جسم اور روح

March 21st, 2010

ضرورت ایجاد کی ماں ہے یہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے ۔
انسان مٹی سے بنایا گیا پھر اسے گوشت میں بدل دیا گیا اس گوشت کے انسان نے اپنے جسم کی راحت اور سجاوٹ کے لیے کیا کیا ایجاد نہیں کیا ۔
انسانی بدن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حالت بدلتا رھتا ہے عروج سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا بندن مخلتف حالات اور واقعات سے گزرتا ہوا زوال تک پہنچتا ہے اور دوبارہ مٹی میں مل جاتا ہے ۔
مگر انسان ہے کہ اسی تگ و دو میں لگا رھتا ہے کہ یہ ہمیشہ جوان اور خوبصورت ہی رہے ۔
اگر سر سے پاوں تک جائزہ لیا جائے تو کتنی ایجادات انسانی جسم کے لیے کی گئیں ہیں ۔ جیسے سر کے بال دوبارہ اگانے کے لیے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری وجود میں آئی پھر اسے استعمال کروانے کے لیے احساس کمتری اور شادی کا نہ ہونا کو اہم موضوع بنایا گیا کہ اگر سر پر بال نہیں تو آپ کی شادی نہیں ہو سکتی احساس کمتری کاشکار ہو نا چھوڑیے اور آج ہی لاکھوں روپے کی تکلیف دہ سرجری کروائیں اور احساس کمتری سے نجات پائیں شادی کروا کر بال دوبارہ غائب کروائیں۔
ناک پتلا موٹا اور سیدھا کرنے چہرے کی جھریاں ڈھلتی عمر کو چھپانے کے لیے پلاسٹر سرجری کو استعمال کیا گیا۔ کئی دولت مند حسیناوں اور مردوں نے اپنے جسم کو اس سرجری سے تراش خراش کے خوبصرت بنانے کی کوشش کی ۔
آنکھوں کے لیے طرح طرح کے رنگ برنگے لینز بنائے گئے جن سے آپ گرگٹ کی طرح اپنی آنکھوں کا رنگ بدل سکتے ہیں ۔
چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں سے بال ختم کرنے کے لیے کئی طرح کی کریمیں ویکس اور لیزر مشینیں بنائی گئیں جن سے مردوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے ۔
انسان کو گورے کالے رنگ کے چکر میں ڈال کر فضول اور بے کار فارمولوں کی
کریموں سے لوٹا جا رھا ہے جن کا فائدہ کم نقصان ذیادہ ہے ۔ مزے کی بات کہ اس دوڑ میں خواتین کو بے وقوف بنا کر اچھی طرح لوٹنے کے بعد اب مردوں کی باری آ گئی ہے جن کے لیے نت نئی کریمیں بازار میں آ چکی ہیں ۔
اب کالے مرد حضرات بھی ان کریموں کی برکت سے گورے ہو سکتے ہیں ۔
انسان جسم کی خوبصورتی کے لیے نت نئے فیشن ایجاد کرتا ہے حالاں کہ اگر آپ ایسے ڈھنگ کے کپڑے ہی پہن لیں جن کو پہن کر آپ واقعی انسان ہی لگیں تو کافی ہیں۔
لیکن بے تکے فیشن کر کے مرد اور عورت دونوں سجے ہوے عید کے گاے بکرے ہی لگتے ہیں ۔
یہ تو تھی جسم کی بات جس کو سجانے سنوارنے کے لیے انسان دن رات سوچتا اور دوڑ بھاگ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن
اس جسم کے اندر ایک ایسی روحانی ہستی بھی رہتی ہے جس کو ” روح ” کہتے ہیں۔
انسان اگر جسم اور روح کا حساب کرے تو کتنے فیصد توجہ جسم کو اور کتنے
فیصد روح کو دیتا ہے ۔
روح کو بھی غذا چاہیے روحانیت کی غذا ذکر اور افکار کی غذا جس سے یہ صحت مند اور توانا رہتی ہے ۔
مگر شیطانی کام موسیقی کو روح کی غذا کہ کر غلط تشریح کی جارہی ہے۔
جھوٹ فریب مکاری دھوکے بازی جسم کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں وقتی سکون دے سکتے ہیں مگر روح کے لیے یہ سب بیماریاں ہیں ۔
جسم کو بیماری لگ جائے تو ہم ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں مگر روح کا علاج کبھی نہیں کرتے ۔
سوچیں کہ آپ اپنی روح کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں؟

ہے کسی کو خبر

March 18th, 2010

شاہدہ آپی کا بلاگ بہت عرصے سے کام نہیں کررھا معلوم نہیں کسی نے کوئی نوٹس کیوں نہی لیا اگرچہ شاہدہ آپی کے لیے یہ آرام کرنے کا بہترین موقع ہے مگر لکھنے والے جب تک کچھ لکھ نا لیں انہیں آرام نہیں آتا ۔
اللہ آپی کو جلد از جلد صحت یاب کرے اور انکے بلاگ کو بھی نئی زندگی دے ۔
آپی اگر آپ کچھ لکھنا چاہتی ہیں تو میں نے ورڈ پریس کا ایک بلاگ دیا تھا جس پر آپ نے ٹیسٹ پوسٹ کی تھی آپ اسے استعمال کر لیں نہیں تو میرا بلاگ حاضر ہے میں اسکا پاس ورڈ آپکو ایمیل کر دیتا ہوں اگر آپ کہیں ۔
شاہدہ آپی کے دوسرے بلاگ کا ایڈریس نوٹ کر لیں ۔

http://yabasit.wordpress.pk/

اردو ویب والے بھائیوں سے درخواست ہے کہ اسے چیک کریں کیا مسلہ ہے ۔

کنفیوز کامی

شکریہ ادھار تھا

March 16th, 2010

کافی دن میں بلاگ پہ کچھ نہیں لکھا ایک موڈھوا کچھ لکھنے کا آن لائن ھوئ دیکھا بلاگ پہ اسپیم کی یلغار ھوئ ھوئ تھی کوئ 80 ۔ 90 کے قریب تھے انھیں ڈیلیٹ کیا ۔ دیکھا کافی ڈرافٹ ھیں جب سے بلاگ بنایا اس وقت سے اکھٹے ھوئے ھیں سوچا ان کو بھی ڈیلیٹ [...]

ایک انوکھی لاحاصل تلاش

March 16th, 2010

جب یہ تحریر میری نظر سے گزری تو دل چاھا کہ میں بھی کچھ اپنے خیالات شئیر
کروں ان حیدرآبادی خواتین کے متعلق ۔
یوں تو یہ حیدرآبادی پورے یو اے ای میں پھیلے ہوے ہیں مگر دبئ اور اس کے اردگرد کے علاقے ابوظہبی فجیرہ میں ان کی تعداد ذیادہ ہے ۔
یہ عورتیں ان عربوں کے ساتھ شادی کیوں کرتی ہیں اسکی کئی وجوھات ہیں ۔
اول تو یہ حیدرآباد کی روایت ہے جو چلی آ رہی ہے ۔
ان کے علاقے میں غربت کا ذیادہ ہونا۔
عربوں کا اپنی دولت کا اثر ورسوخ ان پر چھوڑنا۔
شاید کچھ دولت کے لالچ میں آکر ایسا کرتے ہیں ۔
کچھ اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ۔
ہمارا ایک کسٹمر ہے جس کی عمر ستر سال کے قریب ہے اور حال ہی میں وہ حیدآباد سے ایک انیس بیس سال کی لڑکی بیاہ کر لایا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسکی تین بیویاں وفات پا چکی ہیں ۔اس بات کا پتا ایسے چلا کہ وہ اپنی بیوی یعنی اس لڑکی کو نیا سونی کا لیپ ٹاپ دلانے کے لیے لایا تھا۔
خود ہمارے شاپ کے کفیل نے حال ہی میں حیدآبادی خاتون کو طلاق دے کر ایک سوریا کی خاتون سے چوتھی شادی کی ہے وجہ اولاد کا نا ہونا جس کے لیے وہ تین کو طلاق دے چکا چوتھی پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور تین بچوں کی ماں ہے مگر ابھی تک کی صورت حال پرانی ہی ہے۔
ہماری شاپ جس علاقے میں ہے وہ قدیم علاقہ ہے اور یہاں حیدرآبادی خواتین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔انکی اولاد بھی اب یہاں جوان ہو چکی ہے ۔
ان میں سے اکثر خواتین کے خاوند وفات پا چکے ہیں ۔ وجہ معلوم کرنے پر ایک حیدرآبادی دوست نے ہی بتایا کہ یہ خواتین دولت کے لیے شادی کرتی ہیں اور پھر یہاں آکر جادو ٹونہ کے ذریعے اپنے خاوند کو مروا کر ساری دولت کی مالک بن جاتی ہیں۔
یاد رہے یہاں حکومت بیوہ کو تا حیات خرچہ اور سہولیات دیتی ہے ۔
کچھ حیدرآبادی خاندان جو بہت کم ہیں یہاں خوشحال ہیں باقی سب کی حالت اتنی اچھی نہیں جو اس سٹوری کی سچائی ثابت کرتی ہے ۔
آخری بات کہ ان عربوں سے انہیں کچھ نہیں ملنے والا چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں جتنے مرضی ٹیسٹ کروالیں۔
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ایک انوکھی تلاش
عمر فاروق
بی بی سی ، حیدرآباد

ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں مقامی لڑکیوں کی شادی عرب شہریوں کے ساتھ کرائے جانے کی روایت ہے۔
حیدرآباد جب نظام کے دور میں علحیدہ صوبہ تھا اس وقت بھی عرب ممالک کے ساتھ اس کے خاص تعلقات تھے اور آج بھی حیدرآباد میں عربوں کی ایک الگ بستی ہے جو بارکس کے نام سے مشہور ہے۔

لیکن گذشتہ چار دہائیوں سے یہ شادیاں تنازعات کا شکار ہوتی رہی ہیں اور اب اس مسئلہ کا نیا پہلو سامنے آ رہا ہے۔
دراصل اب عربوں کے ان بچوں نے اپنے حق کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے جن کے والد انہیں اور ان کی ماؤں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے گئے اور کبھی لوٹ کر واپس نہيں آئے۔

حیدرآباد کے پرانے شہر میں رہنے والی رقیہ بیگم ان سینکڑوں خواتین ميں سے ایک ہیں جن کی شادی ایک عرب شہری سے ہوئی تھی۔
رقیہ کی شادی انیس سو ستتر میں دبئی کے ایک تاجر علی احمد محمد کلّی سے ہوئی تھی۔ رقیہ کے علاوہ علی محمد نے حیدرآباد میں مزید دو شادیاں کیں جب کہ دبئی میںان کی شادی ایک عرب خاتون سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ حیدرآباد میں علی کے کل چھ بچے ہوئے ہیں۔

سب کچھ صحیح چل رہا تھا لیکن علی محمد کے انتقال کے بعد دبئی میں علی محمد کے بچوں نے حیدرآباد میں اپنے سوتیلے بھائی بہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے پاسپورٹ بھی جلا دیے۔
رقیہ کہتی ہیں’گذشبہ بیس برس میں میرے بچوں نے کافی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ خراب حالات کے سبب انہيں تعلیم بھی حاصل نہیں ہو سکی، اگر ان کے دبئی جانے کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو میں بہت خوش ہوں گی۔‘

اکتیس سالہ ناصر جمال محمد گذشتہ دس برس سے شارجہ میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ ان کے والد جمال محمد نے یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے ناصر کی والدہ فرحت النسا سے شادی کی تھی لیکن وہ ناصر کو اپنے بیٹے کو طور پر تسلیم نہیں کرتے ہيں۔ انہوں نے ناصر سے اس بات کا ثبوت مانگا ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد فرحت نے دوسری شادی نہیں کی۔

ایک اور نوجوان سالم بن حمید بھی دبئی میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بے کار زندگی گزار رہا ہوں، میں آٹو رکشہ چلاتا ہوں، جب آمدنی ہو جاتی ہے تو کھانا کھا لیتا ہوں نہيں تو بھوکا رہتا ہوں۔ میری نانی نے میری والدہ کی دوسری شادی کروا دی۔ اب ان کی زندگی الگ ہے اور میں الگ، میرا کیا ہوگا مجھے نہيں پتہ۔‘

ایک اور نوجوان عبداللہ علی احمد کا کہنا تھا کہ ایک عرب کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہیں ہندوستان میں کوئی شناختی کارڈ بھی نہیں مل سکا ہے۔
ایک اور نوجوان یعقوب علی کا کہنا ہے ’مجھے بھی متحدہ عرب امارات کی شہریت چاہیے۔ یہ میرے والد کا حق ہے جو مجھے ملنا چاہیے۔ میں دبئی کے شیخ محمد بن راشد سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارت میں رہنے والے مجھ جیسے تمام بچوں کے سفر سے متعلق دستاویزات تیار کرائیں تاکہ وہ دبئی جا سکیں۔‘

لیکن اب متحدہ عرب امارات اور دبئی سرکار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ان بچوں کا حق تسلیم کریں گے جو مصر، لبنان اور بھارت ميں پیدا ہوئے۔ اس فیصلے نے ان بچوں کو پر امید کر دیا ہے۔
اس عمل کے تحت پچھلے برس اپریل میں دبئی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم ممبئی آئی اور ٹیم نے حیدرآباد سے ایسے بیس لڑکے اور لڑکیوں کو بلاکر ان کے ڈی این اے کی جانچ کروائی۔ لیکن گیارہ مہینے گزرنے کے بعد بھی دبئی سے کوئی جواب نہيں آیا۔

اس ٹسٹ کو سالم، منصور اور ناصر سبھی نے کروایا تھا اور انہیں امید ہے کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں انہيں انصاف ضرور دلائيں گی۔ لیکن دیگر عرب ممالک کے بے سہارا بچوں کے سامنے اس قسم کی کوئی امید نہیں ہے اور شاید بھارت سرکار کو ہی اس سمت میں پہل کرنا ہوگی۔

ہم رہیں یا نا رہیں کل

March 15th, 2010

کامران اصغر کامی کو زندگی کا ایک اور سال پورا کرنے پر مبارک باد آپ نے بھی دینی ہے تو دے دیں اگلے سال کا کچھ پتا نہیں ۔

ہم تو صرف دعا گو لوگ
خاک اور مہر کا کیا سنجوک
پاس رہیں یا دور رہیں
محفل تو آباد ہے نا
آج تمھاری سالگرہ ہے
دیکھو مجھ کو یاد ہے نا

ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
چل
آ میرے سنگ چل
چل
سوچے کیا چھوٹی سی ہے زندگی
کل
مل جائے تو ہو گی خوش نصیبی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
شام کا آنچل اوڑھ کے آئی دیکھو وہ رات سہانی
آ لکھ کے ہم دونوں مل کے اپنی یہ پریم کہانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
آنے والی صبح جانے رنگ کیا لائے دیوانی
میری چاہت کو رکھ لینا جیسے کوئی نشانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل

Video Ghar Sai\">">KK

ایک نغمہ ۔۔۔۔۔ تو میرا پاکستان

March 14th, 2010

لذت ” الف ” دی پائی

March 14th, 2010

جب سے شاپ پر مائیکرو سافٹ اور منسٹری آف اکنامکس کا چکر لگا ہے اس دن سے لیکر آج تک میں پریشان تھا اوپر سے یو اے ای کے حالات ڈاواں ڈول ہیں رہی سہی کسر اس کے بے تکے قانون نکال رہے ہیں۔
اسی پریشانی میں کہ کام کم ہو گیا تو خرچے کہاں سے پورے ہوں گے مگر ساتھ ساتھ اللہ پر بھی پورا یقین تھا کہ وہ ہم پردیسیوں کی ضرور مدد کرے گا اور کچھ نا کچھ نیا راستہ نکل آئے گا ۔
تو آج سے پریشانی ختم ہوئی آج شاپ پر پہلا اوریجنل ونڈوز کے ساتھ نیا پی سی تیار ہوا تو دماغ کو سکون ملا کہ کچھ دیر سہی مگر آہستہ آہستہ پھر وہی رونق واپس آجائے گی جو پہلے تھی ۔
آج اوریجنل سافٹ ویر کے ساتھ اوریجنل سکون بھی محسوس ہوا کیونکہ ایک کمپنی نے ہم سے بیس اوریجنل لائیسنس کے لیے رابطہ کیا ہے اسی لیے کہتے ہیں ایک در بند تو دوسرا کھلا۔
ان تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا ۔
میرے اللہ میں کبھی تجھ سے مایوس نا ہو گا تیری دیر سویر میں حکمت ہے میں سمجھ نا پایا ۔
بابا بلھے شاہ نے کیا خوب کہا تھا ۔۔۔۔

” الف ” اللہ نال رتا دل میرا
مینوں “ب ” دی خبر نا کا ئی
” ب ” پڑھد یاں مینوں سمجھ نا آ وے
لذت ” الف ” دی آئی
” ع ” تے ” غ ” نوں سمجھ نا جاناں
گل ” الف ” سمجھائی
بلھیاء قول ” الف ” دے پورے
جیہڑے دل دی کرن صفائی

Hacking MySpace

March 8th, 2010

ExTremeTech – Hacking MySpace


http://rapidshare.com/files/194226807/Hacking_MySpace_.rar

Hacking Google Maps and Google Earth

March 8th, 2010

ExTremeTech – Hacking Google Maps and Google Earth


http://rapidshare.com/files/194262376/Hacking_Google_Maps_and_Google_Earth_Jul_2006_eBook-DDU.rar

Harry Potter eBooks 1-7 pdf + All Extras

March 8th, 2010

This RAR Includes:

All 7 harry Potter books in the series:

-Harry Potter and the Sorcerers Stone (1)

-Harry Potter and the Chamber of Secrets (2)

-Harry Potter and the Prisoner of Azkaban (3)

-Harry Potter and the Goblet of Fire (4)

-Harry Potter and the Order of the Phoenix (5)

-Harry Potter and the Half-Blood Prince (6)

-Harry Potter and the Deathly Hallows (7)

All Books are in PDF format, with pictures of hardcover copies of the American books, the front, spine and description inside. Includes all pages, high quality.

Also includes all extras:

-”CHapter 0″ an excerpt from the prequel to the original series(it will NEVER be finished) Includes a scan of the copy in J.k. Rowling’s handwriting, and a typed up copy

-”The Tales of Beedle the Bard” the childrens story book mentioned in the 7th book, includes the stories:

-The Wizard and the Hopping Pot

-The Fountain of Fair Fortune

-The Warlocks Hairy Heart

-Babbity Rabbity and Her Cackling Stump (A story mentioned in the 7th book by Ron)
-The Tale of the Three Brothers (The story that created the original belief in the Deathly Hallows, much of the 7th book is centered around this story)

*All the Stories also have a section called Albus Dumbledore on (insert story nname here) where Rowling gives Dumbledore’s opinion on the stories, each of Dumbledore’s opinions are about 10 pages long.

In addition to “The Tales of Beedle the Bard” This torrent also includes:

-”Fantastic Beasts and Where to Find Them” This copy is supposedly shared by Harry and Ron, and there are severeal comical notes in the margins throughout the book. (this book is often mentioned in the series)

-”Quidditch Through the Ages” This copy is supposedly borrowed from the Hogwarts Library and includes a very stern warning about defacing books from Mme. Prince, the librarian of the school

Once again all books are in PDF format with scans of the cover, the original 7 also include scans of the spine, and description on the inner cover. The PDF’s are divided into chapters, I know if you’re using a mac the chapters will appear in the sidebar (if you are viewing them in previw) so you can easily switch between them, however I am not very familiar with adobe acrobat, but I have tested the files and they DO run in acrobat.

and Now ENJOY!

# DOWNLOAD
http://hotfile.com/dl/27455289/7967fe8/Harry_Potter.zip.html

200 Ways To Recover Revive Your Hard Drive

March 8th, 2010


200 Ways To Recover Revive Your Hard Drive
In this particular case, a user was getting errors like disk 0 error and invalid drive specification. Here were the other facts in the case: • The data wasn’t backed up.
• The problem came out of nowhere.
• The user had accessed Setup and tried to manually enter the settings for the drive type when
“Auto” didn’t work.
• There was no startup disk made by this machine.

Reviving a drive like that one—even if only long enough to copy its data before you throw the drive in the garbage—is a tough challenge.

Download:
http://rapidshare.com/files/353633855/200Ways_TO_REVIVE_UR_HARD_DRIVE.rar

CDRoller (data recovery from CD/DVD/BD/HD-DVD/Flash data recovery

March 8th, 2010

Recover Data
CDRoller 8 Data Recovery

CDRoller is a powerful, easy-to-use and low-cost toolset for CD/DVD/BD/HD-DVD/Flash data recovery.

Download:
http://hotfile.com/dl/4636787/485498b/CDRoller_v8.50.00.rar.html

Download:
http://uploading.com/files/0DQQBLWK/CDRoller v8.50.00.rar.html

وومن ڈے

March 8th, 2010

اھل اسلام اھل پاکستان اور تمام بلاگرز لیڈیز کو وومن ڈے مبارک ہو ۔

چاہے وہ

کسی کھیت میں محنت مزدوری کر رہی ہو ۔
کسی دفتر میں جاب کر رہی ہو ۔
کسی گھر میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو ۔
کسی ظالم نامرد کا ظلم و تشدد برداشت کر رہی ہو ۔
قومی اسمبلی میں دو شادیوں کا اعلان کر رہی ہو ۔
وزیر بن کر شاہی زندگی گزار رہی ہو ۔
کسی کمپیوٹر کے آگے بیٹھی بلاگ لکھ رہی ہو ۔

بل گیٹ کے بل ڈاگ

March 7th, 2010

پچھلے چند مہینوں سے پریشانیوں کا ایسا سلسلہ چلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا ابھی تازہ ترین جھٹکے میں جو ہوا وہ کچھ یوں ہے ۔
ہم بھائی حسب معمول سارھے دس شاپ پر آگئے اور اپنے کل کے باقی کام نمٹانے لگے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا کہ چار لوکل عربی لباس میں ہماری شاپ میں گھس آئے اور ہم دونوں بھائیوں کو ایک طرف الگ ہونے کا کہا اور شاپ کی تلاشی شروع کردی ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر ایک بولا یہ سب کس کے ہیں ہم نے کہا یہ سب کسٹمرز کے ہیں ۔ ۔۔اچھا ابھی ہمارے افسر آئیں گے اور آپ کی تمام چیکنگ ہو گی۔
ہم نے کہا کس چیز کی چیکنگ ؟
آپ لوگ نقلی ونڈوز اور آفس انسٹال کرتے ہیں ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک اور پانچ اشخاص کا گروپ شاپ میں داخل ہوا اور شاپ میں موجود سب کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو چیک کرنے لگا ۔
یہ سلسہ ایک گھنٹے تک چلا ۔
ہمارا پرسنل اور ایک کسٹمر کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا ساتھ ہی شاپ پر موجود تمام سافٹ ویر بھی لے گئے ۔
اگلے دن ہمیں ٹریڈ سینٹر میں بلایا گیا اور پانچ گھنٹے تک بحث چلتی رہی ۔
آخری اظلاع تک ابھی تک کیس دبئی جا چکا ہے اور کوئی اطلاع نہیں کبھی کہتے ہیں صرف جرمانہ ہو گا کبھی کہتے ہیں جیل ہو گی جرمانے کی حد 10000 درھم سے لیکر 50000 درھم تک ہو سکتا ہے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک یا تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے ۔
اس دن سے لیکر آج دن تک کام دھندہ چوپٹ ہے بہت ٹینشن ہے دماغ کام نہیں کرتا
یاد رہے یہ آپریشن پورے شہر میں کیا گیا جہاں صرف گنتی کے 20 سے 25 دکانیں اس کام سے متعلق ہیں سب ہی کا کچھ نا کچھ پکڑا گیا ۔

پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا

March 6th, 2010

اپنے وطن جانے کا احساس اپنوں سے ملنے کی خوشی الگ ھوتی ھے مہینوں پہلے تیاریاں شورع  ھو جاتی ھیں شاپنگ ھوتی ھے پاکستان میں سب رشتے داروں کو انتظار شروع ھو جاتا ھے ایک ایک دن گن کر گزرتے ھیں اب پاکستان جانے میں کتنے دن رہ گئے ھیں ملکی حالات کتنے بھی خراب [...]

5 لاکھ 10 لاکھ

March 5th, 2010

حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

مستنصر حسین تارڑ

March 1st, 2010

میرے پسندیدہ :۔

ہے کوئی عقد ثانی کا شوقین ؟

میرے مشاہدے میں آیا کہ عوام الناس میں ایک عجیب پرمسرت اور شادماں لہر دوڑ رہی ہے…چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں اور بات بے بات پر قہقہے لگائے جا رہے ہیں اور جمہوریت کی توصیف میں پل کے پل باندھے جا رہے ہیں کہ واہ صاحب یہ صرف جمہوریت ہی ہے جس کے صدقے میں دل کی بات بے دھڑک کہہ دی جاتی ہے…عوام کے دلوں میں جو امنگیں ہیں انہیں زبان مل جاتی ہے ورنہ آمریت میں تودل کی دل ہی میں رہ جاتی ہے …

البتہ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جو مسرت اور شادمانی کی لہر ہے یہ صرف مرد حضرات کے چہروں پر نہ صرف دوڑ رہی ہے بلکہ سرپٹ بھاگی جا رہی ہے لیکن خواتین اس دوڑ میں ہر گز شامل نہیں ہیں حالانکہ اپنی نسیم حمید نے تو دوڑ دوڑ کر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور یہ جو خواتین ہیں ان کے چہرے تو پہلے سے زیادہ غصیلے اور پر جوش ہوگئے ہیں اور ان میں میری اہلیہ محترمہ کا چہرہ بھی شامل ہے…چنانچہ یہ عقدہ مجھ سے نہ کھلا کہ آخر صرف مرد حضرات ہی کیوں دمکتے پھرتے ہیں اور جمہوریت کے گن گاتے چلے جاتے ہیں…

یہاں تک کہ صبح کی سیر کے میرے ساتھی بابا جات بھی چمکتے پھرتے ہیں کہ واہ صاحب جمہوریت کی کیا بات ہے دل خوش کردیا ہے… میں نے ایک ایسے ہی دوست بابا جی سے اس سلسلے میں مدد چاہی کہ بابا ان دنوں مرد حضرات تو خوشی سے دیوانے ہو رہے ہیں لیکن خواتین نہایت خونخوار ہوتی جاتی ہیں اس کا کیا سبب ہے تو انہوں نے مجھے ایک پرمسرت دھپ رسید کرتے ہوئے کہا…تارڑ صاحب آپ کو حالات حاضرہ کا کچھ علم نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے…

جناب پنجاب اسمبلی کی ایک محترمہ ممبر صاحبہ نے باقاعدہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ بیان دیا ہے کہ خواتین سرپلس ہو رہی ہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ مرد حضرات فوری طور پر دوسری یا تیسری شادیاں کرلیں… یوں مسئلہ حل ہو جائے گا… بلکہ انہوں نے انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر نامدار کو بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ بے شک آج شام سے پہلے پہلے دوسری بیوی کرلو مجھے کچھ اعتراض نہ ہوگا… تارڑ صاحب یہ سب جمہوریت کی کرامت ہے ورنہ آج تک کبھی کسی نے مردوں کے دفن شدہ جذبات کی یوں کھلے عام نمائندگی نہیں کی تھی… بھلا آپ ہی بتایئے کہ دنیا میں وہ کونسا مرد ہے جس کی باچھیں عقد ثانی کے نام پر کھل نہیں جاتیں اور دل میں لڈو نہیں پھوٹتے…میں تو آئندہ انہی خاتون کو ووٹ دوں گا چاہے یہ الیکشن میں کھڑی ہوں یا نہ ہوں…

اس دل پذیر خبر سے مجھ پر بھی ایک نہایت مسرت آمیز کیفیت طاری ہوگئی‘ میرے دل میں تو اتنے ڈھیروں لڈو پھوٹے جیسے وہاں مٹھائی کی دکان کھل گئی ہے… عقدثانی‘ دوسری شادی‘ ایک اور بیوی… ظاہر ہے موجودہ بیگم سے قدرے کم سن ہو تو بہتر ہے‘ ورنہ اس عمر کی ایک اور بیگم گھر میں لانے سے فائدہ… ذات پات کی کوئی قید نہیں‘ بے شک زیادہ خوبصورت نہ ہو‘ جہیز کامطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا…روٹی کپڑا اور مکان مہیا کیا جائے گا‘ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں کہ پہلے والی تعلیم یافتہ ہے تبھی تو ٹکا سا جواب دیتی ہے اور میری تحریروں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہے… اور ہاں یہ جو مارے خوشی کے یہ کہہ گیا کہ ذات پات کی کوئی قید نہیں تو اسے درست کر لیجئے کہ دوسری بیگم کچھ بھی ہو راجپوت نہ ہو کہ اسے تو ہم ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں

عقد ثانی ایک ایسا منتر ہے جو ہر مردکے دل کے دروازے کھٹاک سے کھول دیتا ہے‘ دوسری شادی مرد کے کانوں میں رس گھولتی اس کی روح کو سرشار کردیتی ہے ایک اور بیوی کا تصور ایسا ہے کہ ہر جانب غنچے کھلنے لگتے ہیں صحرا میں بہار آجاتی ہے اورہولے سے باد نسیم چلنے لگتی ہے…ہندوؤں کے کسی وید میں درج ہے کہ اگر کوئی مرد جو بہت بوڑھا ہو اور اتنا بیمار ہو کہ اس کے بچنے کی کوئی امیدنہ ہو‘ کوئی دوا اثر نہ کرے کوئی دعا قبول نہ ہو اور وہ آخری سانسوں پر آجائے تو ایک نوجوان کنیا لے آیئے اور وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرے کہ… میں تمہارے لئے ہوں… مجھے پکڑ لو… اگر تو اس قریب المرگ بابا جی میں کچھ سکت ہوگی تو وہ فوراً چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھیں گے اور کنیا کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے اور ان کی جان بچ جائے گی… اور اگر بابا جی اس پیشکش پر بھی نہ اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ پرلوک سدھار چکے ہیں…

دراصل ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندو ثقافت کے غلام ہیں کہ ان کے ہاں دوسری شادی کو پاپ سمجھا جاتا ہے جب کہ اپنے برادر مسلم ملکوں کی جانب نگاہ کیجئے کہ وہاں دو تین بیویاں تو معمول کی بات ہیں یعنی اگر پلے میں مال پانی ہو تو…بلکہ وہ ہم پاکستانیوں پر اکثر ترس کھا کر کہتے ہیں کہ اچھا تو آپ کی صرف ایک بیوی ہے… ہائے ہائے آپ تو مسکین ہیں‘ آپ پر ترس آتا ہے…

جدہ کے ایک کمپاؤنڈ میں ایک موٹے تازے صاحب سے ملاقات ہوئی جن کی پتلون ان کی توند سے مسلسل کسک جاتی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ائیر فورس میں ہیں‘ ہر ہفتے کہیں غائب ہو جاتے تھے اور دو ہفتوں کے بعد نمودار ہوتے تھے… میں نے پوچھا تو کہنے لگے اپنی دوسری بیوی کے پاس بیروت گیا تھا

میں نے رشک کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے کہاکہ سبحان اللہ آپ کی دو بیویاں ہیں تو کہنے لگے نہیں تین ہیں‘ تیسری میری خالہ زاد ہے گاؤں میں رہتی ہے … بلکہ انہی دنوں ایک دلچسپ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب میں اکٹھی تین خواتین نے بیک وقت ایک وین ڈرائیور سے شادی کرلی… ان کا کہنا تھا کہ یہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں اور نامحرم کے ساتھ بھی نہیں بیٹھ سکتیں چنانچہ ہم نے اس وین ڈرائیور سے اس لئے شادی کرلی کہ یہ ہمیں روزانہ اس سکول میں چھوڑ آیا کرے گا جہاں ہم تینوں کام کرتی ہیں…

قصہ مختصر جب میرے دوست بابا جی نے مجھے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کا یہ بیان سنایا کہ مردوں کو دو دو شادیاں کرنی چاہئیں تو میں دل ہی دل میں عقد ثانی کی منصوبہ بندی کرتے نہایت مسرت آمیز کیفیت میں گھر پہنچا اور بیگم کو ان کے روح پرور بیان سے آگاہ کرکے دوسری شادی کے لئے یو نہی سرسری سی آمادگی ظاہر کی‘ اس کے بعد چراغوں میں توکیا سرچ لائٹوں میں بھی روشنی نہ رہی بیگم جو ماشاء اللہ نماز روزے کی پابند ہیں یکدم راجپوت ہو کر پرتھوی راج چوہان کی مانند گویا تلوار سونت کر کھڑی ہوگئیں…

میرے ساتھ جو ہوا اس کی تو خیر ہے وہ تو ہوتا ہی رہتا ہے لیکن انہوں نے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کی شان میں بھی گستاخیاں کیں اور ان میں چڑیل جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے کہ پہلے تو اپنے میاں کی دوسری شادی اپنے ہاتھوں سے کرے اور سوکن کو ہار پہنا کر اپنے گھر لائے اور پھر دوسروں کے خاوندوں کو یہ پٹی پڑھائے… میں نے اسے خبردار کیا کہ ایسی زبان استعمال کرنے سے اس خاتون ممبر کا وہ مجروح ہو جائے گا جسے استحقاق کہتے ہیں لیکن اس نیک بخت نے پھر بھی مزید گستاخیاں کیں… میں اس اسمبلی ممبر خاتون سے جس نے نیک نیتی سے مشورہ دیا تھا صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یا تو اسمبلی میں جو کچھ بیان دیں اسے قانونی شکل دے کر اس پر زبردستی عمل کرائیں ورنہ ایسے خالی خولی بیان دے کر ہمارے دل میں پھوٹنے والے لڈؤں کی فیکٹری لگا کر فوراً ہی ہمیں بیویوں کے ہاتھوں زدوکوب نہ کروائیں…اور ہاں آئندہ کسی محفل میں میری بیگم کے سامنے آنے سے گریز کیجئے گا یہ آپ کے بھلے کی بات کہتاہوں۔

Dated : 2010-02-25 00:00:00

عید میلاد النبی کیسے منانی چاھیے – کیا ھم مقصد سے ھٹ رھے ھیں

February 28th, 2010

ٹی وی کے ھر چینل پہ عید میلاد النبی کے پروگرام کافی دنوں سے آرھے ھیں لوگوں کی تیاریاں جلسے جلوس چراغاں ھر مسجد میں درود اور نعتیں پڑھی جا رھی ھیں بچپن کی عید میلاد النبی جب بھی یاد آتی ھیں تو بہت اچھا لگتا ھے پر رونق بازار ھر طرف چراغاں رات کوبھی لگتا [...]

ووٹ کاسٹنے کا اصلی طریقہ

February 28th, 2010

ہم پاکستانی ہیں ہر جوڑ کا توڑ نکالنے والے اپنی بیوی چاہے گھر سے بھاگ گئی ہو مگر بازار میں بورڈ لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں محبوب قدموں میں محبوبہ چھاتی پر ۔۔۔ پسند کی شادی ۔۔۔ من چاھا رشتہ ایک ہی تعویز سے حاصل کریں ۔
نہیں نہیں میں کوئی بورڈ والا نہیں ہوں مجھے تو ایک بہن نے بڑی دور سے للکارا ہے جیسے انہوں نے مجھے کہا ہے کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگا تھا ۔
تو میرے مسلمان بھائیوں بہنوں آپ سے درخواست ہے بلکہ گزارش ہے کہ رج کے ووٹ کاسٹو نہیں تو یاد رکھو روز رزلٹ خدا نا خواسطہ بچیاں ھار گئیں تو مردوں کا گریبان اور لیڈیز کے بال ہوں گے چاہے ایک ہاتھ لمبے ہی کیوں نا ہوں ۔
میرے بھائیوں اور بہنوں محمد بن قاسم ایک آواز پر کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا اور آپ اپنے گھر آرام سے بیٹھ کر بھی ووٹ نہیں کاسٹ سکتے لیڈیذ کے لیے تو نہیں کیونکہ ان میں آل ریڈی شرم موجود ہوتی ہے لیکن مرد حضرات کے لیے شرم کی بات ہے ۔
ووٹ کاسٹنے کا طریقہ ۔۔۔۔
مندرجہ ذیل لنکز میں سے کسی پر پہلے کلک کریں ۔۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=377413
یہاں۔۔۔۔۔ ایک پیاری سی بچی جس کا نام حفضہ ہے اورنج کلر کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے ماں کا نام اسماء بتاتی ہے والد کا ذکر کرتے ڈرتی ہے عمر پانچ سے سات سال ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہاتھ میں اورنج پکڑے کھڑی نظر آئے گی ۔
http://casting.kiabi.com/casting/?id=378290
یہاں۔۔۔۔۔ ایک دوسری پیاری سی بچی جس کا نام طیبہ ہے گرے گلر کے کپڑے پہنے سامنے اورنج کیک رکھے ہاتھ میں بڑی سی چھری لیے لال رنگ کی چادر پر بیٹھی یقینا ابو کا انتظار کررہی ہے سر کے بال لمبے اور پیارے ہیں رنگ گورا ہے ۔
اچھا جی دیکھ لیا حفضہ اور طیبہ کو اب کرنا کیا ہے ۔۔
کسی ایک لنک پر جائیں
1۔پہلے خانے میں کوئی سا بھی ایک ای میل ایڈریس ایڈ کریں۔
2۔دوسرے خانے میں اپنی جنس کا بتائیں کہ آپ ہی ہیں شی ہیں یا ۔۔۔کون ہیں
3۔اپنا نام
4۔اپنا نیک نیم جیسے اشرف عرف اچھو جاوید عرف جیدا لیاقت عرف لیاکی
5۔اس خانے میں وہ تاریخ رقم کریں جو مطلب تاریخ پیدائیش رقم کریں خواتین گھبرائیں نہیں اصلی بتانے کی ضرورت نہیں 2 نمبر بھی چلے گی چاہے دو سال ہی لکھ دیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
6۔اس خانے میں وہ کلر نمبر ڈالیں جو آپکو نظر آرہے ہیں ۔
7۔ جی ہاں ساتواں اور آخری کام ووٹیز والا بٹن پریس کر دیں ۔
ٹوٹکے ۔۔۔
ایمیل ایڈریس جیسے mkaimik@gmail.com میرا ایڈریس ہے اس سے میں نے ایک ووٹ کاسٹا کیا پھر دوبارہ جا کر لنک پر کلک کیا تو میرا سب ڈیٹا موجود تھا اب میں نے اپنے ایمیل ایڈریس میں تھوڑی سی تبدیلی کی جیسے mkamik1@gmail.com اس میں صرف نمبر 1 کا اضافہ کیا ہے اور بدلے ہوئے کلر کوڈ ڈال کر دوسرا ووٹ کاسٹ کیا اسی طرح اگلی بار 1 کی جگہ 2 لگا دیں بس نمبر بدلتے جائیں ووٹ دیتے جائیں ۔
تو
میرے بہنوں اور میری بھائیوں اسی طرح آپ بھی ہر بچی کو پانچ پانچ لاکھ ووٹ ایسے کاسٹ کر سکتے ہیں جیسے ہماری حکومت ہر غلط کام پر پانچ لاکھ تقسیم کرتی ہے مگر یہ تو حکومتی کام نہیں ہمارا اپنا کام ہے ہمارے بچے ہیں انشااللہ یہی جیتیں گے تو ہو جاو شروع پاکستانی طریقے سے ووٹ ڈالنے ۔(:
باجی اسماء خوش ہوئیں ۔۔۔۔۔
باجی اسماء ساباس ہی دیں گئیں ۔۔۔۔

میری ذات ذرّہ بے نشان

February 20th, 2010
پاکستانی ڈرامے دوسروں سے بہتر ہیں اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ ہماری فلم انڈسٹری تو کبھی کبھی حرکت کرتی ہے لیکن ڈرامہ انڈسٹری تو ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے۔ ویسے تو میں بہت سارے ڈرامے دیکھتا ہوں لیکن آج صرف مجھے ہمایوں سعید اور عبداللہ کڈوانی کے پیش کیے ہوئے ڈرامے “میری [...]