میرے خواب بکھر گئے اور کبھی جنت تھی یہاں یہ دونوں تحریریں اخبار میں بعد میں شائع ھوئ تھیں پاک نیٹ پہ پہلے آئ تھی آج دو قسطیں اور میل کی ھیں دیکھ کر بتائیں کیسی ھیں
مجھے اپکی میل اج صبحہی مل گئ تھی اور اسی بارے میںمیںسوچ رہا تھا کہ کس طرحاس سلسلے کو ایکسلوسو پاک۔نیٹ بناوں۔ لیکن افسوس کے ایک اخبار پہلے ہی اس کو اشائع کر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میںسرورق پر اسکو ایک مخصوس انداز سے پیش کروںگا جس طرحکہ ایک ناول کو ہو نا چاہیے۔ میںاس کے لیے ایک سرورق تصویر کی بھی تلاش میں تھا۔
مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی اگر یہ ناول صرف اور صرف پاک۔نیٹ پر اشائع ہوتا۔ لیکن یہ اپکی کی تحریر ہے اور اپکی مرضی ہے۔ اپ مجھے ساری کی ساری قسطیں ارسال کر دیں میںسرورق پر ہمارے پراجیکٹس کے بلکل نیچے ایک نیا سیکشن "سعدیہ سحر کا کھلے آسمان کے نیچے قسط xxx " کے طریقے سے اشائع کروں گا۔ انشاءاللہ
شکریہ ۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو شاعرہ نہیں سمجھتی اور یہ سچ بھی ھے مجھے شاعری کی کچھ سمجھ نہیں کچھ لمحے کچھ موضوع ایسے ھوتے ھیں کہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتی بے اختیار ھو کر لکھتی ھوں