھ دینے والے ہوتے ہیں اور سب سے بڑی مدد گار ی یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رکھتے ہیں-چنانچہ ان معنوں میں دیکھئے ان اولیاءکرام کی صفات حمیدہ.... کہ وہ ولی کیسے ہوتے ہیں ؟<br />
<font face="Arial"><font size="4"><br />
<font color="DarkRed">وَالمُومِنُونَ وَالمُومِنَاتُ بَعضُھُم اَولِیَاء بَعضٍ یَا مُرُ و نَ بِالمَعرُوفِ ِوَ یَنھَون َ عَنِ المُنکَرِ وَ یُقِیمُو نََ الصَّّلٰو ةَ وَ یو تُو ن َ الزَّ کا ة َ وَ یُطِیعُون َ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ اُ ولٰٓئِکَ سَیَرحَمُھُمُ اللَّہُ اِ نَّ اللَّہََ عَزِیز حَکِیم</font></font></font><br />
<br />
<font color="Blue">&quot; مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں- وہ نیکی کاحکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ا ور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کرتے ہیں - ان لوگوں پر اللہ ہرصورت رحم فرمائے گا- بلاشبہ اللہ غالب حکمت والاہے -</font><br />
<br />
( التوبہ : 81)<br />
<br />
<font color="Red"><b>قارئین کرام ! اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوا کہ ولی وہ ہے جو !</b></font><br />
<br />
( 1) نیکی کی تلقین کرے<br />
<br />
(2) برائی سے روکے<br />
<br />
(3) نماز قائم کرے<br />
<br />
(4) زکوٰة اداکرے<br />
<br />
(5) اللہ کی اطاعت کرے<br />
<br />
(6) رسول کی اطاعت بجالائے<br />
<br />
یہ چھ خصوصیات جن میں پائی جا ئیں وہ ولی ہیں اور مومنین جو ان خصوصیات کے حامل ہیں -ولی ہیں -قرآن و حدیث میں یہ کہیں نہیں آیا کہ ولی وہ ہوتے ہیں جن سے کرامات کا صدور ہو - جھوٹے سچے قصے ان کے بارے میںمعروف ہوں- حیرت ہے کہ آج ولیوں کا ایک گروہ پیدا ہوگیا اور بعض ولی نسل در نسل چلتے ہیں - باپ مرگیا تو بیٹا گدی نشین بن کر ولی بن گیا - پھر پوتا بن گیا‘ یوں ولیوں کی نسلیں پید ا ہوگئی ہیں اور ہوتی چلی جارہی ہیں -<br />
<br />
<font color="DarkGreen"><b>یاد رکھئے ! ولیوں کو ماننے کامطلب یہی ہے کہ جو شخص مندرجہ بالا چھ خصوصیا ت کا حامل ہو‘ اس کے بارے میںحسن ظن رکھا جائے کہ وہ اللہ کاولی ہے -باقی ہم کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے کہ وہ اللہ کا ولی ہے کیونکہ اللہ اپنے جس بندے کو ولی بنائے گا تو مندرجہ بالا خصوصیات کی بناءپر بنائے گا- اس نے کس کو بنایا ہے اور کس کو نہیں بنایا ہمیں کچھ معلوم نہیں- </b></font>اور یہ یاد رکھئے ! کہ ہم جس شخص کے بارے میںحسن ظن کرکے اسے اللہ کا ولی یعنی اللہ کا دوست سمجھتے ہیں تو اسے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت میں دوسرے معنوں میںقرآن و حدیث کے ا حکامات کی روشنی میں ہمیں نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے توہم اس کے اس وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھائیں اس پر عمل کریں اور ایسا کرنے والے کی عزت و توقیر کریں‘ اس کا احترام کریں -<br />
<br />
لیکن احترام کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اللہ کا شریک بنا کر اس کی پوجا پہ لگ جائیں -ا س کے مرنے پر اس کی قبر کو عبادت گاہ اور میلہ گاہ بنالیں-اس بات کو ایک دوسرے انداز سے یوں سمجھیں کہ ماں بھی عورت ہے اور بیوی بھی عورت ہے - ماں کا اس قدر بلند مقام ہے کہ اللہ نے قرآن میں متعدد مقامات پر جہاں اپنی بندگی کا ذکر کیا اس کے فوراً بعد ماں باپ کی اطاعت کا تذکرہ کیا - وجہ یہ ہے کہ اللہ نے بندے کو پیدا کیا تو پیدائش کاسبب ماں باپ کوبنایا - اللہ نے پھر ان دونوں میں بھی ماں کے مقام کو مقدّ م رکھا اور فرمایا: کہ وہ بچے کو نوماہ تک.... تکلیف اٹھائے پیٹ میںاٹھا ئے پھرتی ہے- اسی لئے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی ایک نوجوان کو جو نصیحت کی تو ماں کے اکرام کی بات تین بار کی جب کہ باپ کا ذکر ایک بار کیا- اب اگر کوئی ناداں یوں کرے کہ بیوی کی محبت میںمبتلا ہوکر اس قدر آگے چلا جائے - اس کی عزت و توقیر میں اس حدتک چلا جائے کہ بیوی کو ماں کہنا شروع کردے“ تو کیا ہوگا ؟ لامحالہ ! اس کا نکاح خطرے سے دوچار ہوجائے گا ‘ محض بیوی کوماں کہنے سے ‘ اب بیوی کے ساتھ وہ خاص تعلق اور رشتہ کھو بیٹھے گاجو خاوند اور بیوی کاہوتا ہے - بالکل جناب والا! ....اسی طرح اگر کوئی مرید اپنے پیر اور مرشدکی محبت میںمبتلا ہو کراسے ایسا ولی بنا ا ڈالے کہ اسے مشکل کشا ‘ داتا اور دستگیر کہنا شروع کردے تو یقینا اس کا ایمان خطرے سے دوچار ہو جائے گا - وہ شرک کا مرتکب ہوجائے گا - <br />
(امیرحمزہ کی کتاب &quot;مذہبی اور سیاسی باوے سے اقتباس)</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/">توحید</category>
			<dc:creator>عبداللہ حیدر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF/%D8%B3%DA%86%DB%92-%D9%88%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA-41288/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>کیا تھا??? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%94%DB%94%DB%94-41287/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 11:38:17 GMT</pubDate>
			<description>باد صرصر کی کرامات سے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>باد صرصر کی کرامات سے پہلے کیا تھا<br />
یہ نہ پوچھو کہ یہاں رات سے پہلے کیا تھا<br />
<br />
اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے<br />
جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا تھا<br />
<br />
اے سمندر تری آنکھیں ہیں یہاں سب سے پرانی<br />
اس جزیرے پہ مکانات سے پہلے کیا تھا<br />
<br />
اے زمیں‌کتنی پرانی ہے یہ نیلی چادر<br />
تیرے شانوں پہ سماوات سے پہلے کیا تھا<br />
<br />
عشق اعلان سے پہلے تھا شناور کیا چیز<br />
حسن اظہار خیالات سے پہلے کیاتھا<br />
<br />
شناور اسحاق<br />
<br />
<br />
ا</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/">شعر و شاعری</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%94%DB%94%DB%94-41287/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>دعا برائے مرحومین طیارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A2%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DA%A9%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C/%D8%AF%D8%B9%D8%A7-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-41286/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 10:11:07 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم: 
 
       ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم:<br />
<br />
              بھائیوں اور بہنو،اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے دیکھنے والے تو مومنین کو ایک دوسرے پر محبت،مودت اور رحمت میں دیکھے گا جیسا کہ ایک جسم ہوتا ہے،جب ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسرا بھی متاثر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  <br />
              کل طیارے کے حادثے میں فوت ہونے والوں میں سے چند ایک کو چھوڑ کر سب ہی مسلمان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لازم ہے کہ ہم ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہوں اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
<br />
     <font color="Blue">یا اللہ تمام مومنین مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرما اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرما اور اپنی رضا پر راضی فرما دے۔</font><br />
امین۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A2%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DA%A9%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C/">آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A2%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DA%A9%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C/%D8%AF%D8%B9%D8%A7-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-41286/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>تعلیمی ادارے کی ویب ایپلیکیشن/سائیٹ بنوانی ہے!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%DB%8C%D9%BE%D9%84%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%B9-%D8%A8%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%92-41285/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 09:26:45 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم دوستوں،...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم دوستوں،<br />
میرے ایک دوست ایک ایسی ویب ایپلیکیشن بنوانا چاہتے ہیں جس کے ذریعے مختلف ممبرز اپنی اپنی یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ سے لاگ ان ہو کرخود کو اسائن کردہ مختلف قسم کے کام کرسکیں۔<br />
<br />
ایک تعلیمی ادارے کی بُنیادی ویب ایپلیکیشن/سائیٹ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ویب ایپلیکیشن/سائیٹ میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہوئی چاہیئں۔<br />
<br />
1۔ مختلف یوزرزمثلا ٹیچرز، آفس اسٹاف، ڈومیسٹک اسٹاف، میٹیننس اسٹاف، ایڈمن اسٹاف نیز اکاﺅنٹنٹ وغیرہ اپنے اپنے یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ سے لاگ ان ہونے کے بعد خود کو اسائن کردہ مختلف کاموں کی تفاصیل دیکھ سکیں، کام مکمل ہونے کی کی انٹری کرسکیں، ایک دوسرے کو ای میل کرسکیں۔<br />
<br />
2۔ اس ویب ایپلیکیشن/سائیٹ کے ذریعے بچوں کے والدین کے ای میل ایڈریسسز پر ایک ہی وقت میں یا سلیکشن بنا کر ای میل کی جاسکے۔<br />
<br />
3۔ اس ویب ایپلیکیشن/سائیٹ کے ایڈمنز/ایڈمنسٹریٹر اپنی مرضی کی رپورٹس (پی ڈی ایف شکل میں) پرنٹ کرسکیں۔<br />
<br />
4۔ مختلف برانچز کے اکاﺅنٹنٹس اپنی اپنی برانچ کے اکاﺅنٹس کی بکنگ/پوسٹنگ کرسکیں اور ایڈمنسٹریٹر رئیل ٹائم میں یہ انٹریز دیکھ سکے اور اُن کو پرنٹ بھی کرسکے۔ اکاؤنٹس سے متعلقہ ٹرائل بیلنس، لیجرز، کیش بک وغیرہ بھی اس سافٹ وئیر میں بنائی جا سکیں۔<br />
<br />
5۔ مختلف یوزرزمثلا ٹیچرز، آفس اسٹاف، ڈومیسٹک اسٹاف، میٹیننس اسٹاف، ایڈمن اسٹاف نیز اکاؤنٹنٹ اپنی ضروریات مثلا اسٹیشنری و دیگر سامان وغیرہ کی ریکوزیشنز ڈال سکیں اور متعلقہ محکمے کو یہ اطلاع بروقت مل سکے۔<br />
<br />
6۔ ہر قسم کی انٹری کا آٹومیٹک ریکارڈ بنے اور بوقت ضرورت اُس ریکارڈ کو &quot;ڈیٹ وائز&quot; یا &quot;کیوری&quot; کی شکل میں پرنٹ کیا جاسکے۔<br />
<br />
اگر کوئی دوست یا صاحب اس ایپلیکیشن/سائیٹ کے بنانے میں کسی بھی قسم کی مدد کرسکتے ہوں تو برائے کرم [shafresha@yahoo.com] پر اپنے پچھلے کام کی تفصیل اور معلومات سے آگاہ کریں اور ساتھ ہی اس کام کی قیمت بھی بتا دیں، بہت بہت مہربانی ہوگی۔<br />
<font color="DarkRed"><u><b><br />
نوٹ:</b></u></font> بات ہونے پر ایک تعلیمی ادارے کی ویب سائیٹ بطور نمونہ دیکھائی جاسکتی ہے۔<br />
<br />
شکریہ!</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/">سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%DB%8C%D9%BE%D9%84%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%B9-%D8%A8%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%92-41285/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[خبردار یہ پہلی دفعہ ہے [دجلہ۔ از کرنل شفیق الرحمٰٰن]]]></title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%DB%81-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%AF%D9%81%D8%B9%DB%81-%DB%81%DB%92-%5B%D8%AF%D8%AC%D9%84%DB%81%DB%94-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86%5D-41284/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 07:13:51 GMT</pubDate>
			<description>اگلے روز منصورنے پوچھا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Blue"><br />
اگلے روز منصورنے پوچھا کہ اب ایک صحرانشیں شیخ سے ملوگے، میں نے بدوؤں کی مہمان نوازی کی کہانیاں سنی تھیں کہ جو بدو شہروں سے دور صحرا میں رہتے ہیں وہ واقعی مہمانوں کو سرآنکھوں پر لیتے ہیں ۔کوئی آجائے تو یہ کبھی نہیں کہاجاتا کہ صاحب گھر میں نہیں ہیں،یانہارہے ہیں بلکہ یہ شعر پڑھاجاتاہے<br />
 اے ہمارے معزز مہمان آپ دور سے تشریف لائے ،<br />
ہماری عزت افزائی ہوئی۔<br />
لیکن حقیقت یہ ہے کہ<br />
 ہم مہمان ہیں اورآپ صاحب خانہ۔<br />
 (مہمان بھی شرافت سے کام لیتاہے اوراگلی صبح کو روانہ ہوجاتاہے)<br />
ایسے موقعوں پر میزبان کی بیوی کا نام نہیں لیاجاتا (اگر وہ ڈنر میں شامل نہ ہو تواسے دقیانوسی نہیں سمجھاجاتا)اتفاقااس کاذکرآجائے تو مہمان ادب سے اسے العیال کہتے ہیں۔<br />
یہ بھی سنا تھا کہ بدو کی دعوت ہمیشہ قبول کرلینی چاہئے۔ایک مرتبہ کسی شیخ نے ایک غیر ملکی کو شادی کی تقریب پر مدعو کیا اس نے معذوری ظاہر کی اورمعافی مانگ لی۔چنانچہ صحیح تاریخ پر اسے اغواکرلیاگیا اوردعوت میں شامل کرکے بعد میں واپس بھیج دیاگیا۔اگلے روز اسے شیخ کا خط ملا جس میں شمولیت کاشکریہ اداکیاگیاتھا۔<br />
شیخ کا دعوت نامہ آیاتوہم سب بھول گئے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد نخلستان آیا،شیخ ہمارامنتظرتھا۔ اسّی کے لگ بھگ عمر،تانبے جیسارنگ،کشادہ سینہ مسکراتاہواچہرہ،بتیس دانتوں میں سے ایک بھی مصنوعی نہیں تھا اس جوان بوڑھے کو دیکھ کر ہم جوانوں پر بڑھاپاطاری ہوگیا۔کئی مؤدب ملازم کھڑے تھے لیکن وہ کسی کو ہمارے قریب نہ آنے دیتا ،خود سگریٹ پیش کرتا، سلگاتا،راکھدانی سامنے رکھتا،شربت بناکر دیتا۔ پھر ہم سب کو دوسرے کمرے میں لے گیا دروازہ بند کرکے الماری کھولی&quot;میں خود تواس سے محروم ہوں لیکن معزز مہمان شوق فرمائیں&quot;،اس نے انگریزی میں مخاطب ہوکر کہا۔ الماری میں وہسکی اورسوڈے کی بوتلیں تھیں جن پر گرد جمع تھی۔ طشت میں برف کی ڈالیاں تھیں سب خاموش ہوگئے ،کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا۔<br />
ضیافت بے حد پرتکلف تھی لیکن اس نے ایک لقمہ نہ چکھا مہمانوں کے سامنے چیزیں رکھتارہا اوراتنی دیر تک کھڑارہا۔<br />
&quot;اس عمر میں ایسی قابل رشک صحت کاراز کیاہے&quot;برٹن نے پوچھا ۔(جس کے آدھے حصے سے زیادہ دانت مصنوعی تھے)<br />
&quot;نخلستان میں کئی ایسے ہیں جو مجھ سے بڑے اورمجھ سے زیادہ تندرست ہیں&quot;<br />
&quot;منصور کہتاہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی بے حد خوشگوار رہی ہے۔ شادی ہوئے ساٹھ برس گزرگئے لیکن کبھی ام العیال سے لڑائی نہیں ہوئی۔ آپ نے یہ معرکہ کیسے مارا؟&quot;برٹن نے پوچھا۔<br />
میں اپنے کام میں مصروف رہتاہوں وہ اپنے کام میں‌لگی رہتی ہے۔اس کی نوبت ہی نہیں آتی۔<br />
&quot;آپ چھپارہے ہیں کوئی وجہ تو ضرور ہوگی&quot;۔<br />
&quot;مدتیں گزری ایک معمولی ساواقعہ پیش آیاتھا میں بے حد مفلس تھا۔ کسی سے اونٹنی مانگ کر شادی کرنے گیا ۔سادہ سی رسم کے بعد بیوی کو اونٹنی پر بٹھاکر واپس روانہ ہوا ایک جگہ اونٹنی بلاکسی وجہ کے مچلنے لگے بہتراپیارتھپتھپایالیکن قابومیں نہ آئی۔نیچے اتر کر مہارکھینچی۔ بڑی مشکل سے سیدھی ہوئی۔ تواسے تنبیہ کی۔<br />
<b>&quot; اونٹنی!یہ حرکت پہلی دفعہ کی ہے۔ پھر مت کرنا۔ &quot;</b><br />
ہم روانہ ہوئے بمشکل آدھ میل گئے ہوں گے کہ جھاڑیوں سے چند پرندے اڑے اوروہ بدک کر کودنے لگے میں چھلانگ لگاکر نیچے اترا، بڑی مصیبتوں سے اسے رام کیا۔اوراس کے سامنے کھڑے ہوکر کہا<br />
<b>&quot; خبردار اونٹنی!یہ دوسری دفعہ ہے۔ &quot;</b><br />
آگے ایک کھیٹ میں ذرا ذرا پانی کھڑاتھا وہ پھر مستیاں کرنے لگی میں نے کندھے سے بندوق اتار کر وہیں ہلاک کردیا۔ بیوی یاتواب تک بالکل گونگی تھی یایکلخت بر س پڑی۔ مجھے خردماغ ،ظالم اوربیوقوف کہاکہ طیش میں آکر اپنانقصان کرلیا۔ میں نے سب کچھ سن کر اسے تنبیہ کی ۔<br />
<b>&quot;خبرداربیوی!یہ پہلی دفعہ ہے۔&quot;</b><br />
 حضرات ساٹھ برس گزرگئے اوردوسری مرتبہ خبردار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ <br />
<br />
<br />
<font size="4">اقتباس از دجلہ ،مصنف شفیق الرحمان</font></font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/">مزاحیہ ادب</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%DB%81-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%AF%D9%81%D8%B9%DB%81-%DB%81%DB%92-%5B%D8%AF%D8%AC%D9%84%DB%81%DB%94-%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D9%84-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%B0%D9%86%5D-41284/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ائیر بلو کے سانحے کی تصاویر!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%B1-%D8%A8%D9%84%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AD%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-41283/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 06:40:23 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں دیکھیئے ائیر بلو...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں دیکھیئے ائیر بلو کے سانحے کی تصاویر!<br />
اللہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32645d1280385572-airblue-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32646d1280385581-airblue-1-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32647d1280385587-airblue-2-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32648d1280385594-airblue-3-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32649d1280385600-airblue-4-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%B1-%D8%A8%D9%84%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AD%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-41283/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>50+50 = 75 ـــــــــــ کیسے  ! @ #$٪٭</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92-%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA-%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92/50-50-%3D-75-%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%40-%24%D9%AA%D9%AD-41282/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 06:28:35 GMT</pubDate>
			<description>کیا پچاس جمع پچاس برابر...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="DarkRed">کیا پچاس جمع پچاس برابر پچھتر ہوسکتے ہيں <br />
<font size="7">50+50=75</font><br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<font size="6"><font color="Red">؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  ؟  </font></font><br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<img src="http://t2.gstatic.com/images?q=tbn:Z8yeaYO7p9TcyM:http://www.feelwelcome.co.uk/illusion/Spiral.gif" border="0" alt="" /><br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<font size="7">سوچیں !  !  !  !  </font><br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
<br />
اس کا جواب یوں ہے  کہ <br />
جب آپ فی صد کا حساب کرتے ہيں <br />
<br />
مثال کے طور پر ایک چیز ۱۰۰ روپے  کی قیمت  میں فروخت ہوتی ہے ۔<br />
۵۰ فیصد رعایت  کا ایک کوپن ملتا ہے <br />
اور اس  کے بعد بقایا قیمت پر مزید ۵۰ فی صد رعایت ملے تو <br />
دو مرتبہ ۵۰ فی صد رعایت ملنے کے بعد <br />
مجموعی طور پر  ۷۵ فی صد رعایت ملی <br />
<br />
<br />
تو ہوانا <br />
50+50 = 75<br />
<br />
<br />
adab:<br />
__adab:<br />
____adab:<br />
_______adab:<br />
__________adab:<br />
_____________adab:<br />
________________adab:<br />
<br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92-%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA-%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92/">آئیے ذہانت آزمائیے</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%DB%92-%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA-%D8%A2%D8%B2%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92/50-50-%3D-75-%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80%D9%80-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%40-%24%D9%AA%D9%AD-41282/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت</title>
			<link>http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-41281/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 06:20:42 GMT</pubDate>
			<description>’’مذہبی داستانیں اور ان...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>’’مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت‘‘ از علامہ حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی<br />
<a href="http://www.alqlmlibrary.org/ScanBook/Religion/hrkmdastanainp1djvu.zip" target="_blank">http://www.alqlmlibrary.org/ScanBook...nainp1djvu.zip</a><br />
یہ کتاب DJVU فارمیٹ میں ہے۔مطالعے کے لیے پلگ ان یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔<br />
<a href="http://sourceforge.net/project/showfiles.php?group_id=32953&amp;package_id=78509" target="_blank">Browse DjVuLibre Files on SourceForge.net</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/">کتاب گھر</category>
			<dc:creator>گوندل</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%AF%DA%BE%D8%B1/%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-41281/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[زیرِ زمین گاؤں [ماٹماٹا]]]></title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%5B%D9%85%D8%A7%D9%B9%D9%85%D8%A7%D9%B9%D8%A7%5D-41280/</link>
			<pubDate>Thu, 29 Jul 2010 06:06:50 GMT</pubDate>
			<description>آج کل کے ترقی کرتے  دور...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="DarkRed">آج کل کے ترقی کرتے  دور میں جہاں لوگ <br />
اپنی رہائش گاہوں کو زمین سے زیادہ سے زیادہ اونچا بنانے کی کوشش کرتے ہيں <br />
<br />
وہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو بجائے <br />
اوپر کی طرف جانے کے نیچے کی طرف جا رہے ہيں <br />
یعنی زمین کو کھود کر سطح زمین سے نیچے کی طرف گھر بنا رہے ہيں <br />
<br />
ایسا ہی ایک گاؤں شمالی تیونس کے بربر یوں کا ہے <br />
نام ہے جس کا  &quot; ماٹماٹا &quot;<br />
یہ ویڈیو ہے ہوٹل سدی دِرس کی <br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/Dy7KHGFHq00"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/Dy7KHGFHq00" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
</font></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32637d1280383402-01-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32638d1280383471-02-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32639d1280383501-03-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32640d1280383519-04-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32641d1280383530-05-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%AF%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%5B%D9%85%D8%A7%D9%B9%D9%85%D8%A7%D9%B9%D8%A7%5D-41280/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان کے خلاف کارروائی کیلئے ”را“ کے 12 سو اہلکار افغانستان میں تعینات</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A6%DB%92-%E2%80%9D%D8%B1%D8%A7%E2%80%9C-%DA%A9%DB%92-12-%D8%B3%D9%88-%D8%A7%DB%81%D9%84%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA-41278/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 23:24:11 GMT</pubDate>
			<description>*کراچی (رپورٹ: جاوید...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Red"><b>کراچی (رپورٹ: جاوید رشید) جنگ کو اپنے خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ”را“ نے پاکستان میں کارروائی کیلئے اپنے 12 سو سے زائد اہلکار افغانستان کے شہروں کابل، قدھار، جلال آباد اور ہرات کے مشنوں میں تعینات کر دیئے ہیں۔ ان اہلکاروں نے امریکا، برطانیہ، روس اور اسرائیل کی انٹیلی جنس سے تربیت حاصل کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز ”را“ افغان ڈیسک کے کمانڈروجے کمار ڈالیا نے افغانستان کے ان چاروں شہروں میں ”را“ کے اہلکاروں سے اپنے مشنوں میں ملاقات کی۔ کہا جارہا ہے کہ بھارت سرکار نے امریکا ، برطانیہ اور روس کے اشتراک اور اسرائیل کی حمایت سے پاکستان کے خلاف آنے والے دنوں میں کارروائی کیلئے کام شروع کردیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چاروں ممالک کی بدنام زمانہ ایجنسیوں نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستان کی طرف کردیا ہے۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کیلئے ”سی آئی اے“ اور ”موساد“ تعاون فراہم کررہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کوڈ تھری ٹو 222 کے تحت آپریشن بلوچستان کو براستہ دبئی، کراچی کو براستہ، ساؤتھ افریقہ کوڈ فور اسکوائر، وزیرستان اور وانا اور دیگر قبائل کیلئے کوڈ پیروت اور ناٹو طے کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کو مزید بڑھاوا دیا جائیگا اور فورسز کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ جبکہ اہم اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ”را“ کے سینئر عہدیدارنے اپنے دورے افغانستان میں امریکا، روس اور افغان انٹیلی جنس اہلکاروں اور پاکستان کو مانیٹر کرنے والے انچارجز سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بھارتی ”را“ افغانستان میں ”آئی ایس آئی“ کے اہداف پر اپنا ورک کریگی۔ جبکہ دیگر خفیہ فورسز بھارت کی معاونت کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ”را“ کے وجے کمار ڈالیا نے جرمن انٹیلی جنس سے تربیت حاصل کی ہے۔ ان دنوں افغانستان میں سی آئی اے اہلکار جرمن انٹیلی جنس پر خاص اعتماد کرتے ہیں۔</b></font><br />
<br />
<font color="DeepSkyBlue">روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>گلاب خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A6%DB%92-%E2%80%9D%D8%B1%D8%A7%E2%80%9C-%DA%A9%DB%92-12-%D8%B3%D9%88-%D8%A7%DB%81%D9%84%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA-41278/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ملک بھر کے وائس چانسلرز کا اجلاس، فیسوں میں اضافہ کا فیصلہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%85%D9%84%DA%A9-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%B3-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%B3%D9%84%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%8C-%D9%81%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41277/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 23:20:17 GMT</pubDate>
			<description>*اسلام آباد (وقائع نگار)...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Red"><b>اسلام آباد (وقائع نگار) ملک کی 52 سرکردہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرنے حکومت سے تعلیمی وترقیاتی منصوبوں کو چلانے کیلئے بھاری فنڈز مانگ لئے ہیں۔ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے اہم منصوبے بند ہونے کا خطرہ ہے۔ اجلاس میں فیسوں میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وائس چانسلرز نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ہائر ایجوکیشن کا28 ارب روپے کا بحٹ بحال کیا جائے30 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فراہم کئے جائیں وائس چانسلر نے ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ جناح یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سعیدہ اسد اللہ نے کہا کہ حکومت یونیورسٹیوں کو وافر فنڈز فراہم کرے۔ فاطمہ یونیورسٹی میں ترقیاتی منصوبے ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ ادارہ پیسوں کیلئے عدالتوں سے رجوع کر دیا ہے ہمیں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مد میں سات ارب روپے دیئے جائیں۔</b></font><br />
<br />
<font color="DeepSkyBlue">روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>گلاب خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%85%D9%84%DA%A9-%D8%A8%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%B3-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%B3%D9%84%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%8C-%D9%81%DB%8C%D8%B3%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41277/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>لاڑکانہ کی ایئر ہوسٹس بہنیں ایئرہوسٹس بہن کی میت لے کر کراچی روانہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%84%D8%A7%DA%91%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%B3%D9%B9%D8%B3-%D8%A8%DB%81%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1%DB%81%D9%88%D8%B3%D9%B9%D8%B3-%D8%A8%DB%81%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%AA-%D9%84%DB%92-%DA%A9%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81-41276/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 22:49:58 GMT</pubDate>
			<description>*اسلام آباد (وقائع نگار)...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Red"><b>اسلام آباد (وقائع نگار) ایئر بلو کے بدقسمت طیارے کی ایئر ہوسٹسز کے نام جویریہ فیروز، ام حبیبہ، حنا اور ناہید بھٹی تھا جبکہ پانچویں ایئر ہوسٹس شازیہ ڈیوٹی کے بغیر سفر کر رہی تھیں اور وہ پی آئی اے میں ایئر ہوسٹسوں امینہ، غزالہ، شاہینہ کی بہن تھی۔ چاروں بہنوں کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور پی آئی اے میں انہیں شہید بینظیر بھٹو نے بھرتی کیا تھا بدقسمت شازیہ نے ایئر بلو کی اسلام آباد سے انٹرنیشنل فلائٹ سے جانا تھا شازیہ کی بہنیں اپنی بہن کا جسد خاکی لے کر کراچی روانہ ہو گئیں۔</b></font><br />
<br />
<font color="DeepSkyBlue">روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>گلاب خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%84%D8%A7%DA%91%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%B3%D9%B9%D8%B3-%D8%A8%DB%81%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1%DB%81%D9%88%D8%B3%D9%B9%D8%B3-%D8%A8%DB%81%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%AA-%D9%84%DB%92-%DA%A9%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%81-41276/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ہنی مون پر جانیوالے دو جوڑے بھی زندگی کی بازی ہار گئے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DB%81%D9%86%DB%8C-%D9%85%D9%88%D9%86-%D9%BE%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%AF%D9%88-%D8%AC%D9%88%DA%91%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C-%DB%81%D8%A7%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%92-41275/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 22:45:32 GMT</pubDate>
			<description>*اویس اور رومیہ کی شادی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center"><b><font color="RoyalBlue">اویس اور رومیہ کی شادی 25 جبکہ آصف شہزاد اور عائشہ کی شادی 23 جولائی کو ہوئی تھی</font></b></div><br />
<font color="Red"><b>کراچی (عبدالماجد بھٹی، سٹاف رپورٹر) اسلام آباد کے طیارہ حادثہ میں کراچی سے ہنی مون منانے کیلئے جانے والا دو نوبیاہتا جوڑے بھی جاں بحق ہوگئے۔ اویس خان اور رومیہ خان کی شادی 25 جولائی کو جبکہ آصف شہزاد اور عائشہ کی شادی 23 جولائی کو ہوئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر میں آصف شہزاد کے گھر میں ابھی شادی کے شادیانوں کی گونج برقرار تھی،سہروں کے پھول ابھی تازہ تھے اور ان کی خوشبو نے پورے گھر کو معطر کررکھا تھا لیکن شادی کے چو تھے ہی دن جہاں خوشیاں رقصاں تھیں وہ گھر ماتم کدہ بن گیا ۔ اپنی نئی زندگی کا سفر خوشگوار انداز سے یادگار بنانے کیلئے ہنی مون پر کراچی سے اسلام آباد جانے والا نوبیاہتا جوڑا بدقسمتی سے ایئر بلو کے طیارے میں المناک حادثے کا شکار بن گیا۔ آصف شہزاد اور عائشہ کی شادی جمعے کو اور ولیمہ پیر کو ہوا تھا۔ ولیمے کے بعد جوڑا اپنے دوست احباب سے ملنے کے بعد اسلام آباد اور مری جارہا تھا لیکن یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔آصف شہزاد سعودی عرب کے شہر دمام میں ملازمت کرتے تھے اور شادی کیلئے چند دن پہلے پاکستان آئے تھے۔عائشہ کی کزن اور بچپن کی دوست اور چچا زاد بہن مسز زاہد کا کہنا ہے کہ کل ہی دونوں سے میرے گھر والوں کی ملاقات ہوئی تھی میں بدقسمتی سے ان سے مل نہیں سکی تھی۔جس کا زندگی بھر افسوس رہے گا۔لیکن یہ سانحہ اس قدر اچانک اور ہولناک ہے کہ اس کا یقین نہیں آر ہا ہے۔شادی والے گھر میں ڈھول کی تھاپ اور ہنگامہ ختم ہی نہیں ہوا تھا کہ یہ خاندان اس المناک سانحے سے دوچار ہوگیا۔دونوں کی موت کا کسی کو یقین نہیں ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ عائشہ اپنے مخصوص انداز میں اچانک برآمد ہوجائیگی۔چونکہ کسی نے دونوں کی میت نہیں دیکھی ہے اس لئے موت کا یقین نہیں آرہا ہے۔عائشہ اور آصف کے والدین حیات ہیں اور دونوں کے والدین پر غشی کے دورے پڑرہے ہیں۔آصف کی عمر 32سال تھی۔اس کا ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔عائشہ کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ان کی عمر29سال تھی۔انہوں نے کہا کہ میں گذشتہ پندرہ دن سے عائشہ کے ساتھ ساتھ رہی۔کزن ہونے کی وجہ سے مہندی ،مایوں اور شادی کی دیگر رسومات میں ،میں پیش پیش رہی لیکن یہ المناک سانحہ خواب دکھائی دیتا ہے۔گھر والے جو شادی کی وجہ سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔اب ان پر سکتہ طاری ہے۔ طیارے میں جاں بحق ہونے والے دوسرے جوڑے اویس خان اور رومیہ خان کی شادی تین دن پہلے ہوئی تھی یہ دونوں گلشن اقبال کے علاقے عابد ٹاؤن کے رہائشی تھے۔ اویس کے بھائی عثمان اور آصف احمد نے بتایا کہ وہ گھر سے خوشی خوشی روانہ ہوئے تھے اور آج صبح ہم سب نے انہیں رخصت کیا ۔ بھائی اور بھابھی اسلام آباد سے مری اور دیگر تفریحی مقامات پر جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ذہن میں درہ برابر بھی خیال نہیں تھا کہ ایئرپورٹ سے روانہ ہونے کے بعد وہ ہم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ جائیں گے۔</b></font><br />
<br />
<font color="DeepSkyBlue">روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>گلاب خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DB%81%D9%86%DB%8C-%D9%85%D9%88%D9%86-%D9%BE%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%AF%D9%88-%D8%AC%D9%88%DA%91%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%DB%8C-%DB%81%D8%A7%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%92-41275/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>قیامت صغرٰی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا اھلی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D8%B5%D8%BA%D8%B1%D9%B0%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D9%86%D8%A7-%D8%A7%DA%BE%D9%84%DB%8C-41274/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 20:42:03 GMT</pubDate>
			<description>مسافر بردار طیارے کا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>مسافر بردار طیارے کا حادثہ اسلام آباد میں واقع مارگلہ پہاڑی کی ایک ایسی چوٹی پر پیش آیا جس تک پہنچنے کے لیے نہ تو کوئی سڑک تھی اور نہ ہی کوئی ٹریک۔ حادثے کے مقام تک ناہموار اور اونچی نیچی ڈھلانوں اور پگڈنڈیوں کے ذریعے ہی جایا جا سکتا ہے۔<br />
<br />
بعض مقامات پر یہ پگڈنڈیاں بھی نہیں ہیں اور صرف جھاڑیاں پکڑ کی مزید اوپر جانا ممکن ہو سکتا ہے۔<br />
<br />
اس پر مسلسل بارش سے ہونے والی پھسلن صورتحال کو اور مشکل کر رہی تھی۔ اس صورتحال میں پولیس کے ارکان، امدادی کارکن، عام شہری اور صحافی خاموشی سے جائے حادثہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔<br />
<br />
ان کی تعداد کافی کم تھی اور وہ ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر چل رہے تھے۔ راستے میں پیچھے سے کسی امدادی کارکن کی آواز آتی: ’بھائی صاحب! رکیں، ہمیں بھی آگے جانا ہے‘۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد مشکل ڈھلان یا چڑھائی آ جاتی اور امدادی کارکن کھڑے ہو کر آگے جانے کا مناسب راستہ تلاش کرتے ہوئے نظر آتے۔<br />
<br />
لیکن ان امدادی کارکنوں میں سے صرف چند ایک کے پاس ایسے ضروری آلات تھے جو ایسی صورتِ حال میں ضروری ہوتے ہیں باقی لوگ اپنے حوصلے کی بنا پر ہی بڑھ رہے تھے۔<br />
<br />
جیسے جیسے حادثے کا مقام کے قریب آ رہا تھا راستہ اور بھی کٹھن ہوتا جا رہا تھا۔ کچھ جگہ تو امدادی کارکنوں کی مدد کے بغیر چڑھائی سر کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔<br />
<br />
آخر وہ جگہ آ گئی جہاں سے فضا میں تیل، دھویں اور انسانی اعضا کے جلنے کے ملی جلی بو محسوس ہونے لگی۔<br />
<br />
خیال تھا کہ جائے حادثہ پر بھرپور امدادی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہوں گی لیکن ایسا نہیں تھا۔ بہت کم تھے جو امدادی کام کر رہے تھے زیادہ تر صرف جہاز کے ملبے کی طرف دیکھ رہے تھے جس کا زیادہ تر حصہ آگ کی لپیٹ میں تھا لیکن کچھ بڑے بڑے ٹکڑوں کی آگ بجھ چکی تھی۔<br />
حادثہ<br />
<br />
چند ہی منٹ بعد آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر آیا اور دو چکر لگانے کے بعد واپس چلا گیا۔<br />
<br />
میں حادثے کےمقام تک تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد پہچنا تھا لیکن وہاں امدادی کارکنوں سے زیادہ اسلام آباد پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اہلکار نظر آئے۔<br />
<br />
<font color="Red">چند لحموں کے بعد اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بنیامین نے بلند آواز میں کہا کہ امدادی کارروائیاں شروع کی جانی چاہیں۔ اتنا کہہ کر وہ ملبے کی جانب چلے گئے لیکن ان کے ساتھ نہ تو امدادی کارکن گئے اور نہ ہی اسلام آباد پولیس کا کوئی اہلکار۔ ڈی آئی جی نے ملبے کے ڈھیر کے اوپر سے، جس کے نیچے نہ جانے کتنے لوگوں کے پیارے دبے ہوئے تھے، غصے میں کہا کہ لگتا ہے کہ سب کو بلانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑے گا۔<br />
<br />
اس کے بعد آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں کہ چلیں جی امدادی کارروائیاں شروع کریں۔<br />
</font><br />
اس کے بعد فوراًً بعد ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے بلند آواز میں کہا کہ ہیلی کاپٹر آگ بجھانے کے لیے پانی لے کر آ رہا ہے سب ایک طرف ہو جائیں۔ امدادی کام رک گیا۔ چند ہی منٹ بعد آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر آیا اور دو چکر لگانے کے بعد واپس چلا گیا۔<br />
<br />
<font color="Red">اس دوران ایک بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی کہ مختلف سرکاری اداروں کے امدادی کارکنوں میں کسی قسم کا رابط نہیں تھا اور نہ ہی اس جگہ امدادی کارروائیوں کی کوئی نگران اتھارٹی نظر آئی۔</font><br />
<br />
ڈی آئی جی سے جب پوچھا کہ کتنے افراد کی لاشوں یا زخمیوں کو باہر نکلا جا چکا ہے تو انھوں نے کہا کہ بتایا جا رہا کہ پانچ افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ان کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ زندہ تھے کہ نہیں۔<br />
<br />
ان سے جب پوچھا کہ کیا جہاز کا سارا ملبہ اسی جگہ پر ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ کچھ چوٹی اور چوٹی کی دوسری جانب بھی ہے۔ تو کیا وہاں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ ہاں وہاں بھی امدادی کارکن کام کر رہے ہیں۔<br />
<br />
کارکنوں کی تعداد اور نگرانی کرنے والے کے بار ے میں اس وقت جائے حادثہ پر موجود سب سے سینیئر افسر کو بھی نہیں معلوم تھا۔<br />
حادثہ<br />
<br />
کچھ دیر بعد ہیلی کاپٹر دوبارہ آیا اور اوپر ایک عدد رسی اور تھیلا پھینکا جس میں کفن تھے۔<br />
<br />
ہیلی کاپٹر سے پانی گرانے کا اعلان دو بار کیا گیا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد کچھ امدادی کارکنوں نے دوبارہ کام شروع کیا۔ اور جہاز کا وہ ملبہ جو آگ کی زد میں نہیں آیا تھا ہٹا کر مسافروں کی تلاش شروع کر دی۔<br />
<br />
اسی دوران چند امدادی کارکنوں نے جائے حادثے کے سامنے والے حصوں کو کلہاڑی کے ذریعے کاٹنا شروع کیا۔ یہ عمل جاری تھا کہ نیچے سے ایک الیکڑک کٹر پہنچ گیا جس کی مدد سے دو تین درختوں کو کاٹنے میں آسانی ہوئی۔<br />
<br />
اس کے کچھ دیر بعد ہیلی کاپٹر دوبارہ آیا اور اوپر ایک عدد رسی اور تھیلا پھینکا جس میں کفن تھے۔<br />
<br />
وہاں گزرنے والے تقریباً دو گھنٹوں میں انسانی لوتھڑوں کی تین عدد گٹھڑیاں بن چکی تھیں جن میں نجانے کتنے مسافروں کے اعضا تھے۔ ان اعضا کی حالت ناقابلِ بیان ہے۔ جاں بحق پونے والوں کی شناخت کسی کے لیے بھی ممکن نہیں تھی۔<br />
<br />
پھر ہیلی کاپٹر سے پھینکے گئے کفن جنھیں بیگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا ختم ہو گئے اور لوگوں سے کہا گیا کہ ان کے پاس چادر یا اس طرح کی کوئی بھی چیز ہو تو اسے دے دیں۔<br />
<br />
اسی دوران ایک امدادی کارکن کی آواز آئی ’یہ دیکھیں جلے ہوئے ہاتھ میں انگوٹھی، معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاتون مسافر کی لاش ہے‘۔<br />
<br />
لیکن اس لاش کے اوپر جہاز کا ایک بھاری ٹکڑا پڑا ہوا تھا جسے ہٹانا امدادی کارکنوں کے لیے آسان نہیں تھا۔<br />
<br />
ایک جھلسی ہوئی لاش اسی دوران پہاڑ کے بالائی حصے پر سے نیچے لائی گئی۔ یہ پہلی لاش تھی جس کے لیے وہاں موجود گنتی کے چند سٹیچرز میں سے ایک کا استعمال ہوا۔<br />
حاثہ<br />
<br />
گنتی کے سٹریچر تھے جن کے استعمال کی نوبت کم ہی آئی۔<br />
<br />
شاید وہاں موجود امدادی کارکنوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری آلات اور مشنری کی عدم موجودگی اور جہاز کے بڑے ٹکڑوں میں لگی آگ کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں اندازے سے زیادہ وقت درکار تھا اس لیے وائرلیس پر پیغام نشر کیے جا رہے تھے کہ ایمرجنسی لائٹیں چاہیں۔<br />
<br />
سست روی اور بے ترتیب امدادی کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے جب واپسی کا سفر شروع کیا تو عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد جائے حادثے کی جانب جانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دی۔ کوئی پھسل رہا تھا تو کوئی اوپر سے نیچے آنے والوں سے پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے؟<br />
<br />
کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک جگہ چند سرکاری امدادی کارکن نظر آئے۔ انھوں نے ایک گندے سے کپڑے میں لاش لپیٹ رکھی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اب تک ملنے والی یہ پہلی لاش ہے جس کا چہرہ قابل شناخت ہے۔ اور یہ لاش جائے حادثہ سے کافی نیچے ایک درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔<br />
<br />
ان سے پوچھا کہ وہ لاش کو کاندھے پر رکھ کر کیوں لے کر جا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اوپر جائے حادثہ پر ہی امدادی سامان پورا نہیں ہے تو نیچے ہمارے پاس کیا ہو گا۔<br />
<br />
خیر وہاں سے جب اوپر سڑک پر پہنچا تو ہر طرف فوجی اہلکار نظر آئے۔ میں چڑھائی کی وجہ سے مسلسل ہانپ رہا تھا۔ ان سے پہلا سوال کیا کہ پانی ملے گا؟<br />
<br />
جواب ملا: ’ کہاں گئے تھے؟<br />
<br />
جواب دیا: کیوں، اپنی شناخت دکھاؤں؟<br />
<br />
سوال: کچھ ملا؟<br />
<br />
اس کے بعد ایک دو سوال، جس کے جواب کے بعد ہی ایمبولنس میں بٹنے والے پانی سے پیاس بجھانے کا موقع مل سکا۔<br />
<br />
<font color="Red">پانی پیتے پیتے خیال آیا کہ اتنی پھُرتیاں اگر امدادی کاموں میں دکھائی جاتیں تو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کہ وہاں سے کچھ ملا کہ نہیں۔<br />
</font><br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
بحوالہ بی بی سی</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D8%B5%D8%BA%D8%B1%D9%B0%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D9%86%D8%A7-%D8%A7%DA%BE%D9%84%DB%8C-41274/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>دوبئی روزگار کیلے جانے سے پہلے یہ ویڈیو رپورٹ دیکھ لیں</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88-%D8%B1%D9%BE%D9%88%D8%B1%D9%B9-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%D9%84%DB%8C%DA%BA-41273/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 19:13:04 GMT</pubDate>
			<description>اگر آپ یا آپکے جاننے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اگر آپ یا آپکے جاننے والے کوئی صاحب دوبئی روزگار کیلیے جانا چاہتے ہیں تو یہ ویڈیو دیکھیں۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32631-indicate-gif" target="_blank">منسلکہ فائل 32631</a><br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/&lt;object width=&quot;640&quot; height=&quot;385&quot;&gt;&lt;param name=&quot;movie&quot; value=&quot;http://www.youtube.com/v/4rWFgQHwIgk&amp;amp;hl=en_GB&amp;amp;fs=1&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;param name=&quot;allowFullScreen&quot; value=&quot;true&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;param name=&quot;allowscriptaccess&quot; value=&quot;always&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;embed src=&quot;http://www.youtube.com/v/4rWFgQHwIgk&amp;amp;hl=en_GB&amp;amp;fs=1&quot; type=&quot;application/x-shockwave-flash&quot; allowscriptaccess=&quot;always&quot; allowfullscreen=&quot;true&quot; width=&quot;640&quot; height=&quot;385&quot;&gt;&lt;/embed&gt;&lt;/object&gt;"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/&lt;object width=&quot;640&quot; height=&quot;385&quot;&gt;&lt;param name=&quot;movie&quot; value=&quot;http://www.youtube.com/v/4rWFgQHwIgk&amp;amp;hl=en_GB&amp;amp;fs=1&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;param name=&quot;allowFullScreen&quot; value=&quot;true&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;param name=&quot;allowscriptaccess&quot; value=&quot;always&quot;&gt;&lt;/param&gt;&lt;embed src=&quot;http://www.youtube.com/v/4rWFgQHwIgk&amp;amp;hl=en_GB&amp;amp;fs=1&quot; type=&quot;application/x-shockwave-flash&quot; allowscriptaccess=&quot;always&quot; allowfullscreen=&quot;true&quot; width=&quot;640&quot; height=&quot;385&quot;&gt;&lt;/embed&gt;&lt;/object&gt;" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object></div><br />
 اس سے آپکو پتہ چلے گا کہ وہاں معاشی بحران کی وجہ سے پاکستان سے مزدوری کیلے جانے والے کچھ مظلوموں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے   <a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32629-irrt-1-gif" target="_blank">منسلکہ فائل 32629</a><br />
<br />
 یہ آجکی الجزیرا پر ویڈیو  رپورٹ میں نے  پاک نیٹ کے ساتھیوں کی معلومات کیلیے یو ٹیوب پر اپلوڈ کی ہے۔ میں اسے ایک مختصر عرصے کیلے اپلوڈ کر رہا ہوں جیسے ہی یہ دھاگہ ان ایکٹیو ہو گا ویڈیو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا <a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32630-king-gif" target="_blank">منسلکہ فائل 32630</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32629d1280343998-irrt-1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32630d1280344052-king-gif" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32631d1280344199-indicate-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>Nasiwise</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%AF%D9%88%D8%A8%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88-%D8%B1%D9%BE%D9%88%D8%B1%D9%B9-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%D9%84%DB%8C%DA%BA-41273/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان، کب اور کیسے طیارے تباہ ہوئے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D8%8C-%DA%A9%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-41272/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 19:09:19 GMT</pubDate>
			<description>فضائی حادثوں کی بین...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>فضائی حادثوں کی بین الاقوامی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام آباد میں ایئر بلیو کے طیارے کا کریش پاکستانی سرزمین پر ہونے والا اب تک سب سے جان لیوا حادثہ تھا۔<br />
<br />
بدھ کی صبح عملے سمیت ایک سو باون افراد سے بھری ائر بس تین سو اکیس مارگلہ پہاڑیوں سے جا ٹکرائی۔<br />
<br />
پاکستان میں مسافر طیارے کا حادثہ چار سال بعد پیش آیا ہے۔ اس سے قبل دس جولائی سن دو ہزار چھ کو سرکاری ہوائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کا فوکر طیارہ ملتان ائر پورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اُس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوئے جن میں ہائی کورٹ کے دو جج، فوج کے دو بریگیڈئر اور بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی شامل تھے۔<br />
<br />
جنیوا میں بین الاقوامی فضائی حادثوں اور ہنگامی مواقع پر نظر رکھنے والے نجی دفتر، ’ائر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس‘ کے مطابق پاکستانی سرزمین پر اب تک تینتیس جان لیوا فضائی حادثے ہوئے ہیں جن میں پانچ سو اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔<br />
سرکاری ہوائی کمپنی پاکستان اٹرنیشنل ایئر لائنز یا ابتداء میں پاک ائر ویز، کو گیارہ حادثے اندرونِ ملک ہی پیش آئے جن میں سے پانچ حادثے فوکر طیاروں کے تھے۔ سن دو ہزار چھ میں ملتان کا فوکر طیارے کا حادثہ پی آئی اے کی تاریخ کا اندرونِ ملک سب سے جان لیوا حادثہ تھا جس کے بعد فوکر طیاروں کا استعمال بند کر دیا گیا۔<br />
<br />
پاکستان میں اب تک فوجی مسافر طیاروں کے دس حادثے پیش آئے ہیں۔ آخری حادثہ پاکستان ائر فورس کے فوکر طیارے کا تھا جو بیس فروری سن دو ہزار تین کو پیش آیا۔ کوہاٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے اس طیارے میں اس وقت کے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل مصحف علی میر سترہ افسران سمیت مارے گئے تھے۔<br />
پاکستانی فضائیہ کے لیے اب تک مال بردار طیارے ہرکولیس سی ون تھرٹی سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے ہیں جن میں خصوصی کیپسول رکھ کر مسافروں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہرکولیس سی ون تھرٹی کے چار حادثوں میں سے سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والا حادثہ قابلِ ذکر ہے جو اس وقت کے صدر اور فوجی آمر جنرل ضیاء الحق سمیت تیس اہم شخصیات اور فوجی افسران کی موت کا سبب بنا۔<br />
<br />
پاکستانی سرزمین پر گزشتہ تریسٹھ برس میں غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کے نو فوجی اور غیر فوجی مسافر بردار طیاروں کو حادثے پیش آئے ہیں۔ ان میں سے تین حادثوں میں افغانستان کے مسافر بردار طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ تیرہ جنوری انیس سو اٹھانوے کو افغان ہوائی کمپنی آریانا ایئر کا مسافر طیارہ خوژک پہاڑی سلسلے میں توبہ اچکزئی کے علاقے میں گرا۔ اس حادثے میں اکاون مسافر ہلاک ہوئے اور یہ اٹھائیس جولائی دو ہزار دس سے پہلے تک پاکستانی سرزمین پر سب سے زیادہ جان لیوا فضائی حادثہ تھا۔<br />
<br />
نو جنوری سن دو ہزار دو کو امریکی ائر فورس کا ہرکولیس سی ون تھرٹی بلوچستان کی شمسی ائر بیس کے قریب گر کر تباہ ہوا اور سات مسافروں کی موت کا سبب بنا۔ یہ پاکستان میں کسی غیر ملکی طیارے کا آخری حادثہ تھا۔<br />
<br />
چوبیس فروری سن دو ہزار تین میں ایدھی ائر ایمبولینس کا سیسنا چار سو دو طیارہ کراچی کے قریب آٹھ مسافروں کی موت کا سبب بنا۔<br />
<br />
دارالحکومت اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں اٹھائیس جولائی سن دو ہزار دس کو اندرونِ ملک ہونے والا حادثہ کسی کمرشل نجی ہوائی کمپنی کا پہلا اور ملکی تاریخ کا سب سے جان لیوا فضائی حادثہ ہے۔<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100728_plian_crash_hills_pak.shtml" target="_blank"><br />
بحوالہ بی بی سی</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>پاکستانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D8%8C-%DA%A9%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-41272/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>طیارہ حادثہ،2امریکیوں سمیت متعدد اہم شخصیات جاں بحق:</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%81%D8%8C2%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%AA-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%AF-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%B4%D8%AE%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%AD%D9%82-41271/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 19:01:02 GMT</pubDate>
			<description>اسلام آباد(اُردوپوائنٹ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اسلام آباد(<a href="http://daily.urdupoint.com/featured_135342_1_2.html" target="_blank">اُردوپوائنٹ</a>)اسلام آباد میں تباہ ہونے والے طیارے میں متعدد اہم افراد موت کی آغوش میں چلے گئے جے یو آئی اٹک کے امیر نواب الحسن، ائرہوسٹس ناہید بھٹی، یوتھ پارلیمنٹ کے رکن پریم چند اورمونا ڈومکی کے جسد خاکی شناخت کرلئے گئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں وزارت سائینس و ٹیکنالوجی کے جوائینٹ ٹیکنیکل ایڈوائزر نبیل لطفی بھی سوار تھے جو کراچی میں پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس اسلام آباد جارہے تھے، دو امریکی شہری اور ایسٹریلوی سائنسدان مرکو بھی بد قسمت طیارے کے مسافر تھے، مرکو ، نسٹ یونیورسٹی میں لیکچر دینے اسلام آباد جا رہے تھے۔مسلم لیگ ن سندھ کے میڈیا کو آرڈی نیٹر عبدالغنی سوریانی، تحصیل تلہ گنگ کے سابق یوسی ناظم ملک سکندر اور تحصیل تلہ گنگ کے سابق یوسی ناظم ملک سکندر بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ یوتھ پارلیمنٹ کے نو عمر ارکان رباب نقوی، پریم چند، اویس بن لئیق، بلال جامی، حسن جاوید اور ارسلان احمد بھی بد قسمت طیارے کے مسافر تھے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی خواتین فٹبال ٹیم کی رکن میشا داؤد بھی موت کی آغوش میں جا پہنچیں، آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افضال مسعود جنرل سیکریٹری عطاء اللہ ہاشمی اور فنانس سیکریٹری محبوب وزیر اور کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر عین الآغا بھی حادثے کا شکار ہوئے۔کشمور کے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چار افراد موناڈومکی، افشاں ڈومکی ، عامرڈومکی اور ملیح ڈومکی بھی حادثے کا شکار ہوئے۔۔ جہاز میں دو سگے بھائی سہیل رشید اور عاطف رشید بھی سوار تھے، طیارے کے عملے میں جہاز کے پائلٹ کیپٹن پرویز اقبال چوہدری تھے جو پہلے پی آئی اے کے پائلٹ تھے اور تقریبا پینتیس ہزار فلائنگ ہاورز مکمل کر چکے تھے، کو پائلٹ منتجب الدین احمد تھے جنہوں نے انیس سو تیرانوے میں پاکستان ائیرفورس جوائن کی تھی۔ دو سال پہلے پی اے ایف سے فراغت حاصل کی اور ایک سال پہلے ائیربلو جوائن کی۔ کیبن کیو میں شازیہ رزاق، ام حبیبہ، ناہید اور حنا عثمان شامل تھیں۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>پاکستانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%81%D8%8C2%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%AA-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%AF-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%B4%D8%AE%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%AD%D9%82-41271/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>اپنی تصاویر کا اسکیچ بنائیں!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%86-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-41270/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 18:57:16 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں السلام علیکم،...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں السلام علیکم،<br />
ہمارے دوست <font color="Navy">&quot;wajee&quot;</font> نے اپنے ایک تھریڈ:<br />
<a href="!35012!http://pak.net/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9%88%D8%A8-%D9%81%D9%88%D9%B9%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D9%BE/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%B9%D9%88%D9%86-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%88-35012/" target="_blank">http://pak.net/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9...7%D9%88-35012/</a><br />
میں ایڈوب فوٹو شاپ میں‌تصاویر کو کارٹون<font color="Navy"> (میرے خیال میں‌اسکیچ)</font> بنانے کا طریقہ بتایا تھا، شاید سب ساتھی ایسا آسانی سے نا کرپائیں۔<br />
<br />
لیجیئے حاضر ہے <font color="Navy">&quot;Instant Photo Sketch&quot;</font>۔<br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32620-0015ee32_medium-png" target="_blank">منسلکہ فائل 32620</a><br />
<br />
اس کے ذریعے بھی آپ اپنی تصاویر کو باآسانی منٹوں میں<font color="Navy">‌&quot;اسکیچ&quot;</font> میں‌تبدیل کرسکتے ہیں۔<br />
<br />
مندرجہ ذیل لنکس سے ڈاؤن لوڈ‌ کیجیئے:<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32624-indi-gif" target="_blank">منسلکہ فائل 32624</a><br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32621-instantphotosketchsetup-part1-rar" target="_blank">منسلکہ فائل 32621</a><br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32622-instantphotosketchsetup-part2-rar" target="_blank">منسلکہ فائل 32622</a><br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32623-instantphotosketchsetup-part3-rar" target="_blank">منسلکہ فائل 32623</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32620d1280342951-0015ee32_medium-png" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32624d1280343142-indi-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Files</legend>
			<table cellpadding="0" cellspacing="3" border="0">
			<tr>
	<td><img class="inlineimg" src="http://pak.net/images/fauna/attach/rar.gif" alt="File Type: rar" width="16" height="16" border="0" style="vertical-align:baseline" /></td>
	<td><a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32621d1280343022-instantphotosketchsetup-part1-rar" target="_blank">InstantPhotoSketchSetup.part1.rar</a> (1.79 MB)</td>
</tr><tr>
	<td><img class="inlineimg" src="http://pak.net/images/fauna/attach/rar.gif" alt="File Type: rar" width="16" height="16" border="0" style="vertical-align:baseline" /></td>
	<td><a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32622d1280343081-instantphotosketchsetup-part2-rar" target="_blank">InstantPhotoSketchSetup.part2.rar</a> (1.79 MB)</td>
</tr><tr>
	<td><img class="inlineimg" src="http://pak.net/images/fauna/attach/rar.gif" alt="File Type: rar" width="16" height="16" border="0" style="vertical-align:baseline" /></td>
	<td><a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/32623d1280343121-instantphotosketchsetup-part3-rar" target="_blank">InstantPhotoSketchSetup.part3.rar</a> (1.62 MB)</td>
</tr>
			</table>
		</fieldset>
	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/">سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DB%8C%DA%86-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-41270/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان کے قومی پرچم نئے انداز میں</title>
			<link>http://pak.net/14%D8%A7%DA%AF%D8%B3%D8%AA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D9%BE%D8%B1%DA%86%D9%85-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2-%D9%85%DB%8C%DA%BA-41269/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 16:06:38 GMT</pubDate>
			<description>پاکستان کے قومی پرچم نئے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center">پاکستان کے قومی پرچم نئے انداز میں<br />
<img src="http://i27.tinypic.com/2yl1c77.jpg" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://i26.tinypic.com/8x4kl3.jpg" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://i31.tinypic.com/2my6b5u.jpg" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://i25.tinypic.com/ayq8wo.jpg" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://i26.tinypic.com/ir83y8.jpg" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://i32.tinypic.com/287q8t3.jpg" border="0" alt="" /></div></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/14%D8%A7%DA%AF%D8%B3%D8%AA/">14اگست</category>
			<dc:creator>عدنان دانی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/14%D8%A7%DA%AF%D8%B3%D8%AA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D9%BE%D8%B1%DA%86%D9%85-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2-%D9%85%DB%8C%DA%BA-41269/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان: 247 خودکش حملوں میں 5550 افراد ہلاک</title>
			<link>http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-247-%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4-%D8%AD%D9%85%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-5550-%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-41268/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 11:08:18 GMT</pubDate>
			<description>پاکستان: 247 خودکش حملوں...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font size="6"><font face="Garamond"><div align="center"><font color="Red"><font color="Green">پاکستان</font>: 247 خودکش حملوں میں 5550 افراد ہلاک</font></div> </font></font><font face="Garamond"><br />
 <br />
<font color="DarkOrange"><font size="3">2010-07-17 19:38:50 :تاریخ اشاعت</font></font>  <br />
<br />
<font color="Magenta">وزیر خارجہ قریشی نے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 600 غیر ملکی کمپنیاں کا م کررہی ہیں جواس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ملک میں اب بھی سرمایہ کاری کے لیے مناسب ماحول موجود ہے اور مزید کمپنیاں یہاں آ کر کام کر سکتی ہیں جس سے نہ صرف اقتصادی صورت حال میں بہتری آئے گی بلکہ اس سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔</font><br />
<br />
<font color="DarkOrange"><font size="4">محمد اشتیاق | اسلام آباد17.07.10</font></font><br />
<br />
<font color="Red">پاکستان نے کہا ہے کہ گذشتہ نو سالوں کے دوران ملک میں ہونے والے 247 خودکش حملوں میں 5550 سے زائد افراد ہلاک اور سات ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین ہزار عام شہری جب کہ 2550 سکیورٹی فورسز کے اہلکا ر ہیں۔</font><br />
<br />
<font color="Olive">یہ اعداد وشمار وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں پاکستان کے دوست ممالک پر مشتمل فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان فورم میں شامل سینیئر عہدیداروں کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں بتائے۔</font><br />
<br />
<font color="Teal">شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گذشتہ نوسالوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 43 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جب کہ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری بھی بری طرح متاثر ہو ئی ہے۔</font><br />
<br />
<b><font color="Red">شاہ محمود قریشی امریکی خصوصی نمائندے کے ہمراہ </font></b><br />
<font color="DarkRed">پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا جائزہ لینے اور اُنھیں پورا کرنے کے لیے ہفتے کے روز اسلام آباد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت امریکہ سمیت پاکستان کے دوست ممالک پر مشتمل فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان فورم کے اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سمیت دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کو توانائی کے بحران سے متعلق مرتب کردہ اُس رپورٹ کا جائزہ لیا گیا جسے حتمی منظوری کے لیے رواں سال اکتوبر میں بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے وزراتی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔</font><br />
<br />
<font color="Navy">حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی تیار کردہ اس مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ تین سالوں کے دوران 6700 میگاواٹ بجلی کی پیدوار کے لیے7.7 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی ۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ترجیحاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے نجی شعبے کی طرف سے 14 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔</font><br />
<br />
<font color="Red">وزیر خارجہ قریشی نے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 600 غیر ملکی کمپنیاں کا م کررہی ہیں جواس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ملک میں اب بھی سرمایہ کاری کے لیے مناسب ماحول موجود ہے اور مزید کمپنیاں یہاں آ کر کام کرسکتی ہیں جس سے نہ صرف اقتصادی صورت حال میں بہتری آئے گی بلکہ اس سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔</font><br />
<br />
<font color="Sienna">پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے حالیہ برسوں میں مالاکنڈ ڈویژن بشمول سوات کے علاوہ ملک کے قبائلی علاقوں میں بھرپور آپریشن کیے ہیں اور ایک روز قبل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کور کمانڈروں کے اجلاس سے خطاب میں اس عزم کو دہرایا تھا کہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گی۔</font><br />
<br />
<font color="Purple">دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اتوار کو دوروزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہی ہیں۔ جہاں وہ اپنے وفد کے ہمراہ پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹیجک مذاکرات کے اجلاس میں شرکت کریں گی جس میں دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان جون اور جولائی میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان مذاکرات سے قبل پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی پاکستان پہنچے ہیں جہاں اُنھوں نے صدرآصف زرداری اور وزیرخارجہ شاہ محمود سے ملاقاتیں کی ہیں۔</font><br />
<br />
<a href="http://www.thepakistaninewspaper.com/urdunews.php?uID=4831" target="_blank"><u>بحوالہ خبر</u></a><br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/">پاکستان میں دہشت گردی</category>
			<dc:creator>کنعان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-247-%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4-%D8%AD%D9%85%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-5550-%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-41268/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پولیس افسرکی جگہ مولوی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DA%AF%DB%81-%D9%85%D9%88%D9%84%D9%88%DB%8C-41263/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 07:34:00 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>00000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32608d1280302427-7-28-2010_40053_1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DA%AF%DB%81-%D9%85%D9%88%D9%84%D9%88%DB%8C-41263/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>نجی ایئرلائن کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر گر کر تباہ ۔159مسافر سوار تھے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%86%D8%AC%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D9%85%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B1-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81-%DB%94159%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%92-41262/</link>
			<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 06:41:16 GMT</pubDate>
			<description>انا للہ وانا الیہ رجعون</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>انا للہ وانا الیہ رجعون</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32606d1280299251-7-28-2010_40053_1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%86%D8%AC%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%A6%D8%B1%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D9%85%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B1-%D8%AA%D8%A8%D8%A7%DB%81-%DB%94159%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%92-41262/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>لاہور واہگہ بارڈر ملٹری رینجر پریڈ</title>
			<link>http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DB%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%DB%81%DA%AF%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%88%D8%B1-%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D9%86%D8%AC%D8%B1-%D9%BE%D8%B1%DB%8C%DA%88-41261/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 23:54:48 GMT</pubDate>
			<description>لاہور واہگہ بارڈر ملٹری...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center"><font face="Garamond"><font size="6"><font color="Red">لاہور واہگہ بارڈر ملٹری رینجر پریڈ </font></font><br />
<br />
<font color="Blue">پاکستان میں جب بھی کوئی نیشنل ڈے ہوتا ھے تو لاہور بارڈر پر پبلک انٹری عام ہوتی ھے دونوں طرف سے گیٹ کھولے جاتے ہیں اور دونوں طرف سے پرچم کشائی ہوتی ھے۔ یہاں پر رینجر پریڈ کا سسٹم ایسا ھے کہ انتہائی سخت ترین غصہ کا مظاہرہ کرنا ہوتا ھے تو آئیں دیکھیں اس پریڈ میں کیا ہوا ھے۔ <font color="Green">پاکستان زندہ آباد</font> </font></font><br />
<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/qe-tgZDDFT4"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/qe-tgZDDFT4" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object></div></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DB%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2/">پاکستان کے ہیروز</category>
			<dc:creator>کنعان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DB%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%DB%81%DA%AF%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%88%D8%B1-%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D9%86%D8%AC%D8%B1-%D9%BE%D8%B1%DB%8C%DA%88-41261/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>برطانیہ: امیگریشن ادارہ پر نکتہ چینی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%85%DB%8C%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81-%DA%86%DB%8C%D9%86%DB%8C-41260/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 22:06:43 GMT</pubDate>
			<description>برطانیہ: امیگریشن ادارہ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font face="Georgia"><div align="center"><font size="6"><font color="Red">برطانیہ: امیگریشن ادارہ پر نکتہ چینی</font></font></div><br />
<font color="Blue">امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین کا کہنا ہے کہ اس لاپرواہی کو روکنے کے لیے کارروائی کی جا چکی ہے<br />
<br />
برطانیہ میں پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنےوالی امیگریشن نگران ایجنسی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے۔<br />
<br />
یہ بات برٹش بارڈر ایجنسی کے متعلق تفتیش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جان وائن نے کہی ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ویزے کے اجرا کے لیے متعدد درخواستیں ایس تھیں جو منظور نہیں کرنی چاہیے تھیں، وہ منظور کر لی گئیں جبکہ جو منظور کی جانے چاہیے تھیں، انہیں مسترد کر دیا گیا ہے۔<br />
<br />
امیگریشن کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کارروائی کی جا چکی ہے۔<br />
<br />
جان وائن کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کو جاری ہونے والے سو ویزوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔<br />
<br />
رپورٹ کے مطابق نومبر دو ہزار نو اور اس برس جنوری کے درمیان جن انچاس درخواستوں پر ویزوں کو منظوری ملی ان میں سے چھ ایسے تھیں جنہیں منظوری نہیں ملنی چاہیے تھی۔<br />
<br />
اس طرح کے ایک معاملے میں ریفرنس خط میں سپیلنگ کی کئی غلطیاں تھیں جبکہ بینک سٹیٹمینٹ میں جو رقم دکھائی گئی تھی وہ بڑی رقم کہاں سے آئی اس کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔<br />
<br />
اس طرح کے چھ معاملات کو مزید تفتیش کے لیے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔<br />
<br />
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ’برٹش بارڈر ایجنسی‘ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔<br />
<br />
جو لوگ برطاینہ جانا چاہتے ہیں ان میں پاکستانی شہریوں کی تیسری بڑی تعداد ہے۔ ویزا نظام کے تحت پہلے انہیں دو برس کام کرنے کی اجازت ملتی ہے پھر وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔<br />
<br />
جان وائن کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی طرف سے اب تک کی یہ سب سے ناکام کارکردگی ہے۔ انہوں نے ایجنسی پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ’بعض معاملات میں تو یہ بات نا قابل فہم تھی کہ آخر اس درخواست پر ویزا کیوں جاری کیا گیا جبکہ انہیں بنیادوں پر کئی دوسرے افراد کو ویزا نہیں دیا گیا تھا۔‘<br />
<br />
امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین نے اس رپورٹ پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے ’ اس سمت میں معیاری اقداما ت کو یقینی بنایا جائے گا۔ <br />
<br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100727_immigration_britain.shtml" target="_blank"><u>بحوالہ خبر</u></a></font><br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>کنعان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%85%DB%8C%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DA%A9%D8%AA%DB%81-%DA%86%DB%8C%D9%86%DB%8C-41260/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>فورم پر امریکہ یا کینڈا میں قیام پذیر کوئی صاحب</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%DB%8C%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%B3/%D9%81%D9%88%D8%B1%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D9%86%DA%88%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B0%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-41259/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 16:05:03 GMT</pubDate>
			<description>فورم پر کوئی ایسے صاحب...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>فورم پر کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جو امریکہ یا کینڈا میں قیام پذیر ہوں۔ مجھے اک چھوٹا سے کام ہے۔ اگر  کوئی صاحب مدد کرنے کے لیے انٹرسٹڈ ہوں تو وہ بتائیں۔<br />
کام میں‌ذاتی پیغام کے ذریعے بتاؤں گا۔<br />
والسلام۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%DB%8C%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%B3/">دیس ہوئے پردیس</category>
			<dc:creator>یاسر عمران مرزا</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%DB%8C%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%B3/%D9%81%D9%88%D8%B1%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D9%86%DA%88%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B0%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-41259/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[کرکٹ فلم " اقبال "]]></title>
			<link>http://pak.net/%D9%81%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7/%DA%A9%D8%B1%DA%A9%D9%B9-%D9%81%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-41258/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 12:22:37 GMT</pubDate>
			<description>کرکٹ کے موضوع پر بننے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="DarkRed">کرکٹ کے موضوع پر بننے والی انڈین  فلم &quot; اقبال &quot;<br />
<img src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/en/thumb/a/ad/Iqbal_poster.jpg/200px-Iqbal_poster.jpg" border="0" alt="" /><br />
20  جنوری 2006 کو ریلیز ہوئی <br />
کھل نائیک ، یادیں ، اعتراض اور حال ہی میں اوم شانتی اوم جیسی<br />
 شہرت یافتہ فلموں کے پیش کار<b> سبھاش گئی</b> نے یہ فلم<br />
کرکٹ کے موضوع پر ایک جدو جہد پربنائی  تھی ۔<br />
ڈائریکٹر تھے اس کے <b>ناگیش کوکنور</b><br />
مرکزی کردار ادا کیا تھا معروف سینئر اداکار نصیر الدین شاہ <br />
<img src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/en/thumb/0/00/Naseeruddin_Shah.jpg/220px-Naseeruddin_Shah.jpg" border="0" alt="" /><br />
اور ہیرو بطور &quot;اقبال &quot; تھے  اس وقت کے نو عمر اور ابھرتے ہوئے اداکار <br />
<img src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/en/thumb/6/6c/Shreyastalpade.jpg/220px-Shreyastalpade.jpg" border="0" alt="" /><br />
شیریاس تالپڑے (Shreyas Talpade)<br />
<br />
فلم کی کہانی ایک انڈین غریب گھرانے کے گونگےو بہرے لڑکے کے گرد گھومتی ہے <br />
جس کو کرکٹ کا جنون ماں سے وراثت میں ملا ہے <br />
 باپ کرکٹ سے زیادہ ذریعہ کھیتی باڑی کو اہمیت دیتا ہے ۔<br />
اور اپنے ذریعہ معاش میں مخلص بھی ہے اور محب وطن بھی <br />
وہ سمجھتا ہے کہ کرکٹ کا حب الوطنی سے کوئی تعلق نہيں <br />
مگر بیٹے کا دھیان کرکٹ کی طرف ہی ہے <br />
اور وہ اپنے جنون کے تحت اور ماں اور بہن کی مدد سے <br />
اپنے اس شوق کو پروان چڑھاتا ہے <br />
اور راہ میں آنے والی ناکامیوں اور مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے۔<br />
 اور اس کا  ساتھ دیتے ہيں سابق ناکام کرکٹر  موہِت جی  جو کہ <br />
اپنی زندگی نشے میں گھسیٹ رہے ہيں <br />
مگر اقبال کے کرکٹ کے  شوق اور دیوانگی کو دیکھتے ہوئے <br />
نہ صرف اس کو تربیت دیتے ہيں  بلکہ <br />
اس کے قدم قدم پر اس کو سہارا بھی دیتے ہیں ۔<br />
<br />
<br />
پارٹ 01/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/oQ7rc3tjEQs"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/oQ7rc3tjEQs" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 02/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/oj4SXjot89o"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/oj4SXjot89o" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 03/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/A9d9HL5uIlg"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/A9d9HL5uIlg" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 04/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/EXb3tMM_5ps"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/EXb3tMM_5ps" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 05/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/eNSUR-4jBjA"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/eNSUR-4jBjA" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 06/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/2xFZzcidHnI"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/2xFZzcidHnI" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 07/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/m01H90dNcug"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/m01H90dNcug" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 08/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/jnMQ7NTPUFM"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/jnMQ7NTPUFM" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 09/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/KBoCACJH8FE"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/KBoCACJH8FE" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 10/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/K7aKydQW8OA"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/K7aKydQW8OA" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 11/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/6Qn2WpEfwyA"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/6Qn2WpEfwyA" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 12/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/Tae9RAfRqO0"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/Tae9RAfRqO0" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 13/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/6_JOPJ_2pU8"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/6_JOPJ_2pU8" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
پارٹ 14/14<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/Jb3NBOyj8ag"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/Jb3NBOyj8ag" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
<br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%81%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7/">فلمی دنیا</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%81%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7/%DA%A9%D8%B1%DA%A9%D9%B9-%D9%81%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-41258/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>امریکہ میں معذور رکن نے کانگرنس کے اجلاس کی صدارت کی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B9%D8%B0%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%D9%86-%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%D9%86%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-41257/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 08:46:22 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>00000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32591d1280220364-p1-9_9-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B9%D8%B0%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%D9%86-%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%D9%86%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-41257/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[دیسی گانا پردیسی گرلز [دل سے رے ]]]></title>
			<link>http://pak.net/%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92/%D8%AF%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%84%D8%B2-%5B%D8%AF%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%DB%92-%5D-41256/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 08:34:15 GMT</pubDate>
			<description>اے آر رحمٰن کا ترتیب دیا...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="DarkRed">اے آر رحمٰن کا ترتیب دیا ہوا گانا <br />
دل سے رے ۔ ۔ ۔<br />
جو کہ انڈین فلمی تاریخ میں <br />
کلاسک کا درجہ رکھتی ہے <br />
غیر انڈین ز کے زبان سے <br />
<br />
یقیناً ان کو الفاظ کی کوئی سمجھ نہيں آئی ہوگی <br />
مگر صرف دھن کی خاطر گا رہے ہيں <br />
اور گانے کے پورے لوازمات برقرار رکھنے کے لئے<br />
 انہوں نہ جانے کتنی انر جی خرچ کی ہوگی اپنی <br />
<br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/-TFJnC82FC8"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/-TFJnC82FC8" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object></font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92/">گانے</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92/%D8%AF%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%AF%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%84%D8%B2-%5B%D8%AF%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%DB%92-%5D-41256/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DA%A9%D8%B1%D9%BE%D9%B9-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%D8%B4%DA%A9%D9%86%D8%AC%DB%81-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C-41255/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 08:11:04 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>0000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32590d1280218252-p1-9_9-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DA%A9%D8%B1%D9%BE%D9%B9-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%D8%B4%DA%A9%D9%86%D8%AC%DB%81-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C-41255/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان کی پہلی ایٹمی بڑھک</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%B9%D9%85%DB%8C-%D8%A8%DA%91%DA%BE%DA%A9-41254/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 08:04:59 GMT</pubDate>
			<description>روزنامہ نوائے وقت لاہور</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>روزنامہ نوائے وقت لاہور</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32589d1280217879-p1-9_9-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%B9%D9%85%DB%8C-%D8%A8%DA%91%DA%BE%DA%A9-41254/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان میں مجلس شوریٰ کا نظام</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%B5%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%B0-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-41253/</link>
			<pubDate>Tue, 27 Jul 2010 08:04:47 GMT</pubDate>
			<description>پاکستان میں اگر ہم...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>پاکستان میں اگر ہم تبدیلی نظام کی بات سوچتے ہیں ، کہ اگر ابھی جو نظام چل رہا ہے  اس کو بدل کر اسلام سے موافق نظام لایا جائے ۔ تو وہ کیا ہوگا اور اس نظام کے اصول کیا ہونگے اور اس کو نافذ کیسے کیا جائے گا ۔ <br />
پاکستان میں خلافت قائم نہیں ہوسکتی ہے ، کیونکہ خلافت ایک ایسا نظام ہے جس میں یہ ملکوں کی حد بندیاں نہیں ہیں ۔ خلافت کے نظام میں تمام اسلامی دنیا میں ایک ہی خلیفہ منتخب کیا جاسکتا ہے ۔ ہر ملک کا الگ الگ خلیفہ نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ <br />
پاکستان میں اس نظام سے قریب تر مجلس شوریٰ کا نظام قائم کیا جاسکتا ہے ۔ <br />
<br />
<br />
پاکستان میں‌کسی اور نظام کو نافذ کرنے سے پہلے ہم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آج پاکستان  میں کونسا نظام قائم ہے ۔ پاکستان کا نظام بنیادی طور پر تین ادارے ظاہری طور پر اور ایک ادارہ درپردہ چلاتے ہیں ۔ <br />
ظاہری طور پر چلانے والے اداروں میں حکومت جن میں قومی اسمبلی ، ایوان صدر، وزیر اعظم ۔ اور ذیلی حکومتیں‌جن میں‌صوبائی اسمبلی ، گورنر اور وزیر اعلیٰ  شامل ہیں ۔ <br />
ظاہر میں نظام چلانے والے دو مزید ادارے فوج اور عدلیہ ہیں <br />
<br />
ایک ادارہ جو درپردہ کام کرتا ہے اور یہ ادارہ ان تینوں اداروں سے ذیادہ مضبوط<br />
اور بااثر ۔ اس کو اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں ۔ اسٹیبشمنٹ میں بیوروکریٹس ، فوج کے اعلیٰ عہدہداران ، ایجنسیز کے اعلیٰ عہدہداران شامل ہیں ۔ <br />
اسٹیبلشمنٹ کا کام صرف یہ ہوتا کہ حکومت یا کسی اور ادارے کو ایسا کوئی قدم اٹھانے سے روکے جو پاکستان کی سالیمت کے خلاف ہو ۔ <br />
اگر ہم پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو جب نئی حکومت بنتی ہے تو اقتدار کی منتقلی نہیں ہوتی بلکہ اقتدار میں شراکت داری عمل میں آتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت خودمختار نہیں ہوتی ہے <br />
<br />
یاد رہے پاکستان میں دو طرح کے نظام قائم ہوئے ہیں ۔ ایک جمہوریت اور دوسرا مارشل لاء ۔ نظام کی تبدیلی  اسٹیبلشمنٹ کے زیر انتظام عمل میں آتے ہیں ۔ اگر  اسٹیبلشمنٹ کو اسلام سے قریب ترہوجائے تو یہاں اسلامی نظام بھی نا فذ ہوسکتا ہے ۔ <br />
<br />
اب میں مجلس شوریٰ کے نظام کے بارے میں تفصیل بتاتی ہوں <br />
کہ اس میں کیا ہوگا <br />
<br />
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجلس شوریٰ بنائی تو اس میں عشرہ مبشرہ کو شامل کیا۔ اب ہمارے پاس اس معیار کے لوگ نہیں ۔ جن پر پوری امت کو کوئی<br />
اخلتلاف نا ہو ۔ <br />
شاہ ولی اللہ نے خلافت راشدہ کے انعقاد پر جو اصول وضع کیے ۔ ان میں سے ایک ہے کہ عوام میں سے عالم ، قاضی اور نامور افراد بیعت کرلیں <br />
<br />
اگر مجلس شوریٰ کے قوانین اور اس اصول کو ملا کر ایک اصول بنایا جائے<br />
تو یہ صورت سامنے آتی ہے ۔ <br />
پاکستان میں عالم دو طرح کے ہیں ۔ <br />
دینی علماء<br />
دنیاوی علماء<br />
ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے اپنا کوئی ایک جید عالم اپنے نمائندے کے طور پر پیش کرے <br />
اسی طرح دنیاوی عالموں میں سے بھی پورے پاکستان میں سے تمام سائنٹسٹ اپنا ایک نمائندہ ،ڈاکٹرز میں سے ایک نمائندہ ،انجیینئرز میں سے ایک نمائندہ ،ججوں میں سے ایک نمائندہ ،تاجر برادری میں سے ایک نمائندہ ،مزدور میں سے ایک نمائندہ کسان میں سے ایک نمائندہ ،تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اپنا ایک نمائندہ باہمی رضامندی سے پیش کریں ۔ بس خیال یہ رہے کہ تمام نمائندے ، مسلمان ، عاقل ، بالغ ، کبیرہ گناہوں سے بچنے والے اور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنے والے نا ہو ۔ <br />
اس طرح  تقریباً 100 یا 150 کے قریب ممبران یا نمائندے جمع ہونگے جو پورے ملک  کے تمام شعبہ ہائے زندگی  کی نمائندگی کرتے ہونگے ۔ اب یہ نمائندے باہمی مشورے سے حکمران منتخب کرلیں ۔ حکمران انہی نمائندوں میں سے ایک ہی ہوگا ۔ اب اس طریقہ کار کے لیے ان میں ووٹنگ کرلیں ۔ <br />
یا جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے لیے تمام مجلس شوریٰ <br />
نے حضرت عبدلرحمنٰ بن عوف کو منتخب کیا تھا ۔ اسی طرح یہ تمام نمائندے چند ممبران پر ایک کمیٹی بنادیں جو ان نمائندوں میں سب سے  بہتر شخص کو حکمران منتخب کرلیں ۔ <br />
<br />
نوٹ : اس مضمون جو بھی نظام کی رائے دی گئی ہے وہ خالصتہً میری ذاتی رائے ہے اس سے آپ بخوشی اختلاف کرسکتے ہیں ۔ اور یہ رائے سراسر غلط بھی ہوسکتی ہے ۔اگر میں نے کہیں غلط لکھا ہے تو میری اصلاح کردی جائے</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%B5%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1/">اسلام اور عصر حاضر</category>
			<dc:creator>سحر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%B5%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%8C%D9%B0-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85-41253/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>visual id</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84%D8%B2-%D8%B3%DB%8C%D9%B9%D9%86%DA%AF%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1/visual-id-41252/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 21:07:29 GMT</pubDate>
			<description>نوکیا n73 موبائل کے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>نوکیا n73 موبائل کے ریڈیوسے جب انٹرنیٹ کے زریعے جب آل ورلڈ کے ریڈیو چلاؤ تو ایک visual id کی ضرورت پڑتی ہے یہ آئی ڈی کسطرح بنے گی</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84%D8%B2-%D8%B3%DB%8C%D9%B9%D9%86%DA%AF%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1/">موبائلز سیٹنگز اور سوفٹ ویر</category>
			<dc:creator>ALI-OAD</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84%D8%B2-%D8%B3%DB%8C%D9%B9%D9%86%DA%AF%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1/visual-id-41252/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سیلانی کے قلم سے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D9%84%D9%85-%D8%B3%DB%92-41251/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 20:29:41 GMT</pubDate>
			<description>یار! لوگ تو بس وہیں کے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>یار! لوگ تو بس وہیں کے ہیں…<br />
بھئی جیتے تو گورے ہیں۔ زندگی سے بھرپور انجوائے کرتے ہیں…<br />
وہاں کسی کو کسی سے غرض نہیں کہ آپ کیا پہن رہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، آپ کا رخ چرچ کی جانب ہے یا مسجد کی طرف یا آپ مندر کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ وہاں فریڈم ہے۔ مکمل آزادی…<br />
سیلانی کی طرح یہ جملے ہر اس شخص نے اس شخص سے سن رکھے ہوں گے جویورپ یا امریکہ میں پیٹرول پمپ پر گاڑیوں میں گیس ڈالنے یاکسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں برتن مانجھنے کا باعزت فریضہ سرانجام دیکر وطن لوٹا ہو۔ کاش اس وقت کوئی دیار غیر میں وطن کا نام روشن کرنے والامل جاتا تو سیلانی اسے گدی سے پکڑ کر کھینچتا ہوا اپنے کمرے میں لاتا اور کہتا: کھول آنکھیں اور دیکھ، یہ ہیں تیرے آقا زادوں کے کرتوت… دیکھ، کیا سوچا ہے ان کی غلیظ ذہنیت نے… پڑھ، کیا لکھا ہے کی بورڈ پران کی ناپاک انگلیوں کی جنبش نے…<br />
دل کو شق کر دینے والے اس فتنے کی جانب سیلانی کی توجہ سلمان نے دلائی۔ سیلانی اس نوجوان کو نہیں جانتا۔ کبھی ملا ہے نہ بات کی ہے۔ اس اجنبیت کے باوجود کلمے کے رشتے نے اسے سیلانی کوفون کرنے پر مجبور کردیا۔ سیلانی اس وقت لکھنے بیٹھا ہی تھا۔ وہ گزشتہ رات ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں سات ہلاکتوں پر لکھنا چاہ رہا تھا، لیکن سلمان کی کال نے توسب کچھ فیوز کر دیا۔<br />
’’سیلانی بھائی! آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں؟‘‘ سلمان نے اپنا تعارف کرانے کے بعد تیزی سے کہا۔ اس کے لہجے میں عجلت اور دبا دبا جوش بتا رہا تھا کہ کوئی غیر معمولی بات ہے<br />
’’الحمدللہ اب نہیں کرتا‘‘<br />
’’بھائی! انہوں نے پہلے ہمارے حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی اب وہ قرآن پاک کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔ فیس بک پرEVERY BODY BURN QURAN DAY کے نام سے پیج بنا ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے جو مغلظات بکی ہیں، جو خرافات لکھی ہیں، وہ پڑھنے کی ہمت نہیں اور میں حیران ہوں کہ حکومت چپ ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ فیس بک کیا گل کھلا رہی ہے‘‘<br />
’’ایک منٹ میرے دوست‘‘ سیلانی نے سلمان کو ہولڈ کرایا اور فیس بک کھول لی۔ اک عرصے کے بعد وہ log inn ہوا تھا۔اس نے فیس بک کھولنے کے بعد سلمان سے پوچھا ’’فیس بک تو کھول لی، اب اس پیج کا بتاؤ‘‘<br />
’’بھائی آپ سرچ پر EVERY BODY BURN QURAN DAY لکھیں‘‘<br />
سیلانی نے دل کڑا کرتے ہوئے سرچ کے کالم میں یہ منحوس الفاظ لکھ ڈالے۔ تھوڑی دیر میں فیس بک کے چہرے سے نقاب اتر گیا۔ اس مذموم نام سے کھلنے والا page سامنے تھا، اس میں بائیں جانب سیاہ لباس میں ملبوس کوئی سیاہ بخت عورت ایک ہاتھ میں موم بتی اور دوسرے ہاتھ میں کوئی کتاب پکڑے اسے جلانے کو تھی۔page کایہی مذموم عنوان تھا کہ قرآن کو نذر آتش کئے جانے کادن۔ نعوذباللہ۔ اس کے ساتھ درج تھا:<br />
We are 1045 in 2 weeks,not bad,invite as many as you can!!spread the massege!long live the freedom of speech and expression !death to Extremism!<br />
آزادیٔ اظہار کے نام پرگوروں کی تاریک ذہنیت ایک بار پھر عیاں ہوگئی تھی۔ فیس بک کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ پتہ نہیں اسلام سے انہیںکیا پرخاش ہے۔ یہ کیوں چڑتے ہیں۔ کیوں تپتے ہیں۔ مادر پدر آزادی نے انہیں جہنم کا ایندھن بنا دیا ہے۔ سیلانی نے یہ جہنمی عبارت پڑھی اور سوچ میں پڑ گیا کہ گوروں کو آزادیٔ اظہار کے معنی کیسے سمجھائے جائیں۔ اس نے یہی بات سلمان سے کہی ’’ان گوروں کو آزادیٔ اظہار اور دل آزاریٔ اظہار کا فرق نہیں پتہ۔ یہ تو تہذیب یافتہ قوموں میں سے ہیں، پھر بھی‘‘<br />
’’سیلانی بھائی! ان خبیثوں کو سب پتہ ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں جب اسی فیس بک نے سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے جہنمیوں کو پلیٹ فارم دیا تھا کہ کوئی بھی شخص کائنات کی عظیم ترین ہستی کا خاکہ بنا کر فیس بک پر مشتہر کر سکتا ہے تو ردعمل میں کراچی کے ایک نوجوان سعد مصطفٰی وڑائچ نے یہودیوں کی دم پر پیر رکھ دیا۔ اس نے فیس بک کے نام پر’’ ہٹلر‘‘ کی حمایت کردی اور ہٹلر کے نام سے اکاؤنٹ بنا دیا‘‘<br />
’’زبردست… پھر کیا ہوا‘‘سیلانی نے دلچسپی سے پوچھا۔<br />
’’سیلانی بھائی! ایک گھنٹے میں دس افراد اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ ان میں اطالوی فٹبالرPOLO DI CONIO بھی شامل تھا۔ لیکن اس ایک گھنٹے بعد ’’ہٹلر‘‘نے log inn ہونے کی کوشش کی توکامیاب نہ ہوسکا۔ فیس بک انتطامیہ نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر فوری پابندی لگا دی تھی۔ میرے پاس سعد کی ای میل موجود ہے۔ آپ اپنا ای میل ایڈریس دیں، میں آپ کو بھی بھیج دیتا ہوں‘‘<br />
سیلانی نے سلمان کو اپنا ای میل ایڈریس دیا ۔تھوڑی دیر بعد ہی سعد وڑائچ کی ’’ فیس بک بیتی‘‘ سیلانی کے سامنے تھی ۔<br />
ہٹلر کے نام سے یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ انہیںا ذیت ہوتی ہے۔ اس لئے فیس بک نے یہودیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے’’ ہٹلر‘‘ کو بھگا دیا۔ آج بھی کوئی شخص فیس بک پر ہٹلر یا نازی کے نام سے کوئی اکاؤنٹ کھول کر دیکھ لے، اسے اندازہ ہو جائے گا کہ آزادیٔ اظہار صرف یہودیوں اور گوروں کے لئے ہے۔ ہم مسلمانوں کے جذبات ہیں، نہ احساسات۔ جس کا جب دل چاہے ہمیں گالیاں دیتا چلا جائے…<br />
سیلانی کادل بجھ سا گیا۔ قرآن جیسی متبرک کتاب، کلام اللہ کے ساتھ ظالموں کا یہ سلوک ۔ وہ سرعام دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ اس کتاب کو جلا دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔ آگ کے شعلوں میں پھینک دیتے ہیں۔ راکھ کر دیتے ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ فیس بک کا استعمال چھوڑ دیں۔ سیلانی کو حیرت اور دکھ تو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن پر ہوا۔ جانے اس کے چئیرمین صاحب اور ان کی ٹیم کس کیفیت میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہے۔ پاکستان میں کراچی سے لے کر زیارت تک ہر اس گھر میں جہاں انٹر نیٹ کا کنکشن ہے، فیس بک اعلان کرتی پھر رہی ہے’’آؤ قرآن جلا دیں‘‘ اور انہیں پتہ ہی نہیں۔ پی ٹی اے کے چیئرمین کی ڈگری پر کوئی سیاہ لکیر پھیر دے تو وہ تکلیف سے بلبلا اٹھیں گے کہ ہائے میری سولہ سال کی محنت… یہاں کلام اللہ کو جلانے کی بات ہو رہی ہے اور وہ چپ ہیں۔ پی ٹی اے کوکیوں خبر نہیں کہ فیس بک ایک اور فتنہ کھڑا کر چکی ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ چیک رکھیں کہ پاکستان میں انٹر نیٹ پر کیا مواد آ رہا ہے اور کیاوہ اسلام، پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متصادم تو نہیں؟ نہیں چیک رکھ سکتے تو اسلام آبا دکی سپر مارکیٹ میں سی ڈیز کی دکان کھول لیں۔ زیادہ کمالیں گے… سیلانی یہ سوچتے ہوئے فیس بک سےlog off ہوا اور نفرت بھری نگاہوں سے گوروں کی گھٹیا سوچ کی عکاس فیس بک کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔<br />
بشکریہ امت<br />
<br />
<br />
<a href="http://www.thrpk.org/data1/articles/facebook11.htm" target="_blank">THR</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>ALI-OAD</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D9%84%D9%85-%D8%B3%DB%92-41251/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>امریکہ نے 60  اسلام دشمن مار دئیے۔ براووووو</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%D9%86%DB%92-60-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D8%A6%DB%8C%DB%92%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%88%D9%88%D9%88%D9%88-41248/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 16:51:37 GMT</pubDate>
			<description>آج پی ٹی وی نے اس خبر کی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>آج پی ٹی وی نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں 56 افراد مارے گئے۔ چناچہ طالبان دشمنوں کو خوش ہونا چاہیے کہ امریکہ نے 60 کے نزدیک اسلام دشمن صفحہ ہستی سے مٹا دئیے۔ <br />
امریکہ ہر صورت میں زندہ باد<br />
<img src="http://i565.photobucket.com/albums/ss94/ulzaman/news-03.gif" border="0" alt="" /><br />
<br />
<img src="http://i565.photobucket.com/albums/ss94/ulzaman/pic-02.jpg" border="0" alt="" /></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>بدرالزمان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%D9%86%DB%92-60-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D8%A6%DB%8C%DB%92%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%88%D9%88%D9%88%D9%88-41248/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ویکی لیکس: ’پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے‘</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%88%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%84%DB%8C%DA%A9%D8%B3-%E2%80%99%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%AF%D8%AF-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92%E2%80%98-41247/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 16:50:44 GMT</pubDate>
			<description>امریکہ اور برطانیہ کے دو...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>امریکہ اور برطانیہ کے دو بڑے اخبارات کے مطابق انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والے ویب سائٹس وکی لیکس افغانستان میں امریکی فوج کی نوے ہزار سے زائد خفیہ معلومات منظرِ عام پر لائی ہے۔<br />
<br />
کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں خفیہ معلومات منظرعام پر آئی ہیں۔<br />
<br />
امریکہ نے خفیہ معلومات منظر عام پر لانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا۔<br />
<br />
برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وکی لیکس نے خفیہ معلومات پر مبنی دستاویزات انھیں اور ایک جرمن ہفت روزہ در شپیگل کو دکھائی ہیں۔<br />
<br />
جرمن اخبار در شپیگل اور نیو یارک ٹائمز نے ویکی لیکس میں پاکستان کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی طرف سے بارہا یقین دہانیوں کے طالبان کے ساتھ تعلقات ختم کردیے گئے ہیں پاکستان نے تعلقات ختم نہیں کیے ہیں۔<br />
<br />
امریکہ، افغانستان اور پاکستان سٹریٹیجیک اتحادی ہیں اور تینوں فوجی اور سیاسی طریقے سے القاعدہ اور اس کی اتحادی طالبان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں<br />
حسین حقانی<br />
خفیہ ڈائری کے مطابق ایک طرف تو پاکستان امریکہ کا حلیف بن کر سامنے آ رہا ہے اور دوسری جانب طالبان کی مدد کر رہا ہے۔<br />
<br />
تاہم پاکستان کے ایوانِ صدر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منظر عام پر آئی معلومات یک طرفہ ہیں جن کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ’اس قسم کی رپورٹیں پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے، ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں استحکام کو کوششوں سے روک نہیں سکتیں۔‘<br />
<br />
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جمہوری حکومت کو پاکستان فوج پر پورا اعتماد ہے وہ ملکی قومی پالیسی کے مطابق کام کر رہی ہے۔<br />
<br />
منظر عام پر آئی دستاویزات کے مطابق افغاستان سے باہر پاکستان کی خفیہ ایجنسی طالبان کے سب سے بہترین ساتھی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز، امریکنوں اور ان کے حمائتیوں کے خلاف جنگ پاکستان ہی سے لڑی جا رہی ہے۔<br />
<br />
جرمن اخبار ویکی لیکس دستاویزات کے حوالے سے لکھتا ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان محفوظ پناہ گاہ ہے۔ نئے رنگروٹ پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جن میں عرب، چیچن، ازبک اور یورپی مسلمان شامل ہیں۔<br />
<br />
دستاویزات کے مطابق جنگجوؤں کے اجلاس میں آئی ایس آئی کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں اور خاص احکامات بھی جاری کرتے ہیں۔ ویکی لیکس کے مطابق ’ان احکامات میں افغان صدر حامد کرزئی کو ہلاک کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔‘<br />
<br />
اخبارات کے مطابق منظر عام پر لائی جانے والی معلومات میں افغان جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنھیں پوشیدہ رکھا گیا۔<br />
امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ ’غیر اندراج شدہ اطلاعات‘ موجودہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ، افغانستان اور پاکستان سٹریٹیجیک اتحادی ہیں اور تینوں فوجی اور سیاسی طریقے سے القاعدہ اور اس کی اتحادی طالبان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘<br />
<br />
تازہ تنازعہ ویکی لیکس میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل کا ذکر ان کا نام لے کر کیا گیا ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان رپورٹوں میں جتنی مرتبہ ان کا نام آیا ہے اس سے لگتا ہے کہ پاکستانی فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کو ان میں سے چند کا علم ضرور ہوگا۔<br />
<br />
کلِک ’ویکی لیکس نہیں بلکہ ویکیڈ لیکس ہیں‘<br />
<br />
ان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں یہ کہ وہ حکمت یار اور جلال الدین حقانی نیٹ ورکس کی دوبارہ بحالی کی کوششیں، جنوری دو ہزار نو میں وانا کا دورہ تاکہ القاعدہ کے رہنما الکنی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کی جائے اور یہ کہ وہ طالبان کو پاکستان کی بجائے افغانستان پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔<br />
<br />
منظرعام پر لائی گئی معلومات کے مطابق طالبان کو ہوائی جہاز گرانے والے میزائلوں (ہیٹ سیکنگ) تک رسائی حاصل تھی۔ امریکی فوج کا ایک خفیہ مشن شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی مشن پر ہے۔<br />
اخبارات کے مطابق خفیہ دستاویزات میں نیٹو نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران افغانستان میں طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔<br />
<br />
اخبارات کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ریکارڈ پر مبنی یہ معلومات افغان جنگ کی خفیہ دستاویزات ہیں۔ یہ معلومات میدان میں موجود جونیئر افسران نے مہیا کی ہیں جو بعد میں پالیسی سازی کے عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔<br />
<br />
اخبارات کے مطابق منظر عام پر لائی جانے والی معلومات میں افغان جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنھیں پوشیدہ رکھا گیا۔<br />
<br />
یہ شہری طالبان کی جانب سڑک کے کنارے نصب بم اور نیٹو کی ناکام کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔<br />
<br />
اس کے علاوہ طالبان رہنماوں کے خلاف امریکی فوج کی خفیہ کارروائیوں کی تفصیل شامل ہے۔<br />
<br />
منظرعام پر لائی گئی معلومات کے مطابق طالبان کو ہوائی جہاز گرانے والے میزائلوں (ہیٹ سیکنگ) تک رسائی حاصل تھی۔ امریکی فوج کا ایک خفیہ مشن شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی مشن پر ہے۔<br />
<br />
بی بی سی کی سفارتی امور کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ دستاویزات میں چونکا دینے والی معلومات نہیں ہیں لیکن اس سے افغان جنگ کی مشکلات اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔<br />
<br />
ایسی خفیہ معلومات، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اور اس سے ہماری قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے<br />
جیمز جونز<br />
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ایسی خفیہ معلومات، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اور اس سے ہماری قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ منظرعام پر لائی گئی دستاویزات سال دو ہزار چار سے سال دو ہزار نو تک کی ہیں اور اس وقت تک صدر براک اوباما نے افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا تھا۔<br />
<br />
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے بیان کے مطابق پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے ’دہشت گردوں کے خلاف اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا عمل جاری رکھیں۔‘<br />
<br />
دوسری جانب ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ وکی لیک کی جانب سے جاری ہونے والی ان دستاویزات میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’ہم آئی ایس آئی اور پاکستان میں محفوظ مقامات ہیں کے بارے میں کئی بار کہہ چکے ہیں۔‘<br />
<br />
اہلکار کا کہنا ہے کہ منظر عام پر لائی گئی دستاویزات جنوری دو ہزار چار سے دسمبر دو ہزار نو تک کے ہیں۔ ’اور یہ وہ عرصہ ہے جس کے بعد امریکی صدر اوباما نے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔‘<br />
<br />
وکی لیکس معلومات تک رسائی کی آزادی کے لیے کام کرتی ہے اور اس حوالے سے مختلف ویڈیوز ویب سائٹ پر نشر کرتی ہے۔<br />
ـــــــــــــــــــــــــ  ــــــــــ<br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100725_wikileaks_afghan_war_details.shtml" target="_blank">بی بی سی۔</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>ھارون اعظم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%88%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%84%DB%8C%DA%A9%D8%B3-%E2%80%99%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%AF%D8%AF-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92%E2%80%98-41247/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>وڈافون اِن پاکستان؟</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%88%DA%88%D8%A7%D9%81%D9%88%D9%86-%D8%A7%D9%90%D9%86-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D8%9F-41246/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 16:13:54 GMT</pubDate>
			<description>سنا ہے کہ پاکستان...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>سنا ہے کہ پاکستان میں‌کراچی میں وڈافون آچکا ہے کیا کسی کے پاس اس کی مکمل معلومات ہیں،</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/">عمومی بحث</category>
			<dc:creator>بلال اویسی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%88%DA%88%D8%A7%D9%81%D9%88%D9%86-%D8%A7%D9%90%D9%86-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D8%9F-41246/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاک فضائیہ جو بات ہمیں نہیں بتا رہی!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%D8%B1%DB%81%DB%8C-41245/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 13:48:09 GMT</pubDate>
			<description>ڈاکٹر شیریں مزاری  
 
پی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ڈاکٹر شیریں مزاری <br />
<br />
پی اے ایف اور امریکیوں نے یقینی طور پر امریکہ کی وائسرائے جیسی سفیر مسز پیٹرسن اور ائر چیف راؤ قمر کیساتھ جیکب آباد ائر بیس پر کیمروں کے سامنے مسکراتے ہوئے ایک مکمل فوٹو سیشن برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ائر بیس کبھی پاکستان کا خود مختار علاقہ تھا لیکن اب اسکو امریکی فوج مؤثر طور پر کنٹرول کر رہی ہے اس تمام تر خوش طبعی کا مظاہرہ خریدار پاکستان ائر فورس کو امریکی مینو فیکچررز کی جانب سے پہلے تین ایف 16کی حوالگی کے موقع پر کیا گیا۔ سرکاری پریس ریلیز میں امریکیوں کیلئے خیرسگالی کے اظہار اور یہ طیارے ملنے پر پی اے ایف کو محسوس ہونیوالی خوشی تقریباً کراہت آمیز ہے لیکن اس تمام منظر نامے کے پیچھے بہت سی چیزیں حقائق کے برعکس ہیں اور ان پر تمام پاکستانیوں کو شدید پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔<br />
<br />
<font color="Red">آغاز کرتے ہوئے آئیں ہم یاد کریں کہ ہم نے ان طیاروں کیلئے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی خطیر قیمت اور ایف 16 طیاروں کے موجودہ بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کیلئے مزید ایک ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کر رکھے ہیں۔</font> یہ چند ایک طیارے ہم حاصل کر پائے اور امریکی انکار کے باعث انکے سپیئر پارٹس کے حصول کیلئے ہمیں دنیا بھر میں بھاگ دوڑ کرنا پڑی، خوش قسمتی سے ہمارے آج بھی چند ایک مخلص اتحادی ہیں۔ ہمیں اب تک صرف تین نئے طیارے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری طور پر چار کا ذکر کیا گیا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم تمام 18 طیارے حاصل کر لیں گے لیکن ماضی کا ریکارڈ یقیناً مایوس کن ہے۔ امریکہ نے طیاروں کی فراہمی سے انکار کرتے ہوئے ہماری رقم دبائے رکھی بلکہ طیارہ ساز کمپنی نے دیدہ دلیری کے ساتھ ہم سے ان طیاروں کی پارکنگ فیس بھی وصول کی اور پھر ہمیں گندم اور سویابین بھجوا دی جن سے ہمارے دفاع کو تو کوئی فروغ نہ ملا تاہم اس طرح امریکی کسانوں کی جیبوں میں یقینی طور پر خاصی رقم چلی گئی اس سے مختلف آخر کیونکر ہونا چاہیے؟ <br />
<br />
          درحقیقت امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک حال ہی میں بھارتیوں کو یہ آگاہ کرنے کیلئے خصوصی طور پر نئی دہلی گئے کہ نئے ایف 16 طیارے بھارت کیخلاف استعمال نہیں کئے جائینگے اب امریکہ آخر کس طرح یہ یقین دہانی کرا سکتا ہے جب تک پاکستانیوں نے اس سلسلے میں تحریری طور پر بعض احمقانہ وعدے نہ کئے ہوں؟ بہرحال اگر بھارت کیساتھ جنگ چھڑ جائے تو ہم کیوں اپنا انتہائی مؤثر ہتھیار سسٹم استعمال نہ کرنا چاہئیں گے؟ کیا بھارتیوں نے پاکستان کے بالمقابل امریکہ سے میزائل ڈیفنس سسٹمز حاصل کرتے ہوئے اس طرح کے وعدے کئے ہیں؟ بلاشبہ نہیں! اور پھر امریکہ نے بھی اس معاملہ میں ہمارے خدشات دور نہیں کئے پاکستانیوں کیلئے تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسی رپورٹیں ملی ہیں کہ امریکہ ان طیاروں کے ساتھ اپنے ٹیکنیشنز بھیج رہا ہے جو یہ بات یقینی بنائیں گے کہ یہ طیارے ہمارے اپنے لوگوں ’’انتہا پسندوں‘‘ کے سوا کہیں بھی استعمال نہیں کئے جائینگے۔ دی نیشن یہ نیوز سٹوری شائع کر چکا ہے (جس کی امریکہ نے تردید نہیں کی) اور پی اے ایف کے غضب کو ابھار چکا ہے اور اسکے پی آر مین جو اب ہمارے لئے ایف 16 پر کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیتے ہیں وہ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے کہ یہ ہمارا نہیں اس کا نقصان ہے۔<br />
<br />
اسی طرح بھارتی اور امریکی ذرائع کیمطابق گزشتہ ماہ بھارت امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات کے دوران امریکی حکام نے یہ واضح کر دیا کہ امریکہ پاکستان کو ایف 16 طیارے سخت شرائط پر فراہم کریگا <font color="Red">جن میں یہ یقین دہانیاں شامل ہونگی کہ یہ طیارے بھارت کیخلاف کسی جنگ میں استعمال نہیں کئے جائینگے۔ ایف 16 طیاروں کیساتھ امریکی ائر فورس کے اہلکار بھی پہنچیں گے اور یہ نہ صرف اس ائر بیس کی نگرانی کرینگے جہاں یہ طیارے رکھے جائینگے بلکہ پی اے ایف کے طالبان اور القاعدہ کیخلاف آپریشنز کی نگرانی بھی کرینگے۔</font> گویا کہ فاٹا کے عام رہائشی اپنی سیاسی شناخت اپنے ماتھے پر لگائے پھرتا ہے۔ اطلاعات کیمطابق ان ایف 16 طیاروں کی لاجسٹکس مینجمنٹ اور کنٹرول امریکی اہلکاروں کے پاس ہو گا۔ لہٰذا ہم نے آخر کیوں ان مشینوں کیلئے ادائیگی کی، اگر انہیں امریکہ ہی کنٹرول کریگا؟ اس بات کی واضح ضرورت ہے کہ پی اے ایف ثابت کرے کہ معاملہ یہ نہیں ہے اور یہ صرف اس طرح کیا جا سکتا ہے اگر حقیقی معاہدے منظر عام پر لائے جائیں۔ بہرحال یہ ہمارے ٹیکس دہندگان کی بھاری رقم ہے اور یہ جاننا ہمارا حق ہے کہ اسکے ساتھ کیا معاملات طے پا رہے ہیں خصوصی طور پر جب اس کا تعلق بیرونی خطرے اور ہماری سیکورٹی سے بھی ہے۔<br />
<br />
<font color="Red">ان حالات میں یہ سوچنا بھی پریشان کن ہے کہ یہ تمام لڑاکا مشینین ہمارے اپنے علاقوں اور عوام پر بمباری کیلئے استعمال کی جائینگی اور اس وقت یہ شناخت کون کریگا کہ کتنے ’’دہشت گرد‘‘ اور کتنے معصوم سویلین مارے گئے ہیں، یقینی طور پر ہماری فوج کو جان لینا چاہیے کہ بے دریغ ہلاکتیں محض زیادہ مایوسی اور انتہا پسندی کو جنم دیتی ہیں اور ڈرون حملوں کا ردعمل پی اے ایف کیلئے ایک سبق ہونا چاہیے۔</font> انتہا پسندی سے لڑنے کیلئے پیرا ملٹری فورسز کی ضرورت ہے جو امن عامہ اور ان دہشت گردوں کو دیگر آبادی سے الگ کرنے کیلئے سیاسی، اقتصادی حکمت عملیاں طے کرے۔ ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے بدلے غریب شہری ایک زیادہ قابل بھروسہ ایٹمی ڈیٹرنس اور بیرونی خطرے سے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔ ائر چیف راؤ قمر محض انتہا پسندوں کیخلاف لڑنے کی صلاحیت میں اضافے کی باتیں کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں اور بیرونی دشمن کیخلاف ڈلیوری سسٹمز میں اضافے کے بارے میں بمشکل ہی کوئی لفظ کہتے ہیں جو افسوسناک اور کھلے طور پر ناقابل قبول ہے‘ <font color="Blue">اگر نئے ایف 16 بنیادی طور پر ہمارے اپنے ہی علاقے اور عوام کیخلاف استعمال ہونے ہیں تو پھر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا بہترین مصرف فاٹا میں ترقیاتی منصوبے ہو سکتے تھے جن سے انتہا پسندی کیخلاف کہیں جلدی اور بہتر نتائج حاصل ہوتے۔</font> کیا ہم امریکیوں سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ہم اپنے دفاع اور سٹرٹیجک ضروریات کا برملا اظہار نہیں کر سکتے؟ جیکب آباد ائر بیس پر پاکستان کے حوالے کئے جانیوالے ایف 16 طیارے پہلے ہی پاکستانی سرزمین پر امریکی کنٹرول میں ہیں، ہماری دلجوئی کیلئے <font color="Red">امریکہ نے کہا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو تازہ پانی اور دیگر سہولتیں فراہم کریگا جس کا مطلب ہے کہ وہ ائر بیس پر اپنا کنٹرول جاری رکھے گا جسکے بارے میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اسے خالی کر چکا ہے۔ کیا ہم پاکستانی امریکہ کیلئے اتنی آسانی سے خریدے جانے کے قابل ہیں؟</font><br />
<br />
اس دوران بھارت اپنے کسی بھی بیرونی سپلائرز کی جانب سے کسی شرط کے بغیر اپنی فضائیہ کو جدید بنانے میں مصروف ہے۔ بھارت اپنے 50 اگلے ائر بیسز کو اپ گریڈ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان بیسز کا ہدف پاکستان اور چین بھی ہے بھارتی فضائیہ کے سربراہ نائیک نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ روسیوں کے اشتراک سے جدید ترین سٹیلتھ بمبار طیارے تیار کر رہا ہے۔ وہ 126 ملٹی رول لڑاکا طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے جس کیلئے اس نے 11 ارب ڈالر مختص کئے ہیں۔ بھارت کیلئے ان سسٹمز کا استعمال کوئی بھی محدود نہیں بنا رہا صرف پاکستان ہی ایسی کمزور کرنیوالی شرائط کا شکار ہوتا ہے‘ جب تک بعض مضبوط اور سمجھوتوں کے تحریری متن سامنے نہیں لائے جاتے افسوس کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی اے ایف کچھ مہنگے طیاروں کیلئے امریکی ڈکٹیشن کا ایک بار پھر شکار ہو گئی ہے۔ یہ طیارے حقیقی طور پر ہماری ایٹمی ڈیٹرنس کے اندر ہماری طاقت کو کئی گنا بڑھانے کے کام آتے لیکن اسکے برعکس یہ مہنگے سفید ہاتھی بن جائیں اور صرف پاکستانی قوم ہی ایک بار پھر نشانہ بنے گی۔ <br />
<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
بحوالہ<a href="http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Adarate-mazameen/07-Jul-2010/12629" target="_blank"> نوائے وقت</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DB%81%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%D8%B1%DB%81%DB%8C-41245/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>صوبائی وزیر اطلاعات کے گھر کے باہر خود کشن حملہ 8جاں بحق</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B5%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%DA%A9%D8%B4%D9%86-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%81-8%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%AD%D9%82-41244/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 13:23:15 GMT</pubDate>
			<description>انا للہ وانا علیہ رجعون</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>انا للہ وانا علیہ رجعون</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32542d1280150562-7-24-2010_39668_1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B5%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%DB%81%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%DA%A9%D8%B4%D9%86-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%81-8%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%AD%D9%82-41244/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ایس ایم ایس کو قانونی حثیت دینے کا فیصلہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86%DB%8C-%D8%AD%D8%AB%DB%8C%D8%AA-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41243/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 13:16:52 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32541d1280150198-7-24-2010_39668_1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86%DB%8C-%D8%AD%D8%AB%DB%8C%D8%AA-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41243/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>تعلیمی ادارے۔۔۔۔ قتل گاہیں!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%82%D8%AA%D9%84-%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA-41242/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 13:09:27 GMT</pubDate>
			<description>سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ<br />
	  	 <br />
<font color="Blue">مذکورہ بیان دراصل وہ تقریر ہے جوسید مودودی ؒنے ایک اسلامیہ کالج میں منعقد ہونے والے جلسہ تقسیم اسناد میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ اختصار کے پیش نظر اس تقریر کے چیدہ چیدہ مقامات کا انتخاب کیاگیا ہے۔<br />
<br />
’مرض‘ سے نجات دلانے کی فکر مگر ’مریض‘ سے انتہاء درجے کی شفقت اور محبت ایک ہمدرد طبیب کا خصوصی وصف ہوتاہے ، ہماری گزار ش ہے کہ مولانا مودودی کی تقریر کو اسی تناظر میں پڑھا جائے۔<br />
<br />
 کتاب ’تعلیمات ‘میں مذکورہ تقریر پر لکھے گئے تبصرہ کے ان الفاظ کو ذہن میں رکھنا مناسب ہے:<br />
<br />
 ”یہاں اس بات کی داد نہ دینا ظلم ہوگا کہ جس تلخ صاف گوئی سے مولانا موصوف نے اپنے خطبہ میں کام لیا ہے اسے وہاں نہایت ٹھنڈے دل سے سنا گیا او ر بہتوں نے صداقت کا اعتراف بھی کیا۔ کالج کے پرنسپل ایک ایسے صاحب تھے جو موجودہ زمانے(مراد ہے نصف صدی پیشتر کا زمانہ۔ محرر) کے’ ’ترقی پسندوں“ کی صف اول میں ہیں، مولانا کے نقطہ نظر سے ان کو سخت اختلاف ہونا ہی چاہیئے ، لیکن اپنی ”ترقی پسندی“ کے کھلے دشمن کو دعوت دینے والے وہ خود ہی تھے اور اس کی تلخ گفتاری کو بھی سب سے زیادہ خندہ پیشانی کے ساتھ انہوں نے ہی سنا۔ اگر چہ ایسی ہی بلکہ اس سے زیادہ تلخ صداقتیں ان دارالعلوموں میں بھی جاکر کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جہاں مسلمانوں کی نو خیز نسلوں کے ساتھ اس سے بد تر معاملہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ سوٹوں میں لاکھوں عیب کے باوجود جتنے بڑے دل چھپے ہوئے ہیں، جبوں میں اتنے بڑے دل بھی نہیں ہیں۔ جو کچھ ایک کالج میں کہہ ڈالا گیا، اس کا بیسواں حصّہ بھی دارالعلوم میں اس سے زیادہ ادب کے ساتھ دست بستہ بھی عرض کیا جاتا تو جان چھڑانی مشکل ہو جاتی“۔<br />
</font><br />
 <br />
<br />
تقریر کا متن<br />
<br />
”آپ کے اس جلسہ تقسیم اسناد (قدیم اصطلاح کے مطابق جلسہ دستار بندی)میں مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا جو موقع دیا گیا ہے اس کے لئے میں حقیقتاً بہت شکر گزار ہوں۔ حقیقتاً کا لفظ میں خصوصیت کے ساتھ اس لئے بول رہا ہوں کہ یہ شکر گزاری رسمی نہیں بلکہ حقیقی ہے اور گہرے جذبہ قدرشناسی پر مبنی ہے۔جس نظام کے تحت آپ کا یہ عالیشان ادارہ قائم ہے اور جس کے تحت تعلیم پا کر آپ کے کامیاب طلباء سند فراغ حاصل کر رہے ہیں میں اس کا سخت دشمن ہوں اور میری دشمنی کسی ایسے شخص سے چھپی ہوئی نہیں جو مجھے جانتا ہے۔۔۔۔۔۔<font color="Red">دراصل میں آپ کی اس مادر تعلیمی کو اور مخصوص طور پر اسی کو نہیں بلکہ ایسی تمام مادران ِتعلیم کو درس گاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک آپ فی الواقع یہاں قتل کئے جاتے رہے ہیں اور یہ ڈگریاں جو آپ کو ملنے والی ہیں، یہ دراصل موت کے صداقت نامے (Death Certificates)ہیں جو قاتل کی طرف سے آپ کو اس وقت دیے جا رہے ہیں جب کہ وہ اپنی حد تک اس بات کا اطمینان کر چکا ہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنے نہیں دیا ہے۔ ۔۔۔۔</font><br />
میں یہاں اس صداقت نامۂ موت کے حصول پر آپ کو مبارک باد دینے نہیں آیا ہوں بلکہ آپ کا ہم قوم ہونے کی وجہ سے جو ہمدردی قدرتی طور پر میں آپ کے ساتھ رکھتا ہوں وہ مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ میری مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنے بھائی بندوں کا قتل ِعام ہو چکنے کے بعد لاشوں کے ڈھیر میں یہ ڈھونڈتا پھرتا ہو کہ کہاں کوئی سخت جان بسمل ابھی سانس لے رہا ہے۔<br />
اعتذار<br />
<br />
حقیقی صورتحال کا جو مطالعہ میں نے کیا ہے وہ مجھے بتاتا ہے کہ ان درسگاہوں میں آپ کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔۔۔۔ تعلیم کا مدعا بھی یہ ہوتا ہے کہ سوسائٹی میں جن نئے انسانوں نے جنم لیا ہے اور جو جبلی صلاحیتیں (Potentialities)ابھی خام حالت میں ہیں ان کو بنا سنوار کراور بہتر طریقے پر نشو و نما دے کراس قابل بنا دیا جائے کہ جس سوسائٹی نے انہیں جنم دیا ہے وہ اس کے مفید اور کار آمد فرد بن سکیں اور اس کی زندگی کے لئے بالیدگی اور فلاح و ترقی کا ذریعہ ہوں۔ مگر جو تعلیم افراد کو اپنی سوسائٹی اور اس کی حقیقی زندگی سے اجنبی بنا دے، اس کے حق میں اس کے سوا آپ اور کیا فتویٰ دے سکتے ہیں کہ وہ افراد کو بناتی نہیں بلکہ ضائع کرتی ہے؟ ہر قوم کے بچے دراصل اس کے مستقبل کا محضر ہوتے ہیں، قدرت کی طرف سے یہ محضر ایک لوح سادہ کی شکل میں آتا ہے اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کے بجائے اسے دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ اس پر جو چاہیں ثبت کر دیں خواہ وہ ہماری اپنی موت ہی کا فتویٰ کیوں نہ ہو۔<br />
<br />
۔۔۔۔۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو ان درسگاہوں سے تیا ر ہو کر نکلتے ہیں۔ جس سوسائٹی نے انہیں تیارکرایا ہے اس کے پاس جب یہ تیا ر ہو کر واپس پہنچتے ہیں تو وہ بھی محسوس کرتی ہے اور یہ خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ اس کے تمدن اور اس کی زندگی کے لئے ٹھیک نہیں بنے۔ جس طرح معدہ اس غذا کو قبول نہیں کرتا جو اس کے لئے مناسب نہ ہو، اسی طرح سوسائٹی بھی طبعی طور پر ان افراد کواپنے اندر کھپا نہیں سکتی جو اس کے لئے مناسب نہ ہوں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو اپنے کسی کام کا نہ پا کر’نیلام‘کے لئے پیش کر دیتی ہے اور یہ خود بھی اپنی زندگی کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں سمجھتے کہ کہیں بک جائیں ۔ آپ غور تو کیجئے کس قدر خسارے میں ہے وہ قوم جو اپنی بہترین انسانی متاع دوسروں کے ہاتھ بیچتی ہے؟ ہم وہ ہیں جو ’انسان‘ دے کر ’جوتی اور کپڑا اور روٹی‘ حاصل کرتے ہیں!قدرت نے جو انسانی طاقت (Man Power) اور دماغی طاقت (Brain Power) ہم کو خود ہمارے اپنےکام کے لئے دی تھی وہ دوسروں کے کام آتی ہے۔ ۔۔۔ اور لطف یہ ہے کہ اس ’خسارے ‘ کی تجارت کو ہم بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔<br />
<br />
<font color="Red">میں حیران ہو کر یہ سوچنے لگتا ہوں کہ اس نظام تعلیم کو کس نام سے یاد کروں، جو پندرہ بیس سال کی مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بناتا کہ وہ اپنی قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کا کوئی مقصود متعین کر سکے۔ بلکہ زندگی کے لئے کسی نصب العین کی ضرورت ہی محسوس کر سکے۔ یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی؟<br />
</font><br />
میری اس تنقید کا یہ مدعا ہر گز نہیں ہے کہ آپ کو ملامت کروں۔ ملامت تو قصوروارکو کی جاتی ہے اور آپ قصوروار نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔ اس لئے میں دراصل آپ کی ہمدردی میں یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب جو آپ زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھنے کے لئے جا رہے ہیں تو پوری طرح اپنا جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ فی الواقع اس مرحلہ پر آپ کس پوزیشن میں ہیں، آپ ملت اسلام کے افراد ہیں۔ یہ ملت کوئی نسلی قومیت نہیں ہے کہ جو اس میں پیدا ہوا ہو ، وہ آپ سے آ پ مسلم ہو، یہ محض ایک تمدنی گروہ (Cultural Group) کا نام بھی نہیں ہے جس کے ساتھ محض معاشرتی حیثیت سے وابستہ ہونا مسلم ہونے کے لئے کافی ہو۔ دراصل اسلام ایک مخصوص نظام فکر (Ideology)کانام ہے، جس کی بنیاد پر تمدنی زندگی اپنے تمام شعبوں اور پہلوؤں کے ساتھ تعمیر ہوتی ہے۔ اس ملت کی بقا بالکل اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد اس میں شامل ہوں وہ اس کے نظام و فکر کو سمجھتے ہوں، اس کی روح سے آشنا ہوں اور اپنی تمدنی زندگی کے ہر شعبہ میں اس روح کی عملی تفسیر و تعبیر پیش کرنے پر قادر ہوں۔ <font color="Blue">یہاں ہماری انفرادیت کی اساس نہ خاک ہے نہ خون، نہ رنگ ہے نہ زبان نہ کوئی اور مادی چیز، بلکہ صرف اسلام ہے۔ ہمارے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ ہماری ملت کے افراداور خصوصاً اہل دماغ طبقے، اسلامی طرز فکر اور اسلامی طرز عمل کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں، اس لحاظ سے ان کی تعلیم اور تربیت میں جتنی اور جیسی کمزوری ہوگی اس کا عکس ہماری ملت کی زندگی میںجوں کا توں نمودار ہوگا، اور اگر وہ اس سے بالکل خالی ہوں تویہ دراصل ہماری موت کا نشان ہوگا۔</font><br />
<br />
یہ وہ حقیقت ہے جس سے یہاں کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔<br />
<br />
مگر کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ موجودہ نظام ِ تعلیم میں ملّت ِ اسلام کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لئے جو انتظام کیا جاتا ہے ۔وہ دراصل ان کو اس ملّت کی پیشوائی کے لئے نہیں بلکہ اس کی غارت گری کے لئے تیا ر کرتا ہے؟<font color="Red">ان درسگاہوں میں آپ کو فلسفہ، سائنس،معاشیات، قانون، سیاسیات،تاریخ اور دوسرے وہ تمام علوم پڑھائے جاتے ہیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے، مگر آپ کو اسلام کے فلسفے، اسلام کی تاریخ اور فلسفہ تاریخ کی ہوا تک نہیں لگنے پاتی۔</font> ان معلومات سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ آپ ذہنی طور سے اسلام سے بعید ہو جاتے ہیں۔<font color="Red"> آپ میں سے جو لوگ محض آبائی مذہب ہونے کی وجہ سے اسلام کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں وہ دماغی طور پر غیر مسلم ہوجانے کے باوجود کسی نہ کسی طرح اپنے دل کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ اسلام حق تو ضرور ہوگا اگر چہ سمجھ میں نہیں آتااور جو لوگ اس عقیدت سے بھی خالی ہو چکے ہیں وہ اسلام پر اعتراض کرنے اور اس کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکتے۔</font><br />
<br />
اس قسم کی تعلیم کے ساتھ عملاً جو تربیت آپ کو میسر آتی ہے جس ماحول میں آپ گھرے رہتے ہیں اور عملی زندگی کے جن نمونوں سے آپ کو واسطہ پیش آتا ہے ان میں مشکل ہی سے کہیں اسلامی کیریکٹر اور اسلامی طرز عمل کا نشان پایا جاتا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ عملی حیثیت سے اسلام کی واقفیت بہم پہنچائی گئی ہو۔نہ عملی حیثیت سے اسلامی تربیت دی گئی ہو۔۔۔۔ اگر وہ فکر اور عمل دونوں حیثیتوں سے غیر اسلامی شان رکھتے ہیں تویہ ان کا قصور نہیں بلکہ دراصل ان درسگاہوں کا قصور ہے جو موجودہ نظام تعلیم کے تحت قائم کی گئی ہیں۔ <font color="Red">درحقیقت یہ میرا وجدان ہے، جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ان درسگاہوں میں دراصل آپ کو ذبح کیا جاتا ہے اور اس ملت کی قبر کھودی جاتی ہے جس کے نونہال آپ ہیں۔ دراصل آپ کو باضابطہ اور منظم طریقہ پر ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بلا ارادہ آپ کی ہر حرکت اس ملت کے لئے فتنہ سامان ہو، حتیٰ کہ آپ اس کی خیر خواہی کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیں تو وہ اس کے حق میں مضر ثابت ہو، اس لئے کہ آپ اس کی فطرت سے بے خبر اور اس کے ابتدائی اصولوں تک سے بیگانہ رکھے گئے ہیں اور آپ کی پوری دماغی تربیت اس نقشہ پر کی گئی ہے جو ملت اسلام کے نقشہ کے بالکل برعکس ہے۔</font><br />
<br />
اپنی اس پوزیشن کو اگر سمجھ لیں اور اگر آپ کو پوری طرح احساس ہو جائے کہ فی الواقع کس قدر خطرناک حالت کو پہنچا کراب آپ کو کارزار زندگی کی طرف جانے کے لئے چھوڑا جارہا ہے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ تلافی ما فات کی کوشش ضرور کریں گے۔ پوری تلافی تو شاید اب بہت ہی مشکل ہے <font color="Red">تاہم میں آپ کو تین باتوں کا مشورہ دوں گا جن سے آپ کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔</font><br />
<font color="Blue"><br />
1۔ جہاں تک ممکن ہو عربی زبان سیکھنے کی کوشش کیجئے ، کیونکہ اسلام کا ماخذ اصلی یعنی قرآن اسی زبان میں ہے اور اس کو جب تک آپ اس کی اپنی زبان میں نہ پڑھیں گے اسلام کا نظام فکر کبھی آپ کی سمجھ میں پوری طرح نہ آ سکے گا۔<br />
<br />
2۔ قرآن مجید ، سیرت رسولﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی کامطالعہ اسلام کو سمجھنے کے لئے ناگزیر ہے، جہاں آ پ نے اپنی زندگی کے 12 ۔ 15 سال دوسری چیزوں کے پڑھنے میں ضائع کئے ہیں وہاں اس سے آدھا بلکہ چوتھائی وقت ہی اس چیز کے سمجھنے میں صرف کر دیجئے جس پر آ پ کی ملت کی اساس قائم ہے اور جس کو جانے بغیر آپ اس ملت کے کسی کام نہیں آ سکتے۔<br />
<br />
3۔ جو کچھ بھلی یا بری رائے آپ نے ناکافی اور منتشر معلومات کی بنا پراسلام کے متعلق قائم کر رکھی ہے، اس سے اپنے ذہن کو خالی کر کے اس کا باقاعدہ مطالعہ (Systematic Study) کیجئے۔ ۔۔ اب میں اس دعا کے ساتھ اپنا یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آپ کی مدد کرے اور آپ کو اس خطرے سے بچائے جس میں آپ پھنسا دیئے گئے ہیں۔<br />
</font><br />
(ماخوذ از ”تعلیمات “ ص 40 تا 50)<br />
<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
بشکریہ سہ ماہی <a href="http://www.eeqaz.com/" target="_blank">ایقاظ</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/">عمومی بحث</category>
			<dc:creator>عبداللہ آدم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%82%D8%AA%D9%84-%DA%AF%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA-41242/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>کون طاقتور ؟ ہیلی کاپٹر یا جہاز</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA%D9%88%D8%B1-%D8%9F-%DB%81%DB%8C%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%BE%D9%B9%D8%B1-%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%B2-41241/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 12:21:05 GMT</pubDate>
			<description>بچے اپنے بڑوں سے اکثر...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="DarkRed">بچے اپنے بڑوں سے اکثر پوچھتے ہوں گے کہ<br />
ہیلی کاپٹر یا ہوائی جہاز میں سے کون زیادہ طاقتور ہے <br />
تو وہ نہ جانے کیا جواب دیتے ہوں گے<br />
مگر ماسکو والوں نے اس سوال کا چشم دید جواب دے دیا ہے <br />
یہ دیکھیے کہ ایک ہیلی کاپٹر مسافر ہوائی جہاز کو کس طرح اٹھا رہا ہے۔ <br />
<br />
<a href="http://www.youtube.com/watch?v=bwNvRZAKCSY&amp;feature=player_embedded" target="_blank">YouTube - Helicopter carrying a plane!</a><br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/bwNvRZAKCSY"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/bwNvRZAKCSY" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350"></embed></object><br />
<br />
<br />
ہیلی کاپٹر ہے روسی مل می ۲۶ (russian Mil Mi-26)<br />
اور جہاز ہے Tupolev Tu 134<br />
<br />
<br />
اور مزید یہ تصاویر بھی ملاحظہ فرمائیں - -</font></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32536d1280146530-001-jpg" rel="Lightbox_300796" id="attachment32536" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32536d1280146530t-001-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	001.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	45.9 KB
ID:	32536" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32537d1280146607-002-jpg" rel="Lightbox_300796" id="attachment32537" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32537d1280146607t-002-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	002.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	134.7 KB
ID:	32537" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32538d1280146626-003-jpg" rel="Lightbox_300796" id="attachment32538" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32538d1280146626t-003-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	003.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	32.0 KB
ID:	32538" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32539d1280146648-004-jpg" rel="Lightbox_300796" id="attachment32539" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32539d1280146648t-004-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	004.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	64.7 KB
ID:	32539" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32540d1280146709-005-jpg" rel="Lightbox_300796" id="attachment32540" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/32540d1280146709t-005-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	005.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	183.1 KB
ID:	32540" /></a>
&nbsp;<br /><br />

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/">ملٹری سائنس</category>
			<dc:creator>نورالدین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D9%84%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%B7%D8%A7%D9%82%D8%AA%D9%88%D8%B1-%D8%9F-%DB%81%DB%8C%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%BE%D9%B9%D8%B1-%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%B2-41241/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>جھولا ڈالو رے سکھی ساون آیا</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7-%DA%88%D8%A7%D9%84%D9%88-%D8%B1%DB%92-%D8%B3%DA%A9%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D9%88%D9%86-%D8%A2%DB%8C%D8%A7-41239/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 09:35:04 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/32535d1280136860-1101006523-1-jpg" rel="Lightbox_300772" id="attachment32535" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/32535d1280136860t-1101006523-1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	1101006523-1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	162.4 KB
ID:	32535" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/">سیاسی تصاویر اور ویڈیوز</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%D8%A7-%DA%88%D8%A7%D9%84%D9%88-%D8%B1%DB%92-%D8%B3%DA%A9%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D9%88%D9%86-%D8%A2%DB%8C%D8%A7-41239/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>100سے زائد امریکی بنک دیوالیہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/100%D8%B3%DB%92-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%DA%A9-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81-41238/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:56:57 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>000000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32534d1280134602-7-24-2010_39668_1-jpg" rel="Lightbox_300766" id="attachment32534" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32534d1280134602t-7-24-2010_39668_1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	7-24-2010_39668_1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	108.5 KB
ID:	32534" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/100%D8%B3%DB%92-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%DA%A9-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81-41238/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ایڈوانس شب برات مبارک ہو</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%B4%D8%A8-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9-%DB%81%D9%88-41237/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:52:34 GMT</pubDate>
			<description>کل مورخہ 27جولائی بروز...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>کل مورخہ 27جولائی بروز منگل شعبان کی 14   اور 15ویں رات ہے۔ جس میں تمام کے نامہ اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں ۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ‌  پندرہ شعبان کی رات اپنی تمام مخلوق کی طرف رحمت سے دیکھتا ہے ۔ اور مشرک اور رشتہ داری توڑنے والے کے سوا تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔۔<br />
<br />
<font color="Purple">میرے حق اور تمام مسلمان بھائیوں کے حق میں دعا کریں کہ اللہ ہم سب کی مغفرت فرمائے۔۔۔۔۔۔ </font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%B4%D8%A8-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9-%DB%81%D9%88-41237/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ہفتے میں دو چھٹیاں 30ستمبر تک بڑھانے کا فیصلہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DB%81%D9%81%D8%AA%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%88-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-30%D8%B3%D8%AA%D9%85%D8%A8%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41236/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:46:46 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32533d1280133989-bp-14-jpg" rel="Lightbox_300764" id="attachment32533" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32533d1280133989t-bp-14-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	bp-14.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	114.8 KB
ID:	32533" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%DB%81%D9%81%D8%AA%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%88-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-30%D8%B3%D8%AA%D9%85%D8%A8%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-41236/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>آقا نے غلام حکمرانوں کو ایک اور حکم تھما دیا</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A2%D9%82%D8%A7-%D9%86%DB%92-%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%AA%DA%BE%D9%85%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-41235/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:40:55 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>0000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32532d1280133619-7-24-2010_39668_1-jpg" rel="Lightbox_300762" id="attachment32532" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32532d1280133619t-7-24-2010_39668_1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	7-24-2010_39668_1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	214.8 KB
ID:	32532" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%A2%D9%82%D8%A7-%D9%86%DB%92-%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%AA%DA%BE%D9%85%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-41235/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>تھریڈ تک رسائی کیوں نہیں ؟</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AA%DA%BE%D8%B1%DB%8C%DA%88-%D8%AA%DA%A9-%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%9F-41234/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:39:49 GMT</pubDate>
			<description>السلام علیکم ! 
تازہ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلام علیکم !<br />
تازہ ترین مراسلات میں ایک تھریڈ <br />
&quot;&quot;رمضان کے حوالے سے کچھ بینرز &quot;&quot; کھل کیوں نہیں رہا ؟<br />
ڈیلیٹ ہو گیا ہے ؟<br />
<a href="http://pak.net/showthread.php?p=300548#post300548" target="_blank">پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز</a><br />
اگر پرائیوٹ ہے تو یہ تھریڈ ظاہر کیوں ہو رہا ہے ؟</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA/">تجاویز اور شکایات</category>
			<dc:creator>ARHAM</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA/%D8%AA%DA%BE%D8%B1%DB%8C%DA%88-%D8%AA%DA%A9-%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%9F-41234/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>خراٹوں سے چھٹکارا کا آلہ تیار</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%B9%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%A2%D9%84%DB%81-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-41233/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 08:34:14 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>00000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32531d1280133230-1101006523-1-jpg" rel="Lightbox_300760" id="attachment32531" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32531d1280133230t-1101006523-1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	1101006523-1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	324.9 KB
ID:	32531" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D9%B9%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%86%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%A2%D9%84%DB%81-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-41233/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>اسلام پر دشمنان کا ایک اور رکیک حملہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%DB%8C%DA%A9-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%81-41232/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 06:26:23 GMT</pubDate>
			<description>*اسلام پر کافروں کا ایک...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><b>اسلام پر کافروں کا ایک اور رکیک حملہ۔</b><br />
فیس بک پر &quot;Everybody Burn Quran Day&quot;کے نام سے ایک مقابلہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں مذہب اسلام اور قرآن پاک پر طرح طرح کے طریقوں سے اعتراض اور کیچڑ اچھالا جا رہا ہے جو کہ بہت افسوس کا مقام ہے ہم مسلمان خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں کیا بحیثیت مسلمان ہمارا کچھ حق نہیں بنتا؟<br />
<br />
<br />
کیا کوئی ہیکر اس سائیٹ کو ہیک نہیں کرسکتا؟<br />
<br />
اگر نہیں تو کم از کم ہم ایک بار ان پر لعنت تو بھیج سکتے ہیں یہ تو ایمان کا آخری درجہ ہے۔<br />
<br />
میری طرف سے فیس بک اور اس کی انتظامیہ پر سو بار <font color="Plum"><font face="Trebuchet MS"><font size="7">لعنت</font></font></font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81/">اسلامی عقیدہ</category>
			<dc:creator>saqib</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%DB%8C%DA%A9-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%81-41232/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>فیس بک پہ ایک اور بےغیرتی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%81%DB%8C%D8%B3-%D8%A8%DA%A9-%D9%BE%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DB%92%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA%DB%8C-41230/</link>
			<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 05:38:54 GMT</pubDate>
			<description>السلامُ‌علیکم دوستو!...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>السلامُ‌علیکم دوستو!<br />
بہت افسوس کے ساتھ میں یہاں بیان کررہا ہوں کہ کفارکی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی سازشیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ اور وقتی طور پہ ہم سب بہت غصہ ہوتے ہیں اور واویلا کرتے ہیں لیکن بعد میں سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں ۔ جیسا کہ پچھلے دنوں فیس بک پہ نعوذ باللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے خاکے بنائے گئے جس کی نتیجہ میں‌مسلمانوں کی طرف سے کافی احتجاج کیا گیا اور کچھ ممالک نے فیس بک اور کچھ دوسری سائٹس پہ مکمل اور کچھ ممالک میں‌جزوی طور پہ پابندی لگائی جو کہ کچھ عرصہ کے بعد پھر سے اٹھا لی گئی ۔ اس دوران فیس بک کو بہت سے لوگوں نے خیر باد کہہ دیا ۔ لیکن ان کفار کی طرف سے یہ سننے میں‌آتا رہا کہ مسلمان زیادہ دیر تک فیس بک یا دوسری سائٹس سے دور نہیں رہ سکتے۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔<br />
اب کفار نے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے فیس بک پہ ایک پیج بنایا ہے جس کا نام نعوذ باللہ ، استغفراللہ &quot;<a href="http://www.facebook.com/pages/Everybody-Burn-Quran-Day/128549677181291?ref=mf#!/pages/Everybody-Burn-Quran-Day/128549677181291?v=wall&amp;ref=mf" target="_blank">Everbody Burn Quran Day</a>&quot; رکھا ہے۔اور بھی اس طرح کے کئی پیجز ہیں۔<br />
اب کی بار ہمیں ان کتوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا ۔اور آپ سب سے گزارش ہے کہ اس پیج کی زیادہ سے زیادہ رپورٹ کریں تاکہ فیس بک کی بے غیرت انتظامیہ اس کے خلاف ایکشن لے اور ہماری حکومت کو بھی اب مکمل طور پہ فیس بک کو پاکستان میں بین کردینا چاہئیے۔<br />
<br />
<a href="http://adnan.gondlanwala.com/2010/07/فیس-بک-پہ-ایک-اور-بےغیرتی/" target="_blank">فیس بک پہ ایک اور بےغیرتی | عدنان کا بلاگ</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/">عمومی بحث</category>
			<dc:creator>عدنان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/%D9%81%DB%8C%D8%B3-%D8%A8%DA%A9-%D9%BE%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DB%92%D8%BA%DB%8C%D8%B1%D8%AA%DB%8C-41230/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>لشکر طیبہ عالمی خطرہ</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1-%D8%B7%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81-41229/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 23:13:12 GMT</pubDate>
			<description>لشکر طیبہ عالمی خطرہ،...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font face="Garamond"><font color="Red"><div align="center"><font size="6">لشکر طیبہ عالمی خطرہ، سخت کارروائی کی ضرورت: مولن</font></div></font><br />
<br />
<br />
<font color="Blue"><font color="Purple">میرا یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں روپوش ہیں: ایڈمرل مولن</font><br />
<br />
امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ ایک بہت خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔<br />
<br />
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے امریکی جنرل ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ بہت زیادہ خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ ’ لشکر طیبہ کی صلاحیت بڑھ رہی ہے اور قابل تشویش بن گئی ہے، سب سے قابل ذکر پہلوں اس کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور یہ زیادہ مہک ہو رہی ہے۔‘<br />
<br />
لشکر طیبہ کی صلاحیت بڑھ رہی ہے اور قابل تشویش بن گئی ہے، سب سے قابل ذکر پہلوں اس کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور یہ زیادہ مہک ہو رہی ہے<br />
ایڈمرل مائیک مولن<br />
انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کوافغانستان اور خطے سے باہر دوسرے ممالک تک بڑھا رہی ہے۔<br />
<br />
ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مائیک مولن نے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کو حمایت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں موجود ہے۔<br />
<br />
ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی قیادت بڑی محفوظ جگہ پر روپوش ہیں اور انھیں تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔انھوں نے کہا کہ’ میرا یقین ہے کہ اسامہ پاکستان میں ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحد کے قبائلی علاقے القاعدہ کے نیٹ ورک کا گلوبل ہیڈ کواٹر ہیں۔<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ’ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں جاری سرکشی میں شدت سے سرگرم عمل ہے، اور اس کے خلاف ایک سخت پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔‘<br />
<br />
<br />
لشکر طیبہ کے سربراہ مولاناعبدالواحد پاکستان کے زیر انتظام میں<br />
انھوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کے فیصلے کو سراہا لیکن اس کے ساتھ زور دیا کہ حقانی گروپ جو افغانستان کے امن کو خراب کر رہا ہے کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سب سے زیادہ خطرناک نیٹ ورک ہے جس کا سامنا افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو ہے۔ ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر متعدد بار زور دیا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔ ایڈمرل مولن کے مطابق پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خطرے سے آگاہ ہے۔<br />
<br />
انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم اتحادی ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور مدد کو وسعت دی جائے ۔<br />
<br />
پاکستان میں خفیہ طور پر امریکی فوج موجود نہیں ہیں۔ پاکستانی درخواست پر امریکی فوجی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ صرف تربیت دینے کے لیے ہیں<br />
ایڈمرل مائیک مولن<br />
ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مولن نے کہا کہ پاکستان میں خفیہ طور پر امریکی فوج موجود نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی درخواست پر امریکی فوجی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ صرف تربیت دینے کے لیے ہیں۔‘<br />
<br />
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع میں کسی امریکی کردار کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔<br />
<br />
خیال رہے کہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے کوئی ایک ماہ بعد پاکستان نے لشکر طیبہ پر پابندی عائد کی تھی۔ بھارت نے پارلیمان پر حملے کا الزام لشکر طیبہ اور جیش محمد پر لگایا تھا لیکن دونوں تنظیمیں اس کی تردید کرتی رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد لشکر طیبہ کے بانی اور سربراہ حافظ سعید نے خود کو لشکر طیبہ سے الگ کیا اور اس کی جگہ جماعت الدعوۃ تنظیم بنا لی تھی۔<br />
<br />
نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ہندوستان نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر عائد کیا اور اس کا موقف یہ ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔<br />
<br />
لیکن ان دونوں تنظیموں نے اس الزام کی تردید کی اور جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ اس کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ یہ ایک رفاعی تنظیم ہے۔</font><br />
<br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100724_mullen_lashker_threat.shtml" target="_blank">بحوالہ خبر</a><br />
</font></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/">میرا پاکستان</category>
			<dc:creator>کنعان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1-%D8%B7%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81-41229/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>جنگ جرنیلوں پر نھیں چھوڑی جا سکتی</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%AC%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C-%D8%AC%D8%A7-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C-41228/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 20:42:51 GMT</pubDate>
			<description>جنرل خالد بن ولید رض: کو...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div align="center">جنرل خالد بن ولید رض: کو کسی اور نے نہیں رسول اللہ صل: نے سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔ جنرل خالد بن ولید رض: کی فوجوں نے پہلے پورا جزیرہ نما عرب، اس کے بعد ایران کی ساسانی سلطنت اور پھر مشرقی رومن سلطنت کو کھدیڑ ڈالا اور لاکھوں مربع میل خلافتِ راشدہ میں شامل کردیے۔ شمال تا جنوب یہ تاثر پھیل گیا کہ جہاں خالد بن ولید رض: کے قدم پہنچیں گے فتح یقینی ہے۔<br />
جب خلیفہ دوم حضرت عمر رض:  تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے خالد بن ولید  رض: سے عین اس وقت کمان لے کر ابوعبیدہ ابنِ جراح کے حوالے کردی جب ناقابلِ تسخیر خالد کا لشکر مدینہ سے ہزاروں میل دور رومی سلطنت کے اہم مرکز دمشق کو فتح کرنے کی لڑائی کے آخری مرحلے میں الجھا ہوا تھا۔<br />
حضرت عمر رض: سے پوچھا گیا یہ آپ نے کیا کیا ؟ کہنے لگے کامیابی و ناکامی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ انسان کے بس کی بات کب سے ہوگئی۔<br />
<br />
فرانسیسی مدبر اور پہلی عالمی جنگ کے دور میں وزیرِ اعظم رہنے والے جارج کلیمنشیو کا یہ فقرہ لاکھوں بار دہرایا جاچکا ہے کہ جنگ ایک سنجیدہ کام ہے اسے جنرلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔<br />
<br />
جب اٹھارہ سو اکسٹھ میں امریکی خانہ جنگی شروع ہوئی اور وفاق عملاً معطل ہوگیا۔ ملک شمال اور جنوب میں بٹ گیا تو صدر ابراہم لنکن کی فوج کے سربراہ جنرل ارون میکڈوول تھے۔<br />
<br />
چار سالہ جنگ کے دوران صدر لنکن نے سات جرنیل تبدیل کیے۔ ان میں جنرل جارج میڈ جیسا باصلاحیت اور جری کمانڈر بھی تھا جس نے گیٹس برگ کی جنگ جیت کر وفاق مخالف قوتوں کی شکست کا راستہ ہموار کیا۔<br />
<br />
لیکن صدرِ مملکت ان کی کارکردگی سے بھی مطمئین نہ ہوئے اور جب جنگ ختم ہوئی تو جنرل یولیسس گرانٹ نے باغی جنوب کے آخری دستوں سے ہتھیار رکھوائے۔ کسی نے ابراہم لنکن سے نہیں پوچھا کہ عین جنگ میں چار سال کے دوران سات جرنیل یکے بعد دیگرے کیوں تبدیل کردیے ۔<br />
<br />
اگر دوسری عالمی جنگ کا کوئی ایک امریکی فوجی ہیرو چنا جائے تو بلاشبہہ وہ جنرل ڈگلس میک آرتھر ہوگا۔ جس نے پورا بحرالکاہل جاپانیوں سے خالی کروایا۔ فلپینز آزاد کروایا ۔جاپان پر قبضہ کیا اور یورپ میں لڑنے والے اتحادیوں کو موقع دیا کہ وہ پوری توجہ ہٹلر کے خلاف مبذول کرسکیں۔<br />
<br />
سن پچاس میں جنگِ کوریا شروع ہوئی تو جنرل میک آرتھر کو شمالی کوریا سے نبرد آزما اتحادی افواج کی قیادت دی گئی۔ لیکن ایک برس بعد عین اس وقت جب جنگ کا پانسہ کسی بھی طرف پلٹ سکتا تھا، صدر ٹرومین نے جنگی پالیسی پر جنرل میک آرتھر کے اظہارِ ناپسندیدگی کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کمان سے برخواست کردیا اور جنرل رج وے کو کمان دے دی۔<br />
<br />
کتنےعجیب تھے وہ رہنما جو عین حالتِ جنگ میں اپنے کمانڈر بدل دیتے تھے۔<br />
<br />
آپ سمجھ تو گئے ہوں گے!!<br />
</div><br />
<div align="left"><font size="3">وسعت اللہ خان</font><br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100725_bat_se_bat_wusat.shtml" target="_blank"><font size="3">بی بی سی اردو</font></a> </div></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA/">سیاست</category>
			<dc:creator>فیصل ناصر</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%AC%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%DB%8C-%D8%AC%D8%A7-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%8C-41228/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Paltalk</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/paltalk-41225/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 13:05:00 GMT</pubDate>
			<description>اسلام علیکم! 
paltalkایک...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اسلام علیکم!<br />
paltalkایک بہت ہی اچھا مسینجر ہے جوبھائی اس کو استعمال کرتے رہے ہیں ان کو معلوم ہو گا۔ مگر ایک وقت وہ آیا کہ پالٹاک والوں‌نے پاکستانی لوگوں اور دیگر ممالک جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں پر پابندی لگا دی کہ وہ اپنا نک نیم رجسڑڈ کیے بغیر پالٹاک کے رومز میں داخل نہیں‌ہو سکتے تھے،پاکستان اور عرب ممالک میں اس کی رجسٹریشن ایک Al-Padeelنامی کمپنی کو دی گئی، جس نے اس کے لیے بہت ذیادہ رقم لینا شروع کر دی، پاکستان میں موجود Al-Padeelکے نمائندوں‌ نے بھی یہ ہی ہاتھ رکھا جس کی وجہ سے کئ پاکستانی اس سے دور ہوگئے۔ جو بھائی اس میسنجرPaltalk کو استعمال کرتے رہے ہیں اور اب کم قیمت میں‌استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ درج ذیل ویب سائٹ کا وزٹ کریں۔ میں نے بھی ان سے کم قیمت میں‌اپنا نک نیم رجسٹرڈ کرایا ہے۔<br />
<a href="http://paltalk-subscription.blogspot.com/" target="_blank"><div align="center"><font size="5">پالٹاکPaltalkسبکرابشن </font></div></a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/">سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست</category>
			<dc:creator>Student</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/paltalk-41225/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>آخری مغل بادشاہ</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%BA%D9%84-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81-41224/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 12:44:12 GMT</pubDate>
			<description>اسلام علیکم! 
کیا حال...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اسلام علیکم!<br />
کیا حال ہیں شعراء کرام <br />
مجھے آخری مغل بادشاہ بہادرعلی ظفرکا کلام درکار ہے کیا کہیں سے مل سکتا ہے انٹر نیٹ پر؟میں نے سرچ کی مگر پورا کلام کہیں بھی نہیں‌مل سکا نیٹ پر۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/">شعر و شاعری</category>
			<dc:creator>Student</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%BA%D9%84-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%B4%D8%A7%DB%81-41224/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>اولیاء اللہ کے بارے میں ذیلی ناظم عبداللہ حیدر کا فتویٰ،</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%81/%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B0%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D8%B8%D9%85-%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D8%AA%D9%88%DB%8C%D9%B0%D8%8C-41222/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 10:34:11 GMT</pubDate>
			<description>---Quote (Originally by...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><div style="margin:20px; margin-top:5px; ">
	<div class="smallfont" style="margin-bottom:2px">&#1575;&#1602;&#1578;&#1576;&#1575;&#1587;:</div>
	<table cellpadding="6" cellspacing="0" border="0" width="100%">
	<tr>
		<td class="alt2">
			<hr />
			
				<div>
					اصل مراسلہ منجانب : <strong>عبداللہ حیدر</strong>
					(&#1605;&#1585;&#1575;&#1587;&#1604;&#1729; 300500)
				</div>
				<div style="font-style:italic">السلام علیکم، ارے بھائی! یہ شرک تھوڑا ہی ہے، سارا قصور تو ان وہابیوں کا ہے جو قبر پوجنے والے توحیدیوں کو اس سے منع کرتے ہیں ورنہ یہ کوئی لڑائی جھگڑے والی بات نہیں‌ہے۔ یقین نہ آئے تو آبی ٹو کول کا مراسلہ پڑھ لیں۔<br />
<font color="Red"><font size="6">یہ قبروں کے مجاور، اللہ کے احکام بیچ کھانے والے، خود کو الہ بنوا کر پجوانے والے، کیا یہ ہیں دین کے وارث؟ یہ ہیں جنہوں نے برصغیر میں‌اسلام پھیلایا؟ یہ ہیں مریدوں کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جانے والے؟</font></font> <br />
<font color="Green">مسلمانو! اللہ کے لیے ان دھوکے بازوں سے بچ کر قرآن و حدیث کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ جاؤ۔</font><br />
والسلام علیکم</div>
			
			<hr />
		</td>
	</tr>
	</table>
</div><div style="margin:20px; margin-top:5px; ">
	<div class="smallfont" style="margin-bottom:2px">&#1575;&#1602;&#1578;&#1576;&#1575;&#1587;:</div>
	<table cellpadding="6" cellspacing="0" border="0" width="100%">
	<tr>
		<td class="alt2">
			<hr />
			
				<div>
					اصل مراسلہ منجانب : <strong>ALI-OAD</strong>
					(&#1605;&#1585;&#1575;&#1587;&#1604;&#1729; 300469)
				</div>
				<div style="font-style:italic">کیا اسلام سجدہ تعظیمی کی اجازت دیتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟</div>
			
			<hr />
		</td>
	</tr>
	</table>
</div>اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اس شخص نے یہ زہر اگلا ہے۔ <br />
<br />
اولیاء اللہ کو براکہنے اور وہابیت کی تبلیغ کرنے والے اس شخص سے ذیلی ناظمیت چھین لی جائے،اوراس شرپسند کو تردید پوسٹ کرنے کا حکم دیاجائے۔ میرا یہ مطالبہ ہے۔</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%81/">تھانہ</category>
			<dc:creator>بلال اویسی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%81/%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B0%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D8%B8%D9%85-%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D8%AA%D9%88%DB%8C%D9%B0%D8%8C-41222/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ماہ شعبان اور شب بارات</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A8-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-41220/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 08:59:44 GMT</pubDate>
			<description>ماہِ رواں ماہِ شعبان ہے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ماہِ رواں ماہِ شعبان ہے ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، <b><font color="purple">اِس مہینہ کی فضیلت کے بارے میں محدثین نے جو احادیث روایت کی ہیں اُن میں ہمیں ایک فضلیت تو یہ ملتی ہے کہ اِس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھے جائیں </font></b>، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ <font color="darkred">((( <font face="Tahoma">لم یَکُن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَصُومُ شَہْرًا اَکثَرَ من شَعبَانَ فاِنہ کان یَصُومُ شَعبَانَ کُلَّہُ وکان یقول خُذُوا من العَمَلِ ما تُطِیقُونَ فاِن اللَّہَ لَا یَمَلُّ حتی تَمَلُّوا وَاَحَبُّ الصَّلَاۃِ اِلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما دُووِمَ علیہ وَاِن قَلَّت وکان اِذا صلی صَلَاۃً دَاوَمَ علیہا :::</font> نبی صلی اللہ علیہ وسلم کِسی بھی اور مہینے سے زیادہ شعبان میں روزے رکھا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے اُتنا (نیک) کام کرو جتنے(کو ہمیشہ کرنے) کی طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (تمہارے کاموں )سے اُس وقت تک نہیں بھرتا جب تک تم لوگ نہ بھر جاو (یعنی ( تمہارے دِل وہ کام کرنے سے نہ بھر جائیں) ،،،،،، )))</font> صحیح البخاری /کتاب الصیام /باب ٥١ صوم شعبان،<br />
<b><font color="purple">اِس ایک عِلاوہ ماہِ شعبان کی دوسری فضیلت بھی ملتی ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی آگے آئے گا</font> </b>، <br />
اِس دوسری حدیث میں شعبان کی درمیانی رات کے بارے میں ایک خبر بیان کی گئی ہے مگراِس میں وہ کُچھ یقیناً نہیں ہے جو بھائی لوگوں نے بنا لیا ہے اور جِس پر وہ عمل کئیے جا رہے ہیں ، بھیڑ چال چونکہ ہماری عادت ہو چکی ، لہذا یہ دیکھنے کی زحمت کیوں کی جائے کہ ریوڑ کہاں جا رہا ہے ، بس گردن ڈالے چلے جا رہے ہیں کہ جہاں باقی جائیں گے ہم بھی وہیں جا ئیں گئے اور پھر اِس عادت کو پُختہ کرنے میں شیطان کی محنت بھی کافی شامل ہے ، جو ہمیں اِس خوشی فہمی میں رکھتا ہے کہ ''' اِتنے بڑے بڑے عُلماء بھلا کیسے غلط کہہ سکتے ہیں، اور یہ اِتنے لوگ جو کُچھ کہہ اور کر رہے ہیں یہ سب غلط ہونا تو بہت ہی مُشکل ہے ، وغیرہ وغیرہ ''' اور اِسی طرح کے دیگر وسوسوں کے ذریعے وہ ہمیں حق سے دور رکھتا ہے ، اور یہ بھلائے رکھتا ہے کہ <b><font color="purple">غلطی سے محفوظ ، اور معصوم صِرف اور صِرف انبیاء اور رسول علیہم السلام ہوتے تھے اور ہر قِسم کے کمی ،غلطی ، نُقص اور عیوب سے پاک صِرف اور صِرف اللہ کی ذات ہے ،</font></b><br />
<font color="red">اکثریت کِسی بھی معاملے کی درستگی یا نا درستگی کی پرکھ کی کسوٹی نہیں </font>خاص طور پر دِینی معاملات میں وہاں حق صِرف اور صِرف اللہ کی وحی ہے وہ قران میں سے ہو یا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان پر جاری کروائی ہو ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے <font color="darkred">((( <font face="Tahoma">قُلِ اللّہُ یَہدِی لِلحَقِّ اَفَمَن یَہدِی اِلَی الحَقِّ اَحَقُّ اَن یُتَّبَعَ اَمَّن لاَّ یَہِدِّی اِلاَّ اَن یُہدَی فَمَا لَکُم کَیف َ تَحکُمُونَO وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُہُم اِلاَّ ظَنّاً اَِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغنِی مِنَ الْحَقِّ شَیااً اِنَّ اللّہَ عَلَیمٌ بِمَا یَفعَلُون :::</font> (اے رسول )کہیے اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے ، تو وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ اِس بات کا حق دار ہے کہ اُس کی تابع فرمانی کی جائے یا وہ جو ( اللہ سے ) ہدایت پائے بغیر خود کِسی کو ہدایت نہیں دے سکتا ، تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، (کہ اللہ کی ہدایت کے علاوہ اور اور فلسفوں اور رائے کو بنیاد بنا کر ) کیسے عجیب فیصلے کرتے ہوO اور اُن (اِنسانوں) کی اکثریت ظن ( خیالوں) کی پیروی کرتی ہے ، (جبکہ ) بے شک خیالات حق سے غنی نہیں کر سکتے ، جو کچھ یہ کرتے ہیں بے شک اللہ (وہ سب ) بہت اچھی طرح جانتا ہے ))) </font>سورت یونس / آیت ٣٥، ٣٦<br />
اور فرمایا <font color="darkred">((( <font face="Tahoma">اِنَّ اللّہَ لَذُو فَضلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَـکِنَّ اَکثَرَہُم لاَ یَشکُرُون :::</font> بے شک اللہ انسانوں پر مہربانی کرنے والا ہے لیکن اُنکی اکثریت شکر نہیں کرتی ( یعنی اللہ کی تابع فرمانی کرنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی کرتی ہے ) ))) </font>سورت یونس آیت ٦٠ ، <b>تو اکثریت کا کِسی قول و فعل پر عمل پیرا ہونا کِسی بھی مسلمان کے لیے اُس قول یا فعل کو اپنانے کی دلیل نہیں ہوتی ، اکثریت کو درستگی کی دلیل اُس جمہوریت میں مانا جاتا ہے جِس میں سر گنے جاتے ہیں سروں کے اندر کیا ہے وہ نہیں دیکھا جاتا ،</b> آئیے ذرا ماہِ شعبان میں چلی جانے والی بھیڑ چال سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کے لئیے دیکھیں تو سہی کہ کون کِس کی ہانک پر کہاں چلا ہی جا رہا ہے ؟<br />
<b>کِسی نے اِن سے کہا ، شعبان کی پندرہویں رات میں حساب کِتاب دیکھے جاتے ہیں ، مُردوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں ، زندگی اور موت کے فیصلے کئیے جاتے ہیں ، جِس نے آنے والے سال میں مرنا ہونا ہے اُسکا پتہ زندگی کے درخت سے جھاڑ دِیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور شاید اِسی عقیدے کی بنا پر ''' پتہ صاف کرنا ''' محاورۃً اِستعمال کیا جاتا ہے ، بہر حال ، جِس حدیث کو بُنیاد بنا کر یہ قصے گھڑ لئیے گئے اور طرح طرح کی عِبادات اور ذِکر اذکار بنا لیے گئے ،</b><br />
<b>آئیے سُنیے کہ وہ حدیث کیا ہے ، </b>معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا <font color="darkred">((( <font face="Tahoma">یطَّلعُ اللَّہ ُ تبارکَ و تعالیٰ اِلیٰ خلقِہِ لیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ فَیَغفِرُ لِجمیع ِ خلقِہِ ، اِلاَّ لِمُشرِکٍ او مشاحن </font>::: اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں اپنی مخلوق (کے اعمال )کی خبر لیتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے ، سوائے شرک کرنے والے اور بغض و عناد رکھنے والے کے ( اِنکی مغفرت نہیں ہوتی ))) </font>صحیح الجامع الصغیر حدیث١٨١٩ ، سلسلہ احادیث الصحیحہ/حدیث١١٤٤ ، <br />
اور اِس کی دوسری روایت اِن الفاظ میں ہے <font color="darkred">((( <font face="Tahoma">اِذا کَان لَیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ اَطلَعُ اللَّہ ُ اِلَی خَلقِہِ فَیَغفِرُ لِلمُؤمِنِینَ وَ یَملیَ لِلکَافِرِینَ وَ یَدعُ اَئہلِ الحِقدِ بِحِقدِہِم حَتَی یَدعُوہُ </font>::: جب شعبان کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق (کے اعمال )کی اطلاع لیتا ہے اور اِیمان والوں کی مغفرت کر دیتا ہے اور کافروں کو مزید ڈِھیل دیتا ہے اورآپس میں بغض (غصہ ) رکھنا والے ( مسلمانوں ) کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا غُصہ چھوڑ دیں )))</font> حدیث حسن ہے ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/ حدیث ٧٧١(771 ) <br />
<b><font color="purple">اِن منقولہ بالا دو حدیثوں کو پڑھ کر ان شاء اللہ ہر قاری سمجھ سکتا ہے کہ اِن میں کوئی ایسی خبر نہیں جِس کو بُنیاد بنا کر ہم وہ کُچھ کریں جو کرتے ہیں</font> </b><br />
<b>بات تو تھی بھیڑ چال کی،اسی چال میں چلتے چلتے ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کُچھ کو دیئے جلاتے ہوئے پایا اور خود بھی یہ کام شروع کر دیا ، کُچھ نے اِس دیے بازی اور آتش پرستی کو ہندو چال اور مجوسی چال سے مُسلم چال میں ڈھالنے کےلئیے شبِ برأت بنا لیا ، کچھ حساب کتاب کی بات بنائی گئی ، کُچھ نماز اور ذِکر اذکار شامل کر لیئے گئے ، جب کہ اِن سب چیزوں کے لیئے ہمارے پاس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ثابت شدہ سچی قابلِ اعتماد خبر نہیں، مگر کیا کریں ذوق اور عادت میں شامل ہو چکا ہے کہ ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ناکافی سمجھا جائے ، اور اُن کی تعلیمات خلاف ورزی کی جائے لیکن جِن کی پیروی کی جاتی ہے اُنکی بات کو ہر صورت مانا جائے اور اُسے درست ثابت کرنے کے لیے قران و سُنّت کی کوئی بھی تاویل کی جائے ،</b><br />
<b><font color="purple">خود کو بدلتے نہیں قراں کو بدل دیتے ہیں ::: مرشد کے نہیں رسول کے فرماں کو بدل دیتے ہیں</font> </b><br />
سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خِلاف ورزی بھی کی جائے اور اُن کی اتباع کا دعویٰ اور اُن سے نسبت بھی برقرار رکھی جائے ، ہندوؤں کی طرح گھروں کو روحوں کے اِستقبال کے لیے دھویا جائے اور چراغاں کے نام پریہودیوں اور مجوسیوں کی طرح آگ سے سجایا جائے ، عیسائیوں کی طرح پٹاخے چلائے یا بجائے جائیں اور آتش بازی کی جائے رات بھر جاگ جاگ کر خود ساختہ عِبادات اور ذکر اذکار کیئے جائیں ، پھر بھی ہم درست ہمارا دعویٰ سچا ہماری نسبت ٹھیک،،، اور جو اِن کاموں سے روکے اور قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی دعوت دے وہ گستاخ ، اور فرقہ واریت پھیلانے والا ، سبحان اللَّہ و الیہ أشکو ، <br />
آگ کو بلا ضرورت استعمال کرنا اور جلائے رکھنا آگ پرست ایرانی مجوسیوں کا باطل مذھب تھا ، کہ وہ ہر وقت گھروں میں آگ جلائے رکھتے تھے اور اپنے خوشی و غم کے اظہار کے لیے خاص طور پر بڑی چھوٹی آگ جلاتے تھے ، یہودی بھی اپنے مذہبی بلاوے کے لیے آگ جلاتے تھے اِسی لیے جب صحابہ نماز کے بلاوے کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے تو آگ جلانے کی سوچ کو یہودیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کِیا اور ناقوس (ناقوس، کِسی جانور کا بڑا سے سینگ جِسے کھو کھلا کر کے اُس میں پھونک مار کر زور دار آواز پیدا کی جاتی ہے یا اُسی قِسم کی کوئی اور چیز خواہ دھات سے بنی ہو یا کِسی اور مواد سے ، ناقوس کہلاتی ہے ، ناقوس) استعمال کرنے کی سوچ کو عیسائیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کیا ،<font color="darkred"> <b>تو اُس وقت عُمر رضی اللہ عنہُ نے اذان دینے کا مشورہ دِیا اور اُن کے مشورہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُبُول فرما کر بلال رضی اللہ عنہُ کو حُکم دِیا کہ اذان کہیں ، اور اذان کے فقرے دو دو دفعہ کہیں ، اور اقامت کے ایک دفعہ ،</b></font> صحیح البخاری / کتاب الاذان / پہلے باب کی احادیث ، اور صحیح مسلم / کتاب الصلاۃ / پہلے باب کی پہلی حدیث ،<br />
<b>ہندو بھی اپنی کچھ خاص عبادات میں دئیے اور موم بتیاں وغیرہ جلاتے تھے اور ہیں ، مسلمانوں میں کِسی ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے کے عِلاوہ آگ کا استعمال کبھی مروج نہیں رہا ، اور ہمارے ہاں اِس رات میں عِبادت کے طور پر ثواب و اجر کی نیت سے آگ جلائی جاتی ہے ، اِنّا للِّہِ و اِنّا اِلیہِ راجِعُونَ ۔</b><br />
<font size="6"><font color="red">شعبان کی فضیلت میں بیان کی جانے والی غیر ثابت احادیث </font></font><br />
<b><font color="red">(١)</font></b> جھوٹ کی ایک لمبی کہانی بنا کر حدیث کے طور پر پھیلائی گئی اُسکا آغاز اِسطرح ہے '''&quot;&quot;&quot; <font face="Tahoma">یا علی من صلی لیلۃ النصف من شعبان مئۃ رکعۃ بالف قل ہو اللہ احد قضی اللہ لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ وساق جزافات کثیرۃ واعطی سبعین الف حوراء لکل حوراء سبعون الف غلام وسبعون الف ولدان </font>،،،،،، ::: اے علی جس نے شعبان کی درمیانی رات میں سو رکعت نماز ، ہزار دفعہ قل ھو اللہ احد کے ساتھ پڑہی تو وہ اللہ سے جس ضرورت کا بھی سوال کرے گا اللہ وہ دے گا ، اور اللہ بہت سے انعامات دے گا اور ستر ہزار حوریں دی جائیں گی اور ستر ہزار درمیانی عمر کے بچے اور ستر ہزار چھوٹی عمر کے بچے ،،،،،،،،، '''&quot;&quot;&quot; ، <br />
اِمام ابن القیم نے ''' المنار المنیف فی صحیح و الضعیف ''' میں اِس حدیث کے بارے لکھا ''' حیرت ہے کہ کوئی سُنّت کے عِلم کی خوشبو پاتا ہو اور پھر بھی اِس قِسم کی فضول باتوں سے دھوکہ کھائے ، یہ نماز اِسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس کے علاقے میںبنائی گئی اور پھر اِسکے بارے میں بہت سی احادیث بنائی گئیں ''' <br />
<b><font color="red">(٢)</font></b> '&quot;&quot;&quot;'' <font face="Tahoma">من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرا فی کل رکعۃ ثلاثین مرۃ قل ہو اللہ احد شفع فی عشرۃ من اہل بیتہ قد استوجبوا النار</font> ::: جِس نے شعبان کی درمیانی رات میں بارہ رکعت نماز پڑہی اور ہر رکعت میں تیس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑہی تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ایسے دس کی شفاعت کر سکے گا جِن پر جہنم میں جانا واجب ہو چکا ہو گا'''<br />
سابقہ حوالہ /جلد ١ /صفحہ ٩٨ (ناشر کے فرق سے صفحات کے نمبر مختلف ہو سکتے ہیں)<br />
<b><font color="red">(٣)</font></b> '&quot;&quot;&quot;&quot;'' <font face="Tahoma">خمس لیال لا ترد فیہن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ ولیلۃ الفطر ولیلۃ النحر </font>::: پانچ راتیں (ایسی) ہیں جن میں دُعا رد نہیں کی جاتی (قُبُول کی جاتی ہے ) رجب کی پہلی رات اور شعبان کی درمیانی رات ، اور جمعہ کی رات اور عید ِفطر کی رات ''&quot;&quot;&quot;' :::حدیث مَن گِھڑت جھوٹی ہے ، اِس کی سند میں ابو سعید بندار بن عمر بن محمد بن الرویانی نامی راوی ہے جسے محدثین نے جھوٹا اور حدیثیں گَھڑنے والا قرار دِیا ہے ،<br />
( <font color="red"><font size="6"><b>ایک تنبیہہ</b></font> </font>::: خیال رہے کہ اسلامی قمری نظام میں رات دِن سے پہلے آتی ہے جبکہ عیسوی نظامِ تاریخ میں دِن رات سے پہلے آتے ہیں ، عیدِ فِطر کی رات وہ رات جو عید کے دِن سے پہلے ہے ، جِسے عام طور پر چاند رات کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کی ادائیگی کی تیاری کرنے کی بجائے نافرمانی کرتے ہوئے اور مزید نافرمانی کی تیاری کرتے ہوئے گذاری جاتی ہے ، اِس موضوع پر رمضان کے مضامین کے آخر میں بات ہو چکی ، اسی طرح جمعہ کی رات وہ رات جو جمعرات کے دِن اور جمعہ کے دِن کے درمیان ہوتی ہے اور اسی طرح ساری راتیں دِنوں سے پہلے شمار کی جاتی ہیں اور اسی لیے ہماری اسلامی قمری تاریخ سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ آدھی رات گذرنے پر ،<br />
<b><font color="red">(٤)</font></b> '&quot;&quot;&quot;&quot;'' <font face="Tahoma">من احیا اللیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ ولیلۃ عرفۃ ولیلۃ النحر ولیلۃ الفطرولیلۃ النصف من شعبان </font>::: جِس نے پانچ راتیں زندہ کِیں (یعنی عِبادت کرتے ہوئے گُزارِیں ) تو اُس کے لیے جنّت واجب ہو گئی ، ترویہ (یعنی آٹھ ذی الحج) کی رات ، اور عرفہ ( نو ذی الحج) کی رات ، اور نحر (قربانی کے دِن یعنی دس ذی الحج ) کی رات ، اور( عیدِ ) فِطر کی رات ، اور شعبان کی درمیانی رات '''&quot;&quot;&quot;&quot; مَن گَھڑت جھوٹی حدیث ، ضعیف الترغیب والترھیب /کتاب العیدین و الاضحیۃ / پہلے باب کی دوسری حدیث۔ <br />
<b><font color="red">(٥)</font></b> ''&quot;&quot;&quot;&quot;' <font face="Tahoma">،،،،،،اِن اللہ تعالی ینزل لیلۃ النصف من شعبان اِلی السماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب</font>::: اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتاہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بخشش کرتا ہے '&quot;&quot;&quot;&quot;'' سنن النسائی / کتاب الصوم / باب ٣٩ (39 ) میں امام النسائی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا کہ ''' میں نے محمد (یعنی امام البخاری ) کو سنا کہ وہ اِس حدیث کو کمزور ( نا قابل حُجت ) قرار دیتے تھے'''<br />
<b><font color="red">(٦)</font></b> &quot;&quot;&quot;&quot;&quot; <font face="Tahoma">اِذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فاِن اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس اِلی سماء الدنیا فیقول الا من مستغفر لی فاغفر لہ الا مسترزق فارزقہ الا مبتلی فاعافیہ الا کذا الا کذا حتی یطلع الفجر</font> ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہو تو اُس رات قیام (یعنی نماز پڑھا) کرو ، اور اُس رات کے دِن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی ( یعنی رات کے آغاز میں ہی) اللہ تعالیٰ دُنیا کے آسمان پر اُتر آتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اُس کی بخشش کر دوں ، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دوں ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اُس عافیت دوں ، ہے کوئی ایسا ، ہے کوئی ایسا ،،، یہاں تک فجر کا وقت ہو جاتا ہے '&quot;&quot;&quot;&quot;''' حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے اور اِسکی سند میں ابن ابی سبرہ نامی راوی کو حدیثیں گھڑنے والا کہا گیا ہے (بحولہ التقریب التھذیب اور الزوائد للبوصیری) اس حدیث کے بعض حصے دوسری صحیح روایات میں ملتے ہیں لیکن ہمارے اِس موضوع سے متعلق حصہ مَن گَھڑت ہی ہے ۔<br />
<b><font color="purple">اِن مندرجہ بالا احادیث اور اِن جیسی کچھ اور کی بنیاد پر یا محض سنی سنائی کہانیوں ، قصوں ، خوابوں اور نام نہاد الہامات کی بنیاد پر جو کام اور عقائد جِن کا قُران اور سُنّت میں کوئی صحیح ثبوت نہیں مغفرت کا سبب ہیں یا عذاب کا ؟ </font></b><br />
<b>آیے مضمون کے آغاز میں نقل کی گئی دو صحیح حدیثوں کی روشنی میں سوچتے ہیں کہ ہم کِن میں ہیں؟ </b><br />
<b>کیا ہم کِسی مُسلمان سے بُغض و عناد تو نہیں رکھتے ؟ </b><br />
<b>کیا ہم کِسی مَن گھڑت ، نئی عِبادت کو ادا کر کے یا کوئی بے بُنیاد عقیدہ اپنا کر کِسی بدعت یا شرک کا شکار تو نہیں ہو رہے ؟</b><br />
<b>اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ، کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان جو آغاز میں نقل کیا گیا، کے مطابق پندرہ شعبان کی رات میں ہمارے لیے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور اگر ایسا نہیں تو اِن شاء اللہ ہماری مغفرت کر دی جائے گی ۔ </b>والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔ <br />
بشکریہ عادل سہیل صاحب<br />
<a href="!19534!http://pak.net/%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%AA/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%8C-%D8%B4%D8%A8-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-19534/" target="_blank">http://pak.net/%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8...1%D9%85-19534/</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA/">ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں</category>
			<dc:creator>طلحہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%BA/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A8-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-41220/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ہمارے انگریزی کے انوکھے پاکستانی تلفظ اور لہجے کی کچھ وجوہات</title>
			<link>http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%A9%DA%BE%DB%92-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D9%84%D9%81%D8%B8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%DB%81%D8%AC%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%88%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%A7%D8%AA-41219/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 08:20:14 GMT</pubDate>
			<description>شاید آپکو معلوم ہو کہ ہم...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>شاید آپکو معلوم ہو کہ ہم پاکستانیوں کا انگریزی زبان میں تلفظ  اور لہجہ انگلینڈ ، امریکہ اور دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں کافی حد تک مشہور ہے ۔عام طور پر ہم انگریزی کے ہر لفظ کو کم سے کم <font color="Navy">Syllables </font>یا حصوں میں کہنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہر حصے کو دبا دبا کر بولتے ہیں۔ اس اور کئی دوسری وجوہات کی بنا پر ہماری گُفتَگُو ان ممالک کے لوگوں کو مذاحیہ حد تک انوکھی لگتی ہے . اس خصوصیت کی وجہ سے  ہمارا لہجہ انکی  فیلموں، ٹی وی، محفلوں وغیرہ میں  مزا حیہ تفریح  کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32544-ep-4-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32544</a></div><br />
بہرحال پاکستان میں گفتگو کے دوران انگریزی کو اردو کے ساتھ  مکس کرنے والے  لوگوں کی کمی نہیں۔ زندگی کے ہر موضوع میں سیاسی سے لیکر مذہبی تک، لوگ  انگریزی کا کم و بیش استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔شایدان کے  تو وہم و گمان میں بھی نہیں کہ وہ اسےانوکھےانداز میں بولتے ہیں یا پھر کوئی اسکا مذاق بھی بنا سکتا ہے۔   <br />
<br />
 اکثر لوگوں کا تلفظ اتنا <font color="Navy">Clear </font>یا صاف نہیں ہوتا ہے اور کبھی کبھی  تو گفتگو سنتے ہوئے زور لگا کرسوچنا پڑتا ہے کہ  کونسا لفظ استعمال کیا گیا ہے مثلاً جب کوئی شخص لفظ  <font color="navy">Coalition </font>کہتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ <font color="navy">Collision </font>کہ رہا ہے۔ اس قسم کے کنفیوزنگ تلفظ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ کو بولتے وقت نہ ہی تو انکے ٹھیک طرح سے حصے  کیے جاتے ہیں اور نہ ہی ٹھیک حصے پہ زور دیا جاتا ہے۔آپ کو شاید یہ سن کر حیرانگی ہو کہ تلفظ کا یہ انوکھا پن  نہ صرف کم تعلیم یافتہ پاکستانیوں بلکہ ہمارے ملک کے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگوں، گورنمنٹ کے وزیروں آرمی کے جنرلوں وغیرہ  کی انگریزی میں بھی کثرت سے ملتا ہے۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32545-ep-1-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32545</a></div><br />
کئی الفاظ جو انگریزی زبان سے اردو میں داخل ہو ے ہیں ، ہمارا انکا تلفظ باقی دنیا سے بلکل الگ تھلگ ہے۔ میں تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ تلفظ غلط ہے مگر مجھے یہ ٹھیک بھی نہیں لگتا۔ میری رائے میں انکا اصلی تلفظ سیکھیناچاہیے ، ایسا نہ ہو کہ ایک دن  ہمیں کہیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسے الفاظ کی چند ایک مثالیں اس نیچے والے ٹیبل میں ملاحضہ فرمائیں۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32546-ep-2-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32546</a></div><br />
اگرچہ میں نے یہاں چند ایک  کا ذکر کیا ہے،  ہماری زبان میں اس طرح کے غلط تلفظ سے استعمال ہونے والے الفاظ کی کمی نہیں ہے۔اگر آپکے زہین میں ایسے کوئی الفظ ہیں تومجھے بتانا نہ بھولیے گا، میں آپکو ان کے اصلی تلفظ ڈھونڈ کر بتانے کی  کوشش کروں گا۔<br />
<br />
 انگریزی زبان کےالفاظ کا تلفظ سیکھنےکیلے ایک بڑی مشکل ایسی ہے جو صرف ہمیں نہیں  بلکہ اس کو سیکھنے والی دنیا کی دوسری قوموں کو بھی پیش آتی ہے۔ اگرچہ اس اہم بین القوامی زبان کو لکھنے کیلے اس کی پٹی میں صرف پانچ واول <font color="Navy">(vowel)</font> دستیاب ہیں، سٹینڈرڈ انگریزی بولنے والے کم از کم  پچیس قسم کی واول آوازیں استعمال کرتے ہیں جو نہ صرف ایک بلکہ دو اور تین واولوں کے ملنے سے بھی پیدا  ہوتی ہیں ۔<br />
<br />
<div align="center"><a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32547-ep-3-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32547</a></div><br />
پاکستان میں اکثر لوگ اس زبان کو اپنے پڑھانے والوں کی طرح کتابوں سے سیکھتے ہیں اور اس دوران نہ تو وہ اسے مادری زبان کے طور پر بولنے والوں سے سنتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی ایسے شخص سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ضروری  انگریزی واول آوازوں کی پیچان تو در کنار، وہ اسکی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ان سے کافی حد تک لا علم ہی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے  تلفظ اور لہجے  میں بہت مخصوص اور انوکھی قسم کا فرق پیدا ہو جاتا ہے ۔<br />
<br />
عام طور پر ہم نا مناسب یا پانچ واولوں  <font color="navy">(vowels)</font>  کے سہارے سے  الفظ کا تلفظ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دفعہ جب یہ تلفظ عادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، ُپھر اس سے چھٹکار آسانی سے حاصل نہیں ہوتا البتہ اس سے چھٹکار پانا نا ممکن بھی نہیں۔جو پاکستانی انگلینڈ یا امریکہ میں جا کر رھایش پزیر ہو تے ہیں انکے بولنے کا انداز ایک لمبے عرصے کے بعد بھی کچھ زیادہ نہیں بدلتا کیونکہ اس عادت کی وجہ سے وہ جس طرح مقامی لوگوں سے انگریزی سنتے ہیں اسطرح بولتے نہیں۔  اس کے بر عکس ان کے بچے جو وہاں پلتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ مادری زبان کے طور پربولنے والے مقامی لوگوں کی طرح ہی انگریزی بولتے ہیں۔ کیونکہ وہ اسے پڑھ کر نہیں بلکہ سن کر سیکھتے ہیں اور واولوں <font color="navy">(vowels)</font> کی تمام ضروری  آوازوں سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا ٹھیک طرح سے استعمال بھی کرتے ہیں۔   <br />
<br />
زیادہ تر  پاکستانی اور انڈین لوگوں کا انگریزی میں تلفظ اور لہجہ  کافی حد تک ملتا جلتا ہے تا ہم اکثر دنیا کی ہر قوم کا انگریزی میں ایک مخصوص لہجہ ہے جو ان کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ایک طرف ان میں سے کچھ قوموں کا لہجہ  سٹیٹس سمبل کی حثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف کچھ کو اپنے لہجوں کیوجہ سے نا قابل قبول امتیازی سلوک سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔<br />
<br />
امریکہ اور انگلینڈ کے لوگوں کا انگریزی زبان میں لہجہ الگ الگ ہے البتہ امریکہ والے انگلینڈ کے اونچے طبقے کے لہجے کو بہت رشک سے دیکھتے ہیں۔ اس اونچے لہجے میں بولنے والے  پچیس سے بھی زیادہ انوکھی  واول <font color="navy">(vowel)</font> آوازوں کا استعمال کرتے ہیں۔انڈیا اور پاکستان کے  اونچے طبقے والے بھی اس کی نقل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔<br />
<br />
اس موضوع پر کہنے کو تو ویسے بہت کچھ ہے البتہ فی الحال اسے یہیں ختم کرتا ہوں۔ اگربعد میں آپ نے اس پرسوالات پوچھے تو مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔یہ تحریر میں نے اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر زیادہ تر آپکی معلومات کے لیے لکھی ہے لیکن امید کرتا ہوں کہ اس سے  آپکو اپنا انگریزی تلفظ بہتربنانے میں کچھ راہنمائی اور مدد بھی ملے گی۔</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32544d1280172424-ep-4-jpg" rel="Lightbox_300487" id="attachment32544" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32544d1280172424t-ep-4-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	EP 4.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	102.7 KB
ID:	32544" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32545d1280172441-ep-1-jpg" rel="Lightbox_300487" id="attachment32545" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32545d1280172441t-ep-1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	EP 1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	142.3 KB
ID:	32545" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32546d1280172461-ep-2-jpg" rel="Lightbox_300487" id="attachment32546" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32546d1280172461t-ep-2-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	EP 2.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	231.1 KB
ID:	32546" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/32547d1280172478-ep-3-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/">اپکے کالم</category>
			<dc:creator>Nasiwise</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%A9%DA%BE%DB%92-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D9%84%D9%81%D8%B8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%DB%81%D8%AC%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%88%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%A7%D8%AA-41219/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ڈبل سواری پر پابندی.... جرائم ڈبل</title>
			<link>http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/%DA%88%D8%A8%D9%84-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%85-%DA%88%D8%A8%D9%84-41218/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 07:54:01 GMT</pubDate>
			<description>پاکستان کی پولیس، قانون...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>پاکستان کی پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور ان اداروں کے ذمہ داران کی ذہنی سطح کو جانچنا ہو تو ان کے اقدامات اور وضاحتوں کو سامنے رکھا جائے جو وہ مختلف حادثات کے بعد کرتے ہیں۔ اب تو پاکستان میں ہر جرم کے فوراً بعد 60 روز کے لیے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری ممنوع قرار دے دی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب مجرم نہیں آئیں گے اور کوئی واردات نہیں کریں گے کیونکہ انتظامیہ نے ڈبل سواری پر پابندی جو لگادی ہے۔ لیکن پھر واردات ہوجاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی برس سے کوئی بڑی واردات موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کرنے والوں نے نہیں کی بلکہ یا تو وہ پیدل آئی، گاڑیوں میں آئے یا بسوں میں بیٹھے ہوئی، یا پھر بم رکھ کر چلے گئے۔ لیکن یہ پابندی برقرار رہتی ہے۔ کراچی میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے مسلسل ڈبل سواری پر پابندی ہے تاہم جرائم کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کے نتیجے میں ڈیڑھ سال میں 6 ہزار سے زیادہ شہری ملزم بناکر تھانے اور جیل کی ہوا کھانے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔ 6 ہزار تو وہ ہیں جن کے مقدمات درج ہوئے ہیں، اور روزانہ سڑکوں پر جو مک مکا ہوتا نظر آتا ہے اس کی تعداد تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ٹریفک پولیس سے زیادہ اس معاملے میں کالی وردی والے مستعد ہوتے ہیں، وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر موٹر سائیکل اور سواروں کو گاڑی میں ٹھونس کر پہلے اِدھر اُدھر گھماتے ہیں.... مک مکا ہوجائے تو چھوڑ دیتے ہیں ورنہ تھانے لے جاتے ہیں اور کارکردگی میں شمار ہوجاتا ہے۔ پھر نئے شکار کی تلاش میں چلے جاتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی کے مقام پر اس دوران کوئی بم بھی رکھ سکتا ہے اور کوئی واردات بھی ہوسکتی ہی، لیکن ان کی بلا سی.... وہ تو ڈبل سواری والوں کو پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی شکایت ہے اور اس کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ لیکن حکومت اور اس کے ادارے پولیس و رینجرز ٹارگٹ کلنگ کو روک نہیں سکی، کبھی طالبان پر الزام ڈال دیا، کبھی باہر سے آئے ہوئے عناصر پر.... لیکن ٹارگٹ کلنگ سے زیادہ مقدمات عام شہریوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں اور ان کا زیادہ سے زیادہ جرم موٹر سائیکل پر ڈبل سواری تھا۔ ڈبل سواری کرکے وہ کوئی فائرنگ یا قتل و غارت نہیں کررہے تھے۔موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی سے اگر دہشت گردی اور جرائم میں کمی نہیںہورہی ہے تو پھر فائدہ کس کو ہورہا ہے اور نقصان کون اٹھا رہا ہی.... اس کا اندازہ اس جائزے سے ہوسکتا ہے کہ کراچی میں 2 لاکھ کے قریب موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور استعمال کرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایک ہی گھر میں دو تین بھائی باری باری موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں یا دو تین لوگ بیک وقت سفر کرکے دوسرے کو موٹر سائیکل دے کر اسے کام پر جانے کا موقع دیتے ہیں۔ اور اگر یہ افراد موٹر سائیکل استعمال نہ کریں تو کم سے کم 4 لاکھ افراد کو بسوں، ویگنوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ اگر سفر سیدھا ہے تو کم سے کم 30 روپی، اور اگر ایک سے زائد بسیں تبدیل کرنی ہیں تو پھر 60 روپے تک کا یومیہ خرچ ہے۔ اسے 40 روپے اوسطاً رکھا جائے تو 40 روپے ضرب 4 لاکھ.... گویا ایک کروڑ 60 لاکھ روپے یومیہ۔ اور اگر اوسطاً 25 دن کام کے رکھ لیں تو 40 کروڑ روپے ماہانہ بنتے ہیں۔ یہ ساری رقم بسوں، ویگنوں میں سفر کرنے والے ادا کرتے ہیں۔ رکشہ، ٹیکسی میں بھی کچھ لوگ سفر کرتے ہیں، اس کا کوئی حساب نہیں۔ گویا ڈبل سواری پر پابندی کا فائدہ ٹرانسپورٹرز کو اور نقصان شہریوں کو۔ اگر ٹرانسپورٹرز ماہانہ 40 کروڑ میں سے 2 کروڑ پولیس کے اعلیٰ حکام کو دے دیں اور 5 کروڑ اسمبلی ممبران اور وزراءکو، تو ان کے پاس 33 کروڑ تو پھر بھی آہی جاتے ہیں۔ ممکن ہے دو تین کروڑ کسی ایمرجنسی کے لیے رکھ چھوڑتے ہوں تو بھی 30 کروڑ تو مل ہی جاتے ہیں۔موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی کے بارے میں کراچی کی شہری انتظامیہ کہتی ہے کہ اس کو امن و امان کی صورت حال کے سبب نافذ کیا جاتا ہے۔ لیکن جرائم ہیں کہ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ اس پابندی کے خلاف پہلے تو کبھی عدالت میں بھی شنوائی ہوجاتی تھی، سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ناصر اسلم زاہد نے ڈبل سواری پر پابندی کے خلاف پاسبان کی درخواست پر پابندی اٹھادی تھی، اُس کے بعد سے آج تک عدالت سے ریلیف نہیں مل پایا۔ یہ ضرور ہوا کہ ڈبل سواری کے حق میں ریلی کرنے والوں پر جرائم پیشہ افراد نے فائرنگ کردی لیکن مقدمہ جرائم پیشہ افراد کے ناموں کے بجائے نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا اور ریلی کرنے والوں کے ناموں کے ساتھ ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ انتظامیہ کی نفسیات کے حوالے سے یہ بات بڑی مشہور ہوچکی ہی، کئی لوگ موبائل پر سوال بھی پوچھ چکے ہیں کہ اگر 9/11 یا 7/7 اور ممبئی فائرنگ کا واقعہ کراچی میں ہوتا تو حکومت سب سے پہلے کیا قدم اٹھاتی؟ جواب دینے والے کو ایک کروڑ روپے .... پھر تھوڑے سے نقطوں کے بعد جواب بھی دیا جاتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگادیتی۔ افسوس امریکی حکومت کو اب تک اس کا خیال نہیں آیا ورنہ 9/11 کے بعد اتنا بڑا آپریشن کرنے کے بجائے امریکی حکام نے بھی صرف ڈبل سواری پر پابندی لگادی ہوتی۔ بھارت بھی ممبئی حملوں کے بعد ڈبل سواری پر پابندی لگادیتا، اور لندن میں بھی 7/7 کے بعد موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگادی جاتی تو ساری دنیا پریشان نہ ہوتی۔ٹرانسپورٹرز کو مافیا لکھا جائے تو وہ چراغ پاہوتے ہیں۔ لیکن پھر کیا لکھا جائی؟ وہ شہریوں کو سروس تو کوئی نہیں دیتے۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی کے مختلف روٹس پر چلائی جانے والی گرین بسیں بھی کہیں غائب کردی گئی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد سے درجنوں بلکہ سیکڑوں بسیں غائب ہیں۔ اس کے پیچھے بھی اسی ٹرانسپورٹ مافیا کا ہاتھ نکلے گا۔ ظاہر بات ہے جس کا فائدہ ہوتا ہے وہی سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی ان ہی کو فائدہ پہنچاتا ہی، اور اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں کو یا تو کچھ پتا نہیں، یا سب پتا ہے اور حصہ پہنچ رہا ہے۔ <br />
<a href="http://ww.jasarat.com/unicode/detail.php?category=8&amp;coluid=2706" target="_blank">Jasarat , Jasarat First Urdu Online Newspaper in Pakistan - Daily Jasarat</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/">پاکستان میں دہشت گردی</category>
			<dc:creator>ALI-OAD</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C/%DA%88%D8%A8%D9%84-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%85-%DA%88%D8%A8%D9%84-41218/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>بوکاٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسنت ایسے بھی منائی جاتی ہے</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/%D8%A8%D9%88%DA%A9%D8%A7%D9%B9%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-41217/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 06:56:40 GMT</pubDate>
			<description>:claps:claps:claps:claps:...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>:claps:claps:claps:claps:claps:claps</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/32495d1280040981-bp-06-jpg" rel="Lightbox_300478" id="attachment32495" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/32495d1280040981t-bp-06-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	bp-06.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	75.4 KB
ID:	32495" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/">سیاسی تصاویر اور ویڈیوز</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%88%D8%B2/%D8%A8%D9%88%DA%A9%D8%A7%D9%B9%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B3%D9%86%D8%AA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-41217/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی بند</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%B3%D9%BE%D8%AA%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%81%D8%AA-%D8%A7%D8%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D9%86%D8%AF-41216/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 06:49:11 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>000000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32494d1280040534-bp-12-jpg" rel="Lightbox_300474" id="attachment32494" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32494d1280040534t-bp-12-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	bp-12.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	259.4 KB
ID:	32494" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%B3%D9%BE%D8%AA%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%B6%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%81%D8%AA-%D8%A7%D8%AF%D9%88%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D9%86%D8%AF-41216/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>سیمنٹ فیکٹری میں ایک ہزار افراد محصور</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D9%86%D9%B9-%D9%81%DB%8C%DA%A9%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%D9%85%D8%AD%D8%B5%D9%88%D8%B1-41215/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 06:40:33 GMT</pubDate>
			<description>0000000000000000000000000...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>0000000000000000000000000000000000000000000000</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/32493d1280040022-7-24-2010_39650_1-gif" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>جاویداسد</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D8%B3%DB%8C%D9%85%D9%86%D9%B9-%D9%81%DB%8C%DA%A9%D9%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%D9%85%D8%AD%D8%B5%D9%88%D8%B1-41215/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>لشکر طیبہ ایک عالمی خطرہ:ایڈمرل مولن</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1-%D8%B7%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9%85%D8%B1%D9%84-%D9%85%D9%88%D9%84%D9%86-41214/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 04:22:01 GMT</pubDate>
			<description>امریکی مسلح افواج کے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><font color="Red"><font size="5">امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ ایک بہت خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔<br />
<br />
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے امریکی جنرل ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ بہت زیادہ خطرناک تنظیم بن چکی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر خطرے کا باعث بننے کی استطاعت رکھتی ہے۔<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ ’ لشکر طیبہ کی صلاحیت بڑھ رہی ہے اور قابل تشویش بن گئی ہے، سب سے قابل ذکر پہلوں اس کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور یہ زیادہ مہک ہو رہی ہے۔‘<br />
<br />
لشکر طیبہ کی صلاحیت بڑھ رہی ہے اور قابل تشویش بن گئی ہے، سب سے قابل ذکر پہلوں اس کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور یہ زیادہ مہک ہو رہی ہے<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن<br />
<br />
انھوں نے کہا کہ لشکر طیبہ اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کوافغانستان اور خطے سے باہر دوسرے ممالک تک بڑھا رہی ہے۔<br />
<br />
ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مائیک مولن نے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کو حمایت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں موجود ہے۔<br />
<br />
ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی قیادت بڑی محفوظ جگہ پر روپوش ہیں اور انھیں تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے۔انھوں نے کہا کہ’ میرا یقین ہے کہ اسامہ پاکستان میں ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحد کے قبائلی علاقے القاعدہ کے نیٹ ورک کا گلوبل ہیڈ کواٹر ہیں۔<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ’ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں جاری سرکشی میں شدت سے سرگرم عمل ہے، اور اس کے خلاف ایک سخت پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔‘<br />
فائل فوٹو، واحد کشمیری<br />
<br />
لشکر طیبہ کے سربراہ مولاناعبدالواحد پاکستان کے زیر انتظام میں<br />
<br />
انھوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کے فیصلے کو سراہا لیکن اس کے ساتھ زور دیا کہ حقانی گروپ جو افغانستان کے امن کو خراب کر رہا ہے کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سب سے زیادہ خطرناک نیٹ ورک ہے جس کا سامنا افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو ہے۔ ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر متعدد بار زور دیا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔ ایڈمرل مولن کے مطابق پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خطرے سے آگاہ ہے۔<br />
<br />
انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم اتحادی ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور مدد کو وسعت دی جائے ۔<br />
<br />
پاکستان میں خفیہ طور پر امریکی فوج موجود نہیں ہیں۔ پاکستانی درخواست پر امریکی فوجی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ صرف تربیت دینے کے لیے ہیں<br />
<br />
ایڈمرل مائیک مولن<br />
<br />
ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مولن نے کہا کہ پاکستان میں خفیہ طور پر امریکی فوج موجود نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی درخواست پر امریکی فوجی پاکستان میں موجود ہیں اور یہ صرف تربیت دینے کے لیے ہیں۔‘<br />
<br />
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع میں کسی امریکی کردار کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔<br />
<br />
خیال رہے کہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے کوئی ایک ماہ بعد پاکستان نے لشکر طیبہ پر پابندی عائد کی تھی۔ بھارت نے پارلیمان پر حملے کا الزام لشکر طیبہ اور جیش محمد پر لگایا تھا لیکن دونوں تنظیمیں اس کی تردید کرتی رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد لشکر طیبہ کے بانی اور سربراہ حافظ سعید نے خود کو لشکر طیبہ سے الگ کیا اور اس کی جگہ جماعت الدعوۃ تنظیم بنا لی تھی۔<br />
<br />
نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ہندوستان نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر عائد کیا اور اس کا موقف یہ کہ یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی ہیں۔<br />
<br />
لیکن ان دونوں تنظیموں نے اس الزام کی تردید کی اور جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ اس کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ یہ ایک رفاعی تنظیم ہے۔<br />
<br />
</font></font><br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100724_mullen_lashker_threat.shtml" target="_blank">‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮لشکر طیبہ ایک عالمی خطرہ:ایڈمرل مولن‬</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/">خبریں</category>
			<dc:creator>ALI-OAD</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1-%D8%B7%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%88%D9%85%D8%B1%D9%84-%D9%85%D9%88%D9%84%D9%86-41214/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>عظیم و قدیم روسی ڈیپارٹمنٹل اسٹور!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%D9%88-%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85-%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DB%8C%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%D9%85%D9%86%D9%B9%D9%84-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D9%88%D8%B1-41213/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 01:09:31 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں السلام علیکم، 
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں السلام علیکم،<br />
<br />
کمیونسٹ انقلاب سے پہلے زار روس کے زمانے میں‌روس میں‌جگہ جگہ عوام کے لیئے ڈیپارٹمنٹل اسٹور قائم کیئے گئے تھے، یہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسٹور کہلاتے تھے۔<br />
اُن میں‌سے سب سے بڑا اسٹور ماسکو میں‌<font color="Navy">&quot;ریڈ اسکوئر&quot;</font> کے قریب آج بھی واقع ہے۔<br />
<br />
روسی زبان میں‌گوم <font color="Navy">(goom/GUM)</font> کہلانے والے اس  242  میٹر یعنی (794 ft) لمبے اسٹور کی پہلی منزل کی تعمیر تعمیر 1890 سے 1893 میں‌مکمل ہوئی۔ <br />
اس کا آرکیٹیکچر <font color="Navy">Alexander Pomerantsev</font> کی ذہن کی پیداوار تھا اور انجینئر <font color="Navy">Vladimir Shukhov</font> نے اس شاہکار کو حقیقت کا روپ دیا۔<br />
<br />
اسٹیل اور شیشے سے تعمیر کی گئی یہ عمارت روسی فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس کی بالائی منزل اور چھت  کی شبہیہ لندن کے <font color="Navy">&quot;گریٹ وکٹورئن ٹرین اسٹیشن&quot;</font> سے ملتی جُلتی ہے۔<br />
<br />
743 ٹن لوہے سے سہارا دی ہوئی 20,000 شیشوں سے بنی چھت نے اس عمارت کو اور بھی خوبصورت بنا دیا ہے۔ عمارت کے دیگر حصوں میں‌گرینائٹ اور ماربل استعمال کیا گیا ہے۔<br />
<br />
آئیے اس عظیم اور خوبصورت عمارت کی ازسرنو تعمیر کے موقعے اور بعد کی چند قدیم تصاویر دیکھتے ہیں!<br />
<br />
پہلی تصویر زارِ روس کی ہے!<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32463-tsar-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32463</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32464-1-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32464</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32465-2-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32465</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32466-3-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32466</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32467-4-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32467</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32464d1280019979-1-jpg" rel="Lightbox_300456" id="attachment32464" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32464d1280019979t-1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	112.6 KB
ID:	32464" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32465d1280019987-2-jpg" rel="Lightbox_300456" id="attachment32465" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32465d1280019987t-2-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	2.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	105.4 KB
ID:	32465" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32466d1280020008-3-jpg" rel="Lightbox_300456" id="attachment32466" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32466d1280020008t-3-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	3.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	87.2 KB
ID:	32466" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32467d1280020016-4-jpg" rel="Lightbox_300456" id="attachment32467" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32467d1280020016t-4-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	4.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	92.1 KB
ID:	32467" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32463d1280019973-tsar-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%D9%88-%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85-%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DB%8C%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%D9%85%D9%86%D9%B9%D9%84-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D9%88%D8%B1-41213/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>چند دلچسپ قوی الحبثہ سائن بورڈ!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%A8%D8%AB%DB%81-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86-%D8%A8%D9%88%D8%B1%DA%88-41212/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 00:31:53 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں‌حاضر ہیں‌چند...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں‌حاضر ہیں‌چند دلچسپ قوی الحبثہ سائن بورڈ!</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32451d1280017844-creative_billboards_01-jpg" rel="Lightbox_300452" id="attachment32451" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32451d1280017844t-creative_billboards_01-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	creative_billboards_01.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	56.8 KB
ID:	32451" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32452d1280017854-creative_billboards_04-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32453d1280017873-creative_billboards_06-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32454d1280017887-creative_billboards_07-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32455d1280017899-creative_billboards_09-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%A8%D8%AB%DB%81-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86-%D8%A8%D9%88%D8%B1%DA%88-41212/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>وہ دل کہاں سے لاؤں‌تیری یاد جو ۔۔۔۔۔</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%88%DB%81-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA%E2%80%8C%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%AC%D9%88-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-41211/</link>
			<pubDate>Sun, 25 Jul 2010 00:18:15 GMT</pubDate>
			<description>دیکھیئے کہ دل یوں‌ بھی...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دیکھیئے کہ دل یوں‌ بھی بننتا ہے!</div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32421d1280016998-heart-46-ways01-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32422d1280017013-heart-46-ways02-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32423d1280017034-heart-46-ways03-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32424d1280017053-heart-46-ways04-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32425d1280017081-heart-46-ways05-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%88%DB%81-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA%E2%80%8C%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%AC%D9%88-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-41211/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>جُرم ضعیفی کی سزاوار اُمیدا اخمیدُوا</title>
			<link>http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D8%AC%D9%8F%D8%B1%D9%85-%D8%B6%D8%B9%DB%8C%D9%81%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%8F%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7-%D8%A7%D8%AE%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%8F%D9%88%D8%A7-41210/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 23:51:28 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں السلام علیکم، 
...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں السلام علیکم،<br />
<br />
13 جنوری 2010 کو اُزبکستان کی گورنمنٹ نے مشہور اُزبک فوٹو گرافر اور ڈاکومنڑی میکر اُمیدا اخمیدُوا (Umida Akhmedova) کو تاشقند سے گرفتار کرلیا تھا۔ اُسے ممکنہ طور پر 2 سے 3 سال تک کی سزا سُنائی گئی تھی۔ دُنیا بھر کے صحافی اور فوٹو گرافرز نے اس بات پر اُزبکستان کی حکومت سے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔<br />
<br />
اس سے پہلے بھی اُمیدا 17 نومبر 2009، کو ایسے ہی الزام میں‌گرفتار کی گئی تھیں۔<br />
<br />
اُمیدا کی چارج شیٹ میں اُس کا قصور اُزبک عوام کی تذلیل اور اُزبکستان کی روایات کی خلاف ورزی بتایا گیا تھا۔ بعد میں‌اُزبکستان کی 18 سالگرہ کے موقعے پر اُنہیں‌رہا کردیا گیا تھا۔<br />
<br />
ذیل میں‌اُمیدا اخمیدُوا کے البم <font color="Navy">&quot;Men and Women&quot; اور Dawn to Dusk&quot;</font> کی چند تصاویر ہیں اُنہیں‌دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں بھی یہ قانون لاگو کردیا جائے تو نا جانے کتنے لوگ نام نہاد <font color="DarkRed">&quot;حب الوطنی&quot;</font> کی بھینٹ‌چڑ جائیں گے۔<br />
<br />
پہلی تصویر اُمیدا کی ہے۔<br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32409-umida-akh-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32409</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32410-uz_1-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32410</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32411-uz_2-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32411</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32412-uz_3-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32412</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32413-uz_4-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32413</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Thumbnails</legend>
			<div style="padding:3px">
			
<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32410d1280015353-uz_1-jpg" rel="Lightbox_300441" id="attachment32410" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32410d1280015353t-uz_1-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	uz_1.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	140.1 KB
ID:	32410" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32411d1280015375-uz_2-jpg" rel="Lightbox_300441" id="attachment32411" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32411d1280015375t-uz_2-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	uz_2.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	131.7 KB
ID:	32411" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32412d1280015389-uz_3-jpg" rel="Lightbox_300441" id="attachment32412" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32412d1280015389t-uz_3-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	uz_3.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	105.4 KB
ID:	32412" /></a>
&nbsp;

<a href="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32413d1280015412-uz_4-jpg" rel="Lightbox_300441" id="attachment32413" target="_blank"><img class="thumbnail" src="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32413d1280015412t-uz_4-jpg" border="0" alt="Click image for larger version

Name:	uz_4.jpg
Views:	دستیاب نہیں
Size:	127.6 KB
ID:	32413" /></a>
&nbsp;

			</div>
		</fieldset>
	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/32409d1280015333-umida-akh-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/">فن و فنکار</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%81%D9%86-%D9%88-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1/%D8%AC%D9%8F%D8%B1%D9%85-%D8%B6%D8%B9%DB%8C%D9%81%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B2%D8%A7%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%8F%D9%85%DB%8C%D8%AF%D8%A7-%D8%A7%D8%AE%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%8F%D9%88%D8%A7-41210/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>قدیم یورپی سرکس کے فنکار!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-41209/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 23:25:17 GMT</pubDate>
			<description>دوستوں السلام علیکم، 
آپ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>دوستوں السلام علیکم،<br />
آپ نے پاکستان میں‌سرکس میں‌کام کرنے والے اکثر عجیب الخلقت و منفرد لوگوں‌کو دیکھا ہوگا۔ <br />
لوگ اُنھیں حیرت سے دیکھتے ہیں اور یوں سرکس خوب چلتا ہے اور اُن بے چاروں کی بھی روزی روٹی بنی رہتی ہے۔<br />
<br />
شُنید ہے کہ ایسا صرف ہمارے یہاں‌ہی نہیں‌ہوتا بلکے یورپ وغیرہ میں‌بھی یہ سب عام ہے۔<br />
<br />
دیکھیئے قدیم یورپی سرکس کے چند فنکار! <br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32395-weird-history1-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32395</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32396-weird-history2-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32396</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32397-weird-history3-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32397</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32398-weird-history4-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32398</a><br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32399-weird-history5-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32399</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32395d1280013796-weird-history1-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32396d1280013815-weird-history2-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32397d1280013836-weird-history3-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32398d1280013849-weird-history4-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32399d1280013877-weird-history5-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%82%D8%AF%DB%8C%D9%85-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-41209/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>اُونچی ہیل یا عذاب!</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%A7%D9%8F%D9%88%D9%86%DA%86%DB%8C-%DB%81%DB%8C%D9%84-%DB%8C%D8%A7-%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8-41208/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 23:17:25 GMT</pubDate>
			<description>اس ایکسرے کو دیکھنے کے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>اس ایکسرے کو دیکھنے کے بعد بھی کیا آپ اُونچی ہیل پہننا پسند کریں گی؟؟؟<br />
<br />
<a href="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32394-womenheels-jpg" target="_blank">منسلکہ فائل 32394</a></div>


	<br />
	<div style="padding:6px">

	

	
		<fieldset class="fieldset">
			<legend>Attached Images</legend>
			<div style="padding:3px">
			<img class="attach" src="http://pak.net/attachments/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/32394d1280013397-womenheels-jpg" border="0" alt="" />&nbsp;
			</div>
		</fieldset>
	

	

	

	</div>
]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>shafresha</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D8%A7%D9%8F%D9%88%D9%86%DA%86%DB%8C-%DB%81%DB%8C%D9%84-%DB%8C%D8%A7-%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8-41208/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاک کوئز : بچوں‌کا پروگرام</title>
			<link>http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%DA%A9%D9%88%D8%A6%D8%B2-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA%E2%80%8C%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85-41207/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 23:17:02 GMT</pubDate>
			<description>پچھلے دنوں بچوں‌کیلیے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>پچھلے دنوں بچوں‌کیلیے سوالات کا ایک کوئز پروگرام تیار کیا سوچا آپ ساتھیوں سے بھی شیئر کر دوں۔<br />
سب سے پہلے آپ کیٹیگری کے آپشن میں سے آسان یا مشکل سوالات منتخب کریں۔ اور اس کے بعد &quot;منتخب کردہ کیٹیگری کے مطابق اب تک سوالات کی تعداد&quot; کو کلک  کرنے سے سوالات والے پیج پر پہنچ جائیں گے<br />
اس کے علاوہ  اوپر کی طرف&quot;سوالات کے لئے کیٹگری کا انتخاب کریں &quot; کو کلک کرنے سے کیٹگری Reset کر سکتے ہیں<br />
پروگرام میں ساؤنڈ ایفیکس بھی ہیں،آواز کو آپ بند بھی کر سکتے ہیں  سپیکر کے آئکون کو کلک کرکے ۔<br />
اور سوالات والےپیج پر اوپر کی طرف &quot;درست جواب کے سامنے کلک کریں &quot;کو کلک کرنے سے پروگرام وقتی طورپر روک یادوبارہ سے شروع  کر سکتے ہیں۔<br />
 ٹائمر بھی  ہے اور ڈیفالٹ ٹائم 30 سیکنڈ ہیں<br />
سوال کو نظرانداز کرنے کا آپشن بھی ہے(اگلا سوال دیکھیں‌کو کلک کرکے )،اور نمبرنگ بھی ہو گی ہر صیح جواب کے 10 نمبر اور غلط کے 5 نمبر کاٹ لیے جائیں گے اور سکپ کر نے کی صورت میں کمی یا اضافہ نہیں ہوگا۔(تکہ بازی نہیں چلے گی;)  )<br />
جہاں ضرورت محسوس کی ٹول ٹپ کی مدد بھی دی ہے۔<br />
سب سے بڑی بات اس میں آپ اپنی مرضی سے سوالات ڈال سکتے ہیں اور اس کیلئے آپ کو ایکس ایم ایل کی ایک فائل تیار کرنی پڑے گی اور اس ایکس ایم ایل کی فائل کو بنانے کا طریقہ ساتھ میں موجود ہیلپ فائل میں لکھ دیا ہے ۔جو میں نے ایکس ایم کی فائل دی ہے وہ ایک سیمپل فائل ہے اس میں سوالات کے جوابات غلط بھی ہوسکتے ہیں‌۔ یہ پروگرام اس مقصد کیلئے بنایا ہے اگر کوئی چاہیے تو اس میں اپنی مرضی کے سوالات تیار کرکے تعلیمی مقصد کیلئے استمال کرسکے سپیشلی بچوں‌کیلئےکہ وہ اس طریقے کو استمال کرکے بڑی جلدی سیکھتے ہیں‌آزمائش شرط ہے :)۔<br />
بھائیوں سے ایک درخواست ہے کہ وہ جب ایکس ایم ایل کی سوالات کی فائل تیار کریں تو اسے یہاں بھی شیئر کردیں تاکہ دوسرے بھی اسے استمال کرسکیں۔باقی پروگرام میں کسی اور تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو ضرور بتائے گا۔:cool:<br />
اور اگر میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بندہ حاضر ہے<br />
<br />
<div align="center"><img src="http://img375.imageshack.us/img375/9606/catgo.jpg" border="0" alt="" /></div>۔۔<br />
<div align="center"><img src="http://img375.imageshack.us/img375/8228/quiz1b.jpg" border="0" alt="" /></div>۔۔<br />
<div align="center"><img src="http://img832.imageshack.us/img832/244/quiz2.jpg" border="0" alt="" /></div>--<br />
<div align="center"><img src="http://img844.imageshack.us/img844/3342/result.jpg" border="0" alt="" /></div>--<br />
<div align="center"><img src="http://img691.imageshack.us/img691/1899/errorok.jpg" border="0" alt="" /></div><br />
ڈاونلوڈ لنک: <a href="http://dl.dropbox.com/u/2700846/PakQuiz.zip" target="_blank">پاک کوئز</a><br />
پروگرام کو چلانے کیلئے <a href="http://www.microsoft.com/downloads/details.aspx?familyid=ab99342f-5d1a-413d-8319-81da479ab0d7&amp;displaylang=en" target="_blank">ڈاٹ نیٹ کا 3.5</a>ورژن ضروری ہے <br />
<a href="http://download.microsoft.com/download/2/0/e/20e90413-712f-438c-988e-fdaa79a8ac3d/dotnetfx35.exe" target="_blank">ڈاٹ نیٹ 3٫5 مکمل</a></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/">سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست</category>
			<dc:creator>ابرارحسین</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%B2-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D9%BE%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%81%D9%B9-%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9-%DA%A9%D9%88%D8%A6%D8%B2-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA%E2%80%8C%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85-41207/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>پاکستان زندہ باد</title>
			<link>http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D8%AF-41206/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 21:03:46 GMT</pubDate>
			<description>ہمارا قومی پرچم ۔۔۔۔۔۔۔...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div>ہمارا قومی پرچم ۔۔۔۔۔۔۔ سبز ہلالی پرچم جس پر جان بھی قربان<br />
<br />
ہمارا قومی لباس ۔۔۔ جناح کیپ اور شیروانی<br />
<br />
ہمارا قومی مشغلہ ۔۔ ٹائر جلا کر جلوس نکالنا<br />
<br />
ہمارا قومی جزبہ ۔۔۔  کرپشن کو پروان چڑھانا<br />
<br />
ہمارا نظام تعلیم ۔۔۔۔۔۔ MA پہلے میٹرک بعد میں<br />
<br />
ہماری قوم کی دعا  ۔۔۔۔۔۔ یا اللہ لائٹ آجائے یا اللہ لائٹ  آجائے<br />
<br />
ہمارے نیوز چینلز کی ہیڈلائنز ۔۔۔ خود کش دھماکہ کرپشن جعلی ڈگری ٹارگٹ کلنگز لوٹ مار افرا تفری ڈکیتی <br />
<br />
ہے نا عجیب و غریب <br />
<br />
پھر بھی قوم پرستی زندہ باد     ،،،،  زندہ باد بھئی زندہ باد</div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/">دلچسپ اور عجیب</category>
			<dc:creator>hasnan_1983</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D8%AF%D9%84%DA%86%D8%B3%D9%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D8%AF-41206/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>ایک ماہ باقی ہے</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DB%81%DB%92-41205/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 18:46:34 GMT</pubDate>
			<description>Image:...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><img src="http://jang.com.pk/jang/jul2010-daily/16-07-2010/editorial/col1.gif" border="0" alt="" /><br />
<img src="http://jang.com.pk/jang/jul2010-daily/16-07-2010/editorial/col1a.gif" border="0" alt="" /></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/">میرا پاکستان</category>
			<dc:creator>ھارون اعظم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DB%81%DB%92-41205/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>بلوچستان کا دکھ</title>
			<link>http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-41204/</link>
			<pubDate>Sat, 24 Jul 2010 18:40:52 GMT</pubDate>
			<description>Image:...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><img src="http://jang.com.pk/jang/jul2010-daily/18-07-2010/editorial/col7.gif" border="0" alt="" /></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/">میرا پاکستان</category>
			<dc:creator>ھارون اعظم</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://pak.net/%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE-41204/</guid>
		</item>
	</channel>
</rss>
